Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ حنفی ختم نبوت و ناموس رسالت و توہین رسالت عدلیہ علماء نبوت

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

 

مصنف : شفیق الرحمٰن الدراوی

 

صفحات: 350

 

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست مضا مین
انتساب:
ہدیہ تشکر 16
سرنغمہ ، پر سو ز : 18
مقدمہ ا ز مولانا منیر قمر حفظ اللہ 20
باب اول : نبی ر حمت ْﷺ 22
عموم رحمت: 24
مومنین کے لیے رحمت: 26
مو منین کے لیے رحمت کاایک منظر 27
عبادت رحمت 29
اہل خانہ کے لیے رحمت: 30
سلوک  رحمت کی مثالیں 34
اہل خانہ کے ساتھ رحمت تعلیمات 34
عورتوں پر رحمت 36
بیو ا و ں کیساتھ رحمت 36
بچو ں پر رحمت 38
یتیموں پر رحمت 40
بچیوں کے لیے رحمت 42
غلاموں پر رحمت 45
غلاموں کی سزادینے کی مما نعت 47
غلامو ں کا احساس 47
تعلیمات رحمت کا اثر 47
دعوت حق میں رحمت 48
دعوت میں رحمت کی ایک مثال 49
کفار کیلئے رحمت 50
مشرکین کےلیے رحمت 52
منافقین کے لیے رحمت 53
میدان کا رزار میں رحمت 53
تعلیمات کا اثر 55
محبت کرنے والوں پر رحمت 56
حیوانات کیلئے رحمت 57
حرام جانور  وں کیلئے رحمت 61
جمادات کا ساتھ رحمت 63
امن عالم اور نبی رحمت ﷺ 65
تکملہ باب رحمت 66
باب دوم : انصاف پسندوں کے اعترافات 68
باب سوم : محمد ﷺ سے دشمنی کی وجوہات معا ذ ین کا انجام 83
رسول اللہﷺ سے دشمنی کے اسباب 84
فصل اول : شر پسندوں کی بیہو دگیا ں اور ان کا انجام 88
شر پسندوں کی عاقبت 88
شر پسند نا کام  ہی رہیں گے 89
شر پسندوں کی روش 89
شیطانی  مہلت ملی ہے ان کو 91
بنی ﷺ سے د شمنی کی مو جو د لہر 92
قربانی ﷺ کا بکرا 94
آزادی ء ا ظہار رائے و فکر و نظر کی حقیقت 95
مغرب کی منافقت اور اظہار رائے کی ا ٓ زادی 98
امریکی کردار 100
مذہبی شخصیات اور ان کی خرافات 101
فصل دوم : پس پر دہ حقائق 103
کھلم کھلی اسرائیلی مدد 104
سیاسی جنگ 105
صحافت و ذروائع ابلاغ کی جنگ 106
فصل سوم :گمراہی اور استبدار کے وسائل 107
فصل چہارم : مسلمانو ں کا کردار 111
مومن کا ان حالات میں مو قف: 111
حالا ت  کا تقا ضا 113
باب چہارم: نصر ت رسول اللہﷺ کے بعض وسائل 117
باب پنجم : بائیکاٹ کی تعریف اور تاریخ 123
بائیکاٹ کی تاریخ 123
1۔حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا بائیکا ٹ ۔2۔حضرت ابراہیم ؑکی با ئیکاٹ کی دھمکی 123
3۔حضرت یوسف ؑ کی بائیکاٹ کی دھمکی :4۔ ابو لہب کا بائیکاٹ 124
5۔ ابوجہل مردود کا بائیکاٹ :6۔ قریش کا بائیکاٹ 125
7۔ :حضرت ثمامہ بن ا ثال ؓ کا بائیکاٹ 125
بائیکاٹ ثمامہ  کےا ثرات و نتائج : 8۔ حضرت ابو بصیر ؓ  کا روائی 126
10آئر لینڈ کی تحریک بائیکاٹ : 11۔ جمرنی کاخلاف یورپ کا بائیکاٹ 128
12۔ گاندھی کی تحریک بائیکاٹ 128
13۔: عالم اسلام اور اسرائیل  سے بائیکاٹ :14۔ شاہ فیصل شہید کا یورپ سے بائیکا ٹ 129
15۔: روس سے  بائیکاٹ : 16۔ عراق بائیکاٹ 129
17۔ الیبیا پر اقتصادی پابندیا ں : 18۔ پاکستان پر پابندی :19۔ سوڈان  پر پابندی 130
20۔ : شام یمن اور بعض دوسرے ممالک پر   پابندیاں: 130
21: امریکہ اور دوسرے ممالک کا منا فقانہ کردار: 130
فصل اول: بائیکاٹ کا شر عی حکم 131
بائیکاٹ کب مستحب ہوتا ہے 131
بائیکاٹ کب واجب ہوتاہے 132
کتاب وسنت سے بائیکاٹ سے بائیکاٹ کا ثبات: 133
عرب علماء کے فتاوی 137
شیخ محمد بن صالح التثیمین رحمتہ اللہ علیہ 140
علامہ ناصر الدین الا لبانی رحمتہ اللہ علیہ 140
شیخ انب جبریل رحمتہ اللہ علیہ 141
شیخ صالح الحبدان حفظ اللہ: 142
شیخ عبدالعزیز بن عبدالل الراحجی حفظ اللہ: 142
بائیکاٹ کیوں کریں ؟: 143
بائیکاٹ کے لیے اہم اصول : 145
عوامی کردار: 147
دشمن کی چالوں سے بچیں : 149
فصل دوم : بائیکاٹ : آخر کب تک : 150
باب ششم : عصمت ابنیاء کرام ؑ 151
فصل اول : عصمت انبیا کرام ؑ 152
گناہ کا مصدر 152
خلا صہ ء کلام 155
نبو ت اخیتار الٰہی 156
قرعصمت انبیاء ؑ ٍ 158
قرآن اور عصمت محمدیہ ﷺ 159
باب ہفتم : گستاخ رسول ﷺ کا شرعی حکم 161
فصل : گستا خ رسول اللہ ﷺ کافر اور واجب قتل ہے 162
اولا ء: کتاب اللہ سے کفر پر دلائل 163
پہلی دلیل : [اور علماء کے اقوال] 163
دوسری دلیل: [ اور علماء کے اقوال ] 165
تیسری دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] ٍ 168
چو تھی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 169
پانچوں دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 170
چھٹی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 172
ساتویں دلیل : [ اور علما ء کے اقوال ] 173
اجما ع مسلمین 173
علامہ انور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول 175
قاضی عیا ض رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ بشیر عصا م مراکشی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
علامہ الشر بینی الشا فعی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ مر عی بن یو سف الکر می احسنبلی 177
فصل دوم : گستاخ رسول اللہﷺ کے واجب قتل ہونے کے دلائل 178
قرآن کریم سے شاتم رسول کے قتل کا اثبات 178
پہلی دلیل: 178
دوسری دلیل 179
تیسری دلیل : 180
چو تھی دلیل: 181
پا نچویں دلیل: 183
چھٹی دلیل : 184
ساتویں دلیل: 185
آٹھویں دلیل: 185
نویں دلیل: 186
دسویں دلیل: 186
فصل سوم:احادیث مبارکہ میں گستاخ رسول اللہ ﷺ کی سزا: 188
عہد ذمہ کا فائدہ 188
سنت بنوی سے عملی نمونے 191
1۔ سفیان بن خالد کاقتل 192
2۔کع بن اشرف کا قتل 193
3۔ ابور افع یہودی کا قتل :4۔ تکذ ب رسول اللہ ﷺ پر قتل 194
5۔ محبو ب کے واقعہ سے استدلال: 195
6: انب سبینہ کی یہودی کا قتل :7۔ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو معیط کا قتل: 196
8: بنو قریظہ کی یہودیہ کا قتل 197
9: عصماء بنت مردان کا قتل  : 10۔ بنو بکر کاواقعہ 198
11: ذو لخو یصرہ کی گستاخی اور فرمان بنوت 199
12: بجر بن زہیر ؓ کا خط 200
13: ایک شاتم رسول ﷺ کا انجام : 14۔ دوسری گستاخی عورت کاقتل : 15۔ گستاخ یہودیہ کا قتل : 201
16۔ ابو عفک یہودی کا قتل : 17۔ عبداللہ بن اخطل : 18 ۔ قر تنی کا قتل 202
فصل چہارم : حضرات صحابہ کراؓ معین ااور ائمہ کے فیصلے 203
1: حضرت ابو بکر ؓ کا عقیدہ و ایمان و عمل: 203
2: حضرت ابو بکر ؓ صدیق کا فیصلہ :3۔ حضرت  ابوبکر ؓ اور گستاخ کا سزا: 204
4۔ حضرت عمر ؓ کا فیصلہ : 5۔ حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ کا فتوی: 205
6۔حضرت غرفہ ؓ اور ایک گستاخ معاہدہ کا قتل 206
7۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ اپنے والد کا قتل  ۔:8۔ حضر ت عمر ؓ اور ایک گستاخ کا قتل 206
9۔ حضرت عمر ؓ اور رافع بن کا قتل ۔ 10۔ نابینا صحابی اور گستاخ عور ت کا قتل 207
11۔ حضرت ابو برزہ ؓ  کا موقف :12۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا مو قف 208
13۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مو قف 208
14۔ ابن قانع کی روایت : 15۔ حضرت علی ؓ کا حکم ۔ 16۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت 209
17۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فیصلہ : 18۔ حضرت محمد بن  مسلمہ ؓ 210
19۔حضر ت عبدالر حمن بن یزید رحمتہ اللہ علیہ :20۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا فتویٰ 211
21۔ ہارون الرشیدر حمتہ اللہ علیہ کا استفاء 211
22۔ جنات میں  کستاخ رسول اﷺ کی سزا: 212
فصل پنجم : اجماع امت 213
1۔ امام ابن سحنون المالی  رحمتہ اللہ علیہ : 2۔ امام اسحق بن ابراہیم لمعروف بابن راہویہ رحمتہ اللہ علیہ 214
3۔ امام خطابی ، حمد بن محمد یہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ :5۔ امام ابو بکر الفارسی رحمتہ اللہ علیہ : 6۔ علامہ قاضی عیاضی رحمتہ اللہ علیہ 215
7۔ امام ابن خطاب الحنبلی رحمتہ اللہ علیہ  8۔ امام ابن الظاہری رحمتہ اللہ علیہ : 9۔ امام ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ 216
10۔ ابن عابد ین حنفی رحمتہ اللہ علیہ :11۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ : 12۔ علامہ ابن قیم رحمتہ علیہ 217
13۔ امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ : 14۔ علامہ السفارینی رحمتہ اللہ علیہ : 15۔ ابراہیم  بن حسین خالد فقیہ رحمتہ اللہ علیہ 218
16۔ علامہ شاہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ 218
سکو تی اجامع پر شہادت کے چند واقعات 219
پہلا واقعہ : دوسرا واقعہ: 219
تیسرا واقعہ : چو تھا واقعہ : پانچواں واقعہ : چھٹا واقعہ : 220
ساتواں واقعہ : ا ٓٹھواں واقعہ : نو اں واقعہ : 221
دسواں واقعہ : گیار ھواں واقعہ : ریجی نالڈ : بارھواں واقعہ : بہار ء اللہ 222
تیر ھواں واقعہ : مرزا غلام احمد قادیانی 223
چو د ھو اں واقعہ  : قادیانی عبدالحق کی گستاخی 224
غیرت مدن جج کا یمانی فیصلہ : پند ر ھواں واقعہ : ہند و مصنف مھا شاکر شن 225
سو لھواں واقعہ : شر دھا نند : سترھواں واقعہ  : ہند و مصنف نتھو رام: 226
اٹھار ھواں واقعہ : گستاخ ہیڈ مسٹر یس کا انجام : انیسواں واقعہ : رام گھو پال لعین کی دشنام طرازیا ں 227
بیسواں واقعہ : ہند و چوہدری کھیم : چند : اکیسواں واقعہ : پالا مل ہندہ: 228
بائیسواں واقعہ :  سکھ کشمیر سنگھ : تیتسواں واقعہ : ایک گستاخ ناشر 229
چو بیسواں واقعہ : عامر چیمہ  شہید رحمتہ اللہ علیہ 230
ہند و ستان  کی اسلامی عدلیہ کا فیصلہ 231

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam دینی تعلیم قادیانیت نماز

شہادۃ القرآن

شہادۃ القرآن

 

مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

 

صفحات: 458

 

سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم  علمی  شخصیات کو جنم دیا ہے  جن  میں مولانا ابراہیم  سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال، علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷭ سرفہرست ہیں  مولانا ابراہیم میر 1874ء  کو  سیالکوٹ میں  پیدا  ہوئے۔ سیالکوٹ  مرے کالج میں شاعر مشرق  علامہ محمد اقبال کے  ہم جماعت  رہے   ۔مولاناکا گھرانہ دینی تھا ۔لہذا والدین کی خواہش  پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور   دینی تعلیم کے حصول کے لیے  کمر بستہ  ہوگے ۔اور شیخ الکل سید نذیر حسین  محدث دہلوی کے حضور  زانوے تلمذ طے کیا۔ مولانا میر سیالکوٹی  سید صاحب کے  آخری دور کےشاگرد ہیں  اور انہیں  ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل  ہے ۔مولانا سیالکوٹی  نے  جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ  حافظ  عبد اللہ محدث روپڑی  ﷫نے  پڑہائی اللہ ان کی  مرقد پر اپنی  رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین ) مولانا  مرحوم نے درس وتدریس ،تصنیف وتالیف، دعوت ومناظرہ، وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں  مولانا نےنمایاں کردار اداکیا  مرزائیوں سے  بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے  اور مولانا  ثناء اللہ  امرتسری  ﷫کے دست وبازوبنے رہے۔  مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 کتابیں تصنیف فرمائیں۔  شہادۃ القرآن  قادیانیت کے رد میں   ان کی ایک اہم ترین کتاب ہے  جو   دو حصوں پر  مشتمل ہے۔  جس  میں حیاۃ  عیسی  علیہ  لسلام پر بحث کی گئی ہے  اور قر آن مجیدکی  روشنی میں مرزائیوں کے  دلائل واعتراضات کا مکمل  رد کیا گیا ہے اس کتاب کی افادیت کااندازہ اس بات سے  لگایا جاسکتاہے کہ اس کتا ب  کو عالمی  مجلس  تحفظ   ختم  نبو ت  کے  مرکزی   دفتر  ،ملتان  نے بارہا  شائع کیااور    بعض مدارس  نے  اس کو شامل بھی  نصاب کیا ہے
 

عناوین صفحہ نمبر
شہادت القرآن حصہ اول 13
حرف اول 13
تقریظ 15
سخنے چند 17
دیباچہ شہادت القرآن 23
تمہید 32
مصنف کے بعض خواب 34
وجہ تصنیف 37
مقدمہ اولیٰ در بیان امکان خرق عادت 39
طریق ثبوت معجزات 58
مقدمہ ثانیہ در تشریح سنۃ اللہ 63
مقدمہ ثالثہ در خصائص حضرت عیسیٰ علیہ السلام 71
فصل اول در بیان عدم مصلوبیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام 81
نقل اشتہار بناز مرزا صاحب قادیانی 99
خلاصہ عبارت انگریزی جارج سیل صاحب 118
فصل ثانی در اثبات حیات و رفع آسمانی 139
تحقیق لفظ ’’ توفی‘‘ 140
کتب لغت میں توفی بمعنی میت لکھنے کی وجہ 148
نقشہ آیات توفی مع بیان قرینہ 162
تفسیر قولہ تعالیٰ ورافعک الی 179
تفسیر قولہ تعالیٰ مطہرک 193
امتناع صعود جسم کا جواب 227
رفع سماوی میں پہلی حکمت 236
ایضا دوسری حکمت 238
تیسری آیت تا نویں آیت 241۔263
مضامین حصہ دوم
خطبہ و سبب تالیف 278
دیباچہ طبع ثانی از مصنف 289
مرزائے قادیانی کی پیش کردہ آیات کی قسم اول ، دوم ، سوم 291
قسم اول سے پہلی آیت یعیسی انی متوفیک 291
اس آیت سے مرزا صاحب کے استدلال کے غلط ہونے کی وجہ اول 292
دوسری وجہ 295
تیسری وجہ 296
چوتھی وجہ 297
قسم اول میں دوسری آیت 297
مرزا صاحب کے اس حدیث کو قبول کرنے کی دلیل قرار دینا 301
عذر اول کا جواب 302
قیامت کے روز کہنے کی مزید تفصیل 307
قسم اول میں تیسری آیت 318
قسم اول میں چوتھی آیت 322
قسم اول میں پانچویں  آیت 334
قسم اول میں چھٹی آیت 341
قسم اول میں ساتویں آیت 347
تحقیق لفظ خلت 353
اس آیت کے حضرت ابوبکر صدیق کے پڑھنے پر مغالطہ دینا اور اس کا جواب 361
قسم دوم میں تیسری آیت 366
قسم سوم میں دوسری آیت 370
قسم سوم میں تیسری آیت 371
قسم سوم میں نویں آیت 380
قسم سوم میں دسویں 381
قسم سوم میں گیارہویں تا انیسویں آیت 383۔409
قسم سوم  میں بیسویں آیت 413

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام اہل حدیث تاریخ سیرت علماء عیسائیت قادیانیت

سیرۃ ثنائی سوانح حیات شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری

سیرۃ ثنائی سوانح حیات شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری

 

مصنف : عبد المجید خادم سوہدروی

 

صفحات: 514

 

شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ﷫سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیرحسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا قادیانی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیانیت میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے’’تاریخ مرزا، فیصلہ مرزا، الہامات مرزا، نکات مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، شاہ انگلستان اور مرزا، تحفہ احمدیہ، مباحثہ قادیانی، مکالمہ احمدیہ، فتح ربانی، فاتح قادیان اور بہااللہ اور مرزا۔‘‘ جیسی کتب لکھیں۔اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد مناظرے کیے اور ہر جگہ اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔الغرض شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔آپ اسلام کی اشاعت اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ قادیانیت ،عیسائیت اور ہند مت کے رد کے علاوہ بھی بہت سی کتب لکھیں ۔ تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں ۔مولانا کی حیات خدمات کے سلسلے میں معروف قلماران او رمضمون نگاران نے بیسیوں مضامین لکھے ہیں جو پاک وہند کے رسائل کی کی زینت بنتے رہتے ہیں اور بعض اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیرت ثنائی سوانح حیات شیخ الاسلام مولانا نثاء اللہ امرتسری﷫‘‘ مولانا عبد المجید خادم سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے حضرت مولانا امرتسری کو ملتِ اسلامیہ کے سامنے بطور آئیڈیل پیش کیا ہے جس کی روشنی میں میں افراد ِ قوم نہ صرف یہ کہ اپنی اصلاح کرسکتے ےہیں بلکہ ہمدوشِ ثریا ہوسکتے ہیں اورکھوئی ہوئی عظمت حاصل کرسکتےے ہیں۔نیز اس کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ علمی، ادبی، سوانحی تاریخی ہونے کےساتھ ساتھ سلیس ، رواں اوردلچسپ ہے ۔کتاب ایک دفعہ شروع کردیں تو ختم کیے بغیر چھوڑنے کوجی نہیں چاہتا ہے ۔یہ کتاب تاریخ ، سیرت ، علم ادب کاحسین مرقع ہے ۔’’سیرت ثنائی‘‘ کا یہ دوسرا ایڈیشن ہے ا س ایڈیشن میں مناسب تخریج، تزئین اور حک واضافہ کیا گیا اور جا بجا خوبصورت عنوانات قائم کیے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
غیر اسلامی ثقافت کی یلغار 5
عفت وعصمت کے فضائل 13
اسلام میں عورت کی عزت وتکریم 29
دینی تربیت کافقدان 32
چہرے کےپردے کی شرعی حیثیت 36
حسن مجروح 42
انٹرویو 48
منصوعی خوبصورتی کی چند اقسام 58
ماڈرن ازم کاسیلاب 64
انگریز عورتوں   کااسلام کی طرف رجحان 81
عفت وعصمت کے تحفظ کےلیے تدابیر 69
بےحیائی کی دنیوی اوراخروی سزائیں 89
طوفان بدتمیزی 96
ملک وملت کو بدنام نہ کریں 99
غیر ت نام تھا جس کا 105
درجہ بدرجہ 108
سوال وجواب 113
اسلام میں عورت کامقام 115

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حنفی سنت علماء عیسائیت قادیانیت معاشرت نبوت

شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ علیہ کے ساتھ مرزا جی کا آخری فیصلہ

شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ علیہ کے ساتھ مرزا جی کا آخری فیصلہ

 

مصنف : محمد داؤد ارشد

 

صفحات: 112

 

یہ بات عزل سے چلی آرہی ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے بھیجے جانے والے انبیاء ورسل سے لے کر صحابہ وتابعین اور تبع تابیعین ومحدثین عظام اور علماء حق نے پوری دیانت داری سے اشاعت دین میں عمریں بسر کیں ۔مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حق وباطل کی معرکہ آرائی شروع دن سے لے کر اب تک بدقسمتی سے جاری ہے ،ہمارے باپ حضرت آد﷤ ؑکو جب خداواحد نے اپناخلیفہ بنا کر بھیجناچاہا تو شیطان کو حکم دیا کہ سجدہ کرو لیکن اس نے اپنی افضلیت ظاہر کرتے ہوئے انکار کر دیا جس کی پاداش میں اسے تاقیامت دہدکار دیا گیا -اسی طرح حضرت نوح ﷤کی ساڑھے نو سوسال وعظ کے باوجود اپنا بیٹا انکاری رہا اور مخالفت میں غرق ہو گیا۔حضرت ابراہیم ؑ نے مشرک باپ کو دعوت اسلام اور اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی تو گھر سے نکال دیاگیا۔عیسیٰ ﷤نے یہودیوں کو دعوت دی تو انہوں نے سولی دینے کی ناپاک جسارت کی مگر اللہ نے حفاظت کاسامان کیا۔ جب یہ سلسلہ جس کی آخری کڑی‘ خاتم النبیّین ﷺ ہیں مخاطبین مشرکین مکہ نے آپکو پاگل اور مجنوں کہا گیا ،کبھی پتھروں کی بارش کی گئی ‘کبھی مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا‘ توکبھی طائف کی وادیوں میں لہولہان کیا گیا مگر خدائی پیغام پہنچانے میں تمام قوت صرف کی ‘عرب کے جاہلوں کو حلقہ اسلام میں داخل کیا اور معاشرے کو امن وایمان اور عدل وانصاف کاگہوارہ بنادیا-عہدرسالت ماٰب ،خاتم النبیّین محمدالرسولﷺ میں ہی اسلام نے پوری دعوتی اور جہادی قوت کے ساتھ مصر وحجاز کی سرزمین میں تہلکہ مچادیا ،قیصر وقصریٰ کے تخت وتاج میں زلزلہ بپا کردیا ۔دعوتی خطوط سلاطین باطلہ تک پہنچائے ، اسلام اپنےپورے وقار سے آگے بڑھتاہوا مشرق ومغرب میں انقلاب پیداکرتا گیا ، یورپ کے ایوانوں میں دعوتی دستک دی ‘جب بھی خداتعالیٰ کی وحدانیت کااعلان ہواتو کفر پوری قوت صرف کرنے کے باوجود نامراد ہی لوٹا ‘جب نبی آخر الزمان پر دین مکمل ہواتو خاتم النبیّین کاسر ٹیفکیٹ دیا گیاتو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘مگر کذاب بہت آئیں گے تو ان کاکام تمام کرنا ۔جب آپ مالک ارض وسماء سے جاملے تو پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر ؒ نے منکرین زکوٰۃ اور جھوٹے نبوت کے مدعیان کاسامناکرکے انہیں نیست ونابود کیا ۔اسی طرح جب بھی کسی نے شان رسالت کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے سرکوبی اور فتنہ کاقلع قمع کے لیے اہل حق میں سے کچھ لوگ پیداکیے جن میں سے مولانا ابو الوفاءثناء اللہ امرتسری ﷫ؒ بھی ہیں جب برطانوی سامراج نے برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کاسورج ہمیشہ کے لیے غروب کر دیاتو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے علماء نے باطل عقائد کے خلاف تحریر وتقریر کے ذریعے جہاد کیا ۔شہیدین نے باطل کی سرکوبی کے لیے تحریک مجاہدین کوکھڑا کیا اور حق وباطل کے معرکے میں مصروف ہوگئے ۔جب انگریز نے دیکھاکہ :مسلمانوں کو اسطرح کمزور نہیں کیا جاسکتا تو نام نہاد مسلمان مرزاغلام احمد قادیانی حنفی کو تیار کیا جو بظاہر مسلمان تھامگر حقیقت میں مسلمانوں کادشمن بن کر سامنے آیاتاریخ شاہد ہے کہ اسلام اپنوں کے ہاتھ سےہی ہمیشہ مغلوب اور کمزور ہواہے ۔جب مرزا نے کفریہ عقائد ،الحاد اور شرک کالبادہ اوڑھ کر   اسلام کو پیش کیا‘ تو مسلمانوں کے عقائد میں خرافات وبدعات نے گھر کر لیااسطرح مسلمان حق بات سے دور ہوتے گئے دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو اسلام سے نکالنے کے لیے مذموم کوششیں کیں اور جہاد کو دہشت گردی اور غیر شرعی اصطلاحات میں داخل کردیامگر علماء حق نے کفر کے ہر باطل نظریہ اور طریقہ واردات کو مسخ کرنے کے لیے زندگیاں بسر کرنے کاعزم کرلیا ۔ سرفہرست مولاناثناءاللہ امرتسری ؒ نے قلم قرطاس کوتھاما تو کفر اپنی دم پیٹھ میں لیے میدان سے بھاگنے پر مجبور ہوا‘دنیا کہ ہر پلیٹ فارم پر اسے ذلت کا سامنہ کرنا پڑھا ۔ مولاناموصوف کو 3باطل فرقوں کاسامناتھا۔1۔قادیانی(مرزائیوں کے رد کے لیے’’الہامات مرزا لکھی ) ۔2۔عیسائیوں کے رد کے لیے (جوابات نصاریٰ ) لکھی کو عیسائیوں کی کتاب ’’عدم ضرورت قرآن ‘‘ جوابات کا مجموعہ ہے اس کے بعد’’ اسلام اور مسیحیت ‘‘جو کہ عیسائیوں کی 3 کتب ’’عالمگیر مذہب اسلام ہے یا مسیحیت؟’’دین فطرت اسلام ہے یا مسیحیت؟’’اصل البیان فی توضیح القرآن‘‘ کے جواب میں لکھی گئی۔ 3۔ آریہ کے رد میں مولانا موصوف نے ’’حق پرکاش‘‘ لکھی جو کہ آریوں کی کتاب (ستیارتھ پرکاش)جس کا چودھواں باب ’’قرآن مجید پر159اعتراضات ‘‘پر مشتمل ہے۔ اس کے جواب میں لکھی ۔   سب سے پہلے مرزا کے کافر ہونے پر مولانامحمد حسین بٹالوی نے فتویٰ   ترتیب دیا تواس پر سب سے پہلے مولانا ثناء اللہ امرتسری نے دستخط کیے۔ اسی طرح مرزائیوں کے خلاف سب سے پہلے مناظرے ومباحثے کیے اور کتب تصانیف کیں ۔جبکہ مرزا خود (15 اپریل 1907ء میں اس نے تحریر ” مولانا ثناءاللہ﷫ سے آخری فیصلہ ” کے عنوان سے لکھی) اعتراف کرتاہے مولانا ثناءاللہ نے مجھے بہت بدنام کیا میں دعا کرتاہوں جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجائے جبکہ مرزا 26مئی 1908ء میں مرا اور مولانا صاحب 40برس بعد تک زندہ رہے جبکہ وہ جھوٹا ثابت ہوا ‘یہ رسالہ جو مرزا کی تحریر تھی ‘اکتوبر 1908ءتک شائع ہوا بعد میں اشاعت روک دی پھر 23برس بعد دوبارہ اپریل 1931ء میں شائع ہوا بعد ازاں 1931ء کے بعد پھر اشاعت روک دی۔ زیر تبصرہ کتاب “مولاناثناء اللہ امرتسری ﷫کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کاآخری فیصلہ ” جو موصوف (داودارشد) کی تالیف جس میں مولانا موصوف نے شیخ الا سلام ثناء اللہ امرتسری﷫ کی قادیانی وعیسائی اور آریہ فرقہ باطلہ کے خلاف ان کی خدمات مولانا کے مختصر حالات و واقعات قادیانیوں کے کفریہ عقائد ‘مرزائیوں کی گمراہی کے اسباب وغیرہ کی دلائل و برھین ا ورعلماء کے اقوال کی روشنی میں نشان دہی کی ہےجو 112 صفحات پر مشتمل ہےمارچ 1988ءکو کتب خانہ رحیمیہ ( نوا ں کوٹ ) نے اشاعت کی سادت حاصل کی۔ ۔آخر میں فاضل مؤلف (داؤد ارشد )صاحب کے لیے اور خصوصامولانا ثناءاللہ امرتسری ﷫کےلیے دعاگوہ ہو ں‘ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ‘ مولانا داودارشد کی اس علمی و تحقیق کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور حق و باطل کی پہچان کا موثرذریعہ بنائے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست
تہمید ی کلمات 14
پیش لفظ 19
باب۔1 : مولانا کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں ہندو ستا ن کے سیاسی اور 21
مذہبی حالات کا جائزہ
عیسائی مشنری 22
انگریزوں کےدو ہتھیار 22
آریہ سماج 24
مر زائی 25
باب۔2: حضرت مولانا ابو الوفا ء ثنا ء اللہ امر تسری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی 28
علامہ محمد اقبال 29
تتیمی اور رفو گری 30
والدہ کا انتقال اور ایک عالم تعلیم کی رغبت دلانا 30
آغاز تعلیم 31
مباحثے 31
پادری بحث 32
آریہ پر چارک سے گفتگو 33
سنا تن دھرمی کو بچا نا اور دعوت اسلام دینا 34
با قاعدہ تعلیم 35
حافظ عبدالمنان رحمتہ اللہ علیہ وزیر آبادی 35
مولانا میاں نذیر حسین رحمتہ اللہ علیہ دہلوی 36
مسرت آمیزو اقعہ 36
مولانا احمد حسین رحمتہ اللہ علیہ کانپوری 37
ندوۃ العلماء 41
اساتذہ کرام 42
چند مشہور اساتذہ کےحالات
حضرت مولانا حافظ احمد اللہ امر تسری رحمتہ اللہ علیہ 42
حضرت مولانا حافظ عبدالمنان وزیر آبادی رحمتہ اللہ علیہ 43
شمس العلماء میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ 43
شیخ البند مو لانا محمود الحسن رحمتہ اللہ علیہ 44
درس و تدریس 44
مولوی فاضل کی ڈگری 45
اخلاق و عادات 45
سکھ کے سا تھ سلوک 45
بوڑھے اور بچے کے ساتھ سلوک 46
بدلہ نہ لینا 47
مجلس کے آداب 47
مخالفوں سے خندہ پیشانی سے ملنا 48
آداب مجلس و معاشرت سکھانے کا پیارانداز 48
انفاق فی سبیل اللہ 49
دلجوئی و دلنوازی 50
غیر مسلموں سے تعلقات 50
ظرافت 51
مسلمانوں کی مشکلات وخدمات 52
مدرسہ دیو بند 52
ندوۃ العلماء 53
علی گڑ ھ 53
چند نامو ر ھستیاں ۔ مولانا ابو الکلام آزاد 54
مولانا ظفر علی خان ۔خواجہ الطاف حسین حالی رحمتہ اللہ علیہ 54
نواب صدیق حسن خان بھوپائی ۔ مولاناوحید الزمان 55
قاضی سلیمان منصور پُوری ۔ مولانا ابو الو فاء ثنا ءاللہ امر تسری رحمتہ اللہ علیہ 55
تحریک شدھی 56
مولاناکی تصانیف 57
آریہ مشن کا مجاسہ 59
حق پر کاش 61
مقد س رسول 64
عُلماء دیو بند کا خراج تحسین 65
اخبارات کے تاثرات 66
رنگیلا ر سُول کے چند اقتباسات 68
تُرک اسلام 69
اھلحدیث اور مقلدین 74
اعتراضات 84
حنفی بھائیوں کے دوگروہ 86
اہل حدیث کا مذہب 86
رسالت 87
توہین سلف 87
علم غیب 88
استدمداد بالخیر 89
خلافت راشدہ 90
وراثت انبیاء علہیم السلامؑ 91
اتباع سنت اور اجتناب بدعت 94
عرس و مو لود وغیرہ 95
نذرغیر اللہ 97
و ظائف غیر اللہ 98
تقلید شخصی 98
قراءت خلف الامام 102
رفع الیدین 104
آمین بالجہر و مسئلہ تراویح 106۔5۔1
باب۔4: حجیت حدیث 108
باب: 5: تفاسیر 116
تاویل 116
پاک وہند میں فن تفسیر 120
مفسرین کے سات گروہ 121
تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن 124
خصوصیات تفسیر 129
اہمیت لُغت عربی 130
مولاناکی مشکلات اور ان پر اعتراضات 133
تفسیر ثنائی ( اُردو) 137
خصائص تفسیر ہذا 139
بیان القرآن علی علم البیان 141
تفسیر بالرائے 141
باب۔6: مرزائی نتنہ کا محاسبہ 142
مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی 142
حکم بن حاکم 143
محمد بن عبداللہ 143
سید علی مُحمد باب 144
بہائی تحریک 145
مرزاغلام احمد 145
مرزانبو ت کے راستے پر 146
نکاح مرزا 148
دعوٰی نبوت 149
مباہلے 145
دعوٰی الُوہیت 149
مرزا کا فتوی ٰ 150
مرزاکاخاندان 150
مُفسدہ 1857 ء میں خدمات 151
مولاناثناء اللہ سے ٹکراو 152
تاریخی اشتہار ( آخری فیصلہ) 152
تین نکات 155
مرزاکی دُعا کی قبولیت 156
مرزا کے بعد مرزائی فتنہ 156
لاہوری پارٹی 156
مرزا کا تعاقب 157
قادیانی مشن کی تردید لکھی گئی کتابیں 157
نتیجہ 158
باب۔7: رد عیسائیت 159
ایک اشکال 161
ردشبہ 162
عیسائیت اور انجیلیں 166
اناجیل کی حقیقت 168
انجیل متی 168
لوقا کی انجیل 169
یوحنا کی انجیل 169
انا جیل اور قرآن 170
عیسائی تعلیم 170
ہندوستان میں عیسائیت کا زور 171
مولاناثناء اللہ کا تردید عیسائیت میں حصہ 172
تصانیف 173
جوابات نصاریٰ 173
معارفُ القرآن (ایک پادری کو جواب) 173
اثبات توحید 179
تُم عیسائی کیوں ہوئے 180
توحید ۔ تثلیث اور راہ نجات 183
تقابل ثلاثہ 183
اسلام اور مسیحیت 184
نماز اربعہ 185
باب۔8: اخبارات ۔خبرو اخبارات کی تعریف 186
ہندوستان میں اخبارات 196
اہل حدیث 197
اغراض و مقاصد 197
مدت اشاعت 199
عنوانات 199
اداریہ 199
آریہ مشن 200
قادیانی 201
عیسائی مشن 201
انتخاب الا خبار 202
مذاکرہ علمیہ 202
فتاٰٰوی 202
عُلما ء کے مضامین 202
اخبار مخز ن ثنائی 203
گلُد ستہ ثنائی 203
مُر قع قادیانی 204
مسلمان 204
نتیجہ 205
باب۔9: فتاو ٰ ی 207
ایک مشکل 208
فتاوٰ ی ثنائیہ 211
مولانا کا فتوٰے 213
منتاوٰی کا جمع کرنا 216
باب۔10۔ سیاسی ، دینی اور علمی خدمات 218
جماعت تنظیم 223
شہر ی اور صُوبائی تنظیمیں 224
جمعیت علما ء ہند 225
ند وۃ العُلماء 229
دینی خدمت 230
مقصد مذہب پر تحقیقاتی مضمون 231
باب۔11 “حج اور مو تمر اسلامی میں شرکت 247
روانگی 247
ایک لطیفہ 248
تبلیغ 249
مو تمر اسلامی 249
قبروں کےقبوں کا گرا یا جانا 251
شاہ کا خط 251
مولانا کی واپسی 253
چند سمعصر اہلحدیث بزرگ حضرات 253
امام عبدالجبار غزنوی ۔ مولانا شمس الحق ڈیانوی 254۔253
مولانا ابُو سعید مُحمد حسین بٹا لوی ر حمتہ اللہ علیہ 254
مولانا مُحمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمتہ اللہ علیہ 255
مولاناعبدالقادر قصوری رحمتہ اللہ علیہ 255
مولانا ابُو القاسم بنارسی رحمتہ اللہ علیہ 256
مولانا حافظ عبدالتد رو پڑی 256
مولانا قاضی مُحمد سلیمان منصوری پوری 257
باب۔12:مناظر ے و مباحثے 259
قرآن کے دومناظرے 261
رسُو ل اللہ ﷺ کا مناظرہ و مبا ہلہ 263
صحابہؓ اور ان کے بعد فن منا ظرہ 264
ہندوستان میں مناظرے 264
مولاناثناء اللہ رحمتہ اللہ علیہ 265
اعزاز خصو صی 265
مولانا کے مناظرے 266
آریہ سے مناظرے 266
منا ظر ہ نگینہ 267
مناظرہ خورجہ 268
قادیانیوں سے مناظرہ 268
مناظرہ رام پور 269
فاتح قادیان 270
عیسائیوں سے مناظرے 270
مناظرہ لاہور 271
مناظرہ گو جرانوالہ 271
مناظرہ الہ ٰ آباد 271
اسلامی گروہوں سے مناظرے 272
مولانا کے منا ظروں کی خصُوصیات 273
بے مثال جُرات 274
حاضر جوابی اور بر جستگی 275
باب:13۔ھجرات اور رحلت 279
فرزند عزیز کی شہادت 280
ترک وطن 281
کتب خانہ 281
استفتا ء 281
علا لت ووفات 283
مولانا کی وفات کی خبر 283
علامہ سید سلیمان ر حمتہ اللہ علیہ کا خراج تحسین 284
مراجع و مصادر 286

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل حدیث تاریخ حج سفرنامے عیسائیت قادیانیت

سفرنامہ حجاز (مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫)

سفرنامہ حجاز (مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫)

 

مصنف : سعید احمد چنیوٹی

 

صفحات: 103

 

شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ﷫سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیرحسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا قادیانی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیانیت میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے’’تاریخ مرزا، فیصلہ مرزا، الہامات مرزا، نکات مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، شاہ انگلستان اور مرزا، تحفہ احمدیہ، مباحثہ قادیانی، مکالمہ احمدیہ، فتح ربانی، فاتح قادیان اور بہااللہ اور مرزا۔‘‘ جیسی کتب لکھیں۔اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد مناظرے کیے اور ہر جگہ اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔الغرض شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔آپ اسلام کی اشاعت اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ قادیانیت ،عیسائیت اور ہند مت کے رد کے علاوہ بھی بہت سی کتب لکھیں ۔ تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں ۔مولانا کی حیات خدمات کے سلسلے میں معروف قلماران او رمضمون نگاران نے بیسیوں مضامین لکھے ہیں جو پاک وہند کے رسائل کی کی زینت بنتے رہتے ہیں اور بعض اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’سفرنامہ حجاز ‘‘ برصغیر کی نامور شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے سفرِِ حج کی روداد پرمشتمل ہے ۔مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے یہ سفر 1926 کو اختیار کیا اور اجتماعی سفر حج کا اعلان کیا تو ہندوستان بھر سے تقریباً پانچ صد افراد کا قافلہ آپ کے ساتھ شریک سفر تھا۔مولانا کایہ سفر 26 اپریل 1926ء سے 20 اگست تک تھا۔اس چار ماہ کے سفر میں جن واقعات ومشاہدات کا سامنا ہوا وہ انہیں تحریری صورت میں ہر ہفتہ بذریعہ ڈاک ہندوستان روانہ کرتے رہے جو ہفت روزہ اہل حدیث امرتسر میں 13 اقساط میں مسافرحجاز کا مکتوب کے عنوان سے شائع ہوئے ۔مولانا سعید احمد چنیوٹی نےان مکتوبات کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ان مکاتیب کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔تاکہ اس دور کی سیاسی وعلمی اور مذہبی تاریخ سے آگہی ہوسکے اور ارض حجاز اور ہندوستان کےحالات کاعلم ہوسکے ۔یہ کتاب علمی سیاسی اور تاریخی معلومات کاخزانہ اورتاریخی دستاویز ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
حرفے چند 5
ابتدائیہ 7
حیات ثنائی کاسوانحی خاکہ 10
سفرحج کاعزم 12
عازمین حج کو اطلاع 12
سفر حج اوراحباب کوآخری سلام 13
ناظرین اخبار سےدرخواست 13
سپاسنامہ نمبر 1 14
سپاسنامہ نمبر 2 16
جوابی خطاب 19
سفر حج کاآغاز 20
سلک ،مرواید 21
نظم 22
مکتوبات پر ایک نظر 23
مسافر حج کامکتوب نمبر 1 31
مسافر ان حج کی تکالیف 31
عجیب مشابہت 32
گورنمنٹ حکام کی بے پرواہی 33
دوسری تکلیف 33
کراچی میں عظیم الشان جلسہ 34
مسافر حجاز کامکتوب نمبر 2 36
لطیفہ 37
جہازی کیفیت 38
حالت عامہ 38
خاص مجھ پر احسان 39
عجیب واقعہ 39
نماز پر نزاع 40
مسافرحجاز  کامکتوب 3 41
کامران میں قرنطینہ کی تکلیف 41
لطیفہ یاظلم 42
غسل کافائدہ 43
ایک اوررستم ظریفی 43
ایک اورنظارہ 43
حالات مکہ مکرمہ 44
مسافر حجاز کامکتوب 4 45
دلفگار واقعہ 45
نجدیوں کی کیفیت 46
عظمۃ السلطان ابن سعود کی شخصیت 46
مسافر حجاز کاخط 5 47
حرم کےحالات اورموتمر کےمقاصد 47
مکہ معظمہ کی بیرونی حالت 49
انتظامی کیفیت 49
موتمر مکہ کےاجلاس میں زیر بحث مسائل 50
نظام موتمر حجازی 51
مسافر حجاز کاخط6 55
مکہ اورزائرین مکہ 57
مسافر حجاز کاخط 7 57
اسلامی کانفرنس مکہ میں 57
ترجمۃ استقبالیہ خطبہ شاہی 57
مسافر حجاز کاخط 8 60
مکہ اورمکہ کی آبادی پر نظر 60
مکہ کو سیراب کرنےکی دوصورتیں 61
پہلی صورت 61
دوسری صورت 61
مسافر حجاز کاخط 9 63
مصریوں کی شیطنت اورسلطان کاحلم وحکمت 63
مصری محمل 63
مسافر حجاز کاخط 10 65
اسلامی موتمر  مکہ معظمہ 65
ابن سعود کاخط 66
موتمر میں پیش کردہ تجاویز 66
مسافر حجاز کاخط 11 70
مدینہ شریف میں وردد 70
ارض حجاز سےناظرین 70
اہل حدیث کےنام 70
سفرمیں مدینہ طیبہ 1 71
شکریہ 73
روحانی کیفیت 75
مسجدنبوی ﷺ کی زیارت 75
افسوی ناک منظر 76
محتاجی 77
سفر حجازی 79
حج سے واپسی اوراستقبال 83
احباب کےخطوط کاجواب 87
شعراء کاخراج عقیدت 88
اخبار مکہ 92
سفرمدینہ 92
گرمی 92
بخار 93
محمل مصری 93
تاریخ 93
سلطان عبدالعزیز کےمعزز مہمان 93
علماءہند کادورحجاز 93
موتمر اسلامی 94
موتمر اسلامی کاخاتمہ اوروفود کی روانگی 94
حج کاانتظام تسلی بخش تھا 94
مکہ فنڈ 94
مکہ معظمہ کی کیفیت 94
غزنوی اورثنائی نزاع کاخاتمہ 97

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تقابل ادیان روح قادیانیت نبوت

سادہ لوح مسلمان اور قادیانی حربے

سادہ لوح مسلمان اور قادیانی حربے

 

مصنف : خاور رشید بٹ

 

صفحات: 58

 

اسلامی تعلیمات کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ سیدنا آدم ﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء  خاتم المرسلین سیدنا محمد ﷺ پر ختم ہوا اس کے  بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ  دائرۂ اسلام سے خارج ہے  ۔ ختم نبوت ناصرف اسلام کی روح ہے  بلکہ وہ بنیادی عقیدہ  ہے جس پر تمام امت مسلمہ کا روزِ اول سے اتفاق، اتحاد اوراجماع ہے ۔قادیانیت اسلام کے متوازی ایک ایسا مصنوعی مذہب ہے جس کا مقصد اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کی سرپرستی میں ا سلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنا  ہے۔قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر  آج تک  اسلام  اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم  نے  قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، سیاست و  قانون اور عدالت میں  غرض کہ ہر میدان  میں انہیں شکستِ فاش دی ۔ مولانا خاور رشید بٹ ﷾ (انچار ج شعبہ  تقابل ادیان وسیرت سیکشن ادارہ حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن ،لاہور )کی زیر نظر کتاب   بعنوان’’سادہ لوح مسلمان اور قادیانی حربے‘‘ بھی  اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں  میں قادیانیوں کے 15حربوں  پیش کر کے ان کے جوابات تحریر کیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی دعوتی وتدریسی، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔آمین 

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 7
پہلا حربہ:کلمہ طیبہ 9
جواب 9
دوسرا حربہ: ہماری اور مسلمانوں کی نماز، روزہ اور قبلہ ایک ہی ہے 16
الزامی جواب 16
تحقیقی جواب 18
تیسرا حربہ: السلام علیکم 20
چوتھا حربہ، تئیس سالہ معیار نبوت 23
1۔فورا سزا 24
2۔دس سال 24
3۔بارہ سال 24
4۔اٹھارہ اور پچیس سال 24
5۔بیس سال 25
6۔تئیس سال 25
عقل کے خلاف 29
اصل حقیقت 30
پانچواں حربہ: ظالم کامیاب نہیں ہوتے ،پھر ہم کیوں کامیاب ہیں؟ 31
مرزا صاحب قادیانی سے دلیل 33
چھٹا حربہ: مسیح﷤ اور ختم نبوت 34
ایک سوال 35
جواب 35
ساتواں حربہ: جھوٹ بولنے والے کا جھوٹ اسی پر ہے 36
جواب 36
آٹھواں حربہ: عیسیٰ ﷤ کا بوڑھا ہونا 38
نواں حربہ: عیسیٰ﷤ کاجسم سمیت آسمانوں پر جانا قرآن میں کہاں؟ 39
مرزا صاحب قادیانی سے دلیل 40
دسواں حربہ: عیسیٰ﷤ نازل  ہونے کے بعد قرآن پڑھیں گے تو کیا محسوس کریں گے؟ 41
گیارہواں حربہ: مرزا صاحب کی سچائی جانے کے لیے استخارہ 43
الزامی جواب 44
بارہواں حربہ: عیسیٰ﷤ آسمان پر زندہ اور ہمارے نبی زمین میں مدفون 45
جواب 45
تیراہواں حربہ: تہتر فرقے 47
جواب 47
چودہواں حربہ: استاذ کی قابلیت 50
پندرہواں حربہ: توفی کی بحث 54
جواب 54

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam قادیانیت نبوت

ثبوت حاضر ہیں, قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں, قادیانیت

 

مصنف : محمد متین خالد

 

صفحات: 626

 

اللہ تعالی نے نبی کریم کو ﷺآخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ ﷺ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔زیر نظر کتاب ’’ثبوت حاضر ہیں‘‘ قادیانیوں کے خلاف لکھنے والے معروف قلمکار محمد متین خالد کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد وعزائم پر مبنی عکسی شہادتیں اکٹھی کر دی ہیں۔اور اس کی طرف سے کئے جانے والے جھوٹے دعوؤں اور کفریہ عقائد و قابل اعتراض باتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،تاکہ ان کے جرائم کو تمام مسلمان پہچان سکیں۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو قادیانیوں کے اس خطرناک فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
چیلنج 2
انتساب 5
ترتیب عنوانات 7
فہرست ٹائٹل کتب 16
قادیانی عقائد کی بھیانک تصویر 19
قادیانیت کا اصل چہرہ 21
دعوت فکر 26
جعلی نبوت کا خاتمہ 29
شاہکار کتاب 33
قادیانیت کا Kaleidoscop 36
تغیر قلم 48
کوزے میں دریا
تاریخ ساز آئنہ
نبوت بند ہے 75
وحی بند ہے 78
ختم نبوت اور اصرار 57
اجماعی عقیدہ کا منکر لعنتی ہے 58
نبوت جاری ہے 75
میرے پاس جبرائیل آیا 78
خدا تعالیٰ             کی وحی 78
خدا نے میرا نام نبی رکھا 79

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
16.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ تہذیب ڈکشنری عیسائیت محاسن اسلام و امتیازات

رواداری اور پاکستان

رواداری اور پاکستان

 

مصنف : محمد صدیق شاہ بخاری

صفحات: 540

 

المیہ یہ ہے کہ بعض گروہوں کی طرف سے ایک سازش کے تحت شعائر اسلامی کا مذاق اڑایا جاتا ہے،شان رسالت ﷺ میں توہین کا لائسنس طلب کیا جاتاہے،مقدس شخصیات کی تضحیک وتنقیص کی جاتی ہے اور اگر کوئی اس پر کبھی بھول کر بھی صدائے احتجاج بلند کر دے تو اسے رواداری کے نام پر صبر،تحمل اور برداشت سے کام لینے کو کہا جاتاہے،اسے حقوق انسانی ترقی پسندی اور اعلی ظرفی کا درس دیا جاتا ہے ۔وہ جو اسلام دشمنی اور اقدار شکنی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں ،انہیں بنیاد بنا کر اپنے تئیں دائرہ روشن خیالی سے خارج کر دیا جاتا ہے۔لیکن جب ان لوگوں کے ذاتی مفادات پر زد پڑتی ہے اور وہ آپس میں دست وگریباں ہوتے ہیں تو خود رواداری کی تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں۔تحمل وبرداشت اور رواداری ایسے خوشنما الفاظ ان کی ڈکشنری سے خارج ہو جاتے ہیں۔ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ معمولی سی تنقید ہی سن سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب” روا داری اور پاکستان “محترم جناب محمد صدیق شاہ بخاری صاحب کی مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے روشن خیالوں کی اسی روشن خیالی کا بھانڈہ پھوڑا ہے۔یہ کتاب پاکستان میں اقلیتوں کے ظلم وستم اور رواداری کی آڑ میں مسلمانوں کی دم توڑتی غیرت کی کربناک صداؤں پر مشتمل ایک تحقیقی وتاریخی دستاویز ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائےاور ان کی غیرت دینی کو بیدار کرے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
انتساب 19
مجھے ہےحکم اذاں (محمد صدیق شاہ بخاری) 21
رواں تاریخ کے کڑوے سچ ( محمدعطاء اللہ صدیقی ) 24
فلیپ ( محمد متین خالد )
باب :1   رواداری 41
باب : 2 رواداری کا اصطلاحی مفہوم ۔اکابرین امت کی نظر میں 45
مولانا مودودی 47
علامہ محمد اقبال 49
شورش کاشمیری 49
مولانا اشرف علی تھانوی 50
رواداری اور ’’فتنہ رواداری ‘‘ اک تاریخی جائزہ 51
باب :3 اسلام اور مذہبی رواداری 65
دینی آزادی کا مفہوم 67
صلح پسندی 68
یہود و نصاریٰ سے مراعات 69
عبادت گاہوں کا احترام 70
آزادی و رواداری 71
غیر مسلموں سے معاہدے 73
تبلیغ کےطریقے 74
دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کا بنیادی تصور 75
باب : 4 رواداری ، اسلامی تہذیب کا ایک اہم وصف 77
باب:5 غیر مسلموں سے تعلقات اوراسلامی رواداری 85
غیرم مسلم والدین سے تعلقات 88
غیر مسلم رشتہ داروں سے تعلقات 90
غیر مسلم پڑوسیوں سے تعلقات 92
غیر مسلم قیدوں کے ساتھ حسن سلوک 97
باب :6 مسلمانوں کی تاریخ اور رواداری 101
باب:7 پاکستان میں اقلیتیں اور اسلامی رواداری اور اس تناظر میں دنیا میں مسلم اقلیت کی حالت زار 111
دنیا میں مسلمان ۔ ایک ستم رسیدہ اقلیت 113
تھائی لینڈ 113
کمپوچیا 113
لائبریا 114
برما 114
بلغاریہ 116
سری لنکا 117
فلپائن 120
مغربی تھریس (یونان) 121
البانیہ 123
برطانیہ اور پاکستانی مسلمان اقلیت 125
90فیصد مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کےایک صوبے میں مسلم اقلیت کا حشر 129
باب :8 پاکستان اقلیتون کی مذہبی وتبلیغی سرگرمیاں اورہماری رواداری 137
عیسائی چرچ اور تبلیغی تنظیمیں 140
دیگر اہم مسیحی ادارے 141
مسیحی مشنری اور ذرائع ابلاغ 142
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا استعمال 142
ریڈیو پاکستان 142
پاکستان ٹیلی ویژن 143
صلیب بردار جلوس 143
مسیحی مشنری جرائد 143
ابلاغ عامہ کا موثر ترین ذریعہ بائبل خط و کتابت اسکولز کورس 144
تجزیہ خاکہ مضامین مسیحی ماہنامہ ’’کلام حق ‘‘ گوجرانوالہ 145
پاکستان میں بائبل خط و کتابت اسکولز کے ایڈریس 147
بائبل خط و کتابت اردوکورسز کی فہرست 148
بائبل خط وکتابت انگریزی کورسز کی فہرست 149
ریڈیو سیشلز 151
مسیحی تبلیغی کے کچھ اور انداز 151
بائبل کی تقسیم 151
بائبل کارسپانڈنس کلب 151
ملاقات باہمی کے اجتماع 153
مبارک کیمپ مری 153
سمعی و بصری معاونات 154
کچھ اورخبرین : بائبل کی آواز ۔ عیسائیت کی تبلیغ کے لیے پاکستان میں 2۔ ریڈیو اسٹیشن 154
مسیحی ریڈیو اسٹیشن کی تشریات 155
عیسائیت کی تبلیغ اور امریکی ذرائع ابلاغ کا جال 155
کھلے بندوں تبلیغ مسیحیت 156
مسلم طالبات اور صلیب کا نشان 156
پاکستان کی مسیحی آبادی 157
مسلمان نوجوان کوکیسے عیسائی بنایا جاتا ہے ’’اندر ‘‘ کی کہانی 160
اسلامی دنیا کے روادار حکمرانوں اورعوام کے نام 2025ء تک اسلامی ملکوں کو مغلوب کرنے کا مسیحی منصوبہ 166
ہندو اقلیت اور ذرائع ابلاغ عامہ 171
ہندو اقلیت کی طرف سے شائع ہونے والے جرائد 172
باب:9 قادیانی و لاہوری اقلیت 175
قادیانیوں کی تبلیغی و مذہبی سرگرمیاں 182
قادیانی اقلیت خود اپنی رواداری کے آئینے میں 184
مولانا لعل حسین اختر ۔ جب مرزائیت سےتائب ہوئے ، لالچ او ردھمکیاں 185
مرزا محمد سلیم اختر۔ خلیفہ قادیان کی ’’گسٹایو‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال مالی بد عنوانیاں ۔ خلیفہ نور الدین کےبیٹے کے قتل کی سازشیں قادیانی عوام کی بے بسی 186
جناب بشیر احمدمصری۔ خلیفہ قادیان کی جنسی بدچلنی اور اس گناہ میں شمولیت سے انکار پر غنڈہ گردی۔ سماجی مقاطعہ اور قاتلانہ حملے۔ قادیانی رائل فیملی کی بد معاش اور بدچلنی پر بشیر احمد مصری کا حلفیہ بیان 198
جناب سیف الحق صاحب( جرمنی) وطن کے عزیز کو بدنام کرنے کی سازش قادیانیوں کی ’’اخلاقی عصمت‘‘ کے عینی شاہد اخلاقی پاکیزگی کےدعوے دار قادیانیون کا حال 204
جناب شفیق مرزا صاحب ۔ پردے کے پیچھے کیا ہے ؟ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ بدکاری کا اڈہ ۔ ریاست کے اندر ریاست ۔ کلامی الہٰی کی توہین ۔ تین سہیلیاں تین کہانیان ۔ مرزاناصر نے اپنے ہی پوتے کے اغوا کا منصوبہ بنایا 210
محمد صالح نور صاحب ۔ انتقام ، ظلم و ستم ، سوشل بائیکاٹ ، تشدد ، اغواء، مالی بدعنوانیاں ۔ بیماریوں کاہسپتال میں علاج سے انکار 214
محمد رفیق صاحب باجوہ۔ غنڈہ گردی ، قتل کی سازش ، شہر بدری ، قادیانی دکانداری 219

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال جماعت اسلامی زبان سنت سیرت النبی ﷺ

رسول اللہ ﷺ اسوۂ حسنہ تو ہیں، اسوۂ کاملہ کیوں نہیں

رسول اللہ ﷺ اسوۂ حسنہ تو ہیں، اسوۂ کاملہ کیوں نہیں

 

مصنف : پروفیسر خالد حامدی

 

صفحات: 51

 

مولانا وحید الدین خان یکم جنوری 1925ءکو پید ا ہوئے۔ اُنہوں نے اِبتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح ’سرائے میر اعظم گڑھ میں حاصل کی ۔شروع شروع میں مولانا مودودی﷫ کی تحریروں سے متاثر ہوکر 1949ء میں جماعت اسلامی ہند میں شامل ہوئے لیکن 15 سال بعد جماعت اسلامی کوخیر باد کہہ دیا اورتبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی ۔ 1975ء میں اسے بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا ۔مولانا وحید الدین خان تقریبا دو صد کتب کے مصنف ہیں جو اُردو ،عربی، اورانگریزی زبان میں ہیں اُن کی تحریروں میں مکالمہ بین المذاہب ،اَمن کابہت زیادہ ذکر ملتاہے اوراس میں وعظ وتذکیر کاپہلو بھی نمایاں طور پر موجود ہے ۔لیکن مولانا صاحب کے افکار ونظریات میں تجدد پسندی کی طرف میلانات اور رجحانات بہت پائے جاتے ہیں اُنہوں نے دین کے بنیادی تصورات کی از سر نو ایسی تعبیر وتشریح پیش کی ہے جو ان سے پہلے کسی نے نہیں کی اوروہ نہ صرف اس بات کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے اس میں فخر محسوس کرتے ہیں۔اسی لیے مولانا وحید الدین خاں کے افکار ونظریات ،علمی ودینی حلقوں میں زیر بحث رہتے ہیں ۔ان پر شدید تنقید کی جاتی ہے اور دلائل کی روشنی میں ان کےابطال کی کاوشیں جاری رہتی ہیں۔اس سلسلے میں دو سال قبل منظر عام آنے والی ڈاکٹر حافظ محمد زبیر (فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ ،مدیر ششماہی رشد،لاہور) کی کتاب ’’ مولانا وحید الدین خان افکار ونظریات‘‘ قابل ذکر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ محمد رسول اللہ اسوۂ حسنہ توہیں لیکن اسوہ کاملہ نہیں‘‘ بھارت سے شائع ہونے والے جریدے ماہنامہ’’ اللہ کی پکار‘‘ کے مدیر جناب ڈاکٹر پروفیسر خالد حامدی صاحب کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے عصر حاصر کے نام نہاد متجدد روشن خیال حلقے سے تعلق والے وحید الدین کے اس شیطانی فکر کا علمی جائزہ لیا ہے کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ کی زندگی اسوۂ حسنہ تو ہے ،اسوۂکاملہ نہیں۔اسوۂ حسنہ کے حوالے سے مولانا وحیدالدین خاں کی گل افشانی کا، جو محاکمہ پروفیسر خالد حامدی نے کیا ہے وہ مدلل بھی ہے اور چشم کشا بھی۔پاکستان میں ان مضامین کو محترم احمد سرور صاحب ماہنامہ ’’ چشم بیدار‘‘ میں شائع کیا ۔ بعد ازاں پندرہ روزہ ’’المنبر‘‘ فیصل آباد میں بھی ان مضامین کو قسط وار شائع کیا گیا۔توان مضامین کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر عبدالوارث ساجد صاحب نے نبی کریم ﷺ کی حرمت کے دفاع اور عوام الناس کو اس فتنے سےبچانےکے لیے ان مضامین کوخوبصورت کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو منظر عام تک لانے میں شریک تمام افراد کی کاوشوں کوقبول فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
رسول اللہ ﷺ اسوہ حسنہ توہیں ،اسوہ کاملہ کیوں نہیں..؟
حرف تمنا 7
دیباچہ 9
مولانا وحیدالدین خان کے باطل افکار کاعلمی جائزہ 11
کیارسول اللہ ﷺ کااسوہ اسوہ کاملہ نہیں ہے 11
غلام احمد قادیانی کےمشن کی تکمیل 13
جہاد او راجتماعی زندگی کی حوصلہ شکنی 15
اسلام تو اجتماعیت سکھاتاہے 15
بہکانے کی تدبیریں 17
رسول اللہ ﷺ کااسوہ ہی اسوہ کاملہ ہے 18
کیا پرنٹنگ پریس قرآن کامحافظ ہے 19
رسالت محمدی ﷺ کو بے اثر بنانے کی کوشش 21
منہاج سے مراد سنت رسول اللہ ﷺ ہے 23
خان صاحب کی معنوی تعریف 24
خان صاحب کی بددیانتی 26
سیدنا عیسی ﷤ نےکہا کہ میں تلوار چلانے آیاہوں 28
سیدنا یوسف ﷤ پر تہمت 29
بائبل کی گواہی 31
قرآن کی گواہی 31
کیاحکومت کرنا مسلمانوں کے لیے ٹھیک نہیں 32
خان صاحب کااسلام 33
حقیقی اسلام تویہ ہے 34
کیاصرف عبادتی اعمال کانام ہی اسلام ہے 35
غلام احمد قادیانی اور وحید لدین خان کے درمیان اشتراک 37
وحید الدین کاخودکو مہدی ثابت کرنا 39
مہدی کاظہور وحید الدین کی صورت ہوچکاہے 42
عیسی ﷤ او رجہاد کےمتعلق احادیث کاانکار 43
خان صاحب حدث کاانکار کیوں کرنے پر مجبور ہیں 44
غیر اسلامی معاشرے 45
اسلا می غیرت 46
جمال الدین افغانی ﷫ 47
انتہائی حیران 48
اسلام میں کوئی گنجائش نیہں 49
محمدی ﷺ 50
کیارسول اللہ ﷺ کااسوہ کاملہ نہیں ہے 51
تہذیب کے ایک متوقع دشمن 52
عالم اسلام کی اصلاح کےلئے مسلمان ممالک 53

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام زبان علماء قادیانیت نبوت

رد قادیانیت پر لا جواب مجموعہ رسائل

رد قادیانیت پر لا جواب مجموعہ رسائل

 

مصنف : ابن سرور حافظ عبد الرحمن

 

صفحات: 189

 

اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالی نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں بن سکتا ۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت او روحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کی زبان صادقہ کا فیصلہ ہے ۔ قادیانیت کے رد میں اہل اسلام کے تقریبا ہر مکتب فکر علماء نے مختلف انداز میں خدمات سرانجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رد قادیانیت پر لاجواب مجموعہ رسائل‘‘ حافظ عبدالرحمن شاہ عالمی مظفرگڑھی کے قادیانیت کی تردید کے موضوع پر لکھے گئے مضامیں کا مجموعہ ہے ۔ان رسائل کے عنوانات یہ ہیں آسمانی دلہن، توہین حسین، انمول موتی، دس ہزار کا نقد انعام، تکفیر مسلم، چھوٹا منہ بڑی بات، مخلصانہ درخواست، جاء الحق وزھق الباطل، انجام مرزا، حیات موسیٰ ازکتب مرزا۔اللہ تعالیٰ فتنہ قادیانیت سے مسلمانوں کو محفوظ فرمائے اور تردید قادیانیت کےسلسلے میں تمام علماء امت کی محنتوں وکاوشوں کو قبول فرمائے ۔(آمین)

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز