شان رب العالمین

شان رب العالمین

 

مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

 

صفحات: 99

 

تعالی کے نیک بندوں، ولیوں، بزرگوں، صدیقوں، اور نبیوں کی اپنی اپنی شان اور بزرگی ہے، لیکن ان بزرگ ہستیوں کو مرتبے اور شانیں عطا کرنےوالے اللہ رب العزت کی بھی ضروری شان ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے، اسی طرح اس کی صفات کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں۔ اس کی صفات اور کمالات نہ تو ہمارے شمار میں آ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ صفات ہو سکتی ہیں جن کو ہم بیان کر سکیں۔اللہ کا وجود اس کی ایک کھلی حقیقت ہے۔ اس دنیا کے نباتات، جمادات ، حیوان، چرند، پرند اور انسان  اپنے ظاہر و باطن سے اعلان کررہے ہیں کہ وہ  آپ سے آپ وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں کسی نے پیداکیا ہے۔ چنانچہ ہر شے کا اپنے رب سے پہلا رشتہ مخلوق اور خالق کا ہے۔ زیر کتاب ” شان رب العالمین “جماعت اہل کے معروف عالم اور مصنف محترم مولانا صادق سیالکوٹی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اللہ تعالی کی شان اور مقام کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
یزداں رحمتؐ عالم کی نظرمیں 11
زبردست سہارا 12
فقر محمد کے مظاہرے 14
ساتوں آسمانوں میں ہل چل مچا دینے والی 15
ربوبیت اور الوہیت کا نکھار 17
خدائے لم یزل کا مرتبہ 18
یاد و قنوط کی تاریکیوں کی مشعل 24
قلب اطہر سے یقین و ایمان کےسوتے پھوٹ رہے ہیں 25
اطہر کے جگماتے لعل 26
نفس کی برائی سے ہی پناہ دیتا ہے 27
ہم و غم اور کسل و جبن سے بچاتا ہے 29
صفت لایزال کی ایک جھلک 30
حضرت انوار سے بکثرت نور مانگتے ہیں 31
خدائے لم یزل کا تصرف 32
موتیوں کی لڑی 33
میں تیرا غلام ہوں 33
تیرے غلام کا بیٹا ہوں 34
میں تیرے قبضے میں ہوں 34
میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے 35
تیرا حکم میرے میں جاری ہے 36
تیرا فیصلہ میرے میں عدل ہے 36
برترازو ہم و قیاس و گمان 37
اعضاء و احشاء عاجز ہو گئے 37
معدن رسالت کے ہیرے رب العزت کی جناب میں 38
صبح خیر اور شام عافیت لاتا ہے 39
زندگی اور پراللہ قادر ہے 39
سوتا تو نہیں مجھے سلا وے 40
سرورؐ و جہاں پر قربان ہوتے ہیں 42
پتہ چلا  کون ہے؟ 42
ہوں لاکھوں سلام اس آقاؐ پر 44
حجرت انورؐ کی نسبت امت کی طرف 44
یزداں کی میں 46
تقلیب لیل و نہار 47
اگر رات یا دن قیا مت تک مسلط ہو جائے 48
رات یا دن کو کوئی بدل نہیں سکتا 49
یہ ہےاللہ رب تمہارا کوئی چھلکے کا مختار نہیں 50
تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا 51
غیب کی چابیاں 53
مغیبات کا صرف کو ہے 54
زمین کے اندھیروں میں دانوں کا جاننے والا 55
ہی عالم الغیب ہے 56
خاصہ خداوندی میں کوئی شریک نہیں 58
کے خزانے کسی کے پاس نہیں 60
مختار کل 61
دنیا وما فیہا کا مالک و مختار 62
تمام چیزوں کا قابض و مختار 63
کو پوچھنے والا کوئی نہیں 63
زبردست قادر و توانا ذات 64
کے مقابلہ میں پناہ نہیں 64
کے کلمات اور صفات لا انتہا ہیں 65
کا کو ئی ہمسر نہیں 66
صدا زندہ سب کو تھامنے والی ذات 66
عبادات کے لائق شانیں اور صفتیں 68
زمین کو ٹھہرانے والا۔دریاؤں  اور پہاڑوں کو جاننے والا 69
ہے کوئی ان صفتوں والی 69
عاجزوں کی کون قبول کرتا ہے 71
تعالیٰ کے ساتھ کوئی الہ نہیں 72
بحر و بر کے اندھیروں میں رہنمائی کرنے والا 72
تعالیٰ تمہارا  رازق اور داتا ہے 74
عبادات کے لائق وہ ہے جو تم کو دیتا ہے 75
چاہے تو دنیا ومافیہا کونیست و نابود کردے 76
بندوں کی بالراست سنتا اور قبول کرتا ہے 77
سفارشی کے میں نہیں 78
دعاکرو میرے آگے  قبول کرو نگا میں 79
بخشش گناہ گاروں کے لیے ہے 80
رگ  جان سے بہت نزدیک ہے 81
سب کی سنتا ہے 82
تمام اہل آسمان و زمین کے غلام ہیں 83
معبود کے مقام کا خیال 84
مالک اور غلام میں فرق چاہیے 85
تعالیٰ کا رساز ہے 85
تعالیٰ حاجت رواہے 86
فوق الاسباب پکار 88
مکھی کے منہ سے چھڑانہیں سکتے 89
کوئی نافع اور ضار نہیں 91
کےسوا کوئی مشکل کشا نہیں 91
بندوں کے گناہ بخشتا  ہے 93

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...