تاریخ بیت المقدس

 

مصنف : ممتاز لیاقت

 

صفحات: 269

 

مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت  کےبعد 16 سے 17 ماہ تک بیت المقدس ( اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی ادا کرتے تھے پھر تحویل کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ ہوگیا۔ اقصٰی خانہ کعبہ اور کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر کے دوران حرام سے یہاں پہنچے تھے اور میں تمام کی کی کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے پر روانہ ہوئے۔ مجید کی سورہ الاسراء میں تعالیٰ نے اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق  کے دور میں مسلمانوں نے کو  فتح کیا تو سیدنا عمر  نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے نے تبلیغِ اور اشاعتِ کی خاطر میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے اول کی کے لئے تقریبا 16 لڑیں ۔ اور ملتِ اسلامیہ  کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ  کا ایک  مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ  نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے  تاریخِ اسلام کا ہر طالب آگاہ ہے۔ گزشتہ  چودہ صدیوں سے نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ ہے ۔ ونصاریٰ  نےیہ پیدا کر کے  گویا اسلام  کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں  اسرائیل کے قیام کےبعد  سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے  فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے  دخل کر کے انہیں  کمیپوں  میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے  پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔  دراصل یہودی اس کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ  نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ  کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی  شہید ، زخمی  یا بے گھر ہوچکے ہیں  اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر  قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ زیر کتاب’’ بیت المقدس‘‘ ممتاز لیاقت  صاحب کی  تصنیف ہےکتاب کا بیشتر حصہ اس کے نام کی مناسبت  سے کی تاریخ  وروایات سے متعلق ہے لیکن ضمناً اسرائیل کا قیام اور منصوبوں کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ یہ کتاب اس شہر کی تاریخ اور عظمت وفضیلت کی داستان ہے  اوراس ناموس کاقصہ ہے جس کےلیے  ہمارے ایک پوری صدی تک اپنے خون کاخراج دیتے رہے ۔تقریباً  45 سال قبل کی پر میں کوئی قابل ذکر کتاب موجود نہ تھی  مصنف  کتاب  ہذاممتازلیاقت صاحب نے اس  موضوع پر یہ کتاب لکھ کر اس کمی کوکسی حد تک پورا کیا۔اس کتاب کی اشاعتِ اول  پر مولانامودوی﷫ نے  اس کتاب کےمصنف  کے متعلق  لکھا :’’  آپ  کی محنت  قابل داد ہے کہ آپ نے کے موضوع پر بہتسا مواد جمع کردیا۔‘‘ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول  کو آزاد  اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے

 

عناوین صفحہ نمبر
ابتدائیہ 11
باب اول: صبح 13
باب دوئم: شہر مقدس 19
باب سوئم: 98
شہر پناہ اور دروازے۔ پہاڑیاں۔ انتظامی حیثیت۔ شرعی حیثیت
باب چہارم: اقصیٰ 114
حرم شریف۔ مساحت۔ دروازے۔والان
باب پنجم: اقصیٰ 121
باب ششم: قبۃ الصخرہ 152
روایات۔ بنائے قبہ صلیبی قربان گاہ
باب ہفتم: قبۃ الصخرۃ 176
چبوترہ اور سیڑھیاں۔قبۃ الارواح، قبۃ السلسلہ۔ چھوٹے گنبد
باب ہشتم: حرم شریف میں دوسری زیارتیں 183
باب نہم: متفرقات اور زیارتیں 199
باب دہم: اور اقصیٰ 209
یہودی قبضہ کے بعد اسرائیل میں انضمام۔ بے حرمتی۔ تباہی بے خانان مسلمان، کھدائی۔ تعمیر ہیکل کے منصوبے اقضیٰ میں آتشدگی
باب یازدہم: نواحی شہر اور قصبے 229
بیت لحم، ناصرہ۔ حبرون، رام الللہ ، سیدنا موسیٰ عورتا، غزہ، حلحول۔ حطین۔ نابلس۔ یعقوب
باب دواز دہم: صیہونیت اور اس کے منصوبے 238

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...