تاریخ تجوید و قراءات

تجوید و قراءات

 

مصنف : قاری نجم الصبیح تھانوی

 

صفحات: 274

 

علم مجید کو ترتیل اور درست طریقے سے پڑھنے کا نام ہے تجوید کا وجوب کتاب وسنت واجماع امت سے ثابت ہے ۔اس علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خود رضوان اجمعین کو وقف و ابتداء کی دیتے تھے جیسا کہ ابن ِعمرؓ سے معلوم ہوتا ہے۔فن تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔ اس کی تدوین کا آغاز دوسری ہجری صدی کے نصف سے ہوا۔جس طرح حدیث وفقہ پر کام کیا گیا اسی طرح مجید کے درست وقراءت کی طرف توجہ کی گئیعلمائے نے ہر زمانہ میں درس وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعہ اس کی دعوت وتبلیغ کو جاری رکها ، متقدمین کے نزدیک تجوید پر الگ تصانیف کا طریقہ نہیں تها بلکہ تجوید علم الصرف کا ایک نہایت ضروری باب تها ، متاخرین علماء نے اس علم میں مستقل اور تفصیلی کتابیں لکھیں ہیں ، محمد بن مکی﷫ کی کتاب   اَلرِّعایَةاس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے ، جوکہ چوتهی صدی ہجری میں لکهی گئی۔ علم قراءت بھی ایک الگ فن ہے قراءت اور علماء امت نے اس فن  بھی پر ہر دور میں مبسوط ومختصر کتب کے تصنیف کی ۔ ائمۂ وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے کی بھی  ایک طویل فہرست ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔   جن سے استفادہ کرنا دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء  کرام اور  قراءعظام  نے  بھی  تجوید قراءات  کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر انجام دی ہیں ۔ میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ  سلفی قراء عظام  جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی  حفظہم اور ان کےشاگردوں کی  تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں  خدمات  قابل ِتحسین ہیں  ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے  علاوہ  جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور  کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور  کے زیر نگرانی شائع ہونے  والے  مجلہ ’’ رشد ‘‘کےعلم ِتجویدو  قراءات  کے موضوع پر تین ضخیم  جلدوں  پر مشتمل قراءات نمبر  اپنے  موضوع  میں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں  مشہور قراء کرام کے   تحریر شدہ مضامین ، علمی  مقالات  اور حجیت  قراءات پر    پاک وہند کے  کئی  جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں  قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی  بھی خوب خبر لیتے ہوئے  ان کے  اعتراضات کے  مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیر کتاب’’تاریخ تجوید وقراءات ‘‘    استاذ القراء والمجودین قاری اظہار احمد تھانوی ﷫ کے خلف الرشید استاذ  القراء قاری نجم الصبیح  تھانوی﷾(صدر مدرس شعبہ تجوید واقراءات،مدرسہ تجوید القرآن رنگ محل،لاہور) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے حصہ اول  ’’ تجوید‘‘ اور حصہ دوم  ’’ تاریخ قراءات ‘‘ پر مشتمل ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مؤلف 7
﴿حصہ اول ﴾

تاریخ تجوید

ہدایت انسانیت اور اخلاقی تربیت کا منشور 10
چار بڑی آسماین کتب 11
حفاظت کریم 11
کی حفاظت بذریعہ تحریر 15
ادائیگی کی حفاظت 16
کلمات کی حفاظت 16
کی حفاظت بذریعہ حفظ 17
مبارکہ سے 19
اہمیت تجوید 23
تبدیلی حرف بالحرف 25
حرکات کو بڑھا کر پڑھنا 26
حروف مدہ کو گرا کر پڑھنا 26
تبدیل حرف بحرف 27
حرکات کو بڑھا کر پڑھنا 29
حرکات و سکنات کی تبدیلی 30
لحن جلی و خفی کا حکم 30
واجب شرعی 31
واجب اصطلاحی 31
غلط پڑھنے سےبچنے کا طریقہ 32
تجوید کی تعریف 33
تجوید کا موضوع 35
تجوید کی غرض و غایت 35
تجوید کا ثمرہ یا فائدہ 35
تجوید کی فضیلت 36
تجوید کی دیگر علوم سے نسبت 36
تجوید کا حکم 36
تجوید کے ارکان 37
حصول تجوید کا صحیح طریقہ 37
تجوید ہم تک کیسے پہنچا؟ 38
میری روایت حفص کی اسناد 38
تجوید کی تدوین اور واضعین علم تجوید 41
من حیث القواعد 42
تجوید کی اہمیت 46
اہمیت و فرضیت تجوید مبارکہ کی روشنی میں 49
اہمیت تجوید صحابہ ﷢کی روشنی میں 52
تحسین صوت 61
تحسین صوت سے کیا مراد ہ ؟ 61
تلاوت قرےن میں حسن صورت کی اہمیت 64
لحون 66
منکرین تجوید کے کچھ اعتراضات اور ان کے جوابات 67
کی جمع و تدوین 80
ایک شبہ ارو اس کا رد 81
حکیم کی تحریری حفاظت 82
کاتبین 87
مشہور حفاظ اور قراء اور صحابیات ﷢ 88
دوسرا دور صدیقی ﷢میں کی جمع  و تدوین 89
دستور جمع صدیقی 92
تیسرا دور عثمانی ﷜میں کی جمع و تدوین 95
دستور جمع عثمانی 97
جامع القرآن کون ہے ؟ 97
ایک شبہ اور اس کا جواب 98
پر اعراب ونقاط اور مزید تسہیلی اقدامات 100
مصاحف عثمانیہ کی 104
مصحف مدنی 105
مصحف مکی 106
مصحف شامی 106
مصحف یمنی 107
مصحف بحرین 107
مصحف کوفی 107
مصحف امام 107
تابعین اور تبع تابعین رحمہم میں ممتاز قراء کرام 108
﴿حصہ دوم﴾

تاریخ قرآءت

قرآءت کی لغوی تعریف 111
قرآءت کی اصطلاحی تعریف 112
قرآءت کا موضوع 113
قرآءت کی غرض و غایت 113
قرآءت کا فضل و شرف 113
قرآءت کی دوسرے علوم سے نسبت 114
قرآءت کا ماخذ 114
واضعین فن 114
قرآءت کا استمدار 114
قرآءت کا حکم 115
قرآءت کے 115
قرآءت کے تواتر کی شروط 115
قرآءت کی حقانیت سے متعلق 115
اول اس سے سات مختلف لغات مراد ہیں 126
دوم اس سے مراد اداء کا تغیر و تبدیل مراد ہے 126
(اول) اختلاف اسماء 128
(دوم) وجوہ اعراب کا اختلاف 129
سبعۃ احرف کی نوعیت 130
امت کے لیے سہولت اور آسانی 131
اعجاز قرآنی کے چیلنج میں توسیع 133
و بیان کا تنوع مگر مفہوم متحد 133
کلام کی بلاغت اور اختصار 134
قرآءات کو یاد کرنے میں آسانی 134
شریعہ کے استنباط میں آسانی 135
اجر و ثواب میں زیادتی 136
منکرین قرآءات کے اعتراضات او ران کے جوابات 137
قرآءت کا دارو مدار نقل پر ہے 165
کسی قرآءات کے متواتر یا شاذ معلوم کرنے کا طریقہ 166
ان تین ارکان کی مفصل تشریح و توضیح 168
رکن اول… نحوی وجہ سے موافقت 168
رکن دوم…رسم عثمانی سے مطابقت 169
رکن سوم … قرآءت کا صحیح اور متصل سند سے ہونا 175
قرآءتات متواترہ اور شاذہ میں فرق اور امتیاز کے لیے کچھ اہم 182
قرآءت کے تواتر و عدم تواتر پر مزید ابحاث 196
علامہ ابن حاجب﷫کی رائے 197
علامہ ابن حاجب ﷫کی رائے پر علامہ جزری ﷫کا جواب 197
علامہ جزری﷫ یہ بیان نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں 209
کیا قرآءت خبر واحد کے قبیل سے ہے 217
کرام ﷢ حضرات تابعین ﷭میں سے شیوخ قرآءات 224
صاحب اختیار قرآءات 226
عشرہ ، ان کے راوی اور طریق 228
قرآءت ، روایت اور طریق 232
خلط روایات اور طرق 233
چند مفید اور اصطلاحات 234
خلط فی الاختلاف المرتب 235
خلط فی الروایۃ بالالتزام 235
خلط فی الروایۃ بلا التزام علی حسب التلاوت 235
خلط فی الطریق بالالتزام 235
خلط فی الاقوال والا وجہ 236
خلط فی الطریق بلا التزام 236
اختلاف کی نسبت 236
اختلاف واجب و جائز 237
قرآءات میں کمی واقع ہونے کی وجہ 237
روایات کے کم ہونے کی وجہ 239
اربعہ بعد العشرہ ، ان کے روایین اور طرق 240
موجودہ دور میں قرآءات کی مشہور کتب 241
التیسیر فی القراءات السبع 241
طیبۃ  النشر فی القراءات العشر المتواترہ 242
اتحاف فضلاء البشر فی القراءات الاربع العشر 242
ایک شبہ اور اس کا جواب 243
انکار قرآءت متواترہ کا حکم 245
کچھ ضروری مباحث 248
مصاحف عثمانیہ ’’سبعۃ احرف‘‘ بپر مشتمل ہونے کے ثبوت میں 248
قرآءات سبع بطریق شاطبیہ 259
میری قرآءات عشرہ بطریق طیبہ کی سند 261

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...