رسالہ عمل بالحدیث

عمل بالحدیث

 

مصنف : ولایت علی صادق پوری

 

صفحات: 38

 

فتنہ انکار تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے کی میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے عقائد اور و کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور عقائد اور و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار و کی ریاست و چودہراہٹ صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر کتاب” عمل بالحدیث” محترم مولانا ولایت علی صادق پوری صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے حدیث پر عمل کرنے کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریب 3
مختصر مولانا ولایت علی  4
مسلک ترجمہ با لحدیث 11

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply