Categories
Islam اسلام اہل تشیع سنت متعہ

شیعیت تحلیل و تجزیہ

شیعیت تحلیل و تجزیہ

 

مصنف : محمد نفیس خاں ندوی

 

صفحات: 337

 

تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زیر نظر کتاب’’شیعیت تحلیل وتجزیہ‘‘ محمد نفیس خاں ندوی  کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نےاس کتاب میں شیعوں کے  قرآن،رسالت اور صحابہ کرام سے متعلق عقائد کو ان کی مستند کتابوں کی روشنی میں  واضح کیا ہے اور شیعیت کی حقیقت،یہودیت سے وابستہ اس کے آنے بانے اور اس کے حقیقی خدوخال کونمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
نذر عقیدت 17
شیعیت کی تاریخ
تاریخی پس منظر 19
یہودیت 20
میثاق مدینہ 22
بنوقینقاع کی عہد شکنی 24
بنونضیرکی کارستانیاں 26
بنونضیر کاانجام 27
بنوقریظہ کی بغاوت 29
بنوقریظہ کاانجام 32
خیبرکےیہود 33
ایک مجرمانہ سازش 34
نوٹ 35
جزیرۃ العرب سے یہودیوں کی جلاوطنی 35
مجوسیت 37
فارس 37
نامہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم بنام کسری پرویز 38
اہل فارس کی نفسیات 39
حضرت عمررضی اللہ عنہ کی شہادت 41
حضرت عمررضی اللہ عنہ کاقاتل شیعوں کاہیرو 42
یہودیت ومجوسیت کاگٹھ جوڑ 42
عبداللہ ابن سباکی فتنہ سازی 43
عبداللہ ابن سباکی محاذآرائی 45
عبداللہ ابن سباکاسیاسی محاذ 46
خلافت عثمانی رضی اللہ عنہ میں شورشیں 47
نوٹ 48
ابن سباکاکردار 49
ابن سباکےسیاسی دورے 49
جعلی خطوط 51
سبائی فتنہ کاعروج 52
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کامحاصرہ 53
خط کس نے لکھاتھا؟ 55
مظلومانہ شہادت 56
شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اورصحابہ کرام کاعمل 57
سبائیت کی کامیابی 59
عبداللہ ابن سباکامذہبی محاذ 60
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو 60
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کاعقیدہ 61
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کاعقیدہ 62
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رجعت کاعقیدہ 63
حضرت علی رضی اللہ عنہ کارد عمل 64
شیعان علی رضی اللہ عنہ 64
امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ المرتضی 66
حضرت علی رضی اللہ عنہ کامطالبہ 68
قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کامطالبہ 68
جنگ جمل اورسبائیوں کاکردار 69
مرکزخلافت کی منتقلی 70
حضرت علی رضی اللہ عنہ اورحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ 71
صفین کی جنگ اورسبائی کردار 74
خوارج کاظہور 76
نہروان کی جنگ 78
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت 78
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی 80
نوٹ 81
ابن سباکی کامیابی 82
حضرت علی رضی اللہ عنہ۔شیعوں کی نظرمیں 83
علمی کمال 83
واقعات عالم کاعلم 84
ربوبیت 84
جنت وجہنم کی ملکیت 85
خداسے ہم کلامی 85
قرآن ناطق 85
نبی سے بڑا مقام 86
فرشتہ کانازل ہونا 86
انبیاءکامجموعہ 86
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبرکی زیارت 87
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں 87
شیعہ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نظرمیں 90
شیعوں کولعنت وملامت 90
حضرت علی کااظہارحق 91
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کاعہد خلافت 92
خلافت اوراس سے دست برداری 93
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح 95
شیعوں کاردعمل 96
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی شیعوں سے بیزاری 97
اہل کوفہ کوپھٹکار 97
شہادت 98
شہادت حسین رضی اللہ عنہ۔اسباب واثرات 99
یزیدکی ولی عہدی 99
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کاموقف 102
اہل کوفہ کودعوت  نامے 102
مسلم بن عقیل کوفہ میں 104
نوٹ 107
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کاعزم 107
کربلا میں 108
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت 110
شیعہ۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےقاتل 112
اہل کوفہ شیعہ تھے 112
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی گواہی 113
حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کی گواہی 113
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی گواہی 114
حضرت فاطمہ صغری رضی اللہ عنہ کی گواہی 115
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکی گواہی 115
شیعوں کےنزدیک کربلا کی اہمیت 115
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبرکی فضیلت 116
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےنام پررونا 118
کربلاکےبعد 118
توابین کاخروج 119
مختارثقفی کاظہور 120
شیعیت کاآغاز 122
امامت۔شیعیت کی اساس
سبائیت ایک نےقالب میں 124
امامت کامفہوم 125
امام کامقام ومرتبہ 127
امامت کامنکرکافرہے 128
نبوت اورامامت 128
انبیاءسے افضل 129
آسمانی کتابوں کےمالک 130
عیوب سے پاک 131
ائمہ معصوم ہیں 131
ائمہ کی بات فرمان الہی کےمثل 132
علم غیب 132
قدرت کاملہ 135
قانون سازی کاحق 136
ائمہ کی قبروں کامقام ومرتبہ 137
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبرکی مٹی 137
زیارت قبور 138
زیارت کی فضیلت 139
کلمہ امامت 140
شیعوں کےمابین اختلافات اوران کےفرقے 141
پہلااختلاف 142
فرقہ مختاریہ۔کیسانیہ 143
فرقہ زیدیہ 144
فرقہ باطنیہ وظاہریہ 145
نصیری فرقہ 146
تیسرااختلاف 148
چوتھااختلاف 148
اسماعیلی فرقہ 149
قرامطہ 149
مہدویہ 150
حسن بن صباح 151
آغاخانی؍خوجہ فرقہ 152
بوہرہ 153
بابیہ اوربہائی 154
پانچواں اختلاف 155
چھٹااختلاف 156
ساتواں اختلاف 157
آٹھواں اختلاف 157
نواں اختلاف 158
نوٹ 160
شیعہ اثناعشریہ امامیہ جعفریہ 161
شیعہ 161
امامیہ 162
جعفریہ 162
بارہ امام 162
توجہ طلب 164
عہد سفارت 164
عہد غیبوبت 165
الکافی کی تصنیف 166
امام غائب کے’’کارنامے‘‘ 167
1۔قتل عام 167
2۔حرمین شریفین کی مسماری 168
3۔آل داؤدکی حکومت کاقیام 169
نوٹ 170
شیعوں کاطریقہ دعوت وتبلیغ 171
شیعوں کےہتھکنڈے 172
تقیہ اورکتمان
تقیہ کیاہے؟ 176
تقیہ کی اہمیت 177
تقیہ کی فضائل 178
اہل سنت کےساتھ تقیہ 180
تقیہ کی مثال 181
تقیہ اورشیعوں کےائمہ کرام 183
تقیہ اورحضرت حسن رضی اللہ عنہ 184
تقیہ اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ 184
تقیہ اورعلی ابن حسین رضی اللہ عنہ 185
تقیہ اورامام باقراورمام صادق علیہما السلام 186
تقیہ اورامان علی ابن موسی اورامام محمد الجوادرحمہااللہ 187
امام علی رضی اللہ عنہ اورامام حسن عسکری رحمہ اللہ 187
تقیہ اورنفاق 188
کتمان کیاہے؟ 189
کتمان اوراسلام 189
اشاعت حق 190
کتمان اوریہود 192
شیعہ اورقرآن
شیعوں کاعقیدہ 193
تحریف قرآن کاپہلاقائل 195
متقدمین ومتاخرین علمائے شیعہ 196
قرآن ناقص وتحریف شدہ ہے 197
حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ وحضرت عمررضی اللہ عنہ پرالزام 198
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرالزام 198
اصلی قرآن کےجامع 199
ادعائے حق تلفی 199
تحریف قرآن کی قسمیں 200
سورتوں کامکمل حذف 200
کلمات کاحذف 201
قرآن مجید کی شکایت 202
اصلی قرآن کہاں ہے؟ 202
خلاصہ بحث 204
حضرت علی رضی اللہ عنہ کافرمان 205
مسلمانوں کاعقیدہ 206
عقیدہ تحریف کےنقصانات 206
متعہ کاعقیدہ
شیعوں کےنزدیک متعہ کےفضائل 211
متعہ دین کاحصہ ہے 211
دوزخ سے آزادی کاپروانہ 212
جنت میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کاساتھ 212
عورتوں کےلیے معراجی تحفہ 213
شراب کانعم البدل 214
غسل متعہ سے فرشتوں کی پیدائشی 214
متعہ نہ کرنےپروعید 214
متعہ کاطریقہ اوراس کی شرائط 215
گواہ کی ضرورت نہیں 216
متعہ کےالفاظ 216
متعہ کامہر 217
متعہ کی مدت 217
متعہ کےوقت لڑکی کی عمر 218
کن عورتوں سے متعہ جائز ہے؟ 218
کتنی عورتوں سے متعہ جائزہے؟ 219
متعہ کےبعد ایک ساتھ سفرکاحکم 219
شادی شدہ عورت سے متعہ 220
شرمگاہ کومستعاردینا 220
عورت کےساتھ بدفعلی 221
نوٹ 222
متعہ کی تباہ کاری 223
زنااورمتعہ کےیکساں مفاسد 224
نکاح اسلام اورمتعہ شیعہ کابنیادی فرق 225
متعہ کےجواز میں شیعوں کی دلیل 226
متعہ اوراسلام 230
بداءکاعقیدہ
بداءکی مثالیں 234
امام مہدی کےظہورمیں بداء 234
حضرت اسماعیل ابن جعفرکی امامت میں بداء 234
حضرت محمد بن امام علی نقی رحمہ اللہ کی امامت میں بداء 235
رجعت کاعقیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 237
تناسخ کاعقیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 240
مذہبی رسومات وتقریبات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 241
سیاہ لباس 243
ماتم ونوحہ 244
ماتم کی تاریخ 245
تعزیہ 247
تعزیہ کی ممانعت 249
تعزیہ کی قسمیں 249
تعزیہ 249
ضریح 249
ذوالجناح 249
مہندی 250
تابوت 250
عَلَم 250
براق 250
تخت 250
تبرایعنی توہین صحابہ 251
امت محمدیہ۔شیعوں کی نظرمیں 255
شیعوں کےعلاوہ سب حرامی 256
کتےسےبھی بدتر 256
کافراوراجب القتل 256
سنی اورمشرک یکساں ہیں 256
شیعوں کی مذہبی عیدیں 257
عیدغدیر 257
عیدزہراء 258
عیدمباہلہ 259
عیدباباشجاع 260
عیدنوروز 260
یہودیت اورشیعیت کاباہمی امتزاج
غلوومبالغہ آرائی 263
دینی رہنماؤں کوخدابنانا 264
احساس برتری 265
تحریف کتاب 266
کتمان حق 268
مسلمانوں سے سخت دشمنی 269
مسلمانوں کی تکفیر 270
عقیدہ وصایت 272
یہودی حکومت کاقیام 274
تبرکات انبیاء 275
تابوت سکینہ 276
توارت وانجیل کاعلم 277
شیعوں کےاعتراضات اوران کےجوابات
حدیث قرطاس 279
اعتراضات اورجوابات 280
نوٹ 285
قضیہ سقیفہ بنوساعدہ 287
اعتراضات اورجوابات 289
ایک وضاحت 291
فدک کی میراث 293
فدک کیاہے 293
فدک کاقضیہ سنیوں کےنزدیک 294
نوٹ 295
فدک کاقضیہ شیعوں کےنزدیک 296
اعتراضات وجوابات 298
فدک کےحدوداربعہ 307
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی اولیت 310
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی 310
حدیث غدیر سے غلط استدلال 314
حدیث غدیرکاپس منظر 315
تشبیہ ہارون علیہ السلام سے غلط استدلال 316
آیت تطہیر سے غلط استدلال 319
آیت ولایت سے غلط استدلال 322
آیت مباہلہ سے غلط استدلال 326
آخری بات 328
شیعہ۔اکابرامت کی نظرمیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 330
حرف آخر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 336

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ حنفی ختم نبوت و ناموس رسالت و توہین رسالت عدلیہ علماء نبوت

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

 

مصنف : شفیق الرحمٰن الدراوی

 

صفحات: 350

 

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست مضا مین
انتساب:
ہدیہ تشکر 16
سرنغمہ ، پر سو ز : 18
مقدمہ ا ز مولانا منیر قمر حفظ اللہ 20
باب اول : نبی ر حمت ْﷺ 22
عموم رحمت: 24
مومنین کے لیے رحمت: 26
مو منین کے لیے رحمت کاایک منظر 27
عبادت رحمت 29
اہل خانہ کے لیے رحمت: 30
سلوک  رحمت کی مثالیں 34
اہل خانہ کے ساتھ رحمت تعلیمات 34
عورتوں پر رحمت 36
بیو ا و ں کیساتھ رحمت 36
بچو ں پر رحمت 38
یتیموں پر رحمت 40
بچیوں کے لیے رحمت 42
غلاموں پر رحمت 45
غلاموں کی سزادینے کی مما نعت 47
غلامو ں کا احساس 47
تعلیمات رحمت کا اثر 47
دعوت حق میں رحمت 48
دعوت میں رحمت کی ایک مثال 49
کفار کیلئے رحمت 50
مشرکین کےلیے رحمت 52
منافقین کے لیے رحمت 53
میدان کا رزار میں رحمت 53
تعلیمات کا اثر 55
محبت کرنے والوں پر رحمت 56
حیوانات کیلئے رحمت 57
حرام جانور  وں کیلئے رحمت 61
جمادات کا ساتھ رحمت 63
امن عالم اور نبی رحمت ﷺ 65
تکملہ باب رحمت 66
باب دوم : انصاف پسندوں کے اعترافات 68
باب سوم : محمد ﷺ سے دشمنی کی وجوہات معا ذ ین کا انجام 83
رسول اللہﷺ سے دشمنی کے اسباب 84
فصل اول : شر پسندوں کی بیہو دگیا ں اور ان کا انجام 88
شر پسندوں کی عاقبت 88
شر پسند نا کام  ہی رہیں گے 89
شر پسندوں کی روش 89
شیطانی  مہلت ملی ہے ان کو 91
بنی ﷺ سے د شمنی کی مو جو د لہر 92
قربانی ﷺ کا بکرا 94
آزادی ء ا ظہار رائے و فکر و نظر کی حقیقت 95
مغرب کی منافقت اور اظہار رائے کی ا ٓ زادی 98
امریکی کردار 100
مذہبی شخصیات اور ان کی خرافات 101
فصل دوم : پس پر دہ حقائق 103
کھلم کھلی اسرائیلی مدد 104
سیاسی جنگ 105
صحافت و ذروائع ابلاغ کی جنگ 106
فصل سوم :گمراہی اور استبدار کے وسائل 107
فصل چہارم : مسلمانو ں کا کردار 111
مومن کا ان حالات میں مو قف: 111
حالا ت  کا تقا ضا 113
باب چہارم: نصر ت رسول اللہﷺ کے بعض وسائل 117
باب پنجم : بائیکاٹ کی تعریف اور تاریخ 123
بائیکاٹ کی تاریخ 123
1۔حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا بائیکا ٹ ۔2۔حضرت ابراہیم ؑکی با ئیکاٹ کی دھمکی 123
3۔حضرت یوسف ؑ کی بائیکاٹ کی دھمکی :4۔ ابو لہب کا بائیکاٹ 124
5۔ ابوجہل مردود کا بائیکاٹ :6۔ قریش کا بائیکاٹ 125
7۔ :حضرت ثمامہ بن ا ثال ؓ کا بائیکاٹ 125
بائیکاٹ ثمامہ  کےا ثرات و نتائج : 8۔ حضرت ابو بصیر ؓ  کا روائی 126
10آئر لینڈ کی تحریک بائیکاٹ : 11۔ جمرنی کاخلاف یورپ کا بائیکاٹ 128
12۔ گاندھی کی تحریک بائیکاٹ 128
13۔: عالم اسلام اور اسرائیل  سے بائیکاٹ :14۔ شاہ فیصل شہید کا یورپ سے بائیکا ٹ 129
15۔: روس سے  بائیکاٹ : 16۔ عراق بائیکاٹ 129
17۔ الیبیا پر اقتصادی پابندیا ں : 18۔ پاکستان پر پابندی :19۔ سوڈان  پر پابندی 130
20۔ : شام یمن اور بعض دوسرے ممالک پر   پابندیاں: 130
21: امریکہ اور دوسرے ممالک کا منا فقانہ کردار: 130
فصل اول: بائیکاٹ کا شر عی حکم 131
بائیکاٹ کب مستحب ہوتا ہے 131
بائیکاٹ کب واجب ہوتاہے 132
کتاب وسنت سے بائیکاٹ سے بائیکاٹ کا ثبات: 133
عرب علماء کے فتاوی 137
شیخ محمد بن صالح التثیمین رحمتہ اللہ علیہ 140
علامہ ناصر الدین الا لبانی رحمتہ اللہ علیہ 140
شیخ انب جبریل رحمتہ اللہ علیہ 141
شیخ صالح الحبدان حفظ اللہ: 142
شیخ عبدالعزیز بن عبدالل الراحجی حفظ اللہ: 142
بائیکاٹ کیوں کریں ؟: 143
بائیکاٹ کے لیے اہم اصول : 145
عوامی کردار: 147
دشمن کی چالوں سے بچیں : 149
فصل دوم : بائیکاٹ : آخر کب تک : 150
باب ششم : عصمت ابنیاء کرام ؑ 151
فصل اول : عصمت انبیا کرام ؑ 152
گناہ کا مصدر 152
خلا صہ ء کلام 155
نبو ت اخیتار الٰہی 156
قرعصمت انبیاء ؑ ٍ 158
قرآن اور عصمت محمدیہ ﷺ 159
باب ہفتم : گستاخ رسول ﷺ کا شرعی حکم 161
فصل : گستا خ رسول اللہ ﷺ کافر اور واجب قتل ہے 162
اولا ء: کتاب اللہ سے کفر پر دلائل 163
پہلی دلیل : [اور علماء کے اقوال] 163
دوسری دلیل: [ اور علماء کے اقوال ] 165
تیسری دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] ٍ 168
چو تھی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 169
پانچوں دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 170
چھٹی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 172
ساتویں دلیل : [ اور علما ء کے اقوال ] 173
اجما ع مسلمین 173
علامہ انور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول 175
قاضی عیا ض رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ بشیر عصا م مراکشی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
علامہ الشر بینی الشا فعی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ مر عی بن یو سف الکر می احسنبلی 177
فصل دوم : گستاخ رسول اللہﷺ کے واجب قتل ہونے کے دلائل 178
قرآن کریم سے شاتم رسول کے قتل کا اثبات 178
پہلی دلیل: 178
دوسری دلیل 179
تیسری دلیل : 180
چو تھی دلیل: 181
پا نچویں دلیل: 183
چھٹی دلیل : 184
ساتویں دلیل: 185
آٹھویں دلیل: 185
نویں دلیل: 186
دسویں دلیل: 186
فصل سوم:احادیث مبارکہ میں گستاخ رسول اللہ ﷺ کی سزا: 188
عہد ذمہ کا فائدہ 188
سنت بنوی سے عملی نمونے 191
1۔ سفیان بن خالد کاقتل 192
2۔کع بن اشرف کا قتل 193
3۔ ابور افع یہودی کا قتل :4۔ تکذ ب رسول اللہ ﷺ پر قتل 194
5۔ محبو ب کے واقعہ سے استدلال: 195
6: انب سبینہ کی یہودی کا قتل :7۔ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو معیط کا قتل: 196
8: بنو قریظہ کی یہودیہ کا قتل 197
9: عصماء بنت مردان کا قتل  : 10۔ بنو بکر کاواقعہ 198
11: ذو لخو یصرہ کی گستاخی اور فرمان بنوت 199
12: بجر بن زہیر ؓ کا خط 200
13: ایک شاتم رسول ﷺ کا انجام : 14۔ دوسری گستاخی عورت کاقتل : 15۔ گستاخ یہودیہ کا قتل : 201
16۔ ابو عفک یہودی کا قتل : 17۔ عبداللہ بن اخطل : 18 ۔ قر تنی کا قتل 202
فصل چہارم : حضرات صحابہ کراؓ معین ااور ائمہ کے فیصلے 203
1: حضرت ابو بکر ؓ کا عقیدہ و ایمان و عمل: 203
2: حضرت ابو بکر ؓ صدیق کا فیصلہ :3۔ حضرت  ابوبکر ؓ اور گستاخ کا سزا: 204
4۔ حضرت عمر ؓ کا فیصلہ : 5۔ حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ کا فتوی: 205
6۔حضرت غرفہ ؓ اور ایک گستاخ معاہدہ کا قتل 206
7۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ اپنے والد کا قتل  ۔:8۔ حضر ت عمر ؓ اور ایک گستاخ کا قتل 206
9۔ حضرت عمر ؓ اور رافع بن کا قتل ۔ 10۔ نابینا صحابی اور گستاخ عور ت کا قتل 207
11۔ حضرت ابو برزہ ؓ  کا موقف :12۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا مو قف 208
13۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مو قف 208
14۔ ابن قانع کی روایت : 15۔ حضرت علی ؓ کا حکم ۔ 16۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت 209
17۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فیصلہ : 18۔ حضرت محمد بن  مسلمہ ؓ 210
19۔حضر ت عبدالر حمن بن یزید رحمتہ اللہ علیہ :20۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا فتویٰ 211
21۔ ہارون الرشیدر حمتہ اللہ علیہ کا استفاء 211
22۔ جنات میں  کستاخ رسول اﷺ کی سزا: 212
فصل پنجم : اجماع امت 213
1۔ امام ابن سحنون المالی  رحمتہ اللہ علیہ : 2۔ امام اسحق بن ابراہیم لمعروف بابن راہویہ رحمتہ اللہ علیہ 214
3۔ امام خطابی ، حمد بن محمد یہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ :5۔ امام ابو بکر الفارسی رحمتہ اللہ علیہ : 6۔ علامہ قاضی عیاضی رحمتہ اللہ علیہ 215
7۔ امام ابن خطاب الحنبلی رحمتہ اللہ علیہ  8۔ امام ابن الظاہری رحمتہ اللہ علیہ : 9۔ امام ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ 216
10۔ ابن عابد ین حنفی رحمتہ اللہ علیہ :11۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ : 12۔ علامہ ابن قیم رحمتہ علیہ 217
13۔ امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ : 14۔ علامہ السفارینی رحمتہ اللہ علیہ : 15۔ ابراہیم  بن حسین خالد فقیہ رحمتہ اللہ علیہ 218
16۔ علامہ شاہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ 218
سکو تی اجامع پر شہادت کے چند واقعات 219
پہلا واقعہ : دوسرا واقعہ: 219
تیسرا واقعہ : چو تھا واقعہ : پانچواں واقعہ : چھٹا واقعہ : 220
ساتواں واقعہ : ا ٓٹھواں واقعہ : نو اں واقعہ : 221
دسواں واقعہ : گیار ھواں واقعہ : ریجی نالڈ : بارھواں واقعہ : بہار ء اللہ 222
تیر ھواں واقعہ : مرزا غلام احمد قادیانی 223
چو د ھو اں واقعہ  : قادیانی عبدالحق کی گستاخی 224
غیرت مدن جج کا یمانی فیصلہ : پند ر ھواں واقعہ : ہند و مصنف مھا شاکر شن 225
سو لھواں واقعہ : شر دھا نند : سترھواں واقعہ  : ہند و مصنف نتھو رام: 226
اٹھار ھواں واقعہ : گستاخ ہیڈ مسٹر یس کا انجام : انیسواں واقعہ : رام گھو پال لعین کی دشنام طرازیا ں 227
بیسواں واقعہ : ہند و چوہدری کھیم : چند : اکیسواں واقعہ : پالا مل ہندہ: 228
بائیسواں واقعہ :  سکھ کشمیر سنگھ : تیتسواں واقعہ : ایک گستاخ ناشر 229
چو بیسواں واقعہ : عامر چیمہ  شہید رحمتہ اللہ علیہ 230
ہند و ستان  کی اسلامی عدلیہ کا فیصلہ 231

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ زبان شروحات حدیث علماء

شروح صحیح بخاری

شروح صحیح بخاری

 

مصنف : غزالہ حامد

 

صفحات: 171

 

صحیح بخاری (عربی :الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليہ وسلم وسننہ وأيامہ:مختصر نام الجامع الصحيح ) یا عام طور سے البخاری یا صحیح بخاری شریف بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کا مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہ احادیث ہے جو صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اکثر سنی مسلمانوں کے نزدیک یہ مجموعہاحادیث روئے زمین پر قرآن کے بعد سب سے مستند کتاب ہے۔ ابن الصلاح کے مطابق صحیح بخاری میں احادیث کی کل تعداد 9086 ہے۔ یہ تعداد ان احادیث کو شامل کر کے ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ وارد ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ تعداد میں وارد احادیث کو اگر ایک ہی تسلیم کیا جائے تو احادیث کی تعداد 2761 رہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔  زیر نظر   ’’شروح صحیح بخاری‘‘ غزالہ حامدبنت پروفیسر عبد القیوم مؤلفہ نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،انوار الباری، لامع الدراریاور فضل الباری سے استفادہ کرتے ہوئے اس کتاب کو چار ابواب میں منقسم کیا ہے۔ پہلا باب تعارف حدیث پر مشتمل، دوسرا باب امام المحدثین امام بخاری کے حالات پر مبنی، تیسرا باب الجامع الصحیح اور چوتھا باب شروح صحیح بخاری پر مشتمل ہے گویا کہ    یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔  اللہ  تعالی فاضلہ مؤلفہ کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
گزارش احوال واقعی 25
پہلاباب
تعارف حدیث 27
حدیث کی شرعی اہمیت 30
قرآن اورتمسک بالسنہ 30
سنت کی اہمیت زبان پیغمبرؐمیں 33
سنت کی اہمیت علمائےحدیث کےنزدیک 35
جمع وتدوین حدیث 35
عہدنبوی میں کتابت حدیث 35
تاریخی دستاویزات 37
عہدنبوت کےمکتوبہ صحیفے 38
صحیفہ سعدبن عبادہؓ 38
صحیفہ سمرہ بن جندبؓ 38
الصحیفہ الصازقہ 39
صحیفہ عبداللہ بن عباسؓ 39
صحیفہ ابوہریرہؓ ہمام بن منبہ کےلےی 39
عہدتابعین وتبع تابعین 40
حضرت قتادہؓ 40
امام زہریؓ 40
محدثین کااہتمام 40
امام مالک 40
عبداللہ بن مارک 41
امام وکیع 41
سفیان ثوری 41
امام احمدبن حنبل 41
امام بخاری 42
دوسراباب
امام بخاری کےحالات زندگی 43
نام ونسب 45
خاندان 46
ولادت 47
تربیت وتعلیم 48
شیوخ واساتذہ 50
محمدبن سلام بیکندی 50
عبداللہ بن محمدمسندی 50
ابراہیم بن الاشفث 50
طلب علم 52
علل حدیث کی شناخت میں کمال 54
اخلاق وعادات 58
ذوق عبادت 60
اتباع سنت 61
سلاطین اورامراءکی مخالفت سےپرہیز 61
امام بخاریکی شہرت 62
حدیث مقلوب کی بحث 63
درس وافتا 64
وفات 66
تصانیف امام بخاری﷫
الجامع الصحیح 69
التاریخ الکبیرفی تاریخ روات واخبارم 69
التاریخ الصغیر 70
کتاب الخلق افعال العباد 71
کتاب الضعفاءالصغیر 71
کتاب الکنی 72
کتاب الادب المفرد 72
تنویرالعینین پرفیع الیدین فی الصلوۃ 73
خیرالکلام فی القراءۃ خلف الامام 73
مخطوطات
التاریخ الاوسط 73
کتاب الضعفاءوالکبیر 74
المسندالکبیر۔التفسیرالکبیر 74
اسامی الصحابہؓ 74
الجماع الصغیرفی الحدیث 74
نایاب تصنیفات
الجامع الکبیر 75
کتاب الوحدان 75
کتاب المبسوط 75
کتب العلل 76
کتاب الفوائد 76
برالوالدین 76
کتاب الاشربہ 76
قضایاالصحابۃ والتابعین 76
کتاب الرقاق 77
تیسراباب
الجامع الصحیح 79
صحیح بخاری کی مقبولیت واہمیت 81
تالیف صحیح بخاری 84
وجہ تالیف 84
مدت وکیفیت تالف 86
عنوان کتاب 88
تراجم ابواب 90
تراجم ابواب سےمتعلق مستقل تصانیف 90
ترتیب صحیح بخاری 92
شروط صحیح بخاری 93
صحیح بخاری کی صحیح مسلم پرترجیح اورفضیلت 94

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ زبان شروحات حدیث علماء

شروح صحیح بخاری ( جدید ایڈیشن )

شروح صحیح بخاری ( جدید ایڈیشن )

 

مصنف : غزالہ حامد

 

صفحات: 178

 

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شروح صحیح بخاری‘‘ پنجاب یونورسٹی سے محترمہ غزالہ بٹ (ایم فل اسلامیات) کا مقالہ ہے۔ جس میں صحیح بخاری کی تقریبا دو سو سے زائد شروح کا سراغ لگا کر کام کیا گیا ہے۔ اس مقالے کا پہلا باب حدیث کی فضیلت واہمیت پر مبنی ہے۔دوسرےباب میں امام بخاری کی حالات زندگی کو بیان کیا ہے۔تیسرے باب میں صحیح بخاری کی افادیت کو بیان کیا ہے۔ چوتھے باب میں شروح صحیح بخاری کو بیان کیا ہے۔گویا کہ کے صاحب تالیف اور ان کے رفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک بینی سے سرانجام دیاہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

 

عناوین صفحہ نمبر
گزارش احوال واقعی 25
پہلا باب
تعارف حدیث 27
حدیث کی شرعی اہمیت 30
قرآن اورتمسک بالسنہ 30
سنت کی اہمیت زبان پیغمبرؐ میں 33
سنت کی اہمیت علمائےحدیث کےنزدیک 35
جمع وتدوین حدیث 35
عہدنبوی میں کتابت حدیث 35
تاریخی دستاویزات 37
عہدنبوت کےمکتوبہ صحیفے 38
صحیفہ سعدبن عبادہؓ 38
صحیفہ سمرہ بن جندبؓ 38
صحیفہ جابربن عبداللہؓ 39
الصیحفہ الصدیقہ 39
صحیفہ عبداللہ بن عباسؓ 39
صحیفہ ابوہریرہؓ ہمام بن منبہ کےلیے 39
عہدتابعین وتبع تابعین 40
حضرت قتادہؓ 40
امام زہری 40
محدثین کااہتمام 40
امام مالک 40
عبداللہ بن مبارک 41
امام وکیع 41
سفیان ثوری 41
امام احمدبن حنبل 41
امام بخاری 42
دوسراباب
امام بخاری کےحالات زندگی 43
نام ونسب 45
خاندان 46
ولادت 47
تربیت وتعلیم 50
شیوخ واساتذہ 50
محمدبن سلام بیکندی 50
عبداللہ بن محمدمسندی 50
ابراہیم بن الاشعث 50
طلب علم 52
علل حدیث کی شناخت میں کمال 54
جرح روات میں احتیاط 57
اخلاق وعادات 58
ذوق عبادت 60
اتباع سنت 61
سلاطین اورامراء کی مخالفت سےپرہیز 61
امام بخاری کی شہرت 62
حدیث مقلوب کی بحث 63
درس وافتا 64
وفات 66
تصانیف امام بخاری
الجامع الصحیح 69
التاریخ الکبیرفی تاریخ روات واخبارہم 69
التاریخ الصغیر 70
کتاب الخلق افعال العباد 71
کتاب الضعفاءالصغیر 71
کتاب الکنی 72
کتاب الادب المفرد 72
تنویرالعینین برفع الدین ف الصلوۃ 73
خیرالکلام فی القراءۃ خلف الامام 73

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان سیرت شروحات حدیث علماء نبوت

شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی ﷺ کے آئینےمیں

شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی ﷺ کے آئینےمیں

 

مصنف : حافظ محمد گوندلوی

 

صفحات: 309

 

نبی اکرم ﷺ  کے اقوال وافعال او راحوال وآثار کاریکارڈ اصطلاحی زبان میں حدیث کہلاتا ہے جس سے آپ صلی اللہ  علیہ وسلم کی سیرت وسنت کا علم ہوتا ہے ارباب علم نے احادیث کی شروح لکھنےکا اہتمام کیا جس کے دواسالیب ہیں ایک  تو یہ ہے کہ کسی ایک مجموعہ حدیث کی مکمل شرح  کی جائے اوردوسرا یہ ہے کہ کسی ایک حدیث کو لے کر اس کی شرح کی جائے  زیرنظر کتاب ’’شرح حدیث ہرقل‘‘میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کی مفصل تشریح کی گئی ہے جو کہ دوجلیل القدر علماء کے افادات پر مبنی ہے حدیث ہرقل میں دراصل نبی اکرم ﷺ  کے کردار کی عظمت او رسیرت کی رفعت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اس سلسلہ میں قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ رسول معظم ﷺ کے کردار اور سیرت کی عظمت کی گواہی دینے والٰے دو سخت ترین  دشمن او رکافر تھے گویا’’ الفضل ماشہدت بہ الاعداء‘‘ یعنی جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔فی زمانہ جبکہ بعض بدباطن رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی پر بے بنیاد اعتراضات اچھال رہے ہیں اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 25
تقدیم حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ 28
مقدمہ از فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ 31
خطبہ مسنونہ 35
متن حدیث ہرقل 37
شرح حدیث ہرقل از علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ
موضوع 47
ابتدائے حدیث 47
مکتوب نبوی 48
صلح حدیبیہ 48
صلح حدیبیہ کےفوائد 49
فتح مبین 50
صلح حدیبیہ کےخصائص وامتیازات 50
یہ بیعت کیاتھی ؟ 51
صحابہ کااخلاص 51
نزول سکینت 52
ایمان کی محبت 52
فتح قریب کیاہے؟ 52
صلح حدیبیہ کی برکات 53
صداقت ایمان کی شہادت 53
صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خشیت الہیٰ 54
تقوی کامعیار 55
اصل فتح 56
دعوت دین کی وسعت 56
کسی کافرکااسلام قبول کرنا 57
اسامہ بن زید ؓکاواقع 57
کفار کی عہدشکنی 58
صلح حدیبیہ کی اہمیت 59
مکتوب نبوی کااثر 60
ہرقل ایلیاء میں 60
مجلس کاآغاز 61
دعوت دین کےلیے غیر مسلموں کی زبان سیکھنا 61
ایک اہم نقطہ 62
رزق کےخزانے اللہ کےہاتھ میں ہیں 63
ہماری اولادکی بہتری کہاں ہے؟ 64
مکالمہ 64
نسب نامہ 65
ہرقل کی فراست 65
جھوٹ کی مذمت 67
جھوٹ کاخوفناک انجام 68
ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنا 69
سچ کی فضیلت 69
غلبے کی اساس 70
عہدجاہلیت میں جھوٹ سےنفرت 71
ہرقل کاپہلا سوال 72
نسب کی اہمیت 72
معیار شرافت 73
برتری کی بنیاد 73
ہرقل کاتجزیہ 74
ہرقل کادوسراسوال 74
ہرقل کاتبصرہ 75
ہرقل کاتیسراسوال 75
ہرقل کاتجزیہ 75
ہرقل کاچوتھاسوال 76
أشراف کامعنی 76
ہرقل کاتبصرہ 76
السابقون الاولون 77
سبقت کی اہمیت 77
غربت اسلام 78
حضرت بلال ؓکی استقامت 78
ضعفاء الناس 79
غریبوں کی برکت 80
غرباء کی قربت 81
غرباء کی فضیلت 82
ضعفاء کی مجالست 82
ہرقل کاپانچواں سوال 83
ہرقل کاتبصرہ 83
دعوت دین میں انبیاء کامنہج 84
غلبہ دین 85
دعوت دین کی اہمیت 86
غلبہ دین کاطریقہ 87
ہرقل کاچھٹاسوال 87
ابو سفیان کاجواب 87
ہرقل کاتجزیہ 88
انشراح ایمان 88
ایمان کی مٹھاس 89
حلاوت ایمان کےاسباب 89
دین حنیف 90
صبغۃ  اللہ 90
مسلمانوں کی زبوں حالی 91
کفار کی نقالی 91
انشراح ایمان کاراستہ 92
حلاوت ایمان کاتیسراسبب 92
رسول ماننے کامعنی 92
حلاوت ایمان میں رکاوٹ 93
قبرمیں اولین امتحان 94
قبرمیں پہلا سوال 94
قبرمیں دوسراسوال 95
قبرمیں تیسراسوال 95
میزان حق 95
نتیجہ 96
محور حیات 96
ہمیں یہ حلاوت کیوں حاصل نہیں ہوتی؟ 97
حلاوت ایمان کی علامت 98
صحابہ کرام میں حلاوت ایمان کےاثرات 98
ہماراطرز عمل 99
ہرقل کاساتواں سوال 100
ہرقل کاتبصرہ 101
دھوکہ کون دیتاہے؟ 101
چہرہ نبوت کےاوصاف 102
ہرقل کاآٹھواں سوال 103
ابو سفیان کاجواب 103
ابو سفیان کےجواب کاتجزیہ 103
ہرقل کاتبصر ہ 104
انبیاء کی آزمائش 104
آزمائش کامعیار 105
آزمائش مغفرت کاذریعہ ہے 105
رسول اللہ ﷺ پرآزمائش 105
حضرت خدیجہ ؓکی خدمات او رجنت میں درجات 107
اہل طائف کودعوت 109
اہل طائف کاجواب 109
نبی رحمت 109
نبی کریم ﷺ کاتاریخی جملہ 110
رسول اللہ ﷺ پرسب سےبھاری آزمائش 111
مطعم بن عدی کےاحسان کابدلہ 112
کفار مردار ہیں 113
دعوت میں استقامت 114
ہجرت 115
ہجرت کی فضیلت 115
ہجرت حبشہ کی فضیلت 116
اہل حبشہ کےلیے دوہجرتیں 117
آزمائشوں پرصبر 118
صبرعلی اقداراللہ 118
سفلی علوم کفرہیں 119
سورہ فاتحہ بہترین د م ہے 119
انجام کارانبیاء کو کامرانی ملتی ہے 120
صبر کامقام 120
تمحیص 120
کثرت  تعدادکاکوئی فائدہ نہیں 121
مخلص ساتھی 122
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کی استقامت 122
درس استقامت 122
ہرقل کانواں سوال 123
نبی ہی حاکم ہوتاہے 123
ابو سفیان کاجواب اور نبی ؑ کی دعوت 124
کلمہ کامعنی 126
صرف ایک معبود؟ 126
کلمے کےدومعنی 127
کلمےکافہم 127
نبی ؑ کی تعلیم 128
تعلیم نبوی کےاثرات 128
ہرقل کاتبصرہ 129
دوکافروں کافہم 129

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اصول حدیث تاریخ

شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر سوالاً جواباً

شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر سوالاً جواباً

 

مصنف : حافظ ابن حجر عسقلانی

 

صفحات: 130

 

اصولِ حدیث پر  حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ کی سب سے  پہلی اور اہم  تصنیف نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر  ہے  جو علمی حلقوں میں مختصر نام نخبة الفکر سے  جانی جاتی ہےاور اپنی افادیت کے  پیش نظر اکثر مدارس دینیہ   میں  شامل نصاب ہے۔ اس مختصر رسالہ میں  ابن حجر  نے  علومِ  حدیث کے تمام اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے  ۔حدیث اوراصو ل میں  نخبۃ الفکر کو وہی مقام حاصل ہے جو علم  لغت میں خلیل بن احمد  کی  کتاب العین  کو ۔مختصر ہونے کے باوجود یہ اصول  حدیث میں اہم ترین مصدر ہے کیونکہ بعد میں  لکھی جانے والی کتب اس سے بے نیاز نہیں ۔حافظ ابن  حجر نے ہی  اس کتاب کی  شرح  نزهةالنظر فی توضیح نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر کے نام سے لکھی جسے   متن کی طر ح قبول عام حاصل ہوا۔ اور پھر ان کے  بعد  کئی اہل علم  نے  نخبۃ الفکر کی شروح لکھی ۔ زير نظر كتاب شرح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر کا آسان فہم  اردو ترجمہ ہے۔یہ  ترجمہ   مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (متعلّم مدینہ یونیورسٹی ) کی اہم کاوش ہے   یہ کتاب  اکثر مدارس   کے  نصاب میں شامل ہے    لہذااس    کوسمجھنے کے لیے یہ سوالاً جواباً اردو تلخیص طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔  موصوف نے  دلچسپ  ودلنشین انداز میں دل ودماغ میں اتر جانے والے سوال وجواب کی صورت میں  اسے مرتب کیا ہے ۔ جس سے  طلبہ وطالبات کے لیے   اصل کتاب  کو  سمجھنا آسان  ہوگیا ہے ۔ موصوف نے  کتاب ہذا کے علاوہ     شرح  مائۃ عامل اور اطیب المنح ، ہدایۃ النحو، الفوز الکبیر اور نحو میر کی بھی سوالاً وجواباً تسہیل  کی  ہے جس سے طلباء کے لیے ان  دقیق کتب کو سمجھنا نہایت آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ    موصوف کی  اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے  اوران کی   زندگی اور علم وعمل  میں برکت فرمائے  اور  انہیں اس میدان میں  مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
انتساب 9
حرف تمنا 10
تقریظ: مولانا رحمت شاکر﷾ 12
تقریظ از:مولنا خواجہ محمدعدنان﷾ 13
تقریظ از: مولانا یحییٰ شاہین﷾ 14
تقریظ از: مولانا یٰسین ہزاروی﷾ 15
تقریظ از: مولانا عبداللہ بن حافظ عبد المنان نور پوری﷾ 16
مقدمہ مصنف 17
مقدمہ کتاب تاریخ واصول حدیث 19
ابتدائی اصطلاحات 21
اصول حدیث کی تعریف موضوع اور فائدہ 21
حدیث وخبر اثر اور دوسری اصطلاحات 22
حدیث قدسی 23
سند 23
متن 23
اسناد 24
مسند ومسند 24
روایت ودرایت 25
حافظ 25
خبر کی تقسیم متواتر اور آحاد کی طرف 26
خبر متواتر 26
متواتر کی اقسام 26
متواتر کی شرائط 26
متواتر کا حکم 27
اخبار آحاد 29
اخبار آحاد کی اقسام 30
خبر مشہور 30
خبر عزیز 31
خبر غریب 32
غریب کی اقسام 32
آحاد کی تقسیم مقبول اور مردود کی طرف 35
خبر مقبول اور اس کاحکم 35
خبر واحد مختف بالقرائن اور اس کی اقسام 35
مقبول کی تقسیم صحیح اور حسن کی طرف 37
صحیح لذاتہ 37
تعریف کی شرح 37
صحیح کے مراتب 38
شیخین کی شرط 40
حسن لذاتہ 42
صحیح لغیرہ 42
حسن لغیرہ 43
ترمذی وغیرہ کا قول’’حدیث حسن صحیح‘‘ہے 44
ترمذی کا قول’حدیث حسن غریب‘‘ہے 45
زیادت ثقہ اور خبر کی محفوظ وشاذ کی طرف تقسیم 45
خبر معروف ومنکر 47
متابعت اور اس کی اقسام 48
متابع شاہد اعتبار 50
خبر مقبول کی تقسیم 52
دو مقبول احادیث میں تعارض پیدا ہو جائے؟ 54
نسخ اور اس کو پہچاننے کے طریقے 55
خبر مردود ارو رد کے اسباب 57
سقط کی اقسام 57
مردود کی سقط کے اعتبار سے تقسیم 58
خبر معلق 58
تعدیل مبہم 59
خبر مرسل 59
مرسل کا حکم 60
مراسیل صحابہ 61
خبر معضل 61
خبر منقطع 61
خبر مدلس 62
تدلیس کی اقسام 62
مرسل مفی 63
تدلیس اور مرسل خفی میں فرق 63
وہ امور جن سے تدلیس اور ارسال خفی پہچانا جاتا ہے 64
راوی میں جرح وطعن کے اسباب 66

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تہذیب شراب نوشی علماء

شراب سے علاج کی شرعی حیثیت

شراب سے علاج کی شرعی حیثیت

 

مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

 

صفحات: 66

 

شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب، خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی کم وبیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی تاریخ یہ اندازہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ انسان نے ام الخبائث کا استعمال کب شروع کیا اوراس کی نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کےلیے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل علم نے حرمت شراب پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔شراب کے نجس وطاہر ہونے میں اہل علم کے اقوال مختلف ہیں ۔اور اسی طرح شراب سے علاج کے بارےمیں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’شراب سے علاج کی شرعی حیثیت‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر ﷾ کے متحدہ عرب امارات کے ام القیوین ریڈیو سٹیشن سےاس مذکورہ موضوع پر اردو پروگرام میں روزانہ نشر ہونے والے تقاریر کا مجموعہ ہے۔جسے افادۂ عام کے لیے جناب مولانا غلام مصطفیٰ فاروق نے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے۔اس کتاب میں مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر صاحب نے شراب سے علاج کےموضوع پر جانبین کے دلائل ذکر کر کے غیر جانبداری کےساتھ بے لاگ بحث وتبصرہ کرکے وضاحت کی ہے اور نتائج اخذ کیے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مولف 7
شراب نجس یاطاہر؟ 10
جمہور کے دلائل 10
اعتراض 12
جواب 12
آثار صحابہ ؓ سے 13
آئمہ وعلماءکےاقوال 16
امام ابن العربی 18
شراب کے بارے میں دوسری رائے 19
دوسری دلیل 20
جوابات 21
خلاصہ کلام 24
شراب سے علاج کے حرام ہونے کے دلائل 26
پہلی دلیل 26
دوسری دلیل 26
تیسری دلیل 28
چوتھی دلیل 30
پانچویں دلیل 31
شراب سے علاج کی حرمت اور شا ءمیں حدیث 32
فتح الباری ابن حجر 32
شرح مسلم للنووی 33
معالم السنن للخطابی 33
عارضۃ الاحوذی الابن العربی 34
نیل الاوطار للشوکانی 35
سبل اسلام للامر الصنعانی 35
شراب سے علاج کی حرمت اور کبارمحقیقن 37
علامہ ابن حجر ہشمی 37
حافظ عبداللہ محدث روپڑی 37
علامہ ابن قیم 37
شراب سے علاج کی حرمت اور عقلی دلائل 38
اولا 38
ثانیا 40
ثالثا 40
رابعا 41
قائلین جواز کے دلائل او ران کاتجزیہ 42
شافعیہ 42
امام خطابی 44
قائلین جواز کی پہلی دلیل اور اس کاتجزیہ 45
پہلی دلیل 45
جواب 45
پہلی بات 45
دوسری بات 45
تیسری بات 46
شیخ السلام ابن تیمیہ 47
پہلی وجہ 47
دوسری وجہ 47
تیسری وجہ 47
علاج یاترک علاج میں سے افضل کیا ہے 48
پہلی دلیل 48
دوسری دلیل 48
تیسری دلیل 49
چوتھی دلیل 49
قائلین جواز کی دوسری دلیل اور اس کاتجزیہ 52
دوسری دلیل 52
جواب 52
امام خطابی 53
شیخ الاسلام ابن تیمیہ 54
امام شوکانی 56
خلاصہ کلام 56
شراب سے علاج کی سزا 57
عبرت آموز حکایت 57
حضرت جعفر صادق اقوال 58
مصادر اور مراجع 60

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam رسائل و جرائد زبان سنت سیرت صحابہ فارسی

شمع رسالت ﷺ کے تیس پروانے

شمع رسالت ﷺ کے تیس پروانے

 

مصنف : طالب ہاشمی

 

صفحات: 514

 

محترم طالب الہاشمی صاحب اب تک صحابہ کرام اور دیگر شخصیات کے حالات زندگی پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ ان کی درجن بھر سے زائد کتب کتاب و سنت ڈاٹ کام پر پیش کی جا چکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’شمع رسالت کے تیس پروانے‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کتاب ہے جس میں محترم مصنف نے 30 صحابہ کرام کے حالات کو بیانیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں جو حالات زندگی پیش کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی افادیت کے پیش نظر انھیں استفادہ خواص و عوام کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ مصنف نے کتاب میں سادہ اور عام فہم زبان استعمال کی ہے اور ان کا اسلوب نگارش نہایت دلچسپ ہے۔ ان نفوس قدسیہ کے حالات زندگی پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شان استقامت و عزیمت کیا ہے۔ قارئین یقیناً ان مردان حق کے تذکرے پڑ ھ کر ایمان کی تازگی محسوس کریں گے اور ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب ہو گی۔
 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 5
پیش لفظ 19
حضرت زید ؓبن حارثہ 23
حضرت زبیر ؓبن العوام 45
حضرت مقداد ؓبن عمرو 67
حضرت مصعب ؓبن عمیر 83
حضرت ابوذر غفاری ؓ 96
حضرت سلمان الخیر فارسی ؓ 115
حضرت ابن ام عبد 133
حضرت حذیفہ رضی اللہ  عنہ بن الیمان ؓ 153
حضرت خباب ؓبن الارت 169
حضرت عتبہ ؓبن غزوان 179
حضرت عثمان ؓبن مظعون 193
حضرت صہیب ؓ رومی 207
حضرت ابوعبداللہ سالم ؓ 217
حضرت طفیل ذوالنور ؓ 225
حضرت سعد ؓبن معاذ 235
حضرت ابوایوب انصاری ؓ 253
حضرت خبیب انصاری ؓ 277
حضرت اسید ؓبن حضیر اشبلی 295
حضرت مثنی ؓبن حارثہ 313
حضرت ضرار ؓبن ازوراسدی 342
حضرت عدی ؓبن حاتم طائی 362
حضرت جریر ؓبن عبداللہ الجبلی 374
حضرت صحر ؓبن حرب 391
حضرت سعید ؓبن عامر 424
حضرت سہیل ؓبن عمرو 432
حضرت ثابت ؓبن قیس 450
حضرت عمیر ؓبن سعد 460
حضرت عمر و ؓبن امیہ ضمری 470
حضرت ابوطلحہ زید ؓبن سہل انصاری 487
حضرت ابوقتادہ  حارث ؓبن ربعی 500
کتابیات 511

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سیرت شعر علماء قربانی محدثین

شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور

شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور

 

مصنف : قاضی اطہر مبارکپوری

 

صفحات: 368

 

مبارک پور ضلع اعظم گڑھ بھارت کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے، ریشمی ساڑیوں اور الجامعۃ الاشرفیہ اور کبار علمائے مبارکپور نے قصبہ مبارک پور کو عالمی سطح پر شہرت دلائی ہے۔ یہ قصبہ شہر اعظم گڑھ سے 16 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ علم و ادب، شعر و سخن، اخلاق و کردار، ایثار و قربانی اور اپنی دست کاری کے باعث یہاں کے لوگوں نے ہندوستان بھر میں اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔سیرۃ البخاری کے مصنف مولانا عبد السلام مبارکپوری، شارح جامع ترمذی مولانا عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری ،عالمی مقابلہ سیرت میں اول انعام یافتہ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ، مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری ﷭ کا تعلق بھی اسی مبارکپور سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شجرۂ مبارکہ یعنی تذکرۂ علماء مبارکپور‘‘مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری﷫ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں ہدوستان کے مشہور علمی ودینی اور صنعتی قبصہ مبارکپور اور اس کے ملحقات کی ساڑھے چاسوسالہ اجمالی تاریخ اور قصبہ و سوا قصبہ کے مشائخ وبزرگان دین علماء، فقہا ، محدثین ومصنفین، شعراء وادباؤ اور دیگر ارباب علم وفضل کے حالات اور ان کے علمی ودینی کارنامے بیان کیے گئے ۔یہ کتاب پہلی دفعہ 1974ءشائع ہوئی زیر تبصرہ   اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مزید   ان علماء کے حالات شامل کردئیے ہیں جو مصنف کی زندگی میں فوت ہو ئے۔اس کے علاوہ بھی اس ایڈیشن میں مفید اضافہ جات کیے گئے ہیں۔جس سے کتاب کی افادیت اور زیادہ ہوگئی ہے۔ مصنف کتاب   قاضی اطہر مبارکپوری﷫ پہلے ایڈیشن کے شائع ہونے کے 23 سال بعد 1996ء میں فوت ہوئے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
شجرہ نسب خانوادہ قاضی 13
تشکر واظہار حقیقت 14
دعوت نظر 20
مورخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر مبارکپوری کےمختصر حالات زندگی 21
اولاد واحفاد 31
سلام 38
مسلم کی دعا 40
پیش لفظ 42
مقدمہ 43
مبارکپوری کی اجمالی تاریخ 51
محلقات وسواد مبارکپور 60
سکٹھی 60
سرائے مبارک 61
مصطفے  آباد 61
حسین آباد 62
چیونٹی 63
سریاں 63
نوادہ 64
رسول پور 64
املواورلوہیا 65
چکیا 66
اساور 66
لہرا،’’گہڑا ،فخر الدین پور 67
بمہور 67
مذہبی فتنے 69
تکوینی حوادث 72
مذاہب اوفرقے 74
روحانی سلسلے 78
مکاتب اوردسی سلسلے 87
علمی اور درسی سلسلے 83
علمائے مبارکپورکے تصنیفی کارمانامے 94
شعر وادب 98
علمائے مبارکپورہ کی عالمی شہرت 100
ملک شدنی دویگر شہداء 104
راجہ سید مبارک مانک پوری بانی مبارکپور 111
شیخ محمو دقریشی بائسی 123
پیرزدا مخدوم محمد ماہ املوی 127
مخدوم شیخ رشید بن مخدوم شیخ معیار فاروقی 128
بندگی سیدکمال الدین گجہڑا 129
قاضی محمد صالح گجہڑا 129
انگار شاہ 130
غریب شاہ مبارکپوری 131
دیوان مصطفی شاہ ہانی مصطفی آباد 131
غریب شاہ املوی 132
شاہ فضل کڑا 132
ننگے شکر مال کڑا 132
شاہ لدھا سگڑی 133
شیخ کمال الدین نوادہ 133
راجہ بھانٹ 134
حضرت مولانا شاہ ابو الغوث گرم دیوان بھیروی لہروی 134
حضرت مولانا شاہ حافظ ابواسحاق محدث لہراوی 139
شیخ غلام رسول مصطفی آبادی 143
رمضان علی شاہ شیعی 144
مولوی نثار علی اسماعیلی سرائمیری شہید 146
مولوی محمد نشان شہید 149
میرمعظم حسین شہید 150
شیخ چراغ علی شیعی 151
شیخ سیف علی شیعی 151
شیخ علی شہید نائب قاضی مبارکپور 152
شیخ امام بخش 156
سیدناصر علی 157
شیخ محمد رضا 160
شیخ حسام الدین شاہ 161
شیخ محمد رحب 163
مولاناحکیم امان اللہ 165
مولوی دھنا سے 166
مولوی نرہو 167
شیخ عبدالوہاب سریانوی 168
مولوی جان محمد 169
مولوی بشارت علی فیض آبادی 170
مولوی عنایت اللہ امام جامع مسجد 171
غازی عبدالسبحان املوی 172
شیخ محمد اکبر غازی املوی 172
شیخ الہی بخش غازی املوی 174
شیخ جہانگیر غازی مہاجر مکی 174
منشی حبیب اللہ حبیب 178
ملاپیربھائی اسماعیلی 180
مطوف شیخ  فتح محمد مہاجر مکی 180
مولوی غریب اللہ 181
مولوی علی حسن فاروقی 182
خلیفہ دین علی شاہ 184
مولوی جان محمد 184
ملاشیخ عبدالحکیم اسماعیلی 185
مولوی حکیم عبداللہ 185
مولانا حافظ حکیم عبدالرحیم 186
حافظہ شاہ نظام الدین سریانوی 187
مولوی سلامت اللہ 191
مولانا حافظ حکیم عبدالرحیم 186
حافظ شاہ نظام الدین سریانوی 187
مولوی اشرف علی بمہوری 191
مولوی عبدالصمد مبارکپوری 192
مولوی حکیم امیر علی مبارکپوری سورتی 192
مولوی غلام عباس 192
حضرت مولانا ابو العلی عبدالرحمن محدث مبارکپوری 194
حضرت مولانا ابو الاامجد عبدالعلیم رسولپوری 205
حضرت مولاناحکیم ابو لہدی عبدالسلام مبارکپوری 215
حضرت مولانا احمد حسین رسولپوری 223
حضرت مولنا محمد شریف مصطفی آبادی 240
حضرت ملا ابو الطیب رحمت علی اسماعیلی 248
شمس العلماء حضرت مولانا ظفر حسن عینی فاروقی 255
حضرت مولاناابو محمد عبدالحق املوی 258
حضرت مولنا محمد لہراوی 260
حضرت مولنا حکیم الہی بخش 262
حضرت مولانا  شکر اللہ مبارکپوری 264
حضرت مولنا محمد نعمت اللہ 276
مولوی ولی محمد صاحب 280
مولوی حکیم محمد شفیع 281
مولوی حکیم غلام رسول فاروقی 281
مولوی محمد یعقوب 282
مولوی قمر الدین ندوی املوی 282
مولوی حکیم شاہ فیاض عالم املوی 283
مولوی حکیم الطاف حسین سکٹھوی 283
مولانا  شاہ محمد سریانوی 284
مولوی نور محمد امام جامع مسجد 286
مولوی رفیع الدین 287
مولانا حافظ عبدالعزیز 289
مولوی عنایت اللہ 291
مولوی حافظ محمد بمہوری 292
مولانا حکیم علی سجاد 293
مولوی عبدالرحمان 293
مولانا غلام رسول 294
مولانا محمد تقی 294
مولانا محمدداؤد 294
مولنا عبدالرحمن زاہد 294
مولوی احمد اللہ املوی 295
میاں صاحب عبداللہ شفا 295
منشی قمرالزماں زماں 297
میاںصاحب عبدالکریم عاشق 299
مولانا محمد اسماعیل اصلاحی 300
مولوی حکیم محمد یسین نوادوی 301
اساذ لشعراء مولوی علیم اللہ خیالی مبارکپوری برہانپوری 301
استاذمنشی غلام حسین عاشق مبارکپوری 304
حضرت مولا نامحمد شعیب رسولپوری 308
حضرت مولنا عبدالصمد حسین آباد 310
حضرت مولانامحمد یحیی رسولپوری 315
مولوی ممتاز علی سریانوی 320
مولوی فقیر اللہ 321
مولوی حکیم محمد سعید 322
مولوی حکیم عبدالمجید رسولپوری 323
مولوی حکیم عبدالحمید 323
مولوی حکیم شاہ محمد 324
مولوی محمد ہارون 324
مولوی محمد طفیل املوی 325
مولوی ولی الحسن فاروقی 326
مولوی منشی عبدالوحید لاہرپوری 327
حضرت مولانا نذیر احمد رحمانی املوی 327
مولا ناعبید الرحمن مظاہر یرحمانئ 329
مولا ناحکیم محمد بشیر رحمانی 329
مولانا محمد حنیف رہبر شکر ی 331
مولانا عبدالحی غفران 333
مولو ی احمد علی 334
مولانامحمد شبلی متکلم ندوی بمہوری 334
قاری عبدالحی 335
مولاناشمس الحق گجہڑا 335
مولوی حکیم حماد علی 336
مولوی حکیم محمد عمر 336
مولوی محمد یوسف انصاری 336
مولوی محمد حسن 337
مولوی حکیم عبدالباری 337
مولوی محمد اصغر 338
مولوی عبدالحفیظ سریانوی 339
مولوی نظام الدین سریانوی 339
مولوی حفیظ اللہ رضوای 340
مولوی نثار احمد مظاہر ی 340
مولوی عبدالجبار سکھٹوی 340
مولوی محمد سلیمان 341
مولوی عبدالشکور 341
مولوی عبدالمجید سریانوی 341
مولوی عبداللہ املوی 342
مولوی نذیر احمد نوادوی 343
مولوی محمد یوسف رحمانی 343
مولنا حافظ عبدالروف بلیاوی 344
استاذ لشعر ءمحمد یسین فغان مبارکپوری سورتی 344
مولوی حکیم عبدالباری 346
مولوی محمد یونس سریانوی 347
مولنا خواجہ عبدالعزیز نعمانی مبارکپوری 347
مولوی محمد بشیر خان سکٹھوی 349
مولوی عبدالغفور 349
مولوی فیاض حسین واعظ 350
مولنا حکیم محمد صابر خان صاحب سکٹھی 351
مولوی فخر الدین مبارکپوری 352
مولوی خالد کمال مبارکپوری 353
تاریخ وفات 361
مراجع مصادر 364
تصانیف مصنف 366

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تاریخ اسلام دعوت و تبلیغ سیرت علماء

شیخ محمد بن عبد الوہاب اور انکی دعوت

شیخ محمد بن عبد الوہاب اور انکی دعوت

 

مصنف : عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

صفحات: 42

 

شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫( 1703 – 1792 م) کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ شیخ موصوف کی دعوتی تحریک تاریخ اسلام کی ان تحریکوں میں سے ہے جن کو بہت زیادہ مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی ۔اور یہی وجہ ہےکہ دنیائے اسلام کےہرخطہ میں میں ان کے معاندین ومؤیدین بہت کافی تعداد میں موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ رسالہ’’ شیخ محمد بن عبدالوہاب﷫ اوران کی دعوت‘‘ شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز﷫ کی الجامعۃالاسلامیۃ مدینہ منورہ میں ایک تقریر کا ترجمہ ہے جو انہو ں نےیونیورسٹی کےہال میں علماء وطلبہ کےایک مجمع میں کی تھی اور بعد میں ٹیپ ریکارڈر سے تحریر میں لایاگیا ۔شیخ ابن باز ﷫ نے اپنی اس تقریر میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی سوانح حیات اور انکی دعوت کو جامع الفاظ میں پیش کیا ہے۔اس رسالہ پر مدینہ یونیورسٹی کے استاد عطیہ محمد سالم نے جامع تقدیم وتعلیق فرمائی اور اس میں شیخ ابن باز ﷫ کا بھی مختصر تذکرہ وتعارف پیش کیا ہے۔اس اہم رسالہ کاترجمہ مولانا عبد العلیم بستوی نے کیا۔ محدث روپڑی﷫ کےتلمیذ رشید جناب ابو السلام محمد صدیق آف سرگودھا کےقائم کردہ ’’ادارہ احیاء السنۃ ‘‘ نے 1973ء میں اسے شائع کیا۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مترجم 3
پیش لفظ 4
شیخ ابن باز 7
پیدائش 8
تعلیم 9
شیخ محمد بن عبد الوہاب 13
شیخ کے سیرت نگار 13
پیدائش اور تعلیم و تربیت 15
ابتداء دعوت اور سازش قتل 17
دعوت سے قبل اہل نجد کی حالت 18
اظہار حق 19
جذبہ ایمان 21
امیر درعیہ کی بیعت 22
مخالفین کی تین قسمیں 27
وفات اور اس کے بعد 29
دعوت حق بسوئے حجاز 32
ترکی اور مصری فوجوں کی یلغار 33
حقیقت دعوت 35
حجاز میں دوبارہ داخلہ 36

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز