Categories
Islam سنت عبادات فقہاء قربانی محدثین

شفاء العینین فی احیاء لیلۃ العیدین

شفاء العینین فی احیاء لیلۃ العیدین

 

مصنف : حافظ اکبر علی اختر علی سلفی

 

صفحات: 110

 

عید الفطر کا بنیادی مقصد اور فلسفہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ رب العزت کے خصوصی احسانات ،انعامات او رنوازشات، کاشکرادا کرنا اور دربار الٰہی میں بصد عجز وانکسار اپنی کم ہستی ، کم مائیگی او رکوتاہ عملی کا اعتراف کر کے اس ذات عظیم وبرتر سے معافی اور عفو ودرگزر کی دہا والتجاء کرنا ہے۔ اور عیدالاضحیٰ امام الموحدین، جد الانبیاء سیدناابراہیم﷤ کی قربانی ، ایثار، اخلاص اور وفا کی یاد تازہ کر کے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کےلیے جانورذبح کر کے اللہ ارحم الراحمین کی بارگاہ سے بے پناہ اجروثواب اور نیکیاں حاصل کرنے کا دن ہے ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام   سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام رشد سلفی علماء فقہ فقہاء محدثین

ششماہی رشد ، جلد نمبر 13 ، شمارہ نمبر8 ،جولائی 2017ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 13 ، شمارہ نمبر8 ،جولائی 2017ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 124

 

محترم قارئین کرام!
اس وقت ششماہی رشد کا آٹھواں شمارہ (جولائی تا دسمبر 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ “روایت تصوف میں تزکیہ نفس کے ذرائع: ایک تجزیاتی مطالعہ” کے عنوان سے ہے۔ راقم نے اس مقالے میں واضح کیا ہے کہ تصوف کے بارے امت میں دو نقطہ ہائے نظر معروف ہیں، ایک یہ کہ یہ عین دین اسلام ہے اور دوسرا یہ کہ یہ دین اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے۔ اس مضمون میں تصوف کی روایت میں تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع پر گفتگو کی گئی ہے کہ مراقبہ، سماع اور وجد، فناء اور بقاء، علائق دنیویہ سے انقطاع، مبشرات، کرامات اور متصوفانہ ادب وغیرہ کا اصلاح نفس میں کتنا کردار ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کتاب وسنت اور سلف صالحین کی نظر میں اصلاح نفس کے ان ذرائع کا کیا مقام اور مرتبہ ہے۔ دوسرا مقالہ “شریعت اور مقاصد شریعت: معانی اور مفاہیم” کے موضوع پر ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام شاطبی ﷫کی الموافقات کے بعد علماء کے حلقوں میں مقاصد شریعت کا مطالعہ ایک باقاعدہ فن کے طور ہونے لگا لہذا بہت سے علماء نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی کہ جس سے اس کی متنوع جہات تک رہنمائی حاصل ہوئی۔ اس مقالہ میں مقاصد شریعت کے متنوع معانی اور مفاہیم کو جمع کر کے اس کے اصل جوہر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے مقالے میں “علم حدیث میں درایتی نقد کی حیثیت” کے موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ مقالہ نگاران کے مطابق عصر حاضر میں بعض متجددین نے محدثین کے ہاں متفق علیہ طور پر ثابت شدہ صحیح روایات کو اپنی تحقیق کا موضوع بناتے ہوئے انہیں من گھڑت اصولوں پر ضعیف قرار دیا ہے۔ ان متجددین نے حدیث کو جس تحقیقی معیار پر پرکھا ہے، وہ ان کے نزدیک “درایتی معیار” کہلاتا ہے۔ اس مقالے میں حدیث کی جانچ پڑتال کے اس جدید درایتی معیار ِ نقد کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ کیا یہ معیار عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں اس قابل ہے کہ اس پر حدیث کی جانچ پڑتال کی جائے؟ مزید برآں ان احادیث کی عقلی ونقلی توجیحات پیش کی گئی ہیں کہ جنہیں اس طبقے کی طرف سے عقل ونقل کے خلاف ہونے کے دعوی کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔  چوتھا مقالہ ” التلفيق في الفقه الإسلامي وحكمه: دراسة فقهية مقارنة ” کے موضوع پر ہے یعنی ایک فقہ کے مقلدین کسی مسئلے میں دوسری فقہ کی اتباع کر لیں تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ مقالہ نگار نے اس موضوع پر فقہاء کے اقوال جمع کیے ہیں کہ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں اور بعض اس کے انکاری ہے اور بعض کچھ شروط کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ مقالہ نگار کی رائے میں کچھ شروط کے ساتھ تلفیق کی اجازت ہونی چاہیے کہ یہ بات شریعت کے مقاصد کو پورا کرنے والی ہے۔ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

 

عناوین صفحہ نمبر
اداریہ مدیر 9
روایت تصوف میں تزکیہ نفس کے ذرائع: ایک تجزیاتی مطالعہ                                           ڈاکٹر حافظ محمد زبیر 11
شریعت اور مقاصد شریعت معانی اور مفاہیم                                 حافظ طاہرالاسلام ، محمد شعیب خان 50
علم حدیث میں درایتی نقد کی حقیقت                                                      مولانا محمد رمضان سلفی ، ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی 68
التلفيق في الفقه الإسلامي وحكمه: دراسة فقهية مقارنة  الدكتور محمد مهربان باروي 111

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اصول حدیث رشد علماء فقہ فقہاء محدثین

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 128

 

محترم قارئین کرام!اس وقت رُشد کا چوتھا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ عصر حاضر میں علمی حلقوں میں اجتماعی اجتہاد کا کافی چرچا ہے اور راقم نے اس موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پنجاب یونیورسٹی سے 2012ء میں مکمل کیا تھا۔ عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے مناہج اور اسالیب کیا ہوں گے؟ اس بارے اہل علم میں کافی ابحاث موجود ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اجتماعی اجتہاد، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے تو بعض علماء کی رائے ہے کہ اجتماعی اجتہاد کا بہترین طریق کار شورائی اجتہاد ہے کہ جس میں علماء کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں ایک علمی رائے کا اظہار کیا جائے۔ اس مقالے میں اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ کے نقطہ نظر کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نقطہ نظر کس حد تک کارآمد اور مفید ہے۔
دوسرا مقالہ ’’علم حدیث اور علم فقہ کا باہمی تعلق اور تقابل‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہمارے علم میں ہے کہ علم حدیث اور علم فقہ دو مستقل علوم شمار ہوتے ہیں اور دونوں کی اپنی کتابیں، مصادر، موضوعات، مصطلحات، اصول، مقاصد، ماہرین فن، طبقات اور رجال کار ہیں۔ اس مقالہ میں بتلایا گیا ہے کہ علم حدیث کا مقصد روایت کی تحقیق ہے اور یہ محدثین کا میدان ہے اور علم فقہ کا مقصد روایت کا فہم ہے اور یہ فقہاء کا میدان ہے۔ روایت کی تحقیق میں اہل فن یعنی محدثین پر اعتماد کرنا چاہیے اور روایت کے فہم میں اہل فن یعنی فقہاء پر اعتماد کرنا چاہیے اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ جس طرح کسی محدث کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ فقیہ نہیں ہے، اسی طرح کسی فقیہ کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ محدث نہیں ہے۔ محدثین کسی روایت کے قطعی الثبوت یا ظنی الثبوت ہونے سے بحث کرتے ہیں اور فقہاء کسی روایت کے قطعی الدلالۃ یا ظنی الدلالۃ ہونے کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ تیسرا مقالہ ’’تحقیق حدیث میں عقلی درایتی اصولوں کا قیام: محدثین کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ حدیث کی تحقیق میں روایت اور درایت دو اہم اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ روایت کا تعلق سند اور درایت کا متن سے ہے۔ محدثین عظام نے حدیث کی تحقیق روایتاً اور درایتاً دونوں طرح سے کی ہے اگرچہ بعض معاصر اسکالرز کا یہ دعوی ہے کہ حدیث کی تحقیق روایتاً تو ہوئی ہے لیکن درایتاً نہیں ہوئی جبکہ مقالہ نگار کے نزدیک یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض معاصر اسکالرز حدیث کی تحقیق کے لیے جن درایتی اصولوں کو پیش کرتے ہیں وہ محدثین کے درایتی اصول نہیں ہیں۔ محدثین کے نزدیک حدیث کے مردود ہونے کہ وجوہات وہی ہیں، جنہیں اصول حدیث کی کتابوں میں بیان کر دیا گیا ہے لیکن کسی حدیث کا خلاف قرآن یا خلاف عقل ہونا اس کے مردود ہونے کی وجہ تو نہیں البتہ علامات و قرائن میں سے ضرور ہے۔ پس ایسی احادیث جو کہ حدیث کی اُمہات الکتب میں نہ ہوں، اور وہ خلافِ قرآن ہوں یا خلافِ عقل ہوں تو وہ مردود ہوں گی لیکن ان کے مردود ہونے کہ وجہ ان کی سند کا مردود ہونا ہی ہوتا ہے کیونکہ ایسی کوئی روایت صحیح سند سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ معاصر درایتی فکر میں صحیح سند سے ثابت شدہ روایات یہاں تک کہ صحیحین کی روایات تک خلاف قرآن اور خلاف عقل ہونے کی وجہ سے مردود قرار پاتی ہیں لیکن ان کے خلاف قرآن ہونے سے مراد، روایت کا اسکالر کے فہم قرآن کے خلاف ہونا ہوتا ہے اور ان کے خلاف عقل سے مراد، تمام انسانوں کی عقل نہیں بلکہ اسکالر کی اپنی عقل کے خلاف ہونا ہوتا ہے لہٰذا اَمر واقعی یہی ہے کہ کوئی بھی ایسی حدیث کہ جسے محدثین نے صحیح قرار دیا ہو، کبھی بھی قرآن مجید یا عقل کے خلاف نہیں ہوتی ہے البتہ بعض ناقدین کو وہ خلاف قرآن یا خلاف عقل محسوس ہو سکتی ہے۔  چوتھا مقالہ ’’فقہاء اور ائمہ محدثین کا تصور اجماع: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ متقدمین اہل علم کے نزدیک الفاظ کی نسبت تصورات اور معانی کی زیادہ اہمیت تھی لہٰذا وہ کسی بھی تصور دین کی وضاحت میں اس کے لغوی معنی میں، عرفی معنی کو شامل کر کے اس کی وضاحت کر دیتے تھے لیکن متاخرین کا منہج یہ ہے کہ وہ منطق کے استعمال کے زیر اثر ہر مصطلح کی فنی تعریف کو جامع ومانع بنانے کے لیے شروط وقیود کے بیان میں پڑ جاتے ہیں اور پھر اس مصطلح کی درجن بھر تعریفات تیار کر کے ان میں سے ہر ایک پر اعتراضات کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی قائم کر دیتے ہیں۔ امام مالک ﷫ کا اجماع کا تصور یہ ہے کہ صحابہ کے زمانے سے اہل مدینہ کا جو عرف منقول چلا آ رہا ہے، وہ روایت ہونے کی وجہ سے حجت ہے جبکہ اہل مدینہ کے اجتہاد واستنباط کو امام مالک ﷫ اجماع کا درجہ نہیں دیتے ہیں۔ امام شافعی ﷫ کا کہنا یہ ہے کہ اجماع ضروریات دین میں ہوتا ہے نہ کہ فروعات میں۔ اور امام صاحب کے نزدیک اجماعی مسائل سے مراد وہ مسائل ہیں کہ جن میں کسی عالم دین کا اختلاف کرنا ممکن نہ ہو جیسا کہ پانچ وقت کی نمازیں اور رمضان کے روزے وغیرہ۔ امام احمد بن حنبل اور امام بخاری ﷭ کے نزدیک اجماع سے مراد اہل حق علماء کی جماعت کی معروف رائے ہے۔ اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ امام بخاری ﷫ کے نزدیک اجماع سے مراد منہج استدلال اور طریق استنباط میں اہل حق علماء کی عرفی رائے ہے۔  پانچواں مقالہ امریکی سیاہ فام مصنفہ اور سماجی کارکن بیل ہکس کی معروف کتاب ’’Feminism is for Everybody: Passionate Politics‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ ہے۔ ہکس کی مذکورہ کتاب بنیادی طور پر ان مشکلات کے بیان پر مبنی ہے جن کا سامنا تحریک برائے حقوقِ نسواں، اس سے وابستہ خواتین، اور خصوصاً سیاہ فام خواتین کو کرنا پڑا۔ ہکس کی کتاب اپنے موضوع پر صف اول کی بہترین کتب میں شمار ہوتی ہے اور تحریک نسواں کے بنیادی خدوخال جاننے کے لیے ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب پر تبصرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک نسواں کی تحریک کا آغاز تو عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے ہوا تھا لیکن اب وہ مردوں سے نفرت کے اظہار کی ایک تحریک بن چکی ہے جو کہ ایک طرح کی انتہا پسندی ہی ہے۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام امہات المومنین سیرت سیرت النبی ﷺ شروحات حدیث محدثین معاملات نبوت نماز وضو

شمائل ترمذی ( زبیر علی زئی )

شمائل ترمذی ( زبیر علی زئی )

 

مصنف : امام ترمذی

 

صفحات: 471

 

انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتبِ احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔کتب ِ سیرت او رکتب ِ شمائل میں فرق یہ ہے کہ کتب سیرت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر بات خوب وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہجرت جہاد وقتال ،غزوات ، دشمن کی طرف سے مصائب وآلام، امہات المومنین کابیان اور صحابہ کرام کے تذکرے وغیرہ ۔جبکہ شمائل وخصائل کی کتب میں صرف آپﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی موضوع ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کا چلنا پھرنا، آپ کا کھانا پینا آپ کی زلفوں کے تذکرے ، آپ کےلباس اور بالوں وغیرہ کے بیانات جو اصلاح فرد کےلیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس طرف بھی خوصی توجہ کی ہے مثلاً امام اورامام ترمذی نے اس موضوع پر الگ سے کتب تصنیف ہیں۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے ۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب ہے ۔اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول ﷺكے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات ‏کو احادیث کی روشنى میں جمع کردیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- ‏سیّد کائنات ﷺ کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے ‏تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ زیر تبصرہ شمائل ترمذی کے ترجمہ وتحقیق وفوائد کا کام حافظ زبیر علی زئی ﷫ نے کیا ہے۔یہ ترجمہ حسب ذیل(دو مستند نسخوں سے سند متن کی تصحیح، ہر روایت کی بہترین تخریج، صحت وضعف کے اعتبار سے ہر حدیث پر حکم، آسان فہم ترجمہ، مختصر مگر جامع ونافع فوائد) خوبیوں کےباعث دیگر تراجم سے ممتاز ہے ۔شیخ الحدیث حافظ عبد الحمید ازہر ،حافظ ندیم ظہیر حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے میں شامل تمام افراد کی مخت کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اہل ایمان کو سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست شمائل تر مذی
تقریظ و مقدمہ 9
حرف اول 11
تقدیم طبع اول 18
شمائل ترمذی پر بعض مشہور تصنیفات 19
رسول کریم ﷺ کے شمائل پر بعض مشہور تصنیفات 20
حیات و خدمات امام ترمذی رحمتہ اللہ 21
شمائل تر مذی اور اسلوب تحقیق و فوائد 30
قلمی نسخہ کی فو ٹوکاپی 33
آغاز شمائل ترمذی 41
مخطوطے کی سند 42
رسول اللہ ﷺ کے حلیہ مبارک  کا بیان 47
نبی کریم کے سائے سے متعلق دلائل 62
آخر ی صحا بی سیدنا ابو طفیل  ؓ تھے 68
ختم نبوت کی مہر کا بیان 71
سیدنا سلمان ؓ کے ایمان لانے کا واقعہ 75
مُہر نبو ت صر ف نبی ﷺ کے لئے خا ص ہے 79
رسول اللہ  ﷺ کے با لوں کا بیان 80
جمعہ اور و فر ہ کا مفہوم 81
مانگ نکالنا مسنون ہے 84
رسول اللہ ﷺ کے کنگھی کرنےکابیان 85
روزنہ کنگھی کرنے کی ممانعت 85
رسول اللہﷺ کے سفید با لوں کابیان 89
رسول اللہ ﷺ کے بال رنگنے کابیان 95
رسول اللہ ﷺ کے سرمہ لگانے کابیان 99
سر مہ لگانے کے فوائد 101۔100
رسول اللہﷺ کے لباس کا بیان 102
شلو ار قمیض پہننا مسنون ہے 103
نئے کپڑے پہننے کی دعا 107
کپڑے پہننے کے بعد کی دعا 108
سبز عمامہ با ند ھنا غیر ثابت ہے 110
سفید کپڑے پہننا مسنون ہے 111
رسول اللہ ﷺ کے گزر اوقات کا بیان ٍ 116
رسول اللہ ﷺ کے جوتے کابیان 120
رسول اللہ ﷺ کی انگو ٹھی کا بیان 128
نبی ﷺ کی انگوٹھی کا عکس 131
نبی ﷺ دائیں ہا تھ میں انگو ٹھی پہنتےتھے 135
رسول اللہ ﷺ کی تلوار کا بیان 143
نبی ﷺ کی تلوار کا دستہ چا ندی کا تھا 143
رسول اللہ ﷺ کی زرہ کا بیان 147
رسول اللہ ﷺ کے(مغفر ) خود کابیان 149
بنی ﷺ کے عمامے کابیان 151
رسول اللہ ﷺکا ازار کابیان 155
ٹخنوںسے نیچے ازار لٹکانا حرام ہے 158
ا زار ٹخنوں سے نیچے رکھنا تکبر کی علامت ہے 158
رسول اللہﷺ کے پید ل چلنے کے انداز کا بیان 159
رسول اللہﷺ کے سر ڈ ھانپنے کا بیان 161
رسول اللہ ﷺ کے بیٹھنے( کی کیفیت ) کایبان 162
رسول اللہ ﷺ کے ٹیک لگانے کابیان 165
ٹیک لگا کر کھانے پینے کی ممانعت 167
تکیے سے ٹیک لگا نا مسنون ہے 167
رسول اللہﷺ کے ٹیک (سہارا ) لینے کابیان 168
رسول اللہ ﷺ کے کھا نا تناول فرمانے کے انداز کا بیان 170
تین انگلیوں سے کھانا مسنو ن ہے 171
کھانے کے انگلیاں چاٹنا مسنون عمل ہے 171
رسول اللہ ﷺ کی روٹی کابیان 174
رسول اللہ ﷺ کے سالن کا بیان 181
سرکہ بہترین سالن ہے 181
مر غی کا سالن بنانا اور کھانا جائز ہے 183
زیتون کھانا اور اس کا تیل لگانا 185
نبی ﷺ کا پسندیدہ سالن کدو تھا 187
مختلف چیزوں کو ملا کر سالن بنانا جائز ہے 191
نبی کریم ﷺ کو میٹھی چیز اور شہد  تھا 192
مونچھوں کے سلسلے میں اضافی وائد 195۔192
ثر ید بنانا ااور کھانا جائز و مسسنون ہے 201
نبی ﷺ  کو شانے (کندھے ) کا گوشت پسند تھا 196
ایام بیماری  میں پر ہیز ضروری ہے 207
کھانا کھانے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے وضو کابیان 212
نماز کے علاوہ کھانے وغیرہ کے لئے وضوضروری نہیں ہے 212
کھانا کھانے سےپہلے اور بعدمیں رسول اللہﷺ کی دعاوں کایبان 215
کھانا شروع کرنےسے پہلے بسم اللہ پڑ ھنا چاہیے 216
اگر بسم اللہ بھول جائیں تو؟ 216
کھانا دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھانا چاہیے 217
کھانا کھانے کے بعد کی دعا 218
رسول اللہﷺ کے پیالے کا بیان 220
رسول اللہ ﷺ کے پھلو ں کا یبان 222
کھجوریں اور مختلف پھل اکٹھے کھانا جائز ہے 222
موسم کا پہلا پھل کھانے سے پہلے کی دعا 224
رسول اللہ ﷺ کے مشروباے کا بیان 227
رسول اللہ ﷺ کےپینے کی صفت کابیان 230
زمزم کے کنویں کے پاس زمزم کھڑے ہو کر پینا مسنون ہے 230
مشروبات پانی وغیرہ تین سانسوں میں پینا مسنون ہے 232
رسول اللہﷺ  کے عطر استعمال کرنے کا بیان 236
عطر کا تحفہ لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے 236
تین چیزوں کا تحفہ واپس نہیں کیا جاتا 237
رسول اللہﷺ کے انداز تکلمکان بیان 340
گفتگو کو ہمشہ ٹھہر ٹھہر کر اور اطمینان سے  کرنی چاہیے 240
بات کو تین دفعہ دھرانا مسنو ن ہے 241
رسول اللہﷺ کی ہنسی مبارک کابیان 243
رسول اللہ ﷺ کی صفت مزاح کابیان 242
اشعار کے متعلق رسول اللہ  ﷺ کی گفتگومیں جو آیا ہے، اس کابیان 259
شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت ؓ کی فضیلت 266
عشاء کے بعد رسول اللہ ﷺ کے گفتگو کرنے کابیان 294
اُم زرع کا قصہ 269
رسول اللہﷺ کی نیند کا بیان 274
دائیں کروٹ سونا مسنون ہے 274
سوتے وقت کی دعائیں 275۔277
سونے سے پہلے معوذ تین اور رسو رہ اخلاص پڑ ھنا مسنو ن ہے 275
رسول اللہ ﷺ کی عبادت کابیان 279
نبی ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑ ھتے تھے 288
وتروں کی تعداد اور وتر پڑھنے کا طریقہ 290
شروع نماز اور رکو ع وسجود کی دعائیں 293
دو سجدوں کے درمیان کی دعا 293
نوافل و سنن کا بیان 299۔303
نبی ﷺ کی نما ز چاشت پڑ ھنے کابیان 304
نماز چاشت پڑھنے کی فضیلت 308
رسول اللہﷺ کا گھر میں نفل نما زپڑھنے کابیان 309
رسول اللہﷺ کے روزوں کابیان 310
جمعرات اور سوموار کے روزے مسنون ہیں 314
ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا 316
عاشوراء کا روزہ مستحب ہے 318
نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا 319
رسول اللہﷺ کی قراءت کا بیان 323
قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر اور سکون سے پڑھنا چاہے 323
(خوف الٰہی سے )رسول اللہﷺ کے رونے کابیان 329
رسول اللہ کے بستر کا بیان 335
رسول اللہ ﷺ کی عاجزی کابیان 337
نبی کریم ﷺ گھر یلو کا م کا ج خو د کرتے تھے 349
رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کابیان 350
رسول اللہﷺ کی حیا کابیان 362
رسول اللہ ﷺ کے سینگی لگوانے کابیان 364
رسول اللہﷺ کے نامو ں  کابیان 368
رسول اللہﷺ کے گزر اوقات کا بیان 371
رسول اللہ ﷺ کی عمر کابیان 382
رسول اللہ ﷺ کی وفات کابیان 387
بنی ﷺ کی میراث کابیان 304
نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کابیان 409
فہار س 419
فہر س ا لا ٓیات و الا حادیث والا ٓ ثار 421
اسماء الرجال 439
اشاریہ 451
فہر س الا بواب 465

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سیرت علماء فقہ

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تصانیف کا انتخاب

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تصانیف کا انتخاب

 

مصنف : ڈاکٹر عبد العزیز بن عبد الرحمن السعید

 

صفحات: 369

 

شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔شیخ نے اپنی دعوت پر عقائدکی اصلاح پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور اس سلسلے میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی تصنیفات کاجائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نےاجتہاد او راستنباط کے ہر علم اور فن میں طبع آزمائی کی ہے ۔ آپ نے قرآن کی فضیلت اور قرآنی علوم پر بھی قلم اٹھایا ۔ قرآن کے بعض مقامات کی تفسیر بھی کی اور کسی حد تک اجتہاد کو ترجیح دی ۔شیخ محمد بن عبدالوہاب نے علم فقہ کے ابواب کے مطابق احادیث نبوی کو پانچ جلدوں میں جمع کیا اور فقہ کی کتابوں کا بڑا عمیق مطالعہ کیا اور اس موضوع پر چند کتابیں مرتب کیں۔علم فقہ کی بعض آراء کاتنقیدی جائزہ بھی لیا اور چند مسائل میں اپنا اجتہاد پیش کیا اور بنیادی اصولوں کے بارے میں بھی قلم اٹھایا۔ سیرت ابن ہشام کو مختصر کیا اور اس میں دعوت اور جہاد کے موضوع پر تھوڑا بہت اضافہ کیاا ور زاد المعاد کی تلخیص بھی کی ۔ زیر تبصرہ کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫کی مؤلفات کے انتخاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ یہ انتخاب ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبد الرحمٰن السعید نے ’’ مختارات من مؤلفات الشیخ محمد بن عبد الوہاب‘‘ کے نام سے مرتب کیا ۔یہ کتاب اپنے اندر بہت سارے موضوعات لیے ہوئے ہے ۔ ان میں قرآن وحدیث، توحید ، سیرت نبوی، حق وصداقت پر مبنی واقعات، تاریخ فقہ اورخطوط ورسائل سے متعلق جامع انتخاب ہے ۔اس انتخاب سے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تعلیمات اور ان کے تبلیغی مقاصد پر گہری روشنی پڑتی ہے ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالنے کے فرائض جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،الریاض کے استاد ڈاکٹر سمیر عبدالحمید ابراہیم نے انجام دئیے ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ ازچانسلر امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی
پیش لفظ اس مترجم 6
پیش لفظ از مرتب 8
قرآن کریم کی تفاسیر کاانتخاب
قرآن کی تلاو ت اوراس کےسیکھنے  سکھانے کی فضیلت 11
علماء قرآن کی تعظیم وتکریم 14
قرآن کریم کے سیکھنے سمجھنے اورسننے اوارس کےنہ پڑھنے والوں کےبارے میں 15
قرآن آیت کوتشریح 17
قرآن کی کی آڑ میں گناہ  کرنے والا 18
تفسیر بالرائے آنےوالوں بنانے  کےبارے میں 20
قرآن کو ذریعہ معاش بنانے  کےبارے میں 21
قرآن سے توجہی برتنے والوں کےبارے میں 22
قرآن کےعلاوہ کسی اور ہدایت چاہنے والے کےبارےمیں 22
قرآن میں غلو کرنے کابیان 24
ہدایت کی کھوج میں لگنے رہنے والوں کےبارے میں 25
قرآن مجید کےبارے میں بغیر علم کےمحض اپنی عقل سےکلام کرنے والوں کےبارے میں 26
قرآن کےسلسلہ میں کج بحشی کرنے کابیان 27
قرآن میں لفظ یامعنوں کےاختلاف کابیان
جب تمہارے درمیان اختلاف ہوتو اٹھ کٹھرے ہوں 28
ایک آیت کی تشریح 29
خوش الحانی سےقرآن پڑھنے کابیان 30
سورہ الفاتحہ 31
سورہ بقرہ کی بعض آیات کی تشریح 41
سورہ آل عمران  کی بعض  آیات کی تفسیر 48
سورہ طہ کی بعض آیات کی تفسیر 51
کچھ احادیث نبوی کےبارے میں 57
کتاب الصلوۃ
شیخ محمد بن عبدالوہاب اورعقیدہ 62
کتا ت التوحید
توحید کی فضیلت اوریہ کہ توحید گناہوں  کومٹا دیتی ہے 68
حقیقت  کی توحید اختیار کرنےوالا حسباب کے  بغیر جنت میں داخل ہوجائے گا 70
شرک سے ہوشیار رہنا ضروری ہے 72
بعض شبہا ت کاازالہ 75
 دین اسلام کے تین اصول 103
اللہ کی عبادت 118
چھ عظیم اورمفید اصول
سیرت نبوی
سیرت نبوی کےچھ اہم پہلوؤں کی تشریح 127
حلف الفضول کاواقعہ 155
مرتدین سےجنگ 169
بنی عبید القداح کاواقعہ 177
تاتاریوں کاواقعہ 179
شیخ محمد بن عبدالوہاب اورفقہ 181
قواعد فقہ اوراس کے اصول
پانی کے بارے میں 184
مسائل کاطریقے 189
اجتہاد اور اس سے متعلق امور 194
نماز کےلئے جانے کےآداب 230
نماز پڑھنے کاطریقہ 231
نفل نمازیں 245
نماز باجماعت 252
وقف  کے بارےمین 257
شیخ محمد بن عبدالوہاب کےرسائل کاانتخاب
اہل قصیم کےاستسقاء پرشیخ کے اپنے عقیدے کی وضاحت 268
شام کےشیخ خاتمل آل مزید کےنام شیخ محمد بن عبدالوہاب کاخط 274
منجانب محمد بن عبدالوہاب بنام عبدالرحمن بن عبداللہ 277
شہرمکہ کےتمام علماء کےنام شیخ کامکتوب 281
مدینہ کے ایک جید عالم کےنام شیخ کامکتوب 284
ابن صباح کےنام 291
عبداللہ بن سحیم کےنام 296
محمد بن عبدالوہاب کی جانب سےعبداللہ بن محمد ﷾ کےنام 313
شیخ محمد بن عبدلوہاب  کےخطبات کاانتخاب 232
شیخ محمد بن عبدالوہاب کاپہلا خطبہ
شیخ کاایک اورخطبہ 335
شیخ محمدبن عبدالوہاب کاایک خطبہ 337
ایک اورخطبہ 339
خطبہ رمضان 341
آخر رمضان میں خطبہ 343
خطبہ عیدالفطر 246
آخری خطبہ 349
خطبہ ترغیب حج 352
خطبہ عیدالاضحی 354
ایک اورخطبہ 358
دسویں ذی الحجہ کاخطبہ 360
اختتام 362

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان علماء علوم قرآن فارسی

شاہ ولی اللہ دہلوی  کی قرآنی خدمات

شاہ ولی اللہ دہلوی  کی قرآنی خدمات

 

مصنف : ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

 

صفحات: 216

 

قرآن مجید لا ریب کتاب ہے ، فرقان حمید اللہ رب العزت کی با برکت کتاب ہے۔یہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمائی گئی۔پھر اسے تئیس سالوں کے عرصہ میں نبی ﷺپر اتارا گیا۔قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔لہٰذا یہ قرآن ہمیں رہنمائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ پر عمل پیرا ہونے سے تم فلاح پاؤ گے، عزت و منزلت اور وقار حاصل کرو گےاور مجھ سے دوری کا نتیجہ اخروی نعمتوں سے محرومی، ابدی نکامی اور بد بختی کے سوا کچھ نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شاہ ولی اللہ دہلوی کی قرآنی خدمات‘‘ شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد یٰسین مظہرصدیقی اور پروفیسر ظفر الاسلام کی مشترکہ کاوش ہے۔جس میں شاہ ولی اللہ ﷫ کی قرآن مجید کے حوالے سے تمام خدمات جو کہ مقالات اور سمینار کی صورت میں بیان کی گئی تھی ان سب کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال امہات المومنین تاریخ سیرت نماز

سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا (سید سلیمان ندوی)

سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا (سید سلیمان ندوی)

 

مصنف : سید سلیمان ندوی

 

صفحات: 350

 

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ، حضرت ابوبکر صدیق ﷜ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور ﷺ نے سن 11 نبوی میں سیدہ عائشہ ؓ سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ آپ حضور ﷺ کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نو برس گذارے۔ ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاوہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور کی زوجہ محترمہ اور ”ام الموٴمنین“ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاسے شادی سے قبل حضور نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے… پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ کی بیوی ہے، آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ ہیں۔صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ” مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران، آسیہ زوجہ فرعون ہی تکمیل پر پہنچی اور عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر ۔آپ ﷺکو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنہا سے بہت محبت تھی، ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن عاص ﷜ نے حضور سے دریافت کیا کہ… آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہ ؓ عنہا کو، عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! مردوں کی نسبت سوال ہے! فرمایا کہ عائشہ کے والد ابوبکر صدیق ﷜ کو۔ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہا کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے مبارک واسطہ سے امت کو دین کا بڑا حصہ نصیب ہوا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ﷢کو کبھی ایسی مشکل پیش نہ آئی جس کے بارے میں ہم نے حضرت عائشہ ؓ عنہا سے پوچھا اور ان سے اس کے بارے میں کوئی معلومات ہم کو نہ ملی ہوں۔ حضور ﷺ وصال کے 48 سال بعد 66 برس کی عمر میں 17 رمضان المبارک 58 ہجری میں وصال فرمایا۔سید عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زندگی خواتین اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ زیر تبصرہ ’’سیرت عائشہ‘‘برصغیر پاک وہند کے نامو ر مؤرخ اور سیرت نگار   علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ کی ابتدائی تصنیف ہے۔ 1920ء میں یہ کتاب پہلی بارشائع ہوئی۔ اس کے بعد اس کتاب کی جامعیت اور مقبولیت کی وجہ سے اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔ موجودہ ایڈیشن دارالابلاغ، لاہورنے نئی تحقیق اور تخریج وتسہیل کے اہتمام کےساتھ ایک نئے خوبصورت دیدہ زیب انداز میں شائع کیا ہے۔ کتاب میں موجود احادیث وآثار کی مکمل تخریج فاضل نوجوان محترم نصیر احمد کاشف نے کی ہے۔ سیدہ عائشہ کی مروی روایات کا ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کردیا ہے۔ کتاب میں قرآنی آیات، احادیث اور باقی تمام عربی عبارات پر اعراب کا اہتمام کردیاگیا ہے۔ اس کتاب نظر ثانی معروف مترجم و مصنف کتب کثیرہ جناب مولانا محمود احمد غضنفر ﷫ نے کی ہے جس   سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عفیفہ کائنات کی پاکیزہ سیرت 12
دیباچہ طبع سوم 15
سیرت عائشہ ؓ کی اہمیت 17
مآخذ 18
ابتدائی حالا ت (پیدائش سے شادی تک ) 20
انتساب 18
نام ونسب ،خاندان 20
ولات 22
بچپن 23
شادی 24
ہجرت 29
رخصتی 31
تعلیم وتربیت 33
خانہ داری 44
معاشرت ازدواجی 47
بیوی سے محبت 48
شوہر سے محبت 52
بیوی کی مدارات 55
دل بہلانا 56
گھر میں فرائض نبوت 67
سوکنوں کے ساتھ برتاؤ 69
مشتبہ اور غلط روایات 78
سوتیلی اولاد کے ساتھ برتاؤ 81
غلط اور مشتبہ روایات 84
واقعہ افک 85
سرولیم میور کابیان 93
تیمم کے حکم کانزول 96
تحریم،ایلااور تخیر 98
تحریم 98
ازفہ شکوک 101
ایلا 103
تخیر 105
بیوگی 11ھ 106
عام حالات 110
عہد صدیقی 110
داغ بے پدری 111
عہدفاروقی 112
سیدناعثمان ﷜ کاعہد 113
سیدنا علی مرتضی ﷜   کاعہد 118
اصلاح کی دعوت 120
مسلمان عورت ک فرائض 120
جنگ جمل 132
سیدہ عائشہ اور سیدناعلی ﷜ کے باہمی ملال خاطر کی تردید 137
سیدناامیر معاویہ ﷜ کازمانہ 141
سیدناحسن ﷜ کی تدفین کاواقعہ 144
وفات 146
تبنی 148
حلیہ اور لباس 149
اخلاق وعادات 151
قناعت پسندی 151
ہم جنسوں کی امداد 152
شوہر کی اطاعت 152
غیبت اور بدگوئی سے احتراز 152
عدم قبول احسان 153
خودستانی سے پرہیز 154
خودداری 154
دلیری 155
فیاضی 156
خشیت الہی اورقیق لقلسمی 157
عبادت الہی 158
معمولی باتوں کالحاظ 160
غلاموں پر شفقت 160
فقراکی حسب حیثیت اعانت 161
پردہ کااہتمام 162
مناقب 163
فضل وکمال 164
علم واجتہاد 167
قرآن مجید 168
حدیث 179
سیدہ عائشہ ؓ اور ازواج مطہرات ﷢ 179
سکٹرین روایت میں سیدہ عائشہ ؓ کا درجہ 181
سیدہ عائشہ ؓ کی روایتوں کی تعداد 181
مکثرین میں روایت کے ساتھ درایت 181
بار بار پوچھنا 185
روایت میں احتیاط 185
روایت مخالف قرآن حجت نہیں 186
مغرسخن تک پہنچنا 192
ذاتی واقفیت 196
قوت حفظ 198
سیدہ عائشہ ؓ کی حدثیوں کی ترتیب وتدوین 200
فقہ وقیاس 200
قرآن مجید 201
حدیث 203
قیاس عقلی 205
سنن کی تقسیم 207
معاصرین کے اختلاف 208
علم کلام وعقائد 212
اللہ تعالی کے لیے اعضاکااطلاق 212
رؤیت باری تعالی 213
علم غیب 215
پیغمبر اوراخفائے   وحی 216
انبیاء ﷤ معصوم ہیں 217
معراج روحانی 217
الصحابۃ عدول 219
ترتیب خلافت 220
عذاب قبر 220
سماع موقی 221
علم اسرار الدین 221
قرآن مجید کی ترتیب نزول 223
مدینہ میں اسلام کی کامیابی کاسبب 225
جمعہ کے دن نہانا 226
سفر میں دو رکعت نماز 226
نماز صبح او رنماز عصرکے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت 227
بیٹھ کر نماز پڑھنا 227
مغرب میں تین رکعتیں کیوں ہیں 229
صبح کی نماز دوہی رکعت کیوں رہی 229
صوم عاشور اکاسبب 229
پورے رمضان میں آپ ﷺ   نے تراویج کیوں نہ پڑھی 231
حج کی حقیقت 231
داوی محصب میں قیام 232
قربانی کاگوشت تین دن سے زیادہ رکھنے کی ممانعت 232
تعمیر کعبہ اور بعض اعمال حج 233
سوار ہوکر 234
ہجرت 235
آپﷺ کاحجرہ میں دفن ہونا 236
طب ،تاریخ وادب وخطابات وشاعری 237
طب 237
تاریخ 238
ادب 242
خطابت 243
شاعری 244
تعلیم ،افتااو رارشاد 256
تعلیم 256
افتا 265
خلفائے اسلام 265
اکابر صحابہ ﷢ 266
عامہ ممالک اسلامیہ 368
ارشاد 272
جنس نسوانی پر سیدہ عائشہ ؓ کی احسانات 280
عالم نسوانی میں سیدہ عائشہ ؓ کی درجہ 292
سیدہ عائشہ ؓ کی عمران کے نکاح کے وتق کیاتھی 296
سیدہ عائشہ ؓ کی عمر 202
مولانا سیدسلیمان ندوی کے اعتراضات کاجواب 303
صغر سنی کی شادی اور سیدہ عائشہ ؓ 302
اصل مبحث 306
بنائے استدالال 303
ضمنی بحث کی وجہ سے کم توجہی 304
نوسال کی عمر میں نکاح کی روایات 305
تاریخ نکاح کی روایات 305
تاریخ رخصتانہ 206
دوسری روایات سے عمر کاقیاس 206
سیدہ عائشہ ؓ کی ایک اور روایت 308
عمر کے متعلق سیدہ عائشہ ؓ کاخیال 309
صاحب مشکوۃ کاقول 309
حضرت سیدہ صاحب ﷫ کاجواب 311
سیدہ عائشہ ؓ کی عمر 311
مولانا محمدعلی صاحب کے شبہات کاجواب 311
نکاح کے وقت سیدہ عائشہ ؓ کی عمر 313
علامہ عینی ﷫ کابیان 315
علامہ ابن عبدالبر﷫ 316
صاحب مشکوۃ کاقول 317
سیرت عائشہ ؓ سے استناد 319
فریق کے دومویدات 322
سیدناابوبکر ﷜ ک ےارادہ ہجرت کے واقعہ سے استدلال 323
پہلا طریقہ 323
تسلیم کرکے جواب 328
دوسراعام طریقہ 336
سورۃ نجم اور سورۃ قمر کے نزول سے استدلال 336
عرب میں نکاح صغیر کارواج 339
خلاصہ بحث 341

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam خلافت راشدہ زبان سیرت سیرت صحابہ قرض نبوت

سیدنا حسن بن علی شخصیت اور کارنامے

سیدنا حسن بن علی شخصیت اور کارنامے

 

مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

 

صفحات: 564

 

سیدنا حسن﷜ دماد ِ رسول حضرت علی﷜ کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن﷜ نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیدنا حسن بن علی شخصیت اورکارنامے ‘‘ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل مستند کتاب ہے ۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ سیدناحسن کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی ۔اور آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی۔اور سیدنا حسن کی طرف کچھ غلط منسوب خطبات کی حقیقت کوبھی واضح کیا ہے۔ نیز مصنف نے اس کتاب میں حضرت حسن کی اہم صفات اورا ن کی معاشرتی زندگی کو ذکرکیا ہے او رثابت کیا ہےکہ آپ نرالی قائدانہ شخصیت کےمالک تھے آپ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے آپ دوربینی ،حالات پر گہری نظر ، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقرر منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے۔الغرض سیدنا حسن کی سیرت ، حیات وخدمات خلافت وامارت اور کارناموں پر جامع اور مستند کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
                                                  فہرست مضامین
عرض ناشر 17
مقدمہ 19
                                                           پہلی فصل
حسن بن علی ابی طالب (ولادت سے خلافت تک )
(1)نام نسب، کنیت ، صفت، خاندان عہد نبوت میں 35
ٍ1۔نام ، نسب اور کنیت 35
2۔آپ کی ولادت، نام ،لقب اور بچوں کے نام رکھنے میں بنی کرم ﷺ کا طریقہ کار 35
3۔ حضر ت حسن ؓ کے کانوں میں رسول اللہ ﷺ کا اذان دینا 39
4۔مولو د کی تحنیک 40
5۔حضرت حسن ؓ کا سر منڈ ا نا 42
6۔عقیقہ 42
7۔ حسن بن علی ؓ کا ختنہ 44
8۔حضرت بن علی ؓ کا دودھ پلانے والی خاتون ام الفضل ؓ 45
9۔ حضرت حسن ؓ کی شادی ، ان کی بیو یاں ، ان سے متعلق روایتیں 47
تعداد سے متعلق رویتیں 48
10۔ان کی اولاد 53
حضرت حسن ﷺ کی بعض اولاد 54
1۔زیدبن حسن علی بن ابو طالب ؓ 54
2۔حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب ؓ 55
11۔آپ کے بھا ئی اور بہنیں 56
12۔آ پ کے چچا اور پھو پھیاں 59
13۔ آ پ کے ما موں اور خالا ئیں 61
14۔آ پ کی خالا ئیں 62
1۔زینب بنت رسول اللہ ﷺ 62
2۔رقیہ بنت رسول اللہْﷺ 67
3۔ ام کلثوم بنت رسول اللہ ﷺ 68
(2)حضرت حسن ؓ کی والدہ سیدہ فا طمہ زہرا ؓ 71
1۔ ان کا مہر اور انکے بر تنے کے سامان 71
2۔ ان کی رخصتی 72
3۔ دعوت ولیمہ 72
4۔ حضرت علی و فاطمہ ؓ کا رہن سہن 73
حضرت فاطمہ ؓ کا زہد ہ صبر 74
6۔ سیدہ فاطمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت اور ان سے   متعلق ا ٓ پ کی غیرت 76
7۔ ان کی راست بازی 77
8۔ دنیا و آخرت میں ان کی سرداری 78
9۔حضرت ابو بکر صدیق ؓ ،حضرت فاطمہ ؓ اور نبی کریم ﷺ کی میراث 78
10۔ حضرت فاطمہ ؓ کا حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے رضامندی کا اظہار 79
11۔سیدہ فاطمہ ؓ کی وفات 82
(3)اپنے نانان محمد مصطفیٰ ﷺ کے نزدیک حضرت حسن ؓ کا مقام و مر تبہ 84
1۔حضرت حسن ؓسے رسول اللہ ﷺ کی محبت و سفقت اور لاڈو پیار 84
2۔حضر ت حسن ؓ کی نبی کریم ﷺ سے مشا بہت 92
3۔ حسن و حسین ؓ جنتی جوانوں کے سردار 94
4۔ وہ ددونوں دنیا کے میرے لیے دوخو شبو دار پھول ہیں 95
5۔ دنیا و آخرت میں ان کی سردار ی 96
6۔ میں ہر شیطان ، زہر یلے جانور ار نظر بد سے اللہ کے کامل کلموں کی پنا چاہتا ہوں 99
7۔ رسول اللہﷺ سے حسن بن علی ؓ کی روایت کر دہ حد یثیں 100
حسن بن علی ؓ کی روایت کردہ ا حادیث 108
ا۔بکثر ت فتویٰ دینے والے 109
ب۔ اوسط درجہ کے فتویٰ دینے والے 109
ج۔ کم فتویٰ دینے والے 109
8۔حسن بن علی ؓ کی روایت کردہ نبو ی صفات 109
9۔تطیہر کی ا ٓ یت اور کساء والی حدیث 112
آیت تطیہر سے متعلق 115
شیعہ امامیہ کے استدلال کا مختلف پہلو و ں سے جائزہ 115
ا۔ ام سلمہ ؓ کی مذکورہ حدیث چند لفظوں کے ساتھ وارد ہے 115
ب۔ آیت ہذا عصمت وا مامت پردلالت نہیں کر تی 117
ج۔ قرآن کی زبان میں اذھاب الر جس سے مراد معصوم ہونا نہیں ہے 120
د۔الرجس ، سے تطہیر کسی کے معصوم ہونے کی ثابت نہیں کرتی 121
آیت میں وارداردہ شر عی ارادہ ہے نہ کونی ارادہ 123
آ یت تطہیر ا صحاب کساء کو شامل ہے ،اور قول نبی کریم ﷺ کی دعا ہے 124
کچھ ایسی دلیلیں جو و اضح کرتی ہیں کہ ا ٓ یت امامت اور معصوم ہونے کی دلیل نہیں 125
10۔آیت مباہلہ اور نجران کے عیسا ئیوں کا وفد 125
11۔ حسن بن علی ؓ پر خاندانی تریبت کا اثر 127
مر بی با پ کے ا وصاف 128
1۔تربیت کی اہمیت کا ا حساس ، اس کا مکمل اہتمان کرنا، اس میں اخلاص سے کام لینا 128
2۔ بچوں کے سامنے ایک اچھا نمو نہ پیش کرنا 128
3۔ امیر المو منین علی ؓ تربیت کے باب میں بڑ ے ہی نرم ، مہر بان اوررحم دل تھے 128
4۔بچو ں کے مابین عدل و انصاف کو باقی رکھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا 129

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اہل بیت خلافت راشدہ سنت سیرت سیرت صحابہ قرض

سیدنا حسین بن علی ؓ شخصیت اور کارنامے

سیدنا حسین بن علی ؓ شخصیت اور کارنامے

 

مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

 

صفحات: 479

 

سیدنا حسن دماد ِ رسول حضرت علی کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیدنا حسن بن علی شخصیت اورکارنامے ‘‘ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل مستند کتاب ہے ۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ سیدناحسن کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی ۔اور آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی۔اور سیدنا حسن کی طرف کچھ غلط منسوب خطبات کی حقیقت کوبھی واضح کیا ہے۔ نیز مصنف نے اس کتاب میں حضرت حسن کی اہم صفات اورا ن کی معاشرتی زندگی کو ذکرکیا ہے او رثابت کیا ہےکہ آپ نرالی قائدانہ شخصیت کےمالک تھے آپ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے آپ دوربینی ،حالات پر گہری نظر ، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقرر منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے۔الغرض سیدنا حسن کی سیرت ، حیات وخدمات خلافت وامارت اور کارناموں پر جامع اور مستند کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
شیعہ کے نزدیک قبر حسین  اوردیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم 90
خروج حسین ﷜ شر عی مید ان  میں 99
قصہ حسین ﷜ کے با رے میں بعض خو اب 103
آنحضرت ﷺ کی طرف  سے قتل حسین ﷜ کی اطلا ع دینا 105
قا تلا ن حسین ﷜ سے اللہ تعا لیٰ کا انتقام 105
اسلام مخا لف قوتیں اور کربلا کا حا دثہ  فا جعہ 106
شہادت حسین ﷜ تشیع کی فکری  اور اعتقادی تا ریخ میں تبدیلی  کا نکتہ آغا ز ثا بت ہو ئی 107
حضرت حسین ﷜ کی دعا 108
 ( دوسر ا حصہ  )نبی کر یم ﷺ کے پھول ….. سیدنا حسین بن علی ﷜
مقدمہ 113
پہلی فصل …  سیدنا حسین بن علی ﷜ کا نسب نا مہ 121
خاندان اور فضا ئل و منا قب 121
بحث او ل.. نام نسب . جا ئے ولا دت اور خا ندان 121
نام نسب 121
تا ریخ  ولا دت 121
سیدنا حسین ﷜ کا نام رکھا جانا 122
عقیقہ 128
ازواج او لا د 130
لیلیٰ بنت مر ہ بن عروہ بن مسعود ثقیفہ 130
ام اسحاق بنت طلحہ  بن عبید اللہ ﷜ 130
رباب بنت امر ؤ القیس بن عدی 130
جعفر بن حسین ﷜ 130
شہر با نو 131
آل بیت نبوی کون ہیں 132
اہل سنت و الجماعت کے نزدیک  حضرات  اہل بیت اطہا ر ﷜ کی قدر و منز لت 35
سیدنا  حسین ﷜ کے فضائل  و منا فب  اور بعض مشارکات 41
سید نا  حسین  بن علی  ﷜ کی نبی کر یم ﷺ کی صو رت وسیرت  کے سا تھ 50
مشا بہت  او رصحابہ  کرام ﷜ کے آپ  سے محبت  کرنے کا بیان 50
مشا رکات  حسین ﷜ 52
قتل  حسین  ﷜ کے با رے میں امت  کا مؤقف 57
مقتل  حسین ﷜ کے بارے میں اہل سنت و الجما عت کا طرز عمل 57
سیدنا حسین بن علی ﷜ اوزر امت مسلمہ 58
کو فہ .غدر  و خیا نت  کا مر کز 61
اہل کو فہ او رآل بیت 162
اہل بیت  کے سا تھ  اہل کو فہ  کی غدا ری 162
سیدنا حسین  ﷜ کی طر ف کوفیوں کے خطوط 172
کو فیوں  کی سیدنا حسین بن علی ﷜  سے خط و کتا بت  شیعی  روا یات کی رو شنی  میں 174
مسلم  بن عقیل  کو کو فہ  بھیجنا  او ران کا قتل 178
مسلم بن عقیل  کے قتل  کی خو فناک  خبر 188
سیدنا  حسین بن علی ﷜ کا کو فہ  کی طر ف خرو ج شیعی روا یات کی رو شنی میں 191
سیدنا  حسین  بن علی ﷜ کے خر وج  شیعی روا یات کی رو شنی میں 191
سیدنا  حسین بن  علی ﷜ کے خر وج کے با رے  میں حضرات صحا بہ کر ام  کا مؤقف 196
سیدنا ابن عمر ﷜ 197
حضرت ابن عمر ﷜ 197
حضرت  ابن عبا س ﷜ 198
سیدنا ابن عمر ﷜ 197
سیدنا ابن عبا س ﷜ 198
حضرت  ابو سعید خدر یانصار ی ﷜ 200
حضرت ابن زبیر ﷜ 200
حضرت  عبد اللہ بن عمر و ﷜ 201
ان لو گوں کا ذکر  حنہوں نے  خطو ط لکھ  کر سیدنا  حسین ﷜ کو خرو ج  کر نے سے  منع کیا 204
سیدنا  حسین  ﷜ کے خرو ج کے با رے  میں  آ ل بیت  او راکا بر  صحابہ  کی را ئے 206
سیدنا حسین بن علی ﷜ کا اجتہا د اور اس کی شر عی حیثیت 206
جمہور  اہل حل و عقد کی مخا لف  کے با وجود سیدنا  بن علی ﷜کا  اپنے  اجتہاد پر اصر ار 207
سیدنا حسین  بن علی ﷜ کا نزو ل سر زمین  کر بلا  میں شیعی روا یات کی رو شنی میں 215
سیدنا حسین  بن علی ﷜کے  سا تھ قتل ہو نے والے 224
سیدنا حسین  بن علی ﷜کے ساتھ شہید ہو نے ولوں کا ذکر  شیعی  مصادر کی رو شنی میں 227
ٖآل بیت اطہا ر کی شہاد ت کا صدمہ 229
فہر ست جا ری ہے

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل اسلام روزہ و رمضان المبارک عبادات علماء محدثین

صیام رمضان فضائل ، آداب ، احکام اور قیام

صیام رمضان فضائل ، آداب ، احکام اور قیام

 

مصنف : محمد بن جمیل زینو

 

صفحات: 34

رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہِ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔روزہ  کے  احکام ومسائل  سے   ا گاہی  ہر روزہ دار کے لیے  ضروری ہے  ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے  یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔   کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے   کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے    رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔ زیر نظرکتابچہ ’’صیام رمضان  فضائل،آداب،احکام اور قیام ‘‘شیخ جمیل زینو  کے ایک رسالہ کا اردو ترجمہ  ہے شیخ موصوف نےاس مختصررسالہ میں رمضان المبارک کے جملہ احکام ومسائل پر احادیث صحیحہ کی روشنی میں بڑی    جامعیت   کے  ساتھ روشنی ڈالی ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ ناشر 4
مقدمہ مولف 5
صیام کاآیتیں 6
آیتوں کےفوائد 7
اسلام کےارکان 8
رمضان اورصیام کی فضیلت 9
صیام کےآداب 12
افطارکرنا،دعاپڑھنی اورسحری کھانا؍صیام کےفوائد 13
نفلی صیام کی فضیلت 15
وہ ایام جن میں صوم حرام ہے 17
وہ ایام جن میں صیام مکروہ ہے 18
وہ لوگ جن کیلئے افطارجائز ہے 20
صوم توڑنے والی چیزیں 21
وہ چیزیں جن سے صوم فاسد نہیں ہوتا 22
رمضان کاقیام 25
اعتکاف کی مشروعیت 26
صدقہ،فطرکاوجوب 29
عیدگاہ میں صلاۃِ عیدین 30
فوائد حدیث 30
مقبول دعا 32

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز