اعجاز حدیث

اعجاز

 

مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

 

صفحات: 346

 

تعالیٰ نے بنی نوع ِ کی رشد وہدایت کے لیے ورسل کو اس میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔ اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت کرام ،تابعین عظام اور ائمہ رسول ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد ہی میں نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی کاانکار کردے تو کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ سے نکلنے لگی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار کے رد میں صحافتی بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر کتاب’’اعجاز حدیث ‘‘ کے معروف عالم مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے سےثابت کیا ہے کہ مجید کے اور کی زندگی کے تمام دین ودنیا کے کام صرف ہی کی روشنی میں انجام پاتےہیں۔ مومن پیدائش سے لے کر تادم واپسیں حدیث ہی کی آغوش میں ہے او رکسی کو اس کی ضرورت ،حجیت اورخاتمیت سے انکار نہیں ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
آغاز کلام 13
کی ہدایت کے لیے 14
کی پیشوائی 15
اٹھارہ  پیغمبروں کو ہدایت 16
ہدایت خداوندی پر عمل کرنے کا طریقہ 17
حدیثیں سکھاتی ہیں 18
کی وضاحت سے 19
کی وضاحت کرتا ہے 20
خدیث منزل من ہے 23
فعل قول پر مقدم ہے 24
خطبہ رحمت للعالمین ﷺ 27
کی پیدائش 30
بچےکے کان میں اذان 30
دعائےبرکتاور تحنیک 31
عقیقہ ٗبال مونڈنا اور نام رکھنا 31
نا م اچھا رکھیں 32
بچے کا ختنہ کرنا 33
حلال سے بچے کی پرورش 34
نذر لغیر 36
اولاد کی تربیت 37
بچوں کی تادیب 38
اولاد کی تربیت پر حضرت محمد ﷺ کی معیت 39
والدین کی مجرمانہ غفلت 40
تادیب خیرات سے بہتر ہے 40
بیٹی کی تربیت پر بہشت 41
سب سے بہتر گھر 42
اولاد کی 43
ان پڑھ رہنے کا نقصان 44
چادر زہرا بیچ کھانے والے 46
عوام کی بے سے فائدہ 47
مال کھانے کے ہتھکنڈے 47
کے اور برکات 52
مرنے کے بعد کا ثواب 53
صدقہ جاریہ 53
پر رشک کرنا 56
و تدریس کا حکم 58
فقیہہ کا عابد پر مرتبہ 60
نرے عابدوں کی جہالتیں 61
شیخ جلیلانی پر شیطان کا حملہ 62
کی شرافت اور اہمیت 64
اولاد کونمازسکھاؤ 65
سات برس میں کا حکم 66
ترک نمازپر سزا 66
بچوں کو اکٹھا نہ سونے دیں 67
بچوں کو سینمانہ دجانے دیں 67
کی پانچ بنیادیں 69
خداو ندی 70
شرکیہ عقائد والوں کی عبادت برباد 72
لا الہ کی ذمہ داریاں 75
لاالہ الااللہ کا ورد 77
افضل ذکر 78
محمد ﷺ کی رسالت اور عبدیت 81
عبدیت محمدیہ ﷺ 81
رسالت محمدیہ ﷺ 82
رسالت کی ذمہ داریاں 84
فریضئہ 86
ترک پر لرزیں 86
کا طریقہ 88
کی مسنون صورت 91
فریضئہ زکوٰۃ 94
سونے چاندی پر زکوٰۃ 96
سونے اور چاندی کا نصاب 97
اپنی خوشی سے زکوٰۃ دینا 98
اونٹوں کی زکوٰۃ 98
بکریوں کی زکوٰۃ 99
گائے کی زکوٰۃ 100
کھجوروں پر زکوٰۃ 100
شہد کی زکوٰۃ 100
پہنے ہوئے زیور پر زکوٰۃ 100
سونے کے کڑوں کی زکوٰۃ 101
گروہ زناں زکوٰۃ  دو 101
مال میں زکوٰۃ 101
زکوٰۃ کے مصارف 102
کا کو زکوٰۃ دینا 103
کے نور کی پیشوائی 105
فریضہ 105
حدیث کرواتی ہے 106
کے 107
کثرت سوال کی ممانعت 109
عدم ذکر عدم شئی کو لازم ہے 111
بدعات کا نیست و نابود ہونا 111
حضرت انور مولائے کل ہیں 116
مختار کل صرف تعالیٰ ہے 117
مرتبے دیتا ہے 118
گھر سے مرتبے دینے والے 119
آپ مرتبوں کےٰ مالک ہیں 119
حضور ﷺ کو رتبے دینے والا 120
حضور ﷺ کو کے دیئے ہوئے مرتبے 121
مقام خیر الورٰیﷺ 124
گھریلو شان اور رتبوں کی حقیقت 132
احمقوں کا حمق 134
حضور ﷺ حاضر و ناظر ہیں 135
حضور ﷺ حاضر و ناظر نہیں ہیں 136
وماکنت ثاویاً 138
حضور ﷺ غیب جانتے ہیں 140
حضور ﷺ خزانوں کے مالک ہیں 143
وجوب کی شرطیں 146
یہودی یا نصرانی ہو کرمرنا 147
صر ف کی فرضیت 147
رحمت عالم ﷺ کا حجۃ الوداع 148
حضرت انور ﷺ کے حجۃ الوداع کے خطبے 150
رسوم جاہلیت کا خاتمہ 150
اسلامی کا لازوال درس 153
نسب بدلنے والے ملعون ہیں 155
والوں کے لیے حضور ﷺ کی 156
اہل کا مرتبہ 157
مومن کے دل کی کیفیت 157
بدعتی سے محروم ہیں 159
بدعتیں دوزخ کے شعلے ہیں 160
بدعتی جہنم میں جائے گا 161
کی منظوری 162
قرض ادھار برتنے کی چیزوں پر ارشاد 163
عورتوں سے بھلائی کرنے کی تاکید 164
عورت پاؤں کی جوتی 165
جھوٹی قسم کھا کر مال مارنے پر جہنم 166
امانت کی ادائیگی کا حکم 167
حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں  نہ امت ہے 167
کتاب و پر تمام ہوا 167
کی حد بندی 168
کی جان و مال کی حرمت 170
جان و مال کی حرمت پر مزید ارشاد 172
کی جان و مال کا احترام 174
کی عزت و آبرو کی قیمت 175
دھوکا دینا حرام 176
اور ہجرت کا ثواب 177
رنگ نسل اور وطن کے  بتوں کے ٹکڑے 177
سرور دو عالم ﷺ کا پیام آخریں 179
حضور ﷺ کی دعائے الوداع 179
فاطمہ اور صفیہ کو انتباہ 183
العباد کے اہم ارشاد 183
دینا میں کا فیصلہ کر لو 185
مہاجرین اور انصار کو 185
مصیبتوں کے پہا ڑ سہنے والے 189
شدت مرض سے غشی 189
کیا حضور ﷺ مشکل کشا ہیں 190
حضور ﷺ دینا سے رخصت ہو رہے ہیں 191
کتا ب و کو مضبوط پکڑے رہو 192
مسلمانو ہو ش کرو 193
قبر پرستی کی ممانعت 193
سات مشکیں پانی بہاؤ 194
آپ چودہ روز بیمار رہے 196
قبروں کو نہ بناؤ 197
چہر ہ مبارک سے چادر ہٹا کر 198
قبرو ں کو بنانا 198
بنانا بہ تربت کو میری صنم تم 200
روضہ اقدس سے زیادہ عزت والے روضے 202
قبروں کی 203
مزاروں کو عبادت گاہ نہ بناؤ 203
فریب نفس 203
وفات سے تین روز قبل 204
سے حسن ظن 206
امت کے نام آخری پیغام 208
اور عورتوں کی حفاظت 208
رسول رحمت کا آخری کلمہ 209
دست مبارک جھک گیا 210
روزہ کی فرضیت 212
سحری کھانا 214
غیر مقبول 214
مسافر مرضع اور حاملہ 216
توڑنے کا کفارہ 216
بھولے سے کھانا پینا 216
کے متفرق 217
و اخلاق کا درس 220
والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے 220
چغلخوری کی ممانعت 220
دو رخا آدمی 221
شریں سخنی 221
ہمسایہ کو تکلیف نہ دو 221
حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے 222
اخوت اور بھائی بندی 222
کو گالی نہ دو 222
بدترین آدمی 223
بھائی بھائی بن جاؤ 223
ہمیشہ سچ بولو 223
منافق کی تین نشانیاں 223
غصہ پینے والا پہلوان 224
جیا ایمان کی شاخ ہے 224
سلام کو عام کرو 224
تین دن سے زیادہ ناراضی 224
چوسر کھیلنا حرام ہے 225
ایفائے وعدہ اور عذر 225
جمائی کے وقت منہ پر ہاتھ 225
محبت سے آگاہ کرنا 225
حسب نسب پر فخر کی ممانعت 226
نکا ح کا بیان 228
کرنے کا ارشاد 228
دینا کی بہتر متاع 228
اچھی صفات کی عورت 229
عورت نصف ہے 229
کنواری بالغہ کا اذن 229
بلاولی کے نہیں 230
آشکارا کیا جائے 231
خطبہ 231
میں اسراف و بدعات 234
دعوت 234
میں حاضری 235
میاں کے تعلقات 236
عورت سے نرمی کرو 236
ٹیڑھے پن کا مفہوم 237
عورت کو ذلیل و حقیر نہ جانو 238
عورت سے بغض نہ رکھو 239
غلام کی مانند مت مارو 239
بہتر مرد کو ن ہیں 241
کی فرماں برداری 241
کی رضا مندی سے بہشت 242
کے حکم کی بجا آوری 242
سجدہ صرف کے لیے ہے 243
رحمت عالم بعد از بزرگ ہیں 244
کسب حلال کا بیان 246
مال حرام قبول نہیں ہوتا 247
حرام سے پیدا شدہ گوشت 249
تین بد بخت شخص 250

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...