سفرنامہ حجاز (مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫)

حجاز (مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫)

 

مصنف : چنیوٹی

 

صفحات: 103

 

شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ﷫سے کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے میں سید نذیرحسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم ہی نہیں دین کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا نے دعویٰ کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیانیت میں مولانا ثناء امرتسری نے’’ مرزا، فیصلہ مرزا، الہامات مرزا، نکات مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، مرزا، شاہ انگلستان اور مرزا، احمدیہ، مباحثہ قادیانی، مکالمہ احمدیہ، فتح ربانی، فاتح قادیان اور بہااللہ اور مرزا۔‘‘ جیسی کتب لکھیں۔اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد مناظرے کیے اور ہر جگہ کی حقانیت کو ثابت کیا۔الغرض شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔آپ اسلام کی اشاعت اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار جاری کیا۔ قادیانیت ، اور ہند مت کے رد کے علاوہ بھی بہت سی کتب لکھیں ۔ القرآن بکلام الرحمن (عربی) اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں ۔مولانا کی کے سلسلے میں معروف قلماران او رمضمون نگاران نے بیسیوں لکھے ہیں جو پاک وہند کے رسائل کی کی زینت بنتے رہتے ہیں اور بعض اہل نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر کتا ب’’ حجاز ‘‘ برصغیر کی نامور شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء امرتسری ﷫ کے سفرِِ کی روداد پرمشتمل ہے ۔مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے یہ 1926 کو اختیار کیا اور اجتماعی سفر کا اعلان کیا تو بھر سے تقریباً پانچ صد افراد کا قافلہ آپ کے ساتھ شریک سفر تھا۔مولانا کایہ سفر 26 اپریل 1926ء سے 20 اگست تک تھا۔اس چار ماہ کے سفر میں جن ومشاہدات کا سامنا ہوا وہ انہیں تحریری صورت میں ہر ہفتہ بذریعہ ڈاک ہندوستان روانہ کرتے رہے جو ہفت اہل امرتسر میں 13 اقساط میں مسافرحجاز کا کے عنوان سے شائع ہوئے ۔مولانا چنیوٹی نےان کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ان مکاتیب کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔تاکہ اس دور کی سیاسی وعلمی اور مذہبی سے آگہی ہوسکے اور ارض حجاز اور کےحالات کاعلم ہوسکے ۔یہ کتاب سیاسی اور تاریخی کاخزانہ اورتاریخی دستاویز ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
حرفے چند 5
ابتدائیہ 7
ثنائی کاسوانحی خاکہ 10
سفرحج کاعزم 12
عازمین کو اطلاع 12
اوراحباب کوآخری سلام 13
ناظرین اخبار سےدرخواست 13
سپاسنامہ نمبر 1 14
سپاسنامہ نمبر 2 16
جوابی خطاب 19
کاآغاز 20
سلک ،مرواید 21
نظم 22
پر ایک 23
مسافر کامکتوب نمبر 1 31
مسافر ان کی تکالیف 31
عجیب مشابہت 32
گورنمنٹ حکام کی بے پرواہی 33
دوسری تکلیف 33
کراچی میں عظیم الشان جلسہ 34
مسافر حجاز کامکتوب نمبر 2 36
لطیفہ 37
جہازی کیفیت 38
حالت عامہ 38
خاص مجھ پر احسان 39
عجیب واقعہ 39
پر نزاع 40
مسافرحجاز  کامکتوب 3 41
کامران میں قرنطینہ کی تکلیف 41
لطیفہ یاظلم 42
غسل کافائدہ 43
ایک اوررستم ظریفی 43
ایک اورنظارہ 43
حالات 44
مسافر حجاز کامکتوب 4 45
دلفگار واقعہ 45
نجدیوں کی کیفیت 46
عظمۃ السلطان ابن سعود کی شخصیت 46
مسافر حجاز کاخط 5 47
حرم کےحالات اورموتمر کےمقاصد 47
مکہ معظمہ کی بیرونی حالت 49
انتظامی کیفیت 49
موتمر مکہ کےاجلاس میں زیر بحث 50
نظام موتمر حجازی 51
مسافر حجاز کاخط6 55
مکہ اورزائرین مکہ 57
مسافر حجاز کاخط 7 57
کانفرنس مکہ میں 57
ترجمۃ استقبالیہ خطبہ شاہی 57
مسافر حجاز کاخط 8 60
مکہ اورمکہ کی آبادی پر 60
مکہ کو سیراب کرنےکی دوصورتیں 61
پہلی صورت 61
دوسری صورت 61
مسافر حجاز کاخط 9 63
مصریوں کی شیطنت اورسلطان کاحلم وحکمت 63
مصری محمل 63
مسافر حجاز کاخط 10 65
موتمر  مکہ معظمہ 65
ابن سعود کاخط 66
موتمر میں پیش کردہ تجاویز 66
مسافر حجاز کاخط 11 70
مدینہ شریف میں وردد 70
ارض حجاز سےناظرین 70
کےنام 70
سفرمیں مدینہ طیبہ 1 71
شکریہ 73
روحانی کیفیت 75
مسجدنبوی ﷺ کی زیارت 75
افسوی ناک منظر 76
محتاجی 77
حجازی 79
سے واپسی اوراستقبال 83
احباب کےخطوط کاجواب 87
کاخراج عقیدت 88
اخبار مکہ 92
سفرمدینہ 92
گرمی 92
بخار 93
محمل مصری 93
93
سلطان عبدالعزیز کےمعزز مہمان 93
علماءہند کادورحجاز 93
موتمر 94
موتمر کاخاتمہ اوروفود کی روانگی 94
کاانتظام تسلی بخش تھا 94
مکہ فنڈ 94
مکہ معظمہ کی کیفیت 94
غزنوی اورثنائی نزاع کاخاتمہ 97

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply