عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست

عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست

 

مصنف : ڈاکٹر قاری محمد طاہر

 

صفحات: 194

 

شریعت کے قوانین انسان کے تمام شعبوں ؛ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سب کو حاوی ہیں، شریعت کے قوانین میں وہ تقسیم نہیں جو آج کی بیشتر حکومتوں کے دستوروں میں پائی جاتی ہے، کہ ایک قسم کو پرسنل لاءیعنی احوالِ شخصیہ کا نام دیا جاتا ہے، جو کسی انسان کی شخصی اور عائلی زندگی سے متعلق ہوتی ہے، اور اس کے متعلق یہ غلط تأثر دیا جاتا ہے کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، اسی تأثر کا یہ اثر ہے کہ آج جن لوگوں کو مسلم دانشور کہا جاتا ہے، وہ یہ کہتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے کہ مذہب میرا اپنا ذاتی معاملہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں چاہوں تواس پر عمل کروں اور چاہوں تو نہ کروں؛ حالاں کہ اُن کی یہ سمجھ غلط ہے؛ کیوں کہ مسلمان کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں شریعتِ اسلامی کا پابند ہے، مختار نہیں۔قرآن وحدیث میں عائلی  مسائل  کی اہمیت  کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے  کہ قرآن کا کثیر حصہ انہی امور سے متعلق ہے  او ر نساء کے نام سے مستقل سورۃ کا نزول اس بات کی علامت ہے کہ خانگی امور ، اسلامی معاشرہ میں بے پناہ اہمیت  کے حامل  ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں عائلی قوانین کی تدوین وتنقید نے سیاسی ، سماجی اور معاشرتی افق پر بہت سے مدوجزر پیدا کئے ۔اسی مدوجزر نے مستقبل میں پاکستان کے معروضی حالات پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر صاحب  کا مقالہ بعنوان ’’ عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست‘‘ انہی نقوش وحالات کی قلمی تصویر ہے ۔جس میں عمل تحقیق  کی  مدد سے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔فاضل مقالہ نگار  نے اس تحقیقی مقالہ میں عائلی قوانین کےارتقاء اور جس پس منظر میں ان قوانین کا نفاذ ہوا ان پر روشنی ڈالی ہے۔اس بارے میں میں موافقانہ اور مخالفانہ کوششوں کابھی سیر حاصل جائزہ پیش کیا ہے ۔ یہ  تحقیقی مقالہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اول عائلی قوانین کی معاشرتی ومعاشی اہمیت پر ہے  جس میں مختلف عنوانات کے تحت قرآنی آیات اور احادیث کوجمع کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں عائلی قوانین کی تدوین کا تذکرہ ہے ۔تیسرا باب طبقاتی ردّ عمل سے متعلق ہے جس میں ملک کے  مختلف طبقوں مثلاً  حکومت  خواتین ، علماء اور دانشورں کے انفرادی اور اجتماعی رد عمل کا جائزہ لیا گی ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ  ان اثرات کا کھوج لگانے کی کوشش بھی گئی ہے  جو معاشرے کےمختلف اطراف وجوانب پر مرتب ہوئے اور ان فقہی مباحث کا تذکرہ بھی ہے جو ان قوانین کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔چوتھے باب میں  ان علمی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے  جو عائلی قوانین کے نتیجہ میں  ظہور پذیر ہوئے  مثلاً  وہ کتب جو علماء اور دانشوروں نےاس سلگتے ہوئے موضوع پر  لکھیں اور وہ مضامین جو اس عنوان کےحوالے سے مختلف علمی جرائد میں وقتاًفوقتا طبع ہوتے رہے۔اور پانچواں باب  عائلی قوانین کے بارے  میں تنقیدی جائزے اور تجزئیے پر مشتمل ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریط(جسٹس خلیل الرحمٰن خان) 7
عائلی قوانین اور پاکستانی معاشرہ(ڈاکٹر محمدرفیق خان) 9
پیش لفظ 13
باب اول :عائلی قوانین کی اہمیت کتاب وسنت کی رو سے 17
نکاح 19
محرمات 20
تعداد ازدواج 21
طلاق 22
طلاق ونکاح 23
حلالہ 23
عدت 24
متنازعہ امور۔ اصلاح احوال 25
یتیم 26
مہر 27
وراثت 29
مال یتیم 31
متفرق احکامات 32
حوالہ جات 35
باب دوم: عائلی قوانین کی تدوین ایک تاریخی جائزہ 37
تدوین قبل از قیام پاکستان 39
تدوین بعد از قیام پاکستان 42
عائلی قوانین کا نفاذ 55
مزاحمتی اقدامات 60
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کا مکتوب صدر مملکت پاکستان کے نام 62
صدر مملکت پاکستان کاجواب 65
حوالہ جات 72
باب سوم۔طبقاتی رد عمل 75
مفتی محمدشفیع کی اصلاحی تجاویز 92
غلام احمد پرویز کی اصلاحی تجاویز 101
سیاسی اثرات 111
معاشرتی اثرات 114
بیگم زری سرفراز کمیشن 122
اسلامی مشاورتی کونسل کی سفارشات 125
حوالہ جات 128
باب چہارم: علمی اثرات دینی اثرات 133
مضامین 143
صحافتی ادارئیے 148
طنزیہ وظریفانہ شاعری 155
حوالہ جات 158
باب پنجم: تحلیلی وتنقیدی تجزیہ 159
تجزیہ 161
تجاویز 173
مراجع ومصادر 178
اعلام 185

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like