Categories
Islam اسلام اصول حدیث تاریخ حقوق نسواں رشد

ششماہی رشد ، جلد نمبر 14 ، شمارہ نمبر9 ،جنوری 2018ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 14 ، شمارہ نمبر9 ،جنوری 2018ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 125

 

محترم قارئین کرام!
اس وقت رشد کا نواں شمارہ(جنوری تا مارچ 2018ء) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ “تحقیق حدیث میں از روئے متن شذوذ اور علت کی مباحث: ایک تحقیقی مطالعہ” کے عنوان سے ہے۔ شذوذ اور علت کی ابحاث روایت حدیث کی تحقیق کی اہم اور گہری ترین مباحث میں سے ہیں۔ اس مقالے میں متن حدیث میں شذوذ اور علت کی پہچان کے اصول وضوابط کا تعارف کروایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بتلایا گیا ہے کہ حدیث کی تحقیق میں سند کی تحقیق اور متن کی تحقیق یہ دو معیارات الگ الگ نہیں ہیں بلکہ حدیث کی تحقیق کے تمام اسالیب میں اصل مدار سند ہی ہے۔ حدیث کے متن کی تحقیق سے متعلق جتنی مباحث ہمیں اصول حدیث کی کتب میں ملتی ہیں، ان کا آخری نتیجہ بھی یہی ہے کہ سند کی دوبارہ یا سہ بارہ تحقیق ہو جائے۔ پس حدیث کے متن کی تحقیق کے لیے نقد روایت کے نام نہاد درایتی معیار کو مستقل معیارِتحقیق قرار دینا درست طرز عمل نہیں ہے۔ شمارے کا دوسرا مقالہ ” تبدیلی احکام پر اولیات عمر سےاستدلال اوراس کاتجزیہ ” کے موضوع پر ہے۔ “اولیات عمر ” سے مراد وہ احکامات ہیں جو حضرت عمر نے پہلے پہل اپنی خلافت میں جاری فرمائے۔ مقالہ نگار کے مطابق متجددین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ “اولیات عمر ” اس بات کی دلیل ہیں کہ احوال وظروف کے تبدیل ہو جانے سے شرعی احکام بھی بدل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مقالہ نگار نے یہ ثابت کیا ہے کہ “اولیات عمر ” کا تعلق شرعی احکام کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ یہ حضرت عمر کا شریعت کی عمومی تعلیمات کا فہم ہے جو کہ انہوں نے بطور قانون نافذ اور لاگو فرمایا۔ مقالہ نگار کے مطابق اس مسئلے میں متجددین کی طرف سے جو امثلہ پیش کی گئی ہیں، ان میں استدلال کی غلطی موجود ہے۔ تیسرا مقالہ “عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تربیت: حدیث رسولﷺ کی روشنی میں” کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے میں احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ تعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہﷺنے نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی میں کن اصولوں کو مد نظر رکھا تھا تا کہ آج کے مصلحین بھی انہی اصول ومبادی کی روشنی میں نئی نوجوان نسل کی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ چوتھے مقالے کا موضوع ” عصر حاضر میں عورت کی معاشرتی حیثیت (قرآن وسنت کی روشنی میں)” ہے۔ مقالہ نگار نے قبل از اسلام کے جاہلی معاشروں میں عورت کی حیثیت کو بیان کرنے کے علاوہ جدید مغرب نے حقوق نسواں کی تحریکوں کے بدولت جو حقوق عورت کو عطاکیے ہیں، ان کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد مقالہ نگار نے اسلام میں عورتوں کو دیے جانے والے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے جدید عورت کے حقوق، اور اسلام میں عورت کے حقوق کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، وہ تاحال کسی خطے، مذہب یا ازم میں نہیں دیے گئے۔ اور عام طور عورتوں کو حقوق دینے کے نام پر یوں استحصال کیا گیا ہے کہ ان پر حقوق کے نام سے مزید ذمہ داریاں ڈال دی گئیں۔ مزیدبرآں جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ماضی قریب میں یہ مجلہ بین الاقوامی سطح کے اعلیٰ تحقیقی معیار کے مطابق شائع ہوتا رہا ہے جس کی شہرت کی ایک بڑی وجہ علم قراءات کے خصوصی موضوع پر شائع ہونے والی وہ 3 ضخیم جلدیں بھی تھیں جو تقریباً 3000 صفحات پر مشتمل تھیں اور بلاشبہ اس اہم موضوع پر ہندوستان کی گذشتہ 3صد سالہ تاریخ میں اتنا جامع اور معیاری تحقیقی کام اس صورت میں موجود نہیں ہے ۔ بتوفیق ایزدی اسی سلسلے کا آخری اور چوتھا خاص نمبر آج کل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جس میں دیگر اہم علمی مقالات کے علاوہ اس فن پر موجود وسیع لٹریچر اور سابقہ تمام ’’رُشد قراءت نمبرز ‘‘ کے مختلف پہلووں سے بنائے گئے قیمتی اِشاریہ جات بھی شامل ہوں گے۔ جن اَحباب کے پاس سابقہ ’’رشد قراءات نمبرز‘‘ کی یہ جلدیں موجود ہیں، وہ اس سلسلے کے اس آخری خاص نمبر کو بھی اپنے ریکارڈ میں شامل کرنے کے لیے ابھی سے رابطہ فرمائیں کیونکہ اس خاص کی نمبر کی اشاعت محدود تعداد میں کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

 

عناوین صفحہ نمبر
اداریہ 9
تحقیق حدیث  میں از روئے متن شذوذ و علت کی مباحث:  تحقیقی مطالعہ   ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ، قاری محمد مصطفیٰ راسخ 11
تبدیلی احکام پر اولیات عمر﷜ سےاستدلال اوراس کاتجزیہ                                           حافظ طاہر الاسلام 45
عصر حاضرکے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تربیت                          ڈاکٹر میمونہ تبسم ، حافظ جمشید اختر 85
عصر حاضر میں عورت کی معاشرتی حیثیت                                             ڈاکٹر حافظ شبیر احمد جامعی ، اسما شبیر 99

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام زنا سنت سود سیرت النبی ﷺ طلاق قانون و قضا متعہ محدثین نبوت

شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ ﷺ کے فیصلے

شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ ﷺ کے فیصلے

 

مصنف : محمد بن فرج المالکی القرطبی

 

صفحات: 299

 

کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپﷺ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ کتاب” شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہﷺ کے فیصلے  ‘‘ امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   کتاب ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘  کا  اردو ترجمہ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پرمشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔اس کتاب    میں  مصنف نے  وہ تمام فیصلے درج  کردئیے ہیں جو  فیصلے آپ نے خود فرمائے یاوہ فیصلے کرنے کا  آپ نے حکم فرمایا  ہے۔کتاب ہذا کا  ترجمہ    مولانا عبد الصمد ریالوی﷾ نے کیا ہے  اوراحادیث کی تحقیق وتخریج کا کام الشیخ طالب عواد نے کیا ہے۔ ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے   بھی تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر شائع کیا تھا۔یہ اس  نسخے کا ترجمہ تھا جس پر ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے تحقیق وتخریج کا  کام  کر کے   جامعہ ازہر ،مصر  سےپی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 11
اہل کفر میں سے محاربین کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 16
قاتل کو بادشاہ کے پاس کیسے لے جایاجائے اور قاتل سے کیسے اقرار لیاجائے 19
رسول اللہ ﷺ کاپتھر سے قتل کرنے والے کے بارہ میں فیصلہ 23
رسول اللہﷺ کااس حاملہ عورت کے متعلق فیصلہ جس کاحمل گرادیا گیاہو 24
جس مقتول کاقاتل معلوم نہ ہواس میں قسامت کے متعلق نبی ﷺ کافیصلہ 25
نبی ﷺ کااس شخص کے متعلق فیصلہ جس نے اپنے ماں باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا 30
نبی ﷺ کااس مقتول کے متعلق فیصلہ جو دو بستیوں میں مراہوملے 31
نبی ﷺ کازخموں کے قصاص کے متعلق فیصلہ 32
دانت کے متعلق نبی ﷺ کافیصلہ 33
شادی شدہ اگر زنا کااقرار کرےتو اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 34
آپﷺ کازنامیں یہود پر رحم کرنے کافیصلہ 38
رسو ل اللہﷺ کاحرام صلح کے توڑنے کاحکم 41
حدقذف وخمر میں رسول اللہﷺ کاحکم 45
چوراورباربار چوری کرنے والے کے متلعق رسول اللہﷺ کاحکم 48
جو مسلمان ذمی یاحربی آپﷺ کاگالی دے اسکاحکم اورجادو گرکے بیان میں کہ وہ کیسے قتل کیاجائے 51
اہل کفر کے متعلق رسول اللہ ﷺکاحکم 52
کتاب الجہاد
اسلام میں مشرکوں کاپہلامقتول اور پہلی غنیمت 55
جاسوس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 58
قیدیوں کےمتعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ جس کو نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے قتل کریں 62
قریضہ اور نضیر کے متعلق آپﷺ کافیصلہ 69
فتح کے سال رسول اللہﷺ کاامان دینے کافیصلہ 77
غنیمت کے حصہ جات غائب کاحصہ ارو عورت کو کچھ دینے کے متعلق آپﷺ کافیصلہ 89
حنین کےدن قاتل کے لیے رسول اللہﷺ کاسلب مقررکرنا 98
مشرکوں نے مسلمانوں کےجومال لےلیے پھر جب مسلما ن غالب آئیں تو مشرکین انہیں واپس کردیں اس کے متعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ 99
اگر کوئی معاہد یاحربی رسو ل اللہﷺ کو تحفہ دے تو اس میں آپ کاکیا فیصلہ ہے 101
مال فے کی تقسیم جس طرح مناسب سمجھیں آپﷺ فیصلہ کریں 104
خیبر اور بنونضیر کے اموال کی تقسیم کے متعلق رسو ل اللہ ﷺ کااحکم 109
آپﷺ کے ایلچی قتل نہ کئے جائیں کفار سےوعدہ پوراکرو 112
امان کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 115
جزیہ کےمتعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 121
کتاب النکاح
جس بیوہ کاس کی مرضی کےبغیر اس کاباپ نکاح کرجے تو رسول اللہ ﷺ کاحکم 125
جس عورت کاخاوند دخولسے پہلے ہی وفوت ہوجائۃ تو اس کے متعلق رسو ل اللہ ﷺکافیصلہ 127
رسول اللہ ﷺ کااس شخص کے متعلق فیصلہ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا عواسے دیکھاوہ حاملہ ہے 129
غائب خاوند پر بیوی کے نفقہ کے متعلق رسو ل اللہﷺ  کافیصلہ 130
رسول اللہﷺ کامہرے کے متعلق فیصلہ 135
رسول اللہ ﷺ کاسیدنا علی ﷜  کو سیدہ فاطمہ ؓ پر نکاح کرنے سے منع کرنے کافیصلہ 138
مجوسی کے متعلق رسو ل اللہ ﷺ کافیصلہ 139
معترض کے متعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ اور نکاح متعہ کاحکم 140
سیدہ میمونہ ؓ سے نکاح کرنے میں رسول اللہﷺ کافیصلہ 142
عورتوں میں باری مقرر کرنے کے بار ہ میں رسو ل اللہ ﷺ کافیصہ 143
دودھ پینے کے بارہ میں ایک عورت کی گواہی پر رسول اللہﷺ کافیصلہ 145
کتا ب الطلاق
حائضہ کی طلاق کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 147
خلع میں رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 151
رسول اللہﷺ کااس لونڈی کے متعلق فیصلہ جوشادی شدہ ہوااور پھر آزاد کردیاجائے 153
رسول اللہﷺ کااس عورت کے متعلق فیصلہ جوعادل گواہ اپنے خاوند کی طلاق پر پیش کردے اور خاوند انکار کررہا ہو 154
رسول اللہ ﷺ کااپنی مملوکہ یمین یعنی لونڈی کے حرام کرنےکی قسم کے متعلق فیصلہ 157
جوشخص تین سے کم طلاقیں دے پھر عدت کے بعد دوسرا خاوند کرے پھر دوسرا فوت ہوجائے یاپرورش کے متعلق  رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 161
ظہار کے متعلق رسول اللہﷺ  کافیصلہ اور اس کے متعلق جوکچھ نازل ہوا 163
رسو ل اللہ کالعان کے متعلق فیصلہ 165
کتاب البیوع
بیع  سلم اور سود کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 171
تجارتی قافلوں کو راستہ میں جاکر ملنے جانوروں کے تھنوں میں دودھ روک کربیچنے عیب دار چیزواپس کرنے اور آمد ن کے ضامن ہونے کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 176
مفلس قرار دے کربندش عائد کردینے قیمت اداکرنے سے قبل فوت ہوجانے اور بے علمی میں چوری کامال خریدنے کے متعلق رسول اللہﷺ کاحکم 179
آفات سے تباہ ہونے والامال اوراس کے متعلق رسول اللہﷺ کاحکم 184
جوشخص خریدوفروخت میں دھوکہ کرے اس کے متعلق رسو ل اللہﷺ کاحکم 188
رسو ل اللہﷺ کایہ فیصلہ کہ ماں بیٹے کو اکٹھے رکھا جائے بیع اور شرط میں آپ کافیصلہ 188
کتاب الاقضیتہ
مشترک رسول اللہﷺ کاظاہر کے مطابق فیصلہ کرنادلیل نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ کو قسم دینا 188
دومدعیوں میں سے ایک دلیل دے او ردونوں کافی ودانی ثبوت دیدیں مسلم اور کافر کس طرح قسم اٹھائیں 188
قسم اٹھانے والے کی قسم کی کیفیت کے متعلق رسول اللہ ﷺکافیصلہ 193
مردہ اراضی آباد کرنے پانی کی تقسیم ڈاکٹر کاضامن ہونےکسی کاپیالہ توڑ دینے اور لکڑی کی کو ٹھڑی بنانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 193
شفع کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 206
حصہ داری اور مزارعت کاحکم 207
مساقات آب پاشی صلح منافع اور کھجور کی حفاظت کی حدسکے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 210
کتاب الوصایا
وصیت کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 215
اوقاف اور احباس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 217
صدقات ہدایا  (ہبہ )عمر ی (صدقہ ) اور ان کے ثواب کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 215
تشبیہ والی چیزوں میں رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 227
غلاموں کی آزادی قرعہ اندازی کی وصیت خاوند والی مدبر ہ امہات الاولادارو مکاتب کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 230
جس غلام کامثلہ کیاجائے یااس کے چہرے پر تھپڑا مارگیاتواس کو آزاد کرنے کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 237
گری ہوئی چیز کے متعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ 239
ایسے شخص کے متعلق جوکہے کہ میرا باغ فی سیبل اللہ صدقہ ہے اور یہ رشتہ داروں پر صدقہ ہے اور غائب آدمی کے مال کو وقف کرنے ارو تقسیم مال پر کسی کو وکیل کرنے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 242
امانات کے متعلق رسول اللہﷺ کاحکم 234
عاریۃ لی گئی مغلوب علیہ چیز کاضامن ہونے کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 246
ورثتوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 250
رسول اللہ ﷺ کایہ فیصلہ کہ بچہ بچھونےوالے کاہے اور اس شخص کاحکم جو اپنے باپ کے مانے کے بعد کسی اپنے نسب میں شامل کرے 257
علم قیافہ کے ثبوت کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ اور اس بارہ میں سیدنا علی ﷜ کے فیصلہ کی تجویز 259
ذوی الارحام کی میراث کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 262
قاتل سے وراثت کو روکنے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم اور جس نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ یہ قتل عمدکےمتعلق ہے 264
جس مسلمان کی وصیت پر کوئی نصرانی گواہ ہواس کے متعلق اور جس غلام کاکان کاٹ دیاجائے اور صلح کی جاگیروں کے متعلق اور جو شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تواس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 265
کتوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 269
روکے ہوئے پانی کی حدود کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 270
اگر وکیل کو مال بیچنے بر فائد ہ ہوتووہ فائدہ صاحب مال کاہوگا 271
مختلف امور میں رسو ل اللہ ﷺ کافیصلہ 273
رسول اللہ ﷺ کانسب 285
نبی ﷺ کو کتتے کپڑوں میں کفن دیا گیا اور آپﷺ کوغسل دینے اور لحد کاذکر 288
حوالہ جات کتب اوراسانید 291

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق حسنہ اسلام اسلام اورتصوف بدعت حنفی روح زبان سنت فقہ فقہاء نبوت نماز

شریعت و طریقت

شریعت و طریقت

 

مصنف : عبد الرحمن کیلانی

 

صفحات: 530

 

دین رہبانیت، صوفیت، صوفی ازم، طریقت کے متوالوں کو سنہری شریعت دین اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے لکھی گئی بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں طریقت کے حق میں دیے جانے والے دلائل اور شخصیات کا احترم آمیز انداز میں بہترین اور باحوالہ علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔ ایسی کتاب ہے جو صراط مستقیم کے غیر متعصب  متلاشی کو واقعی راہِ حق دکھانے کی قوت رکھتی ہے۔ دین طریقت کے مختلف بنیادی نظریات، وحدت الشہور، حلول، وحدت الوجود کا علمی محاسبہ۔  ولایت، کرامت، تصوف،  باطنی علوم، قیوم،قطب، ابدال، صوفیاء اور محدثین، اولیاء اللہ اور گستاخی، عشق و مستی، سماع و وجد،  جام و مے، تصور شیخ، حضرت خضر ؑ کی شخصیت، رجال الغیب، پیران پیر، شیعیت، خرقہ، لوح محفوظ، آستانے، مزارات، درگاہیں، ولایت یا خدائی، علم غیب، تصرف، توجہ ،بیعت،شفاعت، اولیاء اللہ کے مقابلے، ولی بننے کے طریقے، کرامات اور استدراج،صوفیائے کرام کی تعلیمات، اولیاء اللہ کی کرامات اور انبیاء کرام کے معجزات کا تقابلی جائزہ، تصرف باطنی، مشاہدہ حق، دیدار الٰہی، رسول اللہ ﷺ کی حیات و وفات، ذکر قلندریہ، ذکر نور اور کشف قبور، محبت الٰہی، صحبت بزرگان، صوفیائے کرام کا تفسیری انداز، موضوع احادیث و واقعات، شریعت و طریقت کا تصادم، توحید، رسالت،قرآن،نکاح سے گریز، جنت اور دوزخ کا مذاق، ارکان اسلام کا مذاق اشرف علی تھانوی کا اعتراف حقیقت، خورشید احمد گیلانی اور روح تصوف، شریعت و طریقت کاتقابلی جائزہ

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 3
فہرست مضامین 5
باب (1)
دین طریقت یا رہبانیت (ایک آفاقی مذہب) 17
خدا کا پیغام ہدایت 18
ایمان بالغیب 19
رہبانیت کی ابتداء 20
دنیوی تعلقات سے بیزاری 21
رہبانیت کا طریقہ کار 25
رجال الغیب سے استفادہ کرنے والے گروہ 26
کیا دیدار الہی ممکن ہے ؟ 28
دیدار الہی یا شیطانی فریب 30
کشف و مشاہدہ کی حقیقت 31
دین طریقت کے مختلف نظریات 32
پیروکاروں میں تکرار و اختلاف 33
دین طریقت کے نقصانات اور معاشرہ پر اثرار 33
اسلام اور رہبانیت 35
رہبانیت میں کشش کی وجوہات 37
1- آئینہ باطن کی صفائی 38
2-کشف و کرامات 39
3- مشاہدہ حق 39
4- معاشرتی ذمہ داریا شرعی تکالیف سے نجات 39
5- شعبدہ بازیاں 40
عوام میں رہبانیت کی مقبولیت کے اسباب 41
1- غیب کے حالات سے دلچسپی 41
غیب معلوم کرنے کے ذرائع 42
2- خوارق عادت امور 43
3- تصرف کا عقیدہ 44
4- سستی نجات کا عقیدہ 45
5- مریدان با صفا کا کردار 45
6- مرنے کے بعد بھی تصرف کا عقیدہ 46
بتوں کی کرامات اور تصرف 47
7- درویشوں سے عقیدت 50
8- تذکرے اور ملفوظات کا وجود 50
1- ایک روایتی انداز 51
2- تذکرے اور تاریخی لغزشیں 51
1- حضرت علی ہجویری 51
2- حسین بن منصور حلاج 52
3- پیران پیر 53
3- زندگی کا دوسرا پہلو 54
4- روایت کرامات میں اختلاف 55
اویس قرنی کا جبہ 58
5- مبالغہ آرائی کی حد 59
6- الحاقی مضامین 61
باب(2)
دین طریقت کے نظریات و عقائد 63
1- وحدت الوجود 63
2- وحدت الشہود 64
3- حلول 64
1-حلول کا نظریہ 64
اسلام میں عقیدہ حلول کی ابتداء 66
حسین بن منصور حلاج 68
عبدالکریم جیلی اور عقیدہ حلول 70
حلاج کا مقام اولیائے کرام کی نظرمیں 71
حضرت علی ہجویری 71
مولانا روم 72
شیخ عبدالقادر جیلانی 72
خواجہ نظام الدین اولیاء دہلی 72
امام اہل سنت رضاخاں بریلوی 74
سکر اور صحو کا امتیاز 75
سکر اور صحو کی آڑ میں انبیاء پر اتہام 75
منصور حلاج کی تدریجی ترقی 77
سیدسلیمان ندوی اور حلاج 78
حلول مطلق اور حلول معین 80
نئے نئے خدا 81
2-نظریہ وحدت الوجود 82
اسلام میں وحدت الوجود کی در آمد 83
ابن عربی کی توحید اور فتوحات مکیہ 83
فصوص الحکم کی تعلیمات 85
دوزخ کی حقیقت 85
ابن عربی اور کعبة اللہ 86
ابن عربی اور علمائے حق 87
ابن عربی اور اشرف علی تھانوی 87
فصوص سے توحش 87
عفیف الدین تلمسانی 88
ابن عربی کے پیشرو 89
امام غزالی کی توحید 91
نظریہ وحدت الوجود کی تاریخ 92
فلسفہ وحدت الوجود 93
تصوف اور وحدت الوجود 94
اشرف علی تھانوی اور ابن عربی کی تنزیہ 95
وحدت الوجود پر شرعی دلائل 96
قرآنی دلائل 96
حدیث سے دلائل 97
3- وحدت الشہود 100
وجود و شہود کا فرق 100
وحدت الشہود کی تاریخ 101
وجود و شہود کی ایک دوسرے انداز سے تحقیق 104
شاہ ولی اللہ اور وجود و شہود 107
دین طریقت کے عقائد پر تحقیقی نظر 108
روح کی حقیقت 109
ہندو مت اور نظریہ روح 110
دین طریقت کا اسلامی نظریات پر اثر 111
باب (3)
صوفیاء کے نظریات و عقائد 115
زہاد اورصلحاء 115
غیر اسلامی نظریات کی در آمد 115
1- ولایت نبوت سے افضل ہے 117
ولایت کا مقام اور ابن عربی 117
خاتم الاولیاء کی خاتم الانبیاء پر فضیلت 118
اکتسابی نبوت اور مرزائے قادیان 118
شطحیات با یزید بسطامی 120
ولایت کی برتری کا قرآن سے ثبوت 120
قصہ موسی و خضر 121
مراتب ولایت 121
حضرت خضر کون اور کیا تھے ؟ 123
حضرت خضر کی شخصیت 122
اولیاء اللہ کی برتری کا دوسرا ثبوت 125
2- عابد کی عالم پر فضیلت 126
صوفی کون ہیں ؟ 127
کیا تصوف بدعت ہے ؟ 128
حدیث ، تفسیر، فقہ وغیرہ بدعت نہیں ؟ 129
کیا تصوف دین کا اہم شعبہ ہے ؟ 131
صحابہ کرام صوفی کیوں نہ کہلائے ؟ 133
عالم پر عابد کی کشفی دلیل 134
عابد پر عالم کی فضیلت کے دلائل 135
3- عابد کی مجاہد پر فضیلت 136
4- باطنی علوم کی شرعی علوم پر فضیلت 136
باطنی علوم کے حصول کے ذرائع 136
1- بذریعہ توجہ 136
2- بذریعہ فیض عام 137
3- بذریعہ کشف ، مشاہد یا لدنی علم 138
کشفی علوم کی اجتہاد پر فضیلت 138
4- بذریعہ عشق 140
5- بذریعہ حضرت خضر 140
6- بذریعہ باطنی معافی 141
حصول علم کا ذریعہ صرف تعلیم و تعلم ہے 142
کشفی علوم اور لطائف 143
باطنی علوم کی کتب اور ان کے مصنفین 143
باطنی علوم کیوں افضل ہیں ؟ 144
علم حدیث مردوں کا علم ہے 144
احادیث کو پرکھنے کا معیار 146
برزخی احادیث اور عقیدہ حیات النبی 146
5- شریعت پر طریقت کی بالادستی 148
1- شریعت کو محو کرکے طریقت حاصل کرنا 148
خواجہ نظام الدین اولیاء کا ارشاد 148
شیخ عبدالقادر جیلانی اور سابقہ علم 149
سری سقطی کا راہ عام اور خاص کا معیار 150
بوعلی فارمدی اور امام قشیری 151
2- شیخ کی غیر مشروط اطاعت 152
تصوف ، سلوک اور اطاعت شیخ 152
صادق فرغانی کی زائد شرط 153
اللہ کے نئے نئے رسول 153
3- غیر شرعی احکام کی تلقین 155
بایزیدبسطامی کا طریق تربیت 156
قرآن و سنت سے دور کرنا 156
6- صوفیاء کا باطنی سیاسی نظام 159
باطنی نظام کے قیام کی ضرورت 159
صدر دفتر اور عہدہ داروں کے مساکن 159
طبقات رجال الغیب 160
مناصب اولیاء اللہ کی شرعی بنیادیں 160
احادیث متطقہ قطب ابدال وغیرہ 161
اولیاء اللہ کے اعلی مناصب 165
منصب داروں کے مساکن اور فیوض 165
قیوم یا انسان کامل 167
فرد اور قطب وحدت 167
غوث قطب ابدال کا ثبوت پیران پیر کی زبان سے 168
مناصب کا عزل و نصب 169
قاسم ولایت کون ؟ 170
پیران پیر کا ایک چور کو ابدال بنا دینا 171
پیران پیر کا ایک کافر کو ابدال بنا دینا 173
معین الدین چشتی کو ہندوستان کس نے بھیجا ؟ 174
ضرب شدید کے ذریعہ ولایت 175
احکام ولایت کو چاک کر ڈالنا 176
دور نبوی کا باطنی نظام 177
اولیاء اللہ کی بے بسی 179
بابا نور محمد تیراہی کی ہجرت 180
اہل باطن پر علمائے حق کی گرفت 180
حکومتوں سے سزا دلوانا 180
امام مسلم اور صالحین 181
صالحین سے حدیث قبول کرنےمیں تامل 182
صوفیہ کا شجرہ طریقت 182
صوفیاء پر فقہاء کی گرفت 185
امام ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی کے کار نامے 186
باب(4)
صوفیاء کے مخصوص مسائل (1) 188
1- اولیاء اللہ اور ان کی گرفت 188
اولیاء اللہ والیان اسرار ہوتے ہیں 189
ولی کے مفہوم میں تبدیلی کب ہوئی ؟ 190
ذاتی اور عطائی کا فلسفہ 191
خداؤں کی تعداد 191
ولایت عامہ اور خاصہ کا عقیدہ 192
اولیاء اللہ کی گستاخی کا انجام 193
1- امام جعفر صادق کی بے ادبی کا انجام 193
2- امام موسی رضا اور قالین کے شیر 194
3- جنید بغدادی اور جلوہ گری 195
4- عبدالواحد کی گستاخی کا انجام 195
5- انتقام سے بچیے 196
6- جانوروں سے بھی انتقام 197
7- مردہ ولی کے بھی انتقام سے بچیے 197
2- عشق و مستی 198
عشق اور معرفت الہی 199
عشق مجازی اور حقیقی کی تقسیم 200
عشق مجازی اور امرد پرستی 200
اللہ تعالی پر الزام 200
عشق مجازی کا فضائل 201
عاشق الہی کا جنازہ 202
العشق نار کی عملی تعبیر 203
شیخ حسین لاہوری کا عشق 204
ذکر معشوق شیخ مادھو لاہوری 205
تاج محمود قادری نوشاہی 206
حاجی محمد قادری نوشاہی 207
میاں شیر محمد شرقپوری 207
عشق مجازی اور حیوانات 208
3- جہاد اصغر اور جہاد اکبر 208
جہاد بالسیف کی فضیلت 209
صوفیاء کی موضوع احادیث 210
عبدالکریم جیلی کا فلسفہ 210
جنیدبغدادی کے مرید اور جہاد بالسیف 212
گوشہ نشینی کا رد 214
4- سماع و وجد 215
سرودو رقص کے دلائل 215
دلائل کا جائزہ 216
سماع اور شرعی دلیل 218
وجد اور حال کا علاج 218
سماع کے متعلق صوفیائے حق کا دعوی 219
سماع کی دلدادگی 220
حافظ برخور دار نوشاہی کا سماع 221
ابوسعید اور ابوالحسن خرقانی کا سماع 221
5- جام و مے کی شاعری 222
شراب کی دلدادگی 225
6- تصور شیخ 225
تصور شیخ خدا سے دور رکھنے کا ذریعہ 225
تصور شیخ بزرگوں کے اقوال 226
اندھی عقیدت 227
جنیدبغدادی کے مرید کا غوطے کھانا 228
7- حضرت خضر کی شخصیت 228
حضرت خضر کون ہیں ؟ 228
حضرت خضر سے ملاقات 230
صوفیاء اور حضرت خضر کی تاریخ 231
پیران پیر سے پہلی ملاقات 231
حضرت خضر کی اضافی ڈیوٹی 232
حضرت خضر اور قطب الدین بختیار کا کی 233
حضرت خضر سے ایک روایت 234
حضرت خضر کی نماز 234
حضرت خضر کی ابدی زندگی کا عقیدہ 235
8- رجال الغیب سے استفادہ 235
پیران پیر کی ریاضت 236
پیران پیر کی خدمت میں رجال الغیب 237
جنات سے لڑکی واپس لانا 238
آسیب کے دورے 240
باب (5)
صوفیاء کے مخصوص مسائل (2) 241
9- شیعیت سے لگاؤ 241
1- بارہ اماموں کا فیض 241
2- حضرت علی پہلے درویش تھے 242
3- جبہ نبوی کی تاریخ 244
4- ماتم اور تعزیہ داری کی اہمیت 244
5- جنوں کا ماتم 246
6- حضرت حسین اور حوض کوثر 247
7- حضرت ام سلمہ اور خون کربلا 248
8- حضرت زین العابدین کو امامت کیسے ملی ؟ 249
9- اشرف علی تھانوی کی پیدائش 250
تصوف پر باطنیت چھاپ اور موضوعات 250
10- خرقہ کی فضیلت 252
شیر پر خرقہ کا اثر 253
محمود غزنوی اور فتح سومنات 253
11- اولیاء اللہ کے جوتوں کے کرشمے 254
دشمن کی سرکوبی 255
شمس الدین محمد حنفی کی گھڑا دیں 256
گھڑوں سے قلب جاری ہوتا ہے 256
12- لوح محفوظ پر نظر 257
لوح میں تبدیلی کیسے ہوتی ہے ؟ 258
آخر اللہ تعالی ہار مان لی 259
لوح محغوظ میں تبدلی نئی شکل 260
اس عقیدہ کی توثیق 261
13-عبادات میں غلو اور بدعات 262
بدعت کی اقسام 262
ہر طرح کی بدعت گمراہی ہے 263
بدعت کا دوسرا پہلو 264
اویس قرنی کی عبادت 264
عبداللہ خفیف کی عبادت 265
امام جعفر کا صدقہ 265
ابوالحسن خرقانی کا صدقہ 266
معروف کرخی کا تمیم 267
ابوالحسین کے استاد کی غیرت فقر 267
پیران پیر کا قیمتی لباس 268
شیخ ابوالسعود کی قیمتی پگڑی 269
کم خوری کامعیار 269
ترک دنیا کا معیار 269
بایزیدبسطامی کا نماز دہرانا 270
عبدالقادر جیلانی کا وضو 270
پیران پیر کے نوافل 271
شیخ محمد میر کی عبادت و ریاضت 271
ملاشاہ قادری اور اتباع سنت 271
14- اکل حلال اور احتیاط میں غلو 272
اکل حلال کی اہمیت 272
احتیاط کی حدود 272
صوفیاء کی احتیاط 274
حضرت سفیان ثوری 274
حارث محاسبی 275
احمد بن حرب 275
امام ابن قیم کا فتوی 275
15- پہلییوں کی زبان اور اسرار و رموز 276
ا- واقعات 276
حسن بصری کا وعظ 276
رابعہ بصریہ اور گورے کالے کا فلسفہ 277
احمد خضرویہ کی مہمان نوازی 277
سری سقطی کا خواب 278
شبلی کا زہد 279
ب- اخلاق حسنہ کی تعریفیں 279
ج- ایمان اور ارکان اسلام کے اسرار و رموز 281
باب (6)
آستانے اور مزارات 283
توحید کیا ہے ؟ 283
شرک فی العبادت 283
دین طریقت کے اثرات 284
بت پرستی اور قبر پرستی کا ابتداء 284
یہ آستانے اور در گاہیں 285
غیر مشروط اطاعت ہی خدائی کا دعوی ہے 285
نداء لغیراللہ ، توسل اور استمداد 286
سجدہ تعظیمی اور نظام الدین اولیاء 287
سجدہ تعظیمی اور حرمت 288
ولایت یا خدائی 289
1- علم غیب خاصہ خدا ہے 289
رسول اللہ کا علم غیب کلی 291
2- اولیاءاللہ کے علم غیب کی وسعت اور تصرف 292
شاہ عبدالکریم کا علم غیب 293
میاں جی نور محمد کے شاگرد کا علم غیب 294
علی ہجویری کا علم غیب اور اختیار تصرف 294
عثمان ہارونی کا تصرف اور طی الارض 295
پیران پیر کی حاجت روائی اور مشکل کشائی 296
صلوة غوثیہ کے فائدے 296
عبدالقدس گنگوہی کی کرامات 297
پیران پیر اور جنس کی تبدیلی 299
اولیاء اللہ کا موت و حیات پر تصرف 300
موت کے وقت میں تبدیلی 301
کلی تصرف کا ثبوت پیران پیر کی زبان سے 302
اس عقیدہ پر علامہ آلوسی کا اظہار افسوس 303
3- توجہ بیعت اور شفاعت 303
توجہ کے کرشمے 303
نظرکرم کی فیوض و برکات 304
نگاہ جلالیت کی تباہ کاریاں 304
بیعت ہی اخروی نجات کی ضمانت ہے 205
کسی فقیر کے پلے باندھنے کے فوائد 306
شفاعت اولیاء اللہ 306
ابوالحسن خرقانی – نجات و ہندہ 307
پیران پیر سے توسل کے فوائد 307
یہ مزارات اور خانقا ہیں 311
قبرپرستی اور بت پرستی میں قدر مشرک 311
کیا فوت شدہ بزرگ سن سکتے ہیں ؟ 312
احادیث اور سماع موتی 313
مردوں کی برزخی زندگی 316
کیا روح کا اس دنیا میں واپس آنا ممکن ہے 317
اولیاءاللہ مرتے نہیں 318
صاحب قبرکی حاجت براری 320
ایک بزرگ سات قبریں اور حاجت روائیاں 320
1- پیران پیر اور شیطانی فریب 321
2- جنیدبغدادی کا مرید اور بہشت کی سیر 323
3- مردہ زندہ کرنے والاجنات کا عامل 323
4- ابوالحسن خرقانی اور سماع کا جواز 324
5- فریب شیطانی کی بعض دوسری شکلیں 325
حاجت روائی کیسے ہوتی ہے ؟ 325
قبروں کے متعلق ارشادات نبوی 328

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل اہل حدیث نحو و صرف

اردو خلاصہ شرح مائتہ عامل (سوالاً جواباً)

اردو خلاصہ شرح مائتہ عامل (سوالاً جواباً)

 

مصنف : ابو محمد عبد الغفار بن عبد الخالق

 

صفحات: 96

 

علوم ِنقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے: النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علومِ اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں۔ قرن ِ اول سے ل کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اردو خلاصہ شرح مائۃ عامل سوالاً جواباً‘‘ علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب ’’ مائۃ عامل ‘‘کی سوالاً جواباً اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے   لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سوالاً جواباً اس شرح کا اہم کام مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (مدرس الجامعۃ الحرمین اہل حدیث ماڈل ٹاؤن،گوجرانوالہ) نے بڑ ے آسان فہم انداز میں   کیاہے۔ جس سے طلبہ وطالبات کے لیے   اصل کتاب کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ   فاضل مترجم کی زندگی اور علم وعمل میں برکت فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
انتساب 9
حر ف تمنا : 11
تقریظ : رحمت اللہ شاکر صاحب 12
تقریظ از : خواجہ محمد عد نان صاحب 13
مقدمہ 14
ابتدائی باتیں 16
عوامل کی تقسیم 16
النو ح الاول : پہلی قسم ۔۔حروف جارہ 18
حرف جر: باء 18
حر ف جر :لام 20
حر ف جر : من 20
حرف جر : حتیٰ 22
حرف جر : علیٰ 23
حرف جر : عن 24
حرف جر:فی 24
حر ف جر :کان 25
حرف جر: مذ و منذ 25
حرف جر :رب 26
حرف جر :واو 26
حرف جر : تاء 27
جواب قسم 27
حرف جر : حاشا، خلا، عدا 29
النو ع الثانی : دوسری قسم ۔۔۔حروف مشبہ بالفعل 31
حرف مشبہ بالفعل : ان ،ان 32
حر ف مشبہ بالفعل : کان 33
حرف مشبہ بالفعل :لکن 33
حرف مشبہ با لفعل : لیت 34
حرف مشبہ با لفعل :لعل 34
النو ح : تیسری قسم ۔۔۔ماولا : مشابہ بہ لیس 36
النو ح الرابع : چو تھی قسم ۔۔۔حروف نا صبہ اسم 37
حرف ناصب : واو 37
حرف ناصب :الا 37
حرف ناصب :یا 38
حرف ناصب : ا یا ، ھیا 38
حرف نا صب : ا ی ، ا 38
النو ع الخا مس : پانچوں قسم ۔۔حروف نا صبہ فعل 40
حرف ناصب : ا ن 40
حرف نا صب : لن 40
حرف ناصب : کی 41
حرف باصب : اذن 41
النو ع السادس : چھٹی قسم ۔۔۔حرف جازمہ 43
حرف جازم :لم 43
حرف جازم : لما 43
حرف جازم : لا مر امر 44
حرف جازم : لا ء نہی 44
حرف جازم : ان 45
النو ع السا بع : سا تویں قسم ۔۔۔اسمائے جازمہ فعل 47
اسم جازم: من 47
اسم جازم : ما 48
اسم جازم : ای 48
اسم جازم :متی 49
اسم جازم :اینما 49
اسم جازم :ا نی 50
اسم جازم : مھما 50
اسم جاز م : حیثما 51
اسم جازم : اذما 52
مضارع کو ر فع و جزم ورفع کا جواز 52
النوع الثا من : ا ٓ ٹھو یں قسم ۔۔اسمائے ناصبہ 53
اسم ناصب :عشر 53
اسم ناصب :کم 55
اسم ناصب : کا ین 56
اسم ناصب : کذا 56
النو ع التا سع : نو یں قسم ۔۔اسمائے افعال 58
اسم فعل : روید 58
اسم فعل : بلہ 59
اسم فعل : دونک 59
اسم فعل : علیک 59
اسم فعل : حیھل 59
اسم فعل : ھا 60
آخر ی تین اسمائے افعال 60
اسم فعل : ھیھا ت 60
اسم فعل : سرعان 61
اسم فعل : شتان 61
النو ع العاشر : دسویں قسم ۔۔۔افعال نا قصہ 62
فعل نا قص : کان 62
فعل نا قص : صار 63
فعل ناقص : ا صبح ، ا مسی ، ا ضحی 64
فعل ناقص : ظل ،بات 65
فعل نا قص : مادام 66
فعل ناقص : ما زال ، مابر ح ، ما فتی ، ما انفک 66
فعل نا قص ۔ لیس 67
النو ح الحادی عشر : گیا ر ہویں قسم ۔۔افعال مقا ربہ 68
فعل مقاربہ: عسی ٰ 68
فعل مقاربہ : کاد 69
فعل مقاربہ:اوشک 71
افعال مقاربہ کی تعداد میں اختلاف 71
فعل مقاربہ : جعل ، طفق ، ا خذ 71
النو ع الثانی عشر : بار ہویں قسم ۔۔۔افعال مد ح وذم 72
فعل مد ح : نعم 72
فعل ذم : بئس 74
فعل زم : ساء 75
النو ع الثالث عشر؛ تیر ہویں قسم ۔۔۔افعال قلوب 77
فعل قلوب: حسبت، ظنت ، خلت 78
فعل قلوب: علمت، رایت ، و جدت 78
فعل شک ویقین :رعمت 79
قیا سی عوامل 82
الاول: فعل 82
الثانی : مصدر 83
الثالث: اسم فاعل 86
الر ا بع : اسم مفعول 89
الخامس : صفت مشبہ ٍ91
اسادس: مضاف 93
السابع : اس تام 94
معنوی عوامل 91
الاول : مبتد اوخبر 95
الثانی : فعل مضارع 91

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب سیرت شروحات حدیث

شرح کتاب الجامع من بلوغ المرام

شرح کتاب الجامع من بلوغ المرام

 

مصنف : ابن حجر العسقلانی

 

صفحات: 354

 

بلوغ المرام من ادلۃ الأحکام، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی حدیث پر لکھی گئی مشہور و متداول کتاب ہے۔ یہ مختصر اور جامع مجموعہ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ ’’کتاب الجامع‘‘ اسی کتاب کا ہی ایک حصہ ہے جس میں آداب و اخلاق سے متعلق احادیث نبویہ کو جمع کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب شیخ الحدیث حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفظہ اللہ نے لکھی ہے جو ’’کتاب الجامع‘‘ کے ترجمے تخریج احادیث اور تشریح احادیث پر مشتمل ہے۔ کتاب ھذا کا ترجمہ و تشریح، سادگی و سلاست کا بہترین مرقع ہے۔ کتاب میں انسان کی اصلاح سے تعلق رکھنے والے چھ ابواب جمع کئے گئے ہیں جن سے نفس انسانی کی صحیح تربیت ہوتی ہے۔ جن میں ادب کے بیان، نیکی کرنے اور رشتہ داری ملانے کے بیان، دنیا سے بے رغبتی اور پرہیزگاری کے بیان، برے اخلاق سے ڈرانے کے بیان، اچھے اخلاق کی ترغیب کے بیان اور ذکر و دعاء کے بیان پر مشتمل ابواب شامل ہیں۔ یہ کتاب اِس لائق ہے کہ اس کو مدارس ‎،کلیات اور جامعات کے ابتدا کی کلاسوں میں شامل نصاب کیا جائے تاکہ تعمیر سیرت کردار کی تکمیل ہو سکے اور مسلمانوں کی کامیابی و کامرانی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 13
مقدمہ 14
ادب کا بیان 18
نیکی اور (رشتہ داری)ملانے کا بیان 65
دنیا سے بے رغبتی اور پرہیز گاری کا بیان 101
برے اخلاق سے ڈرانے کا بیان 129
اچھے اخلاق کی ترغیب کا بیان 235
ذکر اور دعا کا باب 279
اللہ تعالیٰ کو محبوب دو کلمات 347

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اعمال تجوید وقراءات علماء قراء

شرح الشاطبیہ

شرح الشاطبیہ

 

مصنف : قاری اظہار احمد تھانوی

 

صفحات: 778

 

قرآن مجید نبی کریم پر نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے آخری کتاب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام ﷢ کے سامنے اس کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام ﷢ اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتب احادیث میں احادیث کی طرح مختلف کی قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں۔ بے شمار اہل علم اور قراء نے علوم قراءات کے موضو ع پرسینکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔شاطبیہ امام شاطبی  کی قراءات سبعہ میں اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی تشریح کو اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ شاطبیہ کے شارحین کی ایک بڑی طویل فہرست ہے ۔زیر نظر کتاب ”شرح الشاطبیہ” شیخ القراء والمجووین القاری المقری اظہار احمد تھانوی  کی تالیف ہے۔ مرحوم قاری صاحب نے شاطبیہ کو آسان اور سہل انداز میں طلباء کےلیے پیش کیا ہے۔ موصوف نے ” امانیہ شرح شاطبیہ” کےنام سے بھی شاطبیہ کی ایک شرح تصنیف فرمائی ہے۔ یہ دونو ں شروح علمی حلقوں میں بے انتہا مقبول ہیں، اور طلباء و اساتذہ دونوں کی علمی ضروریات کو پورا کرتی ہیں اللہ تعالی قراء ات کے سلسلے میں ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)

 

حرفے چند
عرض شارح
مختصر حالات علامہ شاطبی
فن قراءت کے مبادی
قراءت کے تواتر کی شروط
خطبۃ الکتاب
فضائل قرآن مجید
قراء سبعہ اور ان کے راوی
رموز کا بیان
چند مقررہ اصول و اصطلاحات
کتاب کا تعارف اور طلبہ کو نصائح
نصائح
باب الاستعاذہ
باب البسملہ
سورۃ ام القرآن
باب الادغام الکبیر
باب ادغام الحرفین المتقاربین
باب ہاء الکنایہ
باب المدو القصر
باب الہمزتین من کلمۃ
باب الہمزتین من کلمتین
باب الہمز المفرد
باب نقل حرکۃ الہمزۃ الی الساکن قبلہما
باب وقف حمزۃ و ہشام علی الہمز
ہمزہ متطرفہ
ہمزہ متطرفہ کی بعض صورتیں
ہمزہ مکسورہ
ہمزہ متوسط بعد المتحرک
چند قرآنی کلمات
باب الاظہار والادغام
باب اتفافہم فی ادغام اذ وغیرہ
باب حروف قربت مخار جہا
باب احکام النون الساکنۃ والتنوین
باب الفتح والامالۃ بین اللفظین
باب اللامات
وجوہ وقف
باب الوقف علی مرسوط الخط
باب یاء ات الاضافہ
باب یاء ات الزوائد
فرش الحروف
سورۃ البقرۃ
سورۃ آل عمران
سورۃ النساء
سورۃ المائدہ
سورۃ الانعام
سورۃ الاعراف
سورہ الانفال
سورہ التوبہ
سورہ یونس
سورہ ہود
سورہ یوسف
سورہ الرعد
سورہ ابراہیم
سورہ الحجر
سورہ النحل
سورہ بنی اسرائیل
سورہ الکہف
سورہ مریم
سورہ طہ
سورہ الانبیاء
سورہ الحج
سورہ المومنون
سورہ النور
سورہ الفرقان
سورہ الشعراء
سورہ النمل
سورہ القصص
سورہ العنکبوت
سورہ الروم
سورہ لقمان
سورہ السجدہ
سورہ الاحزاب
سورہ سبا
سورہ فاطر
سورہ یس
سورہ الصافات
سورہ ص
سورہ الزمر
سورہ المومن
سورہ حم السجدہ
سورہ الشوری
سورہ الزخرف
سورہ الدخان
سورہ الجاثیہ
سورہ الاحقاف
سورہ محمد
سورہ الفتح
سورہ الحجرات
سورہ ق
سورہ الذاریات
سورہ الطور
سورہ النجم
سورہ القمر
سورہ الرحمن
سورہ الواقعہ
سورہ الحدید
سورہ المجادلہ
سورہ الحشر
سورہ الممتحنہ
سورہ الصف
سورہ الجمعۃ
سورہ المنافقون
سورہ التغابن
سورہ الطلاق
سورہ التحریم
سورہ الملک
سورہ القلم
سورہ الحاقۃ
سورہ المعارج
سورہ نوح
سورہ الجن
سورہ المزمل
سورہ المدثر
سورہ القیامۃ
سورہ الدھر
سورہ المرسلات
سورہ النباء
سورہ النازعات
سورہ عبس
سورہ التکویر
سورہ الانفطار
سورہ المطففین
سورہ الانشقاق
سورہ البروج
سورہ الطارق
سورہ الاعلی
سورہ الغاشیہ
سورہ الفجر
سورہ البلد
سورہ الشمس
سورہ اللیل
سورہ الضحی
سورہ الشرح
سورہ التین
سورہ العلق
سورہ القدر
سورہ البینۃ
سورہ الزلزال
سورہ العادیات
سورہ القارعۃ
سورہ التکاثر
سورہ العصر
سورہ الھمزۃ
سورہ الفیل
سورہ قریش
سورہ الماعون
سورہ الکوثر
سورہ الکافرون
سورہ النصر
سورہ تبت
سورہ الاخلاص
سورہ الفلق
سورہ الناس

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تجوید وقراءات

شرح سبعہ قراآت جلد اول

شرح سبعہ قراآت جلد اول

 

مصنف : ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی

 

صفحات: 387

 

اللہ تعالی کا امت محمدیہ پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے امت پر آسانی کرتے ہوئے  قرآن مجید کو سات مختلف لہجات میں نازل فرمایا ہے۔یہ تمام لہجات عین قرآن اور منزل من  اللہ ہیں۔ان کے قرآن ہونے پر ایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اور ان کا انکار کرنا باعث کفر اور قرآن کا انکار ہے۔دشمنان اسلام اور مستشرقین کا سب سے بڑا حملہ قرآن مجید پر  یہی ہوتا ہے کہ وہ اس کی قراءات متواترہ کا انکار کرتے ہوئے اس میں تحریف وتصحیف کا شوشہ چھوڑتے ہیں،تاکہ مسلمان اپنے اس بنیادی مصدر شریعت سے محروم ہو جائیں اور اس میں شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں۔زیر تبصرہ کتاب ” شرح سبعہ قراءات”پاکستان کے معروف قاری المقری ابو محمد محیی الاسلام پانی پتی﷫ کی  اصول قراءات پر ایک منفر داور عظیم الشان تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں قراءات سبعہ کے اصول وقواعد تیسیر اور شاطبیہ کے طریق سے بیان فرما دئیے ہیں اور جابجا مفید حواشی کا بھی اضافہ فرما دیا ہے۔یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،پہلی جلد میں اصول بیان کئے گئے ہیں ،جبکہ دوسری جلد میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے مطابق فروش کو قلمبند کیا گیا ہے۔اللہ تعالی حفاظت قرآن  کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی   ان شاندار  خدمات  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
تعارف 5
شجرہ 17
التماس 18
تمہید 67
مقدمہ فصل اول قرآن اور اسکے خادم 69
باب اول استعاذہ 164
دوم بسملۃ 164
سوم ادغام اور اس کی قسمیں 170
چہارم ادغام کبیر مذہب بصری 173
باب پنجم ادغام صغیر 195
باب ششم احکام میم جمع و ھا کنایہ 204
باب ہفتم مد وقصر 209
باب ہشتم ہمزتین در یک کلمہ 225
باب نہم ہمزتین دو کلمات میں 236
باب دہم ہمزہ مفردہ 242

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام ایمان و عقائد اور اعمال عبادات

شرح ارکان ایمان ترجمہ شرح اصول الایمان

شرح ارکان ایمان ترجمہ شرح اصول الایمان

 

مصنف : محمد بن صالح العثیمین

 

صفحات: 103

 

دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے  دین کی اساس اور جڑ  ہے  ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے  بالمقابل کفر ونفاق ہیں  یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔اللہ  تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور  اس کی کتابوں اور اس کے رسول کی تصدیقات  ارکان ایمان ہیں۔قرآن مجیدکی  متعدد آیات بالخصوص سورۂ بقرہ کی ایت 285 اور  حدیث جبریل اور دیگر احادیث میں اس کی صراحت موجود  ہے  ۔لہذا اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں اور اس  کی کتابوں اوراس کی طرف سے بھیجے  ہوئے رسولوں کو   تسلیم کرنا اور یوم حساب پر یقین کرنا کہ وہ آکر رہے گا اور نیک  وبدعمل کا صلہ مل کر رہے  گا۔ یہ امور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں ۔ان کو ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’شرح ارکان ایمان ترجمہ شرح اصول الایمان‘‘ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  کی تصنیف’’ شرح اصول الایمان‘‘  کا  سلیس اردو ترجمہ  ہے شیخ موصوف نے اس کتاب  میں مختصر انداز میں ایمان کے جملہ ارکان کی تشریح کے ساتھ ساتھ ان کے فوائد کوبھی بیان کردیا ہے ۔اگر کسی رکن پر باطل پرستوں کی جانب سے اعتراضات ہوئے ہیں تو عقل ،شریعت   حس اور واقع کی روشنی میں ان کا دندان شکن جواب دیا ہے۔اصل کتاب میں قرآنی آیات و احادیث کے حوالے نہیں تھے مترجم کتاب جناب کفایت اللہ سنابلی صاحب نے اس کمی کو پورا کردیا ہے ۔اللہ تعالی ٰ مصنف ،مترجم وناشرین  کی  تمام جہود کو قبول فرمائے ۔ 

 

عناوین صفحہ نمبر
کلمۃ المترجم 7
مقدمہ ازمؤلف 14
دین اسلام 15
ارکان اسلام 20
ارکان ایمان 24
پہلارکن:اللہ پرایمان 25
اللہ تعالی کےوجود پرایمان 26
وجودباری تعالی پرفطری دلیل 26
وجودباری تعالی پرعقلی دلیل 26
وجودباری تعالی پرشرعی دلیل 28
وجودباری تعالی پرحسی دلیل 29
اللہ تعالی کی ربوبیت پرایمان 23
اللہ تعالی کی الوہیت پرایمان 36
اللہ تعالی کےاسماءوصفات پرایمان 41
اسماءوصفات کےباب میں دوگمراہ فرقے 42
معطلہ 42
مشبہہ 43
اللہ پرایمان لانےکےفوائد 44
دوسرارکن:فرشتوں پرایمان 45
فرشتوں کےوجودپرایمان 46
فرشتوں کےاسماء(ناموں)پرایمان 46
فرشتوں کی صفات پرایمان 46
فرشتوں کےافعال پرایمان 47
فرشتوں پرایمان لانےکےفوائد 48
منکرین ملائکہ اوران کارد 48
تیسرارکن:آسمانی کتابوں پرایمان 51
ان کےمنزل من اللہ ہونےپرایمان 51
ان کےاسماء(ناموں)پرایمان 51
ان کی صحیح باتوں پربذریعہ تصدیق ایمان 52
ان کےغیرمنسوخ احکام پربذریعہ عمل ایمان 52
آسمانی کتابوں پرایمان کےفوائد 52
چوتھارکن:رسولوں پرایمان 54
’’رسل‘‘(رسولوں)کامفہوم 54
رسولوں کےاوصاف 55
ان کی صداقت پرایمان 58
ان کےاسماء(ناموں)پرایمان 59
ان کےواقعات پرایمان 60
اپنےنبی کی شریعت پرایمان 60
رسولوں پرایمان لانےکےفوائد 61
منکرین رسالت اوران کارد 61
پانچواں رکن:آخرت کےدن پرایمان 63
بعثت(دوبارہ زندگی)پرایمان 63
حساب اوربدلےپرایمان 65
جنت اورجہنم پرایمان 68
جنت 69
جہنم 69
مرنےکےبعد پیش آنےوالے امور 70
قبرکاامتحان 70
قبرکاعذاب اوراس کی نعمتیں 71
قبرکاعذاب 71
قبرکی نعمتیں 72
آخرت کےدن پرایمان لانےکےفوائد 74
منکرین بعث کااعتراض اوراس کاجواب 75
منکرین عذاب ونعمت قبراوران کارد 80
چھٹارکن:تقدیرپرایمان 85
اللہ کےعلم ماکان ومایکون پرایمان 85
لوح محفوظ پرایمان 85
اللہ کی مشیئت پرایمان 86
اللہ کی خالقیت پرایمان 87
اختیاری افعال میں بندوں کی مشیئت 88
گناہوں پرتقدیرسے احتجاج درست نہیں 89
تقدیرپرایمان لانےکےفوائد 94
تقدیرکےسلسلے میں دوگمراہ فرقے 96
جبریہ 96
قدریہ 96
اسلامی عقائد(ارکان ایمان)کےاہداف ومقاصد 98

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل روزہ و رمضان المبارک

سحری افطاری اور افطاریاں

سحری افطاری اور افطاریاں

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 40

 

سحری اور افطاری یہ دونوں کھانے روزے جیسی اہم عبادت کالازمی جزو ہیں۔شریعت نے روزے کے ساتھ یہ دوکھانے مقرر کر کے یہ باور کرا دیا کہ راہبوں اور جوگیوں کایہ خیال کہ جتنا زیادہ طویل فاقہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ نفس پاک ہوتا ہے یہ قطعی غلط ہے۔سحری کا وقت طلوع فجر سے قبل فجر کی اذان ہونے تک ہے ۔ جان بوجھ کر سحری ترک کرنا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی ہے۔اور افطاری روزہ ختم ہونے کی علامت ہے ۔چاہے ایک گھونٹ پانی یا ایک رمق برابر کھانے کی چیز ہی سے افطار کیا جائے ۔افطاری کا وقت سورج غروب ہونے پر ہے ۔جیسے کہ حدیث نبوی ہے ’’ جب رات آجائے دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ افطار کرلے ‘‘(صحیح بخاری)اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہے ہیں گے ۔ تب تک یہ دین غالب رہے گا کیوں کہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتےہیں‘‘۔(سنن ابوداؤد) زیر تبصرہ کتابچہ’’ سحری ،افطاری اور افطاریاں‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا ہے جس میں انہوں نے سحری کی اہمیت وضرورت اور اس کے احکام ومسائل اور افطاری کےاحکام ومسائل اور روزہ افطار کروانے کی فضیلت اور عصر حاضر میں افطار پارٹیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس سلسلے میں معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں اور فضول خرچیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے فائد ہ مند بنائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
روزے کا مقصد تقویٰ 6
کم سونا 8
کم کھانا 11
سحری اور افطاری 15
سحری ایک بابرکت کھانا 16
سحری کا وقت 16
اذان فجر ہو جائے تو۔۔۔ 18
جان بوجھ کر سحری ترک کرنا 18
سحری کا کھانا کیسا ہو؟ 19
سحری کے لیے بیدار کرنا 20
افطاری 22
افطار کا وقت 23
اگر کوئی پہلے روزہ افطار کرلے تو 24
افطار کس چیز کے ساتھ 26
ہماری افطاری 26
کھانے کا بچ جانا 28
افطاری کی دعوتیں 29
افطار پارٹیاں 32
افطاری کے کارڈ 33
افطاری اپنی کھانے غیروں کے 33
ریا 34
بے قاعدہ اور بے اندازہ خرچ 35
افطاری ایک عبادت 37
افطار پارٹی خود ساختہ تکلف 37

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تمدن تہذیب حج سیرت النبی ﷺ سیرت صحابہ سیرت صحابیات قرض معاشرت نبوت نماز

سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات

سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات

 

مصنف : سعید انصاری

 

صفحات: 280

 

اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک (عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب”سیر الصحابیات معہ اسوہ صحابیات” مولانا سعید انصاری کی نایاب تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے ازواج مطہرات، بنات طاہرات اور اکابر صحابیات کے سوانح زندگی اور ان کے علمی، مذہبی، اخلاقی کارناموں کو مفصل قلمبند کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں مولانا سید سلیمان ندویؒ کا مختصر رسالہ”مسلمان عورتوں کی بہادری” کو بھی کتاب ہذا کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

 

سیرالصحابیات صفحہ نمبر
دیباچہ طبع اول 9
مذہبی کارنامے 11
سیاسی کارنامے 13
علمی کارنامے 14
عملی کارنامے 15
انتخاب وترتیب 16
دیباچہ طبع ثانی 20
ازواج مطہراتؓ
(1)حضرت خدیجہ ؓ 22
(2)حضرت سودہؓ 31
(3) حضرت عائشہ ؓ 36
(4) حضرت حفصہ ؓ 47
(5)حضرت زینب ام المساکینؓ 52
(6)حضرت ام سلمہ ؓ 53
(7)حضرت زینب ؓبنت جش 66
(8)حضرت جویرہ ؓ 72
(9)حضرت ام حبیبہ ؓ 76
(10)حضرت میمونہؓ 80
(11)حضرت صفیہ ؓ 83
بنات طاہرات ؓ
(12)حضرت زینب ؓ 87
(13) حضرت رقیہ ؓ 90
(14)حضرت ام کلثوم ؓ 92
(15)حضرت فاطمہ ؓ 93
عام صحابیات ؓ
(16)حضرت امامہ ؓ 102
(17)حضرت صفیہ ؓ 104
(18)حضرت ام ایمن ؓ 107
(19)حضرت فاطمہ ؓ بنت اسد 109
(20)حضرت ام الفضل ؓ 111
(21)حضرت ام رومان ؓ 113
(22)حضرت سمیہ ؓ 115
(23)حضرت ام سلیم ؓ 117
(24)حضرت ام عمارہ ؓ 122
(25)حضرت ام عطیہ ؓ 124
(26)حضرت ربیع ؓ بنت معوذ بن عفراء 126
(27)حضرت ام ہانی ؓ 128
(28)حضرت فاطمہ ؓ بنت خطابؓ 130
(29)حضرت اسماءؓ بنت عمیس 132
(30)حضرت اسماءبنت ابی بکر ؓ 136
31۔حضرت فاطمہ ؓ بنت قیس 142
32۔حضرت شفاءؓ بنت عبداللہ 145
33۔حضرت زینب بنت ابی معاویہ ؓ 147
34۔حضرت اسماء بنت یزیدؓ 148
35۔حضرت ام الدرداء ؓ 152
36۔حضرت ام حکیم ؓ 153
37۔حضرت خنساء ؓ 155
38۔حضرت ام حرامؓ 158
39۔حضرت ام ورقہ ؓ بنت عبداللہ 160
40۔حضرت ہندؓ 161
41۔حضرت ام کلثوم ؓ بنت عقبہ 165
42۔حضرت ام زینب ؓبنت ابی سلمہ 167
43۔حضرت ام ابوہریرہ ؓ 169
44۔حضرت خولہ ؓ بنت حکیم 170
45۔حضرت حمنہ ؓ بنت جحش 171
اسوہ صحابیات
قبول اسلام ۔176
اعلان اسلام 177
تحمل شدائد 177
قطع علائق 178
عقائد ۔179
توحید 179
شرک سے علیحدگی 179
رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان 180
عبادات ۔181
ابواب الصلوۃ ۔181
پابندی جماعت 181
نماز جمعہ 181
نماز اشراق 181
تہجد نماز شبانہ 182
ابو اب الزکوۃ والصدقات ۔182
اعزہ اقارب پر صدقہ کرنا 183
محتاج کی حسب حاجت امداد 183
ابواب الصوم۔184
صائم الدہر رہنا 184
نفل کے روزے 184
مردوں کی جانب سے روزہ رکھنا 184
اعتکاف 184
ابواب الحج ۔185
حج 185
ماں باپ کی طرف سے حج اداکرنا 185
عمرو ادا کرنا 186
ابواب الجہاد ۔186
شوق شہادت 186
عمل بالقرآن ۔188
منہیات شرعیہ سےاجتناب ۔190
مزامیر سےاجتناب 190
مشتبہات سے اجتناب 190
مذہبی زندگی کے مظاہر مختلغہ ۔192
تسبیح وتہلیل 192
مقامات مقدمہ کی زیارت 192
فرائض مذہبی اداکرنے میں جسمانی تکلیفیں اٹھانا 192
پابندی 193
تبجیل الرسول ؐ ۔194
برکت اندوزی 194
محافظت یادگار رسول ؐ 194
ادب رسول ؐ 195
حمایت رسول ؐ 195
خدمت رسول ؐ 196
ہیبت رسول ؐ 196
نعت رسول ؐ 196
پابندی احکام رسول ؐ 197
رضامندی رسول ؐ 198
تفویض الی الرسول ؐ 198
ضیافت رسو لؐ 199
محبت رسول ؐ 199
شوق صحبت رسو لؐ 200
فضائل اخلاق۔201
ستعفاف 201
ایثار 201
فیاضی 201
مخالف سے انتقام نہ لینا 202
مہمان نوازی 203
عزت نفس 203
صبر وثبات 204
شجاعت 204
زند وتقشف 205
زندہ دلی 205
راز داری 205
عفت وعصمت 206
حسن معاشرت ۔207
مصالحت وصفائی 207
صلہ رحمی 207
ہدیہ دینا 208
خدموں کے ساتھ سلوک 208
باہمی اعانت 208
عیادت 209
تیمارداری 209
عزاداری 210
محبت اولاد 210
بھائی بہن سے محبت 210
حمایت والدین 211
پرورش یتامی 211
یتیموں کے مال کی نگہداشت 212
بچوں کی پرور ش 213
شوہر کے مال واسباب کی حفاظت 213
شوہر کی رضاجوئی 214
شوہر کی محبت 214
شوہر کی خدمت 215
طرز معاشرت ۔217
غربت وافلاس 217
لباس 217
مکان 217
اثاث الیت 218
زیورات 218
سامان آرائش 218
اپناکام خود کرنا 218
پردہ 219
معاملات ۔221
ادائے قرض کاخیا ل 221
قرض کاایک حصہ معاف کردینا 221
تقسیم وارثت میں دیانت 221
خدمات۔222
مذہبی خدمات۔222
اشاعت اسلام 222
نومسلموں کاتکفل 223
خدمت مجاہدین 223
خدمت مساجد 224
بدعات کا استیصال 225
احتساب 225
اخلاقی خدمات۔226
نرد بازی کی روک ٹوک 226
شراب خواری کی روک ٹوک 227
مصنوعی بال لگانے کی ممانعت 227
علمی خدمات ۔227
علم تفسیر 227
علم اسرار الدین 233
علم حدیث 240
فن درایت 241
علم فقہ 243
مناقب صحابیات ۔245
مسلمان عورتوں کی بہادر ی ۔251
خاتمہ بالخیر 281

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز