الفتح الربانی فقہی ترتیب مسند امام احمد (اردو) جلد۔3

الفتح الربانی فقہی ترتیب مسند امام احمد (اردو) جلد۔3

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 691

 

امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77 سال کی عمر میں 12 ربیع الاول 214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔ (وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ: ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍ 343) امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی۔ یہ سات سو صحابہ کی حدیثوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں روایات کی تعداد چالیس ہزار ہے۔ امام احمد نے اس کو بڑی احتیاط سے مرتب کیا تھا۔ اس لیے اس کا شمار حدیث کی صحیح اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ نے اس کو کتبِ حدیث کے دوسرے درجہ کی کتابوں یعنی سنن ابی داؤد، سنن نسائی اور جامع ترمذی کے ہم پایہ قرار دیا ہے۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔ بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نے اطراف الحدیث کا کام کیا۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے۔ اور شیخ شعیب الارناؤوط نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔ مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’مسند احمد امام احمد بن حنبل‘‘ مسند احمد کا 12 جلدوں پر مشتمل ترجمہ وفوائد ہیں۔ مترجمین میں پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی﷾ (سابق شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور) شیخ الحدیث عباس انجم گوندلوی﷾، ابو القاسم محمد محفوظ اعوان ﷾ کےاسمائےگرامی شامل ہیں۔ تخریج وتحقیق اور شرح کا کام جناب ابو القاسم محمد محفوظ اعوان ﷾ کی کاوش ہے۔ موصوف نے آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں احادیث کی تشریح وتوضیح کی ہے اورمختلف فیہ مسائل میں زیادہ ترصرف راحج قول پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ شرح میں شیخ ناصر البانی ﷫ کے بعض فقہی مباحث بھی موجود ہیں ۔فوائد میں امام البانی ﷫ جیسے محققین پر اعتماد کرتے ہوئے احادیث صحیحہ کاذکر کیاگیا ہے۔ احادیث کی تخریج، صحت وضعف کاحکم لگاتے وقت ’’الموسوعۃ الحدیثیۃ‘‘ کو سامنے رکھاہے۔ اور بعض مقامامات پر حکم لگاتے وقت شیخ البانی کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ کتاب کے آخر میں الف بائی ترتیب کے ساتھ احادیث کے اطراف قلمبند کردئیے گئےہیں۔ تاکہ قارئین آسانی کےساتھ اپنے مقصد تک رسائی حاصل کرسکیں۔ اور اسے شیخ احمد عبدالرحمن البنا کی فقہی ترتیب کے مطابق مرتب کر کے شائع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے مولانا حافظ عبد اللہ رفیق﷾ (شیخ الحدیث جامعہ محمد یہ لوکوورکشاپ، لاہور) کو جنہوں نے اس کتاب پرنظرثانی فرماکر اس میں موجود نقائص کو دور کرنے کی بھر پور سعی کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے جناب شیخ الحدیث ومفتی پاکستان حافظ عبدالستار حماد﷾ کوکہ جنہوں نےاپنی نگرانی میں مسند احمد کا ترجمہ بزبان اردو کروانے کی ذمہ داری لی۔ جو کہ بعد میں یہ سعادت محمد رمضان محمدی صاحب کے حصہ میں آئی جن کی نگرانی میں یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ خراج تحسین کےلائق جناب ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی ﷾ جو دیار غیر میں رہتے ہوئے بھی حدیث رسول کی خدمت میں مصروف کار ہیں۔ دیار غیر میں منہج سلف کی ترجمانی میں ان کا کردار انتہائی نمایاں ہے۔ ایسے ہی ان کےدست راست او رمخلص دوست حافظ حامد محمود خضری﷾ (ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل سائنسز، لاہور) کو اللہ تعالیٰ اجر جزیل عطا فرمائے کہ جن کے علمی تعاون واشراف سے محدثین کی علمی تراث کو بزبان اردو ترجمہ کے ساتھ منصۃ شہود پر لایاجارہا ہے۔ اب تک مختلف موضوعات پر تقریبا 35 کتب مرتب ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ ہم انتہائی مشکور ہیں جناب خضری صاحب کےجن کی کوششوں سے انصار السنۃ، لاہور کی تقریباً تمام مطبوعات ادارہ محدث کی لائبریری کو حاصل ہوئیں۔ یہ ضخیم کتاب بھی انہی کے تعاون سے میسر ہوئی ہے جسے افادۂ عام کے لیے ہم نے ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو منظر عام پرلانے میں شامل تمام افرادکی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
یہ ب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے
اوراس بارے میں کہ نماز ترایح سنت ہے واجب نہیں ہے 21
نماز تروایح کےسبب اوراس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کابیان 22
اس کی دلیل کابیان جویہ کہتاہے کہ گھر میں تراویح ادا کرناافضل ہے 30
اس کی دلیل کابیان جو یہ کہتاہاے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے 31
چاشت کی نما ز کے بارے میں ابواب
صلوۃ الضحیٰ کی فضیلت اوراس کے حکم کابیان 41
صلوۃ الضحیٰ کےوقت اوراس کے باجماعت اداکرنے کے جواز کے بارے میں بیان 44
صلوۃ الضحیٰ میں صحابہ کے اختلاف کا بین اس میں کئی فصلیں ہیں 46
فصل اول: ان روایات کے بارے میں جو اس ضمن صحابہ سے مروی ہیں 46
فصل ثانی : ان روایات کے بارے میں جو اس مسئلے میں انس بن مالک ﷜ سے بیان کی گئی ہیں 49
(فصل ثالث) ان روایات کے بارے میں جواس مسئل میں ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے منقول ہیں 50
وضوکے بعد نماز پڑھنے کابیان 52
تحیہ المسجد کابیان 54
نماز استخارہ کابیان 55
جوشخص شادی کاارادہ رکھتاہے اس کے لیے استخارہ کرنے کے بیان میں فصل 57
سفرکی نماز ’آداب اوراذکار اوراس سے متعلقہ دوسرے امور کابیان
سفر کی فضیلت اس پر آمادہ کرنے اوراس کے بعض آداب کابیان 58
سفر کے لیے افضل دن اور مسافر کوالوداع کہنے اوراس کو وصیت کرنے اوراس کے لیے دعا کاکرنے کابیان 62
سفرمیں ساتھی بنانے اوراس کے سبب کابیان 64
سواری پر سوار ہوتے وقت اوراس کوٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیز سواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان 69
دشمن کے علاقے کی طرف سفر وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کابیان 75
ان اذکار کابیان جومسافر سفر کے اردے کے وقت دوران سفر کہیں اترتے وقت اوراپنے وطن کوواپس ہوتے ہوئے کہتاہے 76
مسافرکے سفر سے لوٹتے کے آداب اوراس کارات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اورواپس آکر دورکعتیں پڑھنے کابیان 80
جس عورت کاخاوند غائب ہواس پ رمرد کے داخل ہونے کی ممانعت اس کاسبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کابیان 84
عورتوں کے سفر کرنے ان کے ساتھ نرمی کرنے سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اورمحرم کے بغیر ان کاسفر نہ کرنے کابیان 86
سفری نماز کے تقرراوراس کے حکم کابیان 90
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرے والے کے حکم کابیان مقیم کی اقتدامیں مسافر کانماز پوری پڑھنا اورکیا اہل مکہ منی میں قصر نماز پڑھیں گے 96
قصر نماز کی مدت مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اوراقامت کی نیت نہ کرنے والے کاحکم ان سب امور کابیان 106
اس شخص کابیان جوکسی شہر میں آتاہے اوروہاں پرشادی کرلیتاہے یااس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہےتوجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا 111
دونمازوں کو جمع کرنا
سفر میں نمازوں کوجمع کرنے کی مشروعیت 111
سفر میں دونمازوں کو کسی ایک کے وقت میں جمع کرنے کابیان اس میں کئی فصلیں ہیں 116
فصل اول : ظہر وعصر اورمغرب وعشاء کوتقدیم وتاخیر کے ساتھ جمع کرکے اداکرنا 116
فصل دوم : ظہر وعصر کوجمع کرکے اداکرنے کابیان 117
فصل سوم : مغرب اورعشاء کوجمع کرکے اداکرنے کابیان 119
مقیم آدمی کابارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کابیان 123
دونمازوں کے درمیان نفلی نماز کے بغیر ایک اذان او راقامت سے جمع کرنے کابیان 126
سفر میں سنن موکدہ کاحکم اوراس کی کئی فصلیں ہیں 129
فصل اول : سفر میں ان کی ادائیگی کے بارے میں روایات 129
فصل دوم: سفر میں رات کووتر اورتہجد کی نماز مستحب ہونے کابیان 131
فصل سوم: ان روایات کے بارے میں جن میں سفر میں نفلی نماز نہ پڑھنا روایات کیا گیاہے 133
مریض کی نماز اوربیٹھ کرنماز پڑھنے کے بارے میں ابواب یہ باب اس شخص کے بارے میں ہےجوبیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پرقدرت نہیں رکھتاوہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے اس کوکھڑا ہوکر نماز پڑھنے والے کی طرح اجرملے گا 134
جوشخص فرض یانفل نماز مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواوربیٹھ کرنماز پڑھے تواس کو کھڑے ہوکرنماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا 139
بغیر کسی عذر کے بیٹھ کرنماز پڑھنے کے جواز کابیان اورنبی کریم ﷺ کے علاوہ کے لیے نمازکے اجر کا آدھا ہونے کابیان 141
نبی کریم ﷺ کابیٹھ کرنفلی نماز اداکرنا 142
اسی باب کی فصل :نبی کریم ﷺ کابیٹھ کرنماز پڑھنے کاصفت 143
نماز باجماعت کے بارے میں ابواب
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کابیان 145
فجر اورعشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کابیان 150
جماعت کے بارے میں تاکید اوراس پرآمادہ کرنے کابیان 153
جماعت بالخصوص عشاء اورفجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کابیان 155
ان عذروں کا بیان جوجماعت سے پیچھے رہنے کوجائز کردیتے ہیں 161
عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات
عورتوں کومسجد میں جانے کے لیے اجازت کابیان 166
جب فتنوں کااندیشہ ہوتوعورتوں کومسجد میں نہ جانے دینے کابیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کابیان 171
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اوراس میں نمازپڑھنے کے آداب کابیان 174
دوروالی مسجد کی اورمسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کابیان 176
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت 178
جوشخص شرعی حکم کے مطابق جماعت کےلیے نکلا لیکن اس سے پہلے نماز پڑھ لی گئی تواس کے لیے اتنا ہی اجر ہوگا جتنااس جماعت کوپانے والے کوملے گا 181
امامت کابیان ’اماموں کی صفات اوران سے متعلقہ مزید احکام
امام کے ضامن ہونے اورفاسق کی امامت کابیان 183
اس کے بیان کہ امامت کازیادہ حق دار کون ہے 186
نابینا آدمی اوربچے کی اورعورت کی عورتوں کی امامت کابیان 191
اس تخفیف کابیان جس کاامام کوحکم دیاگیاہے 194
مقتدیوں کولمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیدنا معاذبن جبل﷜ کا قصہ اورعذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کاجواز 196
رسول اللہ ﷺ کا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کوہلکی نماز پڑھانے کابیان 200
اس امام کے حکم کابیان جس کو دوران نماز یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے 206
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کااور نائب بنانے والے کے آنے کے بعد نائب کامقتد ی بن جانے کاجواز 209
اکیلے آدمی کادوران نماز امامت کی طرف منتقل ہوجانےکے جواز کابیان 212
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے 213
امام کاپہلی رکعت کولمبا کرنے اوراس شخص کاانتظار کرنے کابیان جس کووہ   داخل ہوتا ہوامحسوس کرے تاکہ وہ رکعت پالے 214
اما م مامقتدیوں کوسنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کاجوازکابیان اورامام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کاحکم 215
امام اور ایک مقتد ی کے ساتھ جماعت کامنعقد ہوجانابرابر ہے کہ وہ مقتدی مردہو یا عورت ہویابچہ 216
مقتدیوں سے متعلقہ اوراقتداءکے احکام کے ابواب
امام کی اتباع کے واجب ہونے اوراس سے آگے پڑھ جانے کی ممانعت کابیان 218
مفترض کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز اداکرنا 223
وضوکرنے والے کاتمیم کرنے والے کی اقتداء کرنے کے جواز کابیان 224
مقتدی کاامام کی اقتداء اس حال میں   کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو 225
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کابیٹھے ہوئے امام کی اور کسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کاکھڑے ہونے والے امام کی اقتداکرنے کابیان 226
فاضل کامفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کابیان 227
امام اورمقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اورصفیں بنانے کااحکام
امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کابیان 230
امام کے ساتھ دوآدمیوں کے کھڑے ہونےکابیان 234
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کامقام کابیان 236
امام کامقتدیوں سے اونچا کھڑاہونے اوراس کے برعکس کابیان 238
عقلمند اور سمجھدار لوگوں کاامام کے قریب کھڑ ے ہونے کی مشروعیت کابیان 239
صفوں کودرست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کابیان اوران میں سے سب سے اچھی اورسب سے بری صفوں کابیان 241
پہلی صف کی فضیلت کابیان 254
کیا لوگ امام سے پہلے صفیں بنالیں یانہیں 256
مقتدیوں کاستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کابیان 258
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کانماز پڑھنے کابیان 258
اس شخص کابیان جوصف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کرصف میں مل جائے 261
جماعت کے احکامات کے متعلق بیان
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اورنماز کے نہ ہونے کابیان 263
جس آدمی نے نماز اداکرچکنے کے بعد جماعت کوپالیا تو وہ ان کےساتھ نفلی نماز ادا کرلے 266
مسجد میں دومرتبہ جماعت کرانے کااور حدیث ایک دن میں ایک نماز دومرتبہ نہ پڑھو کابیان 270
جس سے کچھ نماز رہ گئی ہوو ہ کیا کرے اس کابیان 271
نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اوراس کے متعلقات کے ابواب
یوم جمعہ کی فضیلت کابیان 274
فصل ،جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب 279
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اوراس کے وقت کابیان 282
جمعہ کی فرضیت اوراس کو ترک کرنے پر تشدید کابیان نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے 288
عذر کے بغیر جمعہ چھوڑنے والے کے کفارہ کابیان 299
عیدیابارس کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کابیان 300
جمعہ کےوقت کابیان 301
جمعہ کے لیے غسل کرنے اچھے کپڑے پہن کرخوبصورتی اختیار کرنے اورخوشبولگانے کابیان 305
جمعہ کے لیے جلدی جانے پیدل چل کرجانے نہ کہ سواری پر امام کے قریب ہوکربیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کابیان 313
جمعہ کے لیے مسجد میں بیٹھنے اوراس کے آداب اورکسی ضرورت کے بغیر لوگوں کے کندھے پھلانگنے کی ممانعت کابیان 319
خطیب کے منبر پرچڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کابیان اوراس چیز کابیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے توآنے والادورکعت تحیہ المسجد پڑھےگا 321
جمعہ کی اذان کابیان جب خطیب منبر پربیٹھ جائے نیز اس چیز کابیان کہ عہد نبوی میں کیساتھا 324
دوخطبوں ان کی کیفیات اورآداب اوران کے درمیان بیٹھنے کابیان 327
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کابات کرنے کی رخصت اورکسی معاملے کے وقع ہوجانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کردینے کابیان 334
جولوگ خطبہ جمعہ کے دوران نبی کریم ﷺ سے بھاگ گئے تھے ان کے قصے کابیان 338
دورکعت نماز جمعہ ہونے کابیان اس آدمی کاحکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یاہجوم کردیا جائے اورجمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے کابیان 340
نماز جمعہ میں قراءت کابیان 342
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اوران کی فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کابیان حتی کہ نمازی کسی سے کلا م کرلے یاوہاں سے نکل جائے 344
عیدین اوران کے متعلقہ امور مثلانماز وغیرہ کے ابواب
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب ان کے لیے غسل اورتجمل کے مستحب ہونے اورواپسی پر راستہ تبدیل کرنے کابیان 346
عورتوں کاعیدین کاطرف جانے کی مشروعیت 348
عیدالفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کامستحب ہونا نہ کہ عید الاضحیٰ میں اوران دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کابیان 350
خطبہ سے قبل اذان واقامت کے بغیر نماز عید کےدورکعت کے ہونے کااور عید گاہ میں اما م کے سامنے سترہ رکھنے کابیان 352
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یانیز ہ گاڑھنے کابیان 356
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کابیان 357
عیدین میں قراءت کابیان .359
عیدین کے خطبہ اوراس کےاحکامات کابیان اورعورتوں کووعظ کرنے اوران کوصدقہ کرنے پرابھانے کابیان 360
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کالوگوں کے سامنے کھڑاہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کابیان 367
عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھنے کابیان 368
عید کے دن بجانے اورکھیلنے کابیان 369
عیدین دس دنوں اورایام تشریق میں ذکر کرنے اطاعت کے کام کرنے اورتکبیر ات کہنے پرابھارنے کابیان 373
نمازکسوف کے ابواب
کسوف کےلیے نماز کی مشروعیت اوراس کے لیے   بلانے کی کیفیت کابیان 377
نماز کسوف میں قراءت اور اس کے جہر ی یاسری ہونے کابیان 383
اس شخص کابیان جویہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دررکعتیں (دوسری نمازوں کی )عام رکعات کی طرح ہوں گی 385
اس شخص کابیان جوگرہن والامعاملہ صاف ہونے تک دودورکعت کرکے نماز کسوف ادا کرتا رہتاہے 392
اس شخص کابیان جس نے روایت کیا ہے کہ نماز کسوف دورکعتیں ہیں اورہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز ا س نماز کو مسجد میں باجماعت اداکرنے اورمطول ومختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کابیان 392
اس شخص کابیان جویہ روایت کرتاہے کہ یہ دورکعت نماز ہے اور ہررکعت میں تین رکوع ہیں 399
فصل :اس شخص کابیان جو یہ نماز دورکعت پڑھتاہے پہلی میں تین رکوع کرتاہے اتنے میں سورج صاف ہوجاتاہے اس لیے دوسری رکعت ایک رکوع کے ساتھ اداکرلیتاہے 402
اس شخص کابیان جویہ روایت کرتاہے کہ یہ نماز کسوف دورکعت ہے اور ہر کعت میں چاررکوع ہیں 403
اس شخص کابیان جویہ روایت بیان کرتاہے کہ یہ نما ز دورکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں 404
نمازکسوف کی طوالیت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کابیان 404
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کابیان 405
فصل :اس موقع پر لوگوں کووعظ کرنے ان کو صدقہ ذکر دعا اورتکبیر کہنے پر ترغیب دلانے کابیان 406

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
18.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like