علوم القرآن فنی فکری اور تاریخی مطالعہ

علوم القرآن فنی فکری اور تاریخی مطالعہ

 

مصنف : پروفیسر ڈاکٹر عبد الراؤف ظفر

 

صفحات: 690

 

علوم القرآن  سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو فہمی میں مدد دیتے ہیں  او رجن  کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا  ہے ۔ ان علوم میں کی کیفیت ،نزولِ قرآن  کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن، تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، قراءات ،محکم ومتشابہ آیات  وغیرہ  ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول  تفسیر  سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن  کے مباحث  کی ابتداء عہد نبوی  اور دورِ سے  ہو چکی  تھی  تاہم  دوسرے علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد  میں ہوا۔ قرآن کریم   کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم کی روشنی میں ہی سمجھا جائے۔علوم قرآن کو    اکثر جامعات و میں  بطور مادہ پڑھا پڑھایا جاتا ہے اوراس کے متعلق عربی  اردو  میں  بیسیوں کتب موجود ہیں ۔ زیر کتاب ’’علوم القرآن :فنی فکری اور تاریخی مطالعہ  ‘‘ پروفیسرڈاکٹر  عبد الرؤف ظفر﷾ (سابق چیئرمین  شعبہ علوم اسلامیہ  سرگودہا یونیورسٹی وجامعہ اسلامیہ بہاولپور) کی تالیف ہے ۔موصوف نے علوم القرآن  کے موضوع پر   کتب  سے بھر پور استفادہ کرکے اسے مرتب کیا ہے  اور  مجید کے متعلق عام معلومات  کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔یہ  کتاب کل سات ابواب پر مشتمل ہے ۔باب اول ’ ا ور متعلقات وحی‘ کے نام سے   ہے جو کہ تین فصلوں پر مشتمل ہے ۔باب دوم ’تدوین علو م القرآن‘ کے نام  ہےاس میں کل دو فصلیں ہیں ۔باب سوم’ قرآن۔ تعارف ومباحث‘‘ کےعنوان سے ہے جوکہ تین فصلوں پر مشتمل ہے ۔باب چہارم’مبادیات قرآن  کےنام سے ہے اس میں چار فصلیں ہیں ۔باب پنجم ’مبادیات تفسیر‘ کے عنوان سے ہےاس میں کل چھ فصلیں ہیں ۔باب ششم’ تفاسیر ومفسرین کا تعارف‘ کےنام سے  ہے۔باب ہفتم’ اور مطالعہ قرآن‘ کے عنوان سے ہے ۔ علوم القرآن  کے موضوع پر تقریبا700 صفحات پر مشتمل یہ ایک ضخیم   کتا ب ہے  اور مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعالیٰ خدمت  قرآن کے سلسلے میں ڈاکٹر  صاحب کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اورانہیں  وعافیت والی  زندگی دے ۔آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 23
باب اول : اورمتعلقات وحی 31
فصل اول : معنی ومفہوم ، ضرورت واہمیت اور ( متلو اورغیر متلو) اقسام 31
کی لغوی تعریف 31
کی اصطلاحی تعریف 31
لفظ کا مختلف معانی میں استعمال 33
کی اقسام 35
کی معروف اقسام 36
جبلی؍طیعی یا فطرتی 37
جزئی 37
شرعی 37
نزول کے بعد آپﷺکی کیفیت 37
کی ضرورت واہمیت ( مختلف سکالز کے نزدیک) 38
اورکشف والہام 55
کشف کی اقسام 56
57
حوالہ جات 58
فصل دوم:نزول کے طریقے 60
(1)صلصلۃ الجرس 60
(2)تمثیل ملک 62
(3)فرشتہ کا اصلی شکل میں آنا 63
(4)رؤیائے صادقہ 63
(5)کلام الہٰی 63
(6)نفث فی الروع 64
حاصل بحث 64
حوالہ جات 66
فصل دوم: پرشبہات واعتراضات و جوابات 67
نزول کے بارےمیں اعتراضات 67
کی حقیقت 72
کےسچ ہونے کے 73
حوالہ جات 76
باب دوم: تدوین علوم القرآن 77
فصل اول: علوم القرآن و تدوین علوم القرآن کا تعارف 77
علوم القرآن کامفہوم 77
علوم القرآن کےاہم عنوانات 77
فوائد علوم القرآن 78
تدوین علوم القرآن کا مفہوم اورمختصر 79
تدوین سے قبل کا عہد 79
تدوین: عہد اور اس کا آغاز 80
دوسری صدی ہجری اورعلوم القرآن کے مباحث کا آغاز 82
تیسری صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 83
چوتھی صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 84
پانچویں صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 85
چھٹی  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 86
ساتویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 87
آٹھویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 88
نویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 89
دسویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 90
گیارہویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 90
بارہویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 90
تیرہویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 91
چودھویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 91
پندرہویں  صدی ہجری کی مشہور کتب علوم القرآن 93
حوالہ جات 96
فصل دوم : برصغیر میں علوم القرآن 97
الفوز الکبیر اورمضامین 97
میں علوم القرآن پر لکھی گئی کتب کااجمالی تعارف 102
علوم القرآن از مولانا 102
مطالعہ از مولانا ندوی ﷫ 102
معارف القرآن از قاضی محمد زاہد الحسینی ﷫ 103
علوم القرآن از ڈاکٹر محمد میاں صدیقی 103
علوم القرآن از علامہ شمس الحق افغانی 103
علوم القرآن از مولانا گوہر رحمٰن﷫ 104
علوم القرآن از مولانا منظور احمد شاہ ﷫ 105
سوالاً جواباً ازمولانا ابونعمان بشیراحمد 106
فہمی کے بنیادی ازحافظ حسن مدنی 106
محاضرات قرآنی از ڈاکٹر 107
تفسیری کا مفہوم اور تقاضے از ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر 108
تفسیرعہد بہ عہد از ڈاکٹر محمدسعد صدیقی 109
برصغیر میں مطالعہ از 110
مفسرین ومحدثین ازافادات : مولانا قاضی زاہدالحسینی 111
اورانگریزی تراجم قرآن، مرتبہ پروفیسر اختر واسع 112
مقدمہ فی از 113
تحریر فی التفسیر ازسرسیداحمدخان 113
وتاریخ ، ڈاکٹر افتخار احمد 113
حوالہ جات 115
باب سوم : قرآن: تعارف ومباحث 117
فصل اول: تعارف 117
لفظ مجید کی لغوی تعریف 117
لفظ مجید کی اصطلاحی تعریف 119
مجید کے نام 119
119
لفظ سورت کی وجہ تسمیہ اور تعریف 121
آیت کےلغوی اور اصطلاحی معنی 122
کی تعداد 123
رکوعات 123
تحریر کے لیے مستعمل اشیاء 125
تسہیل تلاوت کے اقدامات 126
نقطے 126
حرکات 127
احزاب یا منزلیں 127
اجزاء یا پارے 128
اخماس اور اعشار 128
رموز اوقاف 129
کریم کی طباعت 130
مصاحف مبارکہ 131
قراءت اور ان کی تدوین 131
رسم عثمانی کا تعارف 136
حوالہ جات 143
فصل دوم: مباحث قرآنی (1) 147
حفاظت و تدوین 147
حفاظت و تدوین عہد نبویﷺمیں 147
کاتبین کے نام 150
تدوین عہد صدیقی میں 153
تدوین عہد عثمانی میں 159
اعجاز 167
اعجاز کا لغوی مفہوم 167
اعجاز کا اصطلاحی مفہوم 167
قرآنی اصطلاح میں اعجاز کا مفہوم 169
معجزہ ، جادو اور کرامت 172
اورجادو میں فرق 173
اور کرامت میں فرق 173
استدراج 173
نبوت کی علامات 174
کی ضرورت و اہمیت 175
وجوہ اعجاز قرآن ( تاریخی جائزہ ) 177
اعجاز 182
اعجاز القرآن 190
نزول 200
نزول کامفہوم 200
نزول 201
پہلا نزول 202
دوسرا نزول 202
سب سے پہلے نازل ہونےوالی 203
سب سے آخر میں نازل ہونے والی 204
مکی اور مدنی 208
مکی سورتوں کےمضامین اور بنیادی خصائص 201
مدنی سورتوں کےبنیادی اوراہم خصائص 201
مکی ومدنی آیتوں کی خصوصیات 211
نزول کا وقت اور مقام 213
کریم  کاتدریجی نزول 214
ترتیب نزول اورموجودہ ترتیب 216
اسباب نزول 217
اسباب نزول اور 222
سبب نزول اور کا عموم وخصوص 224
سبب نزول اور اختلاف روایات 226
تکرار نزول اور اس کی حقیقت 231
اختلاف قراءت وسبعہ احرف 233
سبع قراءت 233
قراء کرام ﷢ 234
سبعہ احرف 235
سات احرف کی 236
حوالہ جات 239
فصل سوم : مباحث قرآنی (2) 247
ناسخ و منسوخ کامفہوم 247
نسخ کا مفہوم باعتبار قراءت 249
نسخ کی پہچان اور اہمیت 249
ناسخ اور منسوخ کی پہچان کے ذرائع 250
نسخ کے مختلف انداز 253
مقامات نسخ 255
نسخ  اوربدا میں فرق 257
نسخ کی شرائط 258
نسخ 260
منسوخہ کی تعداد 261
نسخ کی اقسام 264
مضامین 268
عقائد ( ایجابی پہلو) 268
عقائد (سلبی پہلو) 269
274
شان نزول 275
قصص 276
امثال 279
اقسام القرآن 280
حوالہ جات 283
باب چہارم :مبادیات ترجمہ 285
فصل اول: تعارف وارتقاء 285
کا مفہوم واقسام 285
کا لفظی 290
کاتفسیری 292
اور تفسیر کے مابین فرق 294
تفسیری کی شرائط 294
و میں فرق 295
ترجمہ کی شرعی حیثیت 296
حوالہ جات 298
فصل دوم: تراجم کا آغاز 299
ابتدائی اردوتراجم 299
برصغیر میں اہم نگاری 300
فتح الرحمٰن کی تدوین 300
کے ترادم کا سنہری دور 301
حوالہ جات 314
فصل سوم : مجید کے تراجم کے چند نمونے 317
فصل چہارم : اور مختلف مکاتیب فکر کے قرآنی تراجم 321
مستشرقین (Orientalist) کے قرآنی تراجم 321
مسلم قرآنی تراجم 325
غیر مسلم تراجم 331
نو مسلم قرآنی تراجم 333
اہل تشیع کے قرآنی تراجم 334
حوالہ جات 335
برصغیر کے مسیحی تراجمہ قرآن ( تعارفی جائزہ ) 336
حوالہ جات 343
باب پنجم ، مبادیات 347
فصل اول : ضرورت 347
مجید اور جدید علوم 356
مجید کےوضاحت طلب مقامات 357
غریب القرآن 358
تفسیر میں احتیاط 359
حوالہ جات 361
فصل دوم: اور تاویل کا مفہوم 364
کے لغوی معنی 364
کا اصطلاحی مفہوم 367
کے لفظ کا  مجید میں استعمال 369
کےلفظ کا میں استعمال 370
تاویل کا لغوی مفہوم 371
تاویل کااصطلاحی مفہوم 372
حوالہ جات 377
فصل سوم : مفسر کے لیے ضروری علوم 379
القرآن بالقرآن 379
رسول ﷺ 380
صحابہ ﷢ 382
کلام 383
مکی اور مدنی کی معرفت 384
اسباب نزول 385
الناسخ و المنسوخ 387
التاریخ 389
تجوید و قراءت 390
المحکم والمتشابہ 392
علم 394
نحو 394
صرف 395
الاشتقاق 395
بلاغت 396
396
حوالہ جات 398
فصل چہارم :مفسر کے و شرائط 401
الاعتقاد 401
حسن نیت 401
نفسانی خواہشات سے پرہیز 402
حسن خلق 402
عملی نمونہ 404
عزت نفس 404
اظہار 406
احترام 406
تفکر و تدبر 407
اندازبیاں 407
حوالہ جات 408
فصل پنجم :تفسیر کی اقسام 409
بالماثور 409
بالرائے 422
حوالہ جات 433
فصل ششم :ابتدائی مکاتب اور مشہور مفسرین کرام 441
مکہ کا تفسیری مکتب 441
سعید بن جبیر 441
مجاہد 443
عکرمہ 444
طاؤس بن کیسان یمانی 446
عطاء بن ابی رباح 447
مدینہ کا مدرسہ 448
ابوالعالیہ 449
زید بن اسلم 450
عراق کامکتب 451
مسروق 452
اسود بن 452
عامر شعبی 453
حسن بصری 454
قتادہ 455
حوالہ جات 457
باب ششم: تفاسیر و مفسرین کا تعارف 459
فصل اول: مشہور تفاسیر ومفسرین کا تعارف 459
تدبر اورتفکر کے ذریعے کرنےوالے مفسرین اوران کی تفسیریں 477
الاحکام کی تفسیریں 500
حوالہ جات 512
فصل دوم: اردوزبان میں مجید کی تفسیریں 515
معروف مفسرین کے نام 553
حوالہ جات 553
فصل سوم : برصغیر مین کا ارتقاء 555
گیسودراز 555
حاجی عبد الوہاب 556
1000ھ سے1130 ھ تک کی تفاسیر کے مفسرین 556
1140ھ تا 1356ھ میں تفاسیر کے مفسرین 557
برصغیر میں تفاسیر 558
باب ہفتم : اورمطالعہ 563
فصل اول : مجید پر کے اعتراضات و جوابات 563
کریم کے کتاب ہونے پر اعتراض اور اس کاجواب 564
حفاظت کریم پر اعتراض اورجواب 570
کتابت کریم پر اعتراض اورجواب 573
کریم میں جدت کا فقدان اور جواب 576
اورالکتاب دوعلیحدہ چیزیں اور جواب 584
کریم کی عربیت پر اعتراض اور جواب 589
قصص اورتاریخی پر اعتراض اور جواب 589
حوالہ جات 591
فصل دوم: علوم القرآن پر کے اعتراضات کا وتنقیدی جائزہ (1) 593
جمع کریم پر اعتراضات اوران کے جوابات 594
معوذتین کی قرآنیت پر اعتراضات اوراس کے جوابات 612
حوالہ جات 617
علوم القرآن پرمستشرقین کے اعتراضات کا وتنقیدی جائزہ (2) 619
اعجاز کریم پر اعتراضات اور جوابات 619
حوالہ جات 626
فصل سوم : کاتصور نسخ 627
نسخ کا مفہوم 627
کیا کے احکامات عارضی ہیں ؟ 633
احکامات میں تعارض 636
اورمصحف میں فرق 643
حوالہ جات 651
فصل چہارم : قرآنیات پر کی مؤلفات کا مختصر تعارف 654
پادری 454
جرمن 655
اٹالوی 659
فرانسیسی  661
برطانوی انگریز  664
امریکی  666
روسی  667
پولینڈی  669
سویڈش  670
پرتگالی  671
ہالینڈی  372
لاطینی  673
کچھ دوسرے  684
عہد حاضر کے  675
حوالہ جات 677
منتخب مصادر ومراجع 679

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply