وجود باری تعالیٰ۔ فلسفہ، سائنس اور مذہب کی روشنی میں

وجود باری تعالیٰ۔ فلسفہ، اور کی روشنی میں

 

مصنف :

 

صفحات: 224

 

وجود باری تعالی فلسفہ، اور تینوں کا موضوع رہا ہے۔ عام طور اصطلاح میں اُس کو الہیات (Theology) کا نام دیا جاتا ہےکہ جس میں کے بارے بحث کی گئی ہو۔ اس کتاب میں ہم نے ومنطق، وکلام اور وروایت کی روشنی میں وجود باری تعالی کے بارے میں بحث کی ہے۔ وجود باری تعالی کے بارے بڑے نظریات (mega theories) چار ہیں۔ نظریہ فیض، نظریہ عرفان،نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق۔ یہ واضح رہے کہ چوتھے نقطہ کو ہم محض اس کی تھیورائزیشن کے عمل کی وجہ سے تھیوری کہہ رہے ہیں کہ اب اس عنوان سے نیچرل اور سوشل سائنسز میں بہت سا اور تحقیقی کام منظم اور مربوط نظریے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے یہ محض تھیوری نہیں بلکہ امر واقعی ہے۔ پہلا اور دوسرا نقطہ نظر فلاسفہ کا ہے کہ جو افلاطونی، نوافلاطونی، مشائین، اشراقین، عرفانیہ اور متعالیہ میں منقسم ہیں۔ افلاطونی اور مشائین کے علاوہ بقیہ کے ساتھ صوفی ہونے کا ٹیگ بھی لگا ہوا ہے دراں حالانکہ یہ صوفی کی بجائے دراصل افلاطونی، مشائی اور نوافلاطونی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی گروہ وجود باری تعالی کے مسئلے میں متقدمین اور محققین صوفیاء پر اعتماد نہیں کر رہا بلکہ صحیح معنوں میں افلاطون (348-424 ق م)، ارسطو (348-424 ق م)اور فلاطینوس (205-270ء) کے رستے پر ہیں۔ تیسرا نقطہ نظر دہریوں اور منکرین خدا (Atheists) کا ہے کہ نیچرل سائنسز کے رستے ماہرین حیاتیات (Biologists) اور ماہرین طبیعیات (Physicists) کی ایک جماعت نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے۔ وجود کے بارے یہ موقف نظریاتی فزکس اور نظریاتی بائیالوجی کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ چوتھا نقطہ نظر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، اربعہ، محدثین عظام، متقدمین صوفیاء اور متکلمین رحمہم کا ہے۔ دوسرے نقطہ نے صرف خالق کے وجود کو حقیقت جبکہ تیسرے نے صرف مخلوق کو حقیقت جانا۔ اور پہلے اور چوتھے نقطہ نظر میں خالق اور مخلوق دونوں کا وجود الگ الگ حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں تین ابواب میں تینوں مکاتب فکر کےچاروں نقطہ ہائے نظر کا عقلی ونقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 4
باب اول: وجود باری تعالیٰ اور و منطق 8
نظریہ فیض 9
نظریہ عرفان 20
نظریہ ارتقاء 26
نظریہ تخلیق 26
وجود کی تعریف 28
وجود کا معنی و مفہوم 30
وجود کا اشتراک 34
وجود مطلق 35
وجود اور موجود کے فرق 43
مراتب و جود 43
وجود اور ماہیت میں فرق 47
معدومم کا حالت عدم میں ثبوت 49
وجود کے کے مآخذ 52
وجود کا 55
وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا فرق 58
اصل سوال کیا ہے؟ 62
باب دوم: وجود باری تعالیٰ اور سائنسی 69
نظریہ انفجار عظیم (Big Bang) 71
نظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) 83
اور 85
دہریت اور الحاد (Atheism) 89
ملحدین کی عملی 89
ملحدین کے مذہبی رویے 91
کی اقسام اور اسباب 93
کا رد 95
کا علاج 97
’’سائنس‘‘ اور فلاسفی آف سائنس‘‘ میں فرق 103
مذہبی معتقدات اور سائنسی 104
مذہب، اور سوال 109
فوسلز ریکارڈ 113
شبہے کا پہو 110
کے وجود کے 116
خلاصہ کلام 131
باب سوم: وجود باری تعالیٰ اور و کلام 134
قدیم کی 136
وجود باری تعالیٰ کے تعارف کے مصادر اور مآخذ 143
اسماء صفات باری تعالیٰ کے بارے میں فلسفیانہ اور کلامی نقطہ ہائے 144
تنزیہ میں غلو 145
تشبیہ میں غلو 145
اسماء و صفات باری تعالیٰ 154
صالحین اور اربعہ کے عقیدہ کے عقلی و منطقی 164
معنی اور کیفیت میں فرق کی بحث اور تجسیم کا طعن 167
کہاں ہے؟ 171
عرش کہاں ہے؟ 189
آسمان کہاں ہے؟ 191
صفت علو اور سائنسی اعتراضات 193
عزہ و جل کے وجود کا ہر جگہ ہونا 197
اور میں اختلاف 201
مصادر و مراجع 206

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...