رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ جلد دوم

رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ جلد دوم

 

مصنف : سعید احمد پالن پوری

 

صفحات: 746

 

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ برصغیر کی ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔ آپ  بنیادی طور پر حنفی المسلک تھے۔جس دور میں آپ پیدا ہوئے  وہ تقلیدی جمود کا دور تھا اور فقہ حنفی کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔شاہ ولی اللہ جیسے ماہر فقہ نے اسی مکتبہ فکر میں پرورش پائی تھی۔ لیکن جب آپ  حج کے لیے مکہ مکرمہ گئے تو وہاں عرب شیوخ سے درس حدیث لیاجس سے آپ کی طبیعت میں تقلیدی جمود کے خلاف ایک تحریک اٹھی۔چنانچہ  وہاں سے واپسی پر آپ نے  سب سے پہلے برصغیر کے عوام کو اپنی تحریروں سے یہ بات سمجھائی  کہ دین  کو کسی ایک فقہ میں بند نہیں کیا جا سکتا،  بلکہ وہ  چاروں اماموں کے پاس ہے۔ یہ جامد تقلید کے خلاف برصغیر میں باضابطہ پہلی کوشش تھی۔اس کے بعد شاہ صاحب نے  ساری زندگی قرآن و سنت کو عام کرنے کے لیے وقف کردی۔آپ نے اپنی معروف کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات،  سماجیات او راقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے جس کا متعدد اہل علم نے  اردو میں  ترجمہ کیا ہے۔اور اس وقت ضرورت تھی کہ اس کی کوئی شرح بھی ہو تی چنانچہ مولف نے یہ کمی پوری کر دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب”رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغۃ” دار العلوم دیوبند کے استاذ مولانا سعید احمد پالن پوری صاحب  کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے شاہ صاحب کی اس عظیم الشان تصنیف کی شرح کر دی ہے۔یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور افادیت کے پیش نظر  اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، مترجم اور شارح سب کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست مضامین 3۔18
سخن ہائے گفتنی 19۔23
حجۃ اللہ البالغہ کے مضامین کاتعارف 19
شاہ صاحب ﷫ حنفی ضرور ہیں مگر جامد مقلد نہیں ہیں بلکہ محقق حنفی ہے 21
شاہ صاحب ﷫ شیخ ابو طاہر کردی ،مدنی ،شافعی ﷫ سے بے حد متاثر ہوئے ہیں 22
یہ خیال سراسر غلط ہے ک شاہ  صاحب ﷫ تقلید سے بے زار تھے 22
رائے گرامی :حضرت مولانا محمد سالم صاحب زیر فضلہ 24
رائے گرامی :حضرت مولانابرہان الدین صاحب سنبھلی زید مجدہ 25
رائے گرامی :حضرت مولانا ڈاکٹر عبداللہ ندوی زید مجد ہم 26
رائے گرامی :حضرت مولانا زین العابدین صاحب اعظمی زید مجدہ 28
کتاب کاآغاز 31
مبحث ششم سیاست ملیہ کابیان
با ب (1)ملتیں استوار کرنے والے دینی راہ نماؤں کی ضرورت 31
ملتوں کے قیام وبقاء کے لئے دینی راہ نماضروری ہیں 32
دینی راہ نما (عالم دین )کے لئے ضرو رتیں 37
دینی راہ اصلاح کے طریقے وجدان سے جانتے ہیں 38
نبی کاوجدان بحکم وحی ہے 39
علماء کےوجدانیات از قبیل اجتہادات ہیں 39
یہ کیسے معلوم کیاجائے کہ وجدانیات صحیح ہیں؟ 39
وجدانی علم حاصل ہونے  کی دوصورتیں 40
وجدانی علوم لوگوں کو کیسے باور کرائے جائیں؟ 40
باب (2)نبوت کی حقیقت اور اس کی خصوصیات 43۔75
غیب سے علم حاصل کرنے کی صورتیں 43
مفہم کی تعریف ،مفہمین کامرتبہ اور ان کی سیرت کے بارہ عناصر 43
مفہمین کی آٹھ قسمیں :کامل حکیم خلیفہ موید بروح القدوس ہاوی مزگی اما م مندراور نبی 46
نبیوں میں سب سے بڑا مقام اس نبی کاہے جس کی بعثت دوہری ہے یعنی جس کی امت بھی مبعوث ہے اور مفہمین کے تمام انواع کاجامع ہے (نہایت اہم بحث) 50
بعثت انبیاء کے اسباب اور ان کی اطاعت کاوجوب 56
نبی کی پیروی ہر حال میں ضروری ہے اگرچہ لوگ راہ راست پر ہوں 61
بعثت رسل سے تما م حجت ہوتاہے 62
نبوت کے معاملہ کی مثال سے وضاحت 63
اہم معجزات کے اسباب 65
چیزوں میں برکت وطرح سے ہوتی ہے 65
عصمت انبیاء کابیان 68
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ واسلام کامنہاج تعلیم وتربیت 70
باب (3)تما م سماوی مذاہب کی اصل ایک ہ او رقوانین ومناہج مختلف ہیں 76
اصل دین کیاہے اور منہاج وشریعت کیا ہے 79
آئین وشریعت کی ضرورت کیوں ہے 82
شریعت کسی طرح تشکیل پاتی ہے 86
شریعت کا فیصلہ بعثت کے فیصلہ میں مضمر ہوتاہے 91
باب (4)وہ اسباب جن کی وجہ سے مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کے لئے مخصوص شریعتیں نازل ہوئی ہیں 93
پانچ نصوص جواختلاف شرایع کے اسباب پر دلالت کرتی ہیں 63
شریعتوں میں اختلاف کے چار اسباب 98
اختلاف شرائع کےاسباب کثیرہ کامرجع وہ انواع ہیں 104
نوع اول کابیان یعنی اختلاف شرائع کے وہ اسباب جوفطری امر کی طرح ہیں 104
شریعتوں میں مستخضر اور غیر متحضر سبھی علوم کااعتبار ہوتاہے 109
نزول شرائع میں لوگوں کے عام وخاص دونوں قسم کے علوم کادرجہ اعتبار کای جاتاہے 113
اکثرنبوت کسی ملت کے ماتحت ہوتی ہے (اختلاف شرائع کی ایک او روجہ ) 114
دوسری نوع کابیان یعنی اختلاف شرائع کے وہ اسباب جوعارضی او رطاری ہیں 116
عارضی اسباب میں بنیادی سبب پیغمبر کی خصوصی توجہ اور دعاہے 118
عارضی اسباب کی مثال 119
عارضی اسباب کم سے کم پائے جائیں تو بہتر ہے 119
باب (5)شریعتوں پر مواخذہ کے اسباب 123
مجاز ات :اخلاق وملکات پر ہوگئ یااعمال ظاہر ہ پر ؟ 123
حق بات یہ ہے کہ ثواب وعقاب کاترغیب ظاہری اعمال پر ہوگا اور اعمال میں یہ شان سات وجوہ سے پیدا ہوئی ہے 127
مجازات میں اعمال ظاہر ہ کے ساتھ نیتوں کابھی اعتبار ہاے 135
قو م کو ڈبوکر آدمی حر نہیں سکتا 137
باب (6)حکم اور علت کے رموز 138
حکم کابیان احکام کاراز 138
حکم کی تعریفات اور مطالبہ او رممانعت کی دوصورتیں 139
احکام خمسہ ،وجوب،ندب،اباحت،کراہیت او رتحریم 140
اصولیوں کے نزدیک حکم کی تعریف 142
علت کابیان علت کی تعریف ارو علت کاراز 143
حکم کی بنیادی دو قسمیں حکم تکفی اور حکم وضعی 145
حکم وضعی کی پانچ ہے،علت ،سبب ،شرط،علامت ،او رمائع 145
علت کی اقسام 146
کبھی لوازم علت کوعلت بنایا جاتاہے 151
علت واضح چیز ارو بنیادی مصالح کامظنہ ہونی چائیے 154
جس وصف کو علت بنایا جائے اس میں کوئی وجہ ترجیج ہونی چاہئے 155
وجوہ ترجیج پانچ ہیں تاثیر ظہور انضباط عدم مخلف او رمناسبت 156
علت دریافت کرنے کاطریقہ سیروتقسیم 157
باب (7)ارکان اور آداب وغیرہ تجویز کرنے کی حکمتیں 157۔177
سب عبادتیں اور ان کے اجزا ء یکساں کیوں نہیں 157
ارکان وشرائط کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے 160
فرائض میں محلوظ اصولی باتیں 166
طاعات کی اعلی اور ادنی حدکی وضاحت 167
آداب کی تعین کی پہلی مصلحت (مثبت پہلو سے ) 169
آداب کی تعیین کی دوسری مصلحت (منفی پہلو سے ) 171
فرض کفایہ کی تعیین کی مصلحتیں 175
باب (8)عبادتوں کے لیے تعیین اوقات کی حکمتیں 178۔193
تین اصول جن پر تعیین کی حکمتیں مبنی ہیں 178
اصل اول:عبادت کے لئے وہ اوقات مناسب ہیں جن میں روحانیت پھیلتی ہے 178
ظہور روحانیت کے اوقات اور نمازوں کے لئے ان کی تعیین 181
اصل دوم:عبادت کےلئے مناسب اوقات وہ ہیں جو عبادت گذاروں کے احوال کے مطابق ہوں 187
اصل سوم :تعیین اوقات میں مرعی امور چار ہیں 191
باب (9)اعداد ومقاویر کی حکمتیں 194
اصل اول :طاق عددکی رعایت 194
طاق عدد ایک مبار ک عدد ہے (دلیل نقلی وعقلی) 194
مقاویر شرعیہ میں ایک تین سات اور ان سے ترقی یافتہ عددلے گئے ہیں 196
ایک عدد ہے یانہیں اصول اعداد 1۔9ہیں باقی تمام اعداد فروعات ہیں 196
ایک تین اور سات ہی ایسے طاق اعداد ہیں جو وجوہ طاق ہیں 197
اعداد کوتر قی دینے کاطریقہ 197
اصل دوم :ترغیب وترہیب وغیرہ کے اعداد کی حکمتوں کے لئے ضوابط 202
پہلاضابط:کبھی عددوقتی اطلاع کے مطابق ذکر کیا جاتا ہے حصر مقصود نہیں ہوتا 202
دوسر ا ضابطہ کبھی عدداجتہاد سے مقرر کیاجاتاہے 205
تیسر اضابطہ :کبھی عددیامقدار بطور تمثیل ذکر کی جاتی ہے 209
اصل سوم :جومقدر متعین کی جائے وہ واضح اور معلوم ہونی چاہیے 310
کسر،جز،منطق،اصم ،کی تعریفات 210
فرائض کے سہام کابیان 211
تعیین مقدار کے تین اور ضابطے 212
رکات کی مقداریں اور ان کی حکمتیں 214
مالداری کی تعیین کیسے کی جائے 214
مائے کثیرہ کاانداز ہ قلیتن سے کیا گیاہے 215
باب (10)قضاءاور رخصت کی حکمتیں 217۔228
احکام تکلیفہ کے لحاظ سے بندوں کی دوحالتیں 217
جوہر عمل سے زیادہ عمل کی ظاہری صورت مطلوب ہے 217
جب ادفوت ہوجائے توقضا ضروری ہے اور ادائیگی میں دشواری ہوتو رخصت ضروری ہے 218
نفس کو قابو میں لانے کاطریقہ 219
رخصتوں کے تین اصول 222
اصول اول :رخصت ارکان وشروط کے اصلی درجہ میں نہیں تکمیلی درجہ میں دی جاتی ہے 222
اصل دوم :رخصت میں بدل ایسا تجویز کی جائے جواصل کو یاددلائے 225
اصول سوم :ہرتنگی باعث رخصت نہیں صرف  کثیر الوقوع تنگی جس میں ابتلاء عام ہوباعث رخصت ہے 225
رخصت کی ایک صورت بہ بھی ہے کہ ایک وقت حکم اٹھا دیاجائے 226
باب (11)ارتفاقات کی رائج کرنا اور ریت ورواج کی اصلاح کرنا 229
صالح ارتفاقات کی رائج کی ترغیب دینا او رباطل رسوم کو مٹانا مقاصد نبوت میں داخل ہے 229
ارتفاق ثانی اور ثالث کی رائیگاں کرنااللہ کی مرضی نہیں ہے 232
ارتفاقات پیش لفظ کرنے میں انبیاءکاطریقہ ہے 235
ارتفاقات او رعیش کوشی 239
بڑے جھگڑوں کاسدباب مقتول کےخون کامطالبہ میراث کے معاملات اور سود کامعاملہ 246
چھوٹے نزاعات کے لئے ضوائط 248
باب (12)بعض احکام سے بعض احکام کاپیدا ہونا 250
اقتضاء اور ایماء کے معانی 250

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
23 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like