سید ابو الاعلیٰ مودودی کا مخصوص نظریہ حدیث

سید ابو الاعلیٰ مودودی کا مخصوص نظریہ

 

مصنف : حافظ عبد محدث روپڑی

 

صفحات: 137

 

متحدہ کے جن خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی و دینی کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی ﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو و کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے آج بھی اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید ہےاور آپ کے جات کو بطور سند حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے۔مذکورہ کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں:’’ حافظ روپڑی جیسا ذی اور لائق استاد تمام میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں‘‘۔عالم میں آپ ایک محدث کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔اگر آپ کے سامنے کسی بھی قسم کا الجھا ہوا پیش ہوتا تو آپ فوراً وسنت کی روشنی میں فرمادیتے آپ کو وسنت سے اس قدر محبت تھی کہ قرآن وسنت کا دفاع آپ کا شعار تھا اور کےمعاملہ میں آپ نے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ زیر کتاب ’’سید ابو الاعلیٰ مودوی﷫ کا مخصوص نظریہ حدیث ‘‘حافظ محدث روپڑی ﷫ کی دفاع شبہات کے سلسلہ میں ایک تصنیف ہے ۔مولانا مودوی نے انکار کے فتنہ سےمتاثر ہوکر حدیث کے متعلق دو شبہات (اسماء الرجال کی حیثیت،درایت اور ذوق حدیث کی حیثیت) پیش کیے تواس وقت کے علماء نے وقت کی نزاکت کے پیش قلم اٹھایا اوراپنے اپنے انداز میں اس کا رد کیا۔اور پھر احباب جماعت کے اصرارپر 1955ء میں حضرت العلام حافظ مدث روپڑی ﷫نےبڑے احسن اور مدلل پیرائے میں ان شبہات کا جواب لکھا۔ کتاب ہذا انہی جوابات پر مشتمل ہے ۔جماعت کے سینئر رہنما ،نائب ناظم اعلیٰ جامعہ اہل چوک دالگراں ،لاہور نے اس کتاب پر تبویب وتخریج کا کام کیا اور اسے محدث روپڑی اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا بعد ازاں اس کتاب کو میں پبلی کیشنز، نے شائع کیا زیرتبصرہ کتاب دہلی سے ہی

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 1
امت مسلمہ اورجماعت 1
الاستفتاء 2
اورقیاس 5
رسول اللہﷺ اورمودودی کاذوق سلیم 6
ابن ابان پر تردید کے پہلو 7
جرح وتعدیل کےانسانی معتبر ذرائع 9
مولنا مودودی اورانکار 12
مولانا مودودی کی ورایت کے راستے 13
عادات نبوی ﷺ اورمودودیت 14
فطر ت 15
فیض انبالوی لکھتے ہیں 17
مولانا لکھتے ہیں 18
الامام المہدی 18
جدید ترین طرز کالیڈر 19
تحریک 19
جزوی مجددین 19
ہمہ گیراسلامی تحریک 20
اہل 20
دوسرا راستہ 22
تیسرا راستہ 25
کتاب ومسلم 28
مولانامودودی کے ترجمعہ میں غلطی 31
ایک خبر اور اس کےجوابات 33
ایک سوال اور اس   کاجواب 37
مخالفین کے رسول سے تین سوال 38
اورحدیث 41
الاستفتاء 42
قدسی اورغیر قدسی میں فرق 43
پانچواں راستہ 52
وحدیث میں بظار متعارض کی امثلہ اور تطبیق 56
مثال اول 56
اورفروعی بحثیں 58
تیسر ی مثال 58
الجواب 61
ایک اعتراض اوراس کاجواب 63
اصل 65
جدت پسندی 66
شاہراہ کابیان 67
کاتعین 68
مجید باعث ہدایت ہے 69
فرقہ ناجیہ اورآسمانی شہادتیں 70
ایک غلط فہمی کاازالہ 76
گمراہی کاباعث غلطی 77
اصطلاحا ت ومحاورات کے سمجھنے کاانحصار واضع پر ہوتاہے 78
حجیت پر ادالہ اربعہ 80
پگ ڈنڈیوں کابیان 82
خبر متواتر اورخبر واحد میں فرق 84
مقام اول 86
مولانا مودودی اورتفویض 86
مولانا مودودی کی غلطی 87
مقام دوم 89
مولنا مودود ی کامبلغ 89
گمراہ فرق 93
مولانا اصلاحی صاحب کاذکر خیر 98
مولا نا اصلاحی خامیوں کی دلدل میں 99
مولنا اصلاحی کی تعریف سے پیدا ہونے والی خرابیاں 100
فتنہ مولانا مودودی اورانکار ومرزائیت 102
پہلی صورت 106
مولانا کاذوق سلیم 107
دوسری صورت 108
مولانا مودودی خوداپنے جال میں 110
مودودی صاحب کاآئمہ مجتہدین پر بہتان 111
فقہی میں کےاختلاف کی وجہ 113
مودودی صاحب میں مرزااصاحب کی 115
محدثین کےنزدیک کی شروط 118
فرقہ باطلہ کی تردید 121
محدثین کانقطہ 121
مولانا مودودی کادعوی اورمنکرین کی تردید 122
قارئین کرام 125
محدث کی ورایت مجتہد سے قوی ہوتی ہے 125
مولانا مودودی کی میں محدثین کی کمزوریاں 128
فقیہانہ کی چند اورامثلہ 128
فقیہانہ کی مزدی وضاحت 131
محدث اورفقیہ کامناظرہ 132
مولانا عبدالحی لکھنوی اورمحدثین کارجحان 135
امام طحطحاوی اورحق وباطل کامعیار 136

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...