سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 3

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 3

 

مصنف : علامہ

 

صفحات: 555

 

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد کرتے ہیں اس کے انسانِ اول اور ِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ شروع ہی سے رسول کریم ﷺکی طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی میں آپ ﷺ کی طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل اپنے تحریری پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ میں سرت النبی از شبلی نعمانی ،سیدسلیمان ندوی رحمہما اللہ ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر کتاب ’’ ﷺ‘‘ برصغیر پاک وہند میں کےعنوان مشہور ومعروف کتاب ہے جسے علامہ شبلی نعمانی﷫ نے شروع کیا لیکن تکمیل سے قبل سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو پھر علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ نے مکمل کیا ہے ۔ یہ کتاب محسن ِ انسانیت کی سیرت پر نفرد اسلوب کی حامل ایک جامع کتاب ہے ۔ اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے پیش پاک وہند کے کئی ناشرین نےاسے شائع کیا ۔زیر نسخہ ’’مکتبہ اسلامیہ،لاہور ‘‘ کا طبع شدہ ہے اس اشاعت میں درج ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔قدیم نسخوں سےتقابل وموازنہ ، قرآنیہ ، اورروایات کی مکمل تخریج، واحادیث کی عبارت کو خاص طور پرنمایاں کیا ہے ۔نیز اس اشاعت میں ضیاء الدین اصلاحی کی اضافی توضیحات وتشریحات کےآخر میں (ض) لکھ واضح کر دیا ہے ۔تاکہ قارئین کوکسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علاوہ ازیں اس نسخہ کو ظاہر ی وباطنی حسن کا اعلیٰ شاہکار بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔اور کتاب کی تخریج وتصحیح ڈاکٹر محمد طیب،پرو فیسر حافظ محمد اصغر ، فضیلۃ الشیخ عمر دارز اور فضیلۃ الشیخ محمد ارشد کمال حفظہم نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی طباعت میں تمام احباب کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
                                  فہرست سیرۃ انبی ﷺ حصہ سوم
دیبا چہ طبع سوم 13
دیبا چہ ( طبع اول) 14
و معجزات 16
روحانی نو ا میس کا و جود 16
بنو ت کے فطری وروحانی ا ٓ ثار 16
بنو ت کے روحانی نوا میس انسانی پر
حکمران ہیں 17
بنو ت کے روحانی نو امیس کے اسباب و علل
سے ہم اسی طر ح لاعلم ہیں جس طر ح جسمانی
کے 17
انبیا کے ا صلی خود ان کا سر تا پا وجود ہے 18
انبیا کے کامل پیر وان سے نہیں مانگتے تھے 18
معاند ین معجزوں کے بعد بھی ایمان نہیں لائےا 18
معجزوں سے کن کو فائدہ پہنچتا ہے 18
ان کا اصطلا حی نام 19
وبرہان و آیات کا تعلق انبیا کی سیر تو ں سے 19
و  ا ٓ یا ت کا تعلق محمد ی سے 20
و معجزات اور عقیلت 21
و معجزات اور قدیم و کلام 23
اطلا ع غیب 25
رویت ملائکہ 25
خوار ق عادت 26
مشا ہدہ 27
معجزات 40
اسباب خفیہ کی تو جیہ بے کار ہے 48
حکمائے کی غلطی کا سبب 48
اشاعرہ اور معتزلہ میں نتیجہ کا اختلا ف نہیں 49
خر ق عادت سے انکار کا اصلی سبب سلسلہ
اسباب و  علل پر یقین ہے 49
سلسلہ اسباب و علل پر انسانی کو ا حتوا نہیں 50
حقیقی علت کی قدرت اور ارادہ ہے 51
مولانا روم اور اسباب و علل اور کی حقیقت 52
علت، خا صیت اور اس کی حقیقت 54
اسباب و علل محض عادی ہیں 55
اسباب عادیہ کا صر ف تجربہ سے ہو تا ہے 56
اسباب و علل کا بدلتا رہتا ہے 56
اسباب و علل کا تجر بہ سے ہو تا ہے 57
علامہ کا بیان کہ اسباب و علل تجر بی ہیں 59
تجر بیا ت کی بنا اور روایت اور پر
ہے 62
اور بھی ایک قسم کی ہیں 62
تاریخی شہا دتو ں کے شرا ئط استناد 63
مسلمانوں کا روایت 64
نا ویدہ پر یقین کرنے کا ذ ریعہ صر ف
روایات کی ہے 65
خبر احا د پر بھی عملا یقین ہوتا ہے 65
پر یقین کے  لیے اصلی بنیا د امکان اور
عدم امکان کی بحث نہیں بلکہ روایت کے ثبوت
اور عدم ثبوت کی ہے 66
جس درجہ کا واقعہ ہواسی درجہ کی ہونی
چاہیے 66
معجزات دراصل تجر بیات کے خلاف نہیں ہو تے 66
معجزات کا ثبوت روایتی شہا دتیں ہیں 67
خلاصہ مبا حث 67
یقین معجزات کے نفسی 68
رحمتہ علیہ اور یقین اور اذعان کی صور تیں 68
اور سحر کا فر ق 70
دلیل بنو ت ہوسکتا ہے یا نہیں 74
رحمتہ علیہ کی تقریر 77
رحمتہ علیہ کی تقریر 78
مولانا روم کے حقو ئق 79
صحابہ ؓ کو کیوں کر رسالت کا یقین ا ٓ یا 83
و معجزات اور عقلیات جدیدہ 87
مفہوم نبو ت 87
مفہو م 88
ترتیب مبا حث 88
امکان معجزات 89
ہیوم کا استدلال 89
فطرت کی حقیقت 92
معجزات 99
امکان ، وقوع کے لیے کا فی نہیں 99
ہیو م کا فتو یٰ 100
ہیوم کا تعصب 100
کافی 101
ہیوم کا صر یح تنا قض 103
انتہائی استبعاد 104
استعباد معجزات 104
فطر ت کی یکسانی 104
ایجادات 106
تنویم 106
معجزات شفا 107
عام تجربات 108
رو یا ئے صادقہ 109
حقیقی اسرار نبوت 110
حقیقی ا ٓ یات نبوت کی عام مثالیں 110
مقدمات ثلثہ 114
اصلی بحث یقین کی ہے 114
یقین معجزات 115
یقین کی ا ہمیت 115
کا یقین 116
یکسانی جذبہ 116
نظریا ت کا یقین 117
مشاہدات کا یقین 118
نفسیا ت یقین 120
خواہش یقین 121
مو ا نع و مو یدات یقین 121
نفسیات یقین کی و اقعات ے 123
غایت معجزات 125
منطقی دلیل نہیں 125
کی ا صلی غایت 126
پہلی صور ت 127
بعض وسو سو ں کا جواب 129
ایک اور اعتراض 130
دوسری صورت 131
اس صورت کے مختلف احتمالات 131
یقین کی شرائط 134
لب لباب 139
آیا ت و اور قرآن مجید 140
انبیااور آ یا ت ودلائل 140
لفظ ا ٓیت و کی حقیقت 141
ا ٓیات 143
آیا ت و کی دو قسمیں ، ظاہری اورباطنی 147
نبوت کی با طنی نشانیاں ، کی روشنی میں 147
قرآن مجید اور نبوت کی باطنی علامات 151
ظاہری ا ٓ یات اور نشانیاں 154
ظاہری نشا نا ت صر ف معا ندین طلب کرتے ہیں 154
کفار کا یہ طلب کرنا نفی معجزہ کی دلیل نہیں 155
معاندین کو سے بھی تسلی نہیں ہو تی 156
معاندین کو سے بھی ایمان کی دولت نہیں ملتی 159
با ایں ہمہ انبیا معا ندین کو معجزات دکھاتے ہیں
اور وہ ا عراض کر تے ہیں 163
اس لیے با لا ٓ خر معا ندین کو طلب سے
تغافل بر تا جا تا ہے 166
کے انکار یا تا خیر کے اسباب 167
عقیدہ معجزات کی ا صلا ح 171
مسلہ اسباب و علل میں افراط و تفریط 175
قرآن مجید اسباب و مصا لح کا قائل ہے 177
لین علت حقیقی قدر ت و مشیت ہے 182
قرآن میں کا مفہوم ہ 184
قرآن میں فطر ۃ کا مفہوم 185
کا سبب صرف ارادہ الٰہی ہے 186
کی باعتبار خر ق عادت کے چا ر قسمیں 187
اہل ایمان پر اثر کے لحاظ سے معجزات کی دو قسمیں 188
کفار کے لیے نتا ئج کے لحاظ سے معجزات کی دو قسمیں 190
آنحضرت ﷺ اور معجزہ  ہدایت 193
شق قمر ا ٓخری نشان ہدا یت تھا 194
آنحضرت ﷺ اور ہلاکت 195
غزوہ بد ر ہلا کت تھا 200
سحر اور کا فرق اور ساحر اور میں امتیاز 204
معجزات اور نشانات سے کن لو گو ں کو ہدایت
ملتی ہے 206
صداقت کو نشانی صر ف ہدایت ہے 209
آیا ت و لائل نبوی کی تفصیل 210
خصائص النبو ۃ 211
مکالمہ الٰہی 213
214
نزو ل ملا ئکہ 222
نز ول جبریل علیہ السلام 223
فر شتہ میکا ئیل کا نزول 229
عام ملائکہ کا نزول 230
عالم رویا 235
رویائے تمثیلی 242
مشا ہدات و مسمو عات 249
عالم بیداری 249
اسرا یا 254
انبیا اور سیر ملکو ت 254
نبوی 255
نبو ی کا وقت و اور تعد ادوقوع 255
کی صحیح روایتیں 259
معرا ج کا واقعہ 260
کفار کی تکذیب 267
کیا آ پ ﷺ نے میں کو دیکھا ؟ 268
جسمانی تھی یا روحانی ، تھا یا بیدار ی 272
کے بحالت بیداری ہونے پر صحیح استدلال 277
بد عیان رویا کا مقصود بھی رویا سے عام
نہیں 278
رویا ئے صادقہ کی تا ویل 278
رویا سے مقصو د ر و حانی ہے 279
قرآن مجیداور 289
( کے اسرار ، اعلانات احکا  م بشار تیں
اور انعاما ت) 289
آنحضر ت ﷺ کا نبی القبلتین ہونا 289
بنی اسرائیل کی مدت تولیت کا اختتام 291
کفارمکہ کے نام ا ٓ خری اعلان 292
کے و وصایا 294
ہجرت اور عذاب 297
پنجگا نہ کی فر ضیت 299
ہجرت کی 300

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
15.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply