تعویذ و گنڈے کی حقیقت

تعویذ و گنڈے کی حقیقت

 

مصنف : شمیم احمد خلیل سلفی

 

صفحات: 40

 

میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی میں ”االتمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور اسلامیہ نے ہر طرح کے تعویذات کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری، لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔ صالحین، حضرات وتابعین، و محدثین کرام اور دیگر اہل کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے۔ زیر کتاب” تعویذ گنڈے کی حقیقت”محترم شمیم احمد خلیل السلفی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد ،مشروع طریقہ علاج اور مسنون اذکار وادعیہ جیسی مباحث کو بیان کیا ہے۔ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے۔ آمین

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...