شیخ محمد بن عبد الوہاب کے بارے میں دو متضاد نظریے

شیخ محمد بن عبد الوہاب کے بارے میں دو متضاد نظریے

 

مصنف : محفوظ الرحمن فیضی

 

صفحات: 87

 

بارہویں صدی ہجری میں عالم اسلام کا زوال وانحطاط اپنی حدکو پہنچ چکا تھا۔ مسلمان ہراعتبارسے پستی اور تخلف کا شکارتھے۔ سیاسی،ثقافتی،اخلاقی اور علمی انحطاط کے ساتھ ساتھ دینی اعتبارسے بھی یہ سخت زبوں حالی کاشکارتھے۔ دین کی گرفت نہ صرف یہ کہ مسلمانوں پرڈھیلی پڑچکی تھی بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دین ان کی زندگی سے پورے طور پر نکل چکا تھا۔ان پرآشوب حالات میں عالم اسلام خصوصاً جزیرۃ العرب پراللہ کافیضان ہوا، اورشیخ الاسلام امام محمدبن عبدالوہاب تیمی نجدی ﷫نے نجدکی’ عیُیَیْنَہ‘‘نامی بستی میں ایک علمی خانوادہ کے اندر ۱۱۱۵ھ مطابق ۱۷۰۳ء میں آنکھیں کھولیں،اورسن شعورکو پہونچنے کے بعدتحصیل علم میں لگ گئے، اپنے والد شیخ عبدالوہاب سے جونجدکے علماء میں ممتاز تھے کسب فیض کیا اورمزید علم کی تلاش میں حجاز کا رخ کیا اورمدینۃ الرسول پہونچ کر وہاں کے علماء ومشائخ سے حدیث کا درس لیا اورپھر مزید علمی تشنگی بجھانے کے لئے بصرہ کاقصدکیا اور وہاں پہونچ کر حدیث وادب میں مزید مہارت پیداکی، اور اس کے بعدآپ اپنے علاقہ نجدمیں واپس آکر دعوت وتبلیغ میں مصروف ہوگئے۔آپ انتہائی ذکی وفطین، قوی وجری، مخلص وغیور اور دین میں پہاڑ کی طرح سخت اور عقیدہ توحید کے اظہار واعلان میں مومنانہ عزم وبصیرت اور استقامت کے مالک تھے۔ زیر تبصرہ کتاب” شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫ کے بارے میں دو متضاد نظریے “محترم مولانا محفوظ الرحمن فیضی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے امام محمدبن عبد الوھاب شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫ کے بارے میں دو متضاد نظریے کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی ہے اور ان کے بارے میں پائے جانے والے دو متضاد نظریات کا باہمی موازنہ کرتے ہوئے حقیقت حال کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
تقدیم 7
شیخ الاسلام کے مختصر حالات 10
شیخ الاسلام کی دعوت 11
دعوت کے اثرات 13
سعودی حکومت 13
شیخ کے خلاف پراپیگنڈہ 14
فہرست نا مکمل

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like