قراءات قرآنیہ سے استدلال کے مناہج ، برصغیر کی تفاسیر کا تجزیاتی مطالعہ ( مقالہ پی ایچ ڈی )

قراءات قرآنیہ سے استدلال کے مناہج ، برصغیر کی تفاسیر کا تجزیاتی مطالعہ ( مقالہ پی ایچ ڈی )

 

مصنف : حافظ رشید احمد تھانوی

 

صفحات: 373

 

مجید تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا  بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں۔مگر افسوس کہ بعض ابھی تک اس سماوی کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور اس میں تحریف ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے دور کیا جا سکے۔اہل نے ہر دور میں ان دشمنان کا مقابلہ کیا ہے اور مستند سے ان کے بے تکے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ قراءات اور علم کا آپس میں برا گہرا تعلق ہے، اور مفسرین کرام جا بجا اپنی تفاسیر میں قراءات قرآنیہ سے استدلال کرتے آتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ” قراءات قرآنیہ سے استدلال کے مناہج، برصغیر کی تفاسیر کا تجزیاتی مطالعہ” محترم حافظ رشید احمد تھانوی صاحب کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو انہوں نے اوپن یونیورسٹی آباد سےپی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لئے لکھا تھا۔اس میں انہوں نے  برصغیر میں لکھی گئی تفاسیر کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر مفسر نے اپنی کتاب میں کس  منہج کے مطابق قراءات قرآنیہ سے استدلال کیا ہے۔ تعالی سے ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
باب اول 7
فصل اول : قراءت کاتعارف 2
قراءا ت کی لغوی تعریف 2
قراءات کی اصطلاحی تعریف 2
القراءا ت موضوع 3
القراءات کاماخذ 3
عربوں کے قبائل ولہجات 7
عربوں کی مختلف بولیاں 8
فصاحت  وبلاغت میں ممتاز قبائل 10
معجزاتی کلام تحمل 13
مختلف لہجات ولغات کی حیثیت 14
فصل دوم علم کاتعارف 15
تاویل کامفہوم 15
کااصطلاحی مفہوم 15
علم کی ایک مفصل تعریف 15
القرآن بالقراءات 17
اقوال تابعین 19
لغت 19
عقل سلیم 20
فصل سوم : قراءات وتفسیر کاباہمی تعلق 21
قراءات متواترہ اور علم 21
قرآنی کلمات کی اقسام 21
قراءات کی اقسام باعتبار سند 22
قراءات کی اقسام باعتبار قبولیت 24
قراءات کی اقسام باعتبار معنی ومفہوم 25
قراءات شاذۃ وعلم 26
قراءات کی اقسام باعتبار اثرات 27
فصل چہارم : الاحتجاج وتوجیہ القراءات 29
احتجاج کی لغوی تعریف 29
احتجاج کی اصطلاحی تعریف 29
الاحتجاج کے مختلف نام 29
الاحتجاج کے مختلف نام 29
توجیہ القراءات کاآغاز وراتقاء 30
توجیہ قراءات کی انواع واقسام 30
یاائمہ کی طرف قراءات کی نسبت کامطلب 32
توجیہ القراءات کاتاریخی ارتقاء 32
توجیہ القراءات کی بنیادی کتب 35
پہلی قسم القراءات پر مشتمل کتب 35
دوسری قسم کتب میں شامل توجیہ القراءات 36
اتوجیہ پر جدید کتب 36
فصل پنجم : الرسم وعلم الضبط کاتعارف 39
الرسم 39
رسم عثمانی 39
مصاحف عثمانیہ سے مراد 39
مصاحف عثمانیہ کاپس منظر وتعارف 43
پہلی جمع قرآنی عہد صدیقی میں 43
دوسری جمع قرآنی عہد عثمانی میں 44
مصاحف عثمانیہ پر صحابہ  کااجماع 44
مصاحف عثمانیہ کارسم الخط 44
رسم اور میں اصطلاحی فرق 45
کی تعریف 45
رسم کی تعریف 45
رسم عثمانی کے امتیازات 46
رسم عثمانی قواعد ستہ 46
رسم عثمانی کے التزام کاحکم 49
الضبط ولشکل کاتعارف 52
الضبط کاآغاز 52
باب دوم ،قراءات کی روشنی میں تفسیر مختلف مناہج واسالیب 53
فصل اول : قراءات سے استفادہ کے چند بنیادی 54
قراءاتن شاذہ کی تعریف 58
قراءات شاذۃ کی کئی اقسام 58
اقوال وامثلہ قواعج 58
اس قاعدہ کے مویدات 60
اس قاعدہ کےبارے میں مفسرین کے 60
فصل دوم : توجیہ القراءات میں امام قرطبی کامنہج واسلوب 67
قرآنی علوم سے استشہاد 67
قرآنی سے استشہاد 67
سیاق سباق اور نظم قرآنی سےاستشہاد 68
رعایت فاصلہ سے استشہاد 70
قراءات متواترہ اور مجمع علیہ قراءات سے اشتہاد 70
مصحف عثمانی ودیگر مصاحف سے ستشہاد 71
بعض کے ذاتی مصاحف کے استشہاد 73
اقوال سےاستشہاد 74
اسباب نزول سےاستشہاد 75
آیت کاسبب نزول 75
قراءات قرآنیہ کی توجیہ نبویہ کی بنیاد پر 76
فصل سوم : قراءات سے استفادہ میں امام ابن عطیہ کامنہج 78
قراءات میں امام امام عطیہ کے مصادر 80
امام ابن عطیہ کی ذکر کردہ قراءات کی انواع واقسام 79
توجیہ القراءات میں امام ابن عطیہ کامنہج 80
توجیہ القراءات میں ابن عطیہ کےالفاظ 81
توجیہ القراءات کے مختلف پہلو 82
توجیہ القراءات کوذکر کرنے کامقام 82
امام ابن عطیہ کی بیان کردہ  توجیہات میں محل امور 82
قراءات سے تفسیری استدلال 82
فصل چہارم : قراءات قرآنیہ علامہ آلوسی کامنہج واسلوب 83
قراءات متواترہ کی تائید توجیہ  میں قراءات شاذہ سے استفادہ 84
قبول قراءات میں امام آلوسی کامنہج 84
رسم عثمانی سے استفادہ کی مثال 85
توجیہ القراءات کے مختلف پہلو 87
توجیہ قراءات اور علامہ آلو سی 87
توجیہ القراءات میں توسع 87
قراءات قرآنیہ کاتفسیر روج المعانی پر اثر 88
فصل پنجم :  قراءات سے استدلال کے بارے میں ابن عاشور کاطریق ومنہج 89
ابن عاشور کے نزدیک قراءات کی انواع واقسام 89
ابن عاشور نے قراءات کو دوقسموں میں تقسیم کیا ہے 89
قسم اول :جن کاتفسیر سے کوئی تعلق نہیں 89
قسم اول کی مثالیں 90
قراءات  کی قسم اصل مبدا اور بنیاد کے بارے میں ابن عاشور کاموقف 90
موقف ابن عاشور کارد 91
ابن عاشور کاامام مالک کے وقول سے اپنے موقف کی تائید میں استدلال 91
ابن عاشور کی دلیل کارد 92
قسم دوم جس کاتفسیر ومعانی کے ساتھ تعلق ہے 92
قراءا ت کی اس قسم میں پائی جانے  والی خوبیاں 93
ابن عاشو ر کاشروط میں قراءات صحیحہ میں موقف 95
باب سوم 97
قراءات کی مختلف اقسام کے مابین تعارض وترجیح 97
فصل اول : تعارض وترجح کاتعارف اور عمومی وضوابط 98
تعارض کالغوی معنی 98
تعارض کی اصطلاحی تعریف 98
تعارض کے معتبر ہونے  کی عمومی شرائط 100
قراءات کے مابین تعارض کے معتبر ہونے کی شرائط 100

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply