حیات النساء

النساء

 

مصنف : میاں مسعود احمد بھٹہ

 

صفحات: 829

 

عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے  بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ زیر کتاب” النساء،عورت کی زندگی ” محترم میاں مسعود احمد بھٹہ ایڈوکیٹ کی تصنیف ہےجو تیرہ ابواب پر مشتمل ہے اور زوجیت ومناکحات کے واہلیت زوجیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ اہم موضوعات پر محیط ہے۔ان ابواب میں زوجیت کے مقاصد،اہلیت زوجیت، کی انتظامی حیثیت،اسلامی نکاح کے تقاضے اور طریقہ کار،متعہ کی حرمت ،تعدد ازواج، مہر کی شرعی حیثیت ،نان ونفقہ کا مرد پر لزوم، حلالہ کی لعنت اور عدت کے وغیرہ تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ تعالی سے ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
(ب)
5۔تقوی اور پارسائی اہم ہے 86
مند زو جین 88
7۔ زوجین میں عمروں کافرق 89
8۔کثیر العمری کی قبا حتیں 91
(18) انتخاب شوہر کے لیے انفرا دی معیار 93
1۔ شوہر کے بارےعورتوں کی چھپی خواہشات 96
2۔عورتوں کے پسند یدہ محاسن 99
(19) انتخاب کے لیے معیار 102
1۔ خوش خلق عورت 103
2۔ دوشیز گی اور کنو ارہ پن 104
3۔ شو ہر دیدہ نہ ہو 105
4۔صالح خاندان 107
5۔ حسن و قابلیت کے مقا بل مہر کم ہو 107
6۔ ذہین اور یا فتہ ہو 108
7۔ اولاد جننے کی صلاحیت بہتر ہے 110
8۔ متعد ی بیمار نہ ہو 110
(20) نتیجہ کلام 111
(باب چہارم )
21۔ اور ا س کی فضیلتیں 113
22۔ کے لغوی اور شر عی معنی 115
23۔ نکاح ( عقد) کی فقہی تعریف 118
24۔ کی طبعی اورشر عی ضرورت 120
25۔ میں عورت کا مقام 122
1۔ عورت کی خود مختار حیثیت کا تصور 123
2۔عورت سے مشاورت کی اہمیت 126
3۔ عورت کی اور گواہی 128
4۔ عورت کا شوہر کے مال پر 129
5۔ عورتوں کے مال مردوں کا 130
اور و راثت کا 131
7۔ عورت کے نام کے سا تھ نسبت کا تص 133
26۔ولی کا یہ اور والدین کی اہمیت 133
27۔ کے سماجی اور نفسیاتی فوائد 143
گنا ہ سے بچا تا ہے 144
سکون کا باعث ہے 145
3۔ اولاداور نسب کا تحفظ کرتاہے 146
4۔ شہوت سے حفاظت کرتا ہے 147
5۔محبت اور مو دت کا مو جب ہے 149
6۔گر ہستی کا و جو د قائم کرتا ہے 149
7۔معاشر تی بگاڑ سے تحفظ کر تا ہے 151
سے تنگد ستی کا خاتمہ ممکن ہے 152
28۔نتیجہ کلام 153
(باب پنجم )
29۔شرائط ، ممانعا ت اور محر مات 155
30۔شرا ئط 156
1زوجین ہوں 157
2۔ زوجین عاقل اور بالغ ہو ں 157
3۔ ایجاب و قبول واضح ہو 160
کا حیثیت دائمی ہو 161
5۔اہلت زو جیت و 162
6۔استطا عت و زو جیت 167
بغرض حفاظت ہو عیاشی نہیں 169
31۔نتیجہ کلام 172
32۔ ممانعات 175
1۔نا بالغی کا 175
2۔ بلاحق مہر 177
3۔ نامر د یا عورت سے 178
4۔ ہم جنسیت میں مانع ہے 178
5۔ عدت اور حمل مانع ہے 178
6۔ فاسد شرائط کا تقرر مانع 179
7۔ خطرناک بیماریوں مانع 179
33۔ نتیجہ کلام 180
34۔ محرمات 181
35۔ نبی ﷺ کی ذات کے لیے خاص ا حکامات 183
36۔ مو منو ں کے لیے حرمت کے ا حکامات 185
1۔دائمی حرمت نسب 187
2۔دائمی حرمت رضاعت 189
37۔ حرمت رضاعت کے 189
38۔ لے پالک بچوں کی ر ضاعت کا معا ملہ 191
39۔ حرمت مصاہرت 194
40۔حرمت مصاہرت کے 196
الف) مصاہرت کے تحت دائمی حرمت کے رشتے 197
1۔ سو تیلی ماں سے حرمت 199
2۔ بیٹےکی بیو ی سے حرمت 200
ب) مصاہرت کے تحت عارضی حرمت کے رشتے 200
1۔ جمع بین الا ختین 200
2۔ معتدہ عورت کی حرمت 203
3۔ چار عورتوں سے زائد کی حرمت 204
4۔ منہ بولے یا متبنی رشتوں کی حرمت 206
41۔ حرمت کے دیگر شر عی احکامات 207
1۔زانی اور زانیہ سے کی ممانعت 208
2۔ مشرکوں سے کی ممانعت 212
3۔ زیر سر پرست لڑ کیوں سے نکاذح کی ممانعت 213
4۔ شوہر والی عورتیں حرام ہیں 214
42۔نتیجہ کلام 215
(باب ششم )
43۔ کی فقہی اقسام 217
واجب ، مستحب اور 217
حرام ، باطل اورفاسد 220
حرام 223
44۔ حرام اور فاسد کی اقسام 224
شغار 225
محلل یا حلا لہ 226
باالشر ئط 230
45۔ متعہ 233
46۔متعہ کے لغوی معنی 234
47۔ متعہ کی تعریف 235
48۔ متعہ ہی موقت ہے 235
49۔ متعہ کی ر خصت کا قدیمی نظریہ 238
50۔ متعہ کے میں مخصوص فر قہ کے 240
51۔ متعہ کے مخالفین کے 243
52۔ متعہ کے اہل تشیع کے ہاں 245
53نتیجہ کلام 254
(باب ہفتم )
54۔ نکاح (مسنون ) 255
55۔ قبل از کی معاشر تی ذمہ داریاں 256
1۔ترغیب 257
2۔ خطبہ یا پیغام دینا 260
3۔ نکا ح سے قبل زو جین کا دیکھنا 262
کی تشہیر 267
56۔ کے ا راکین 269
1۔ ایجاب و قبول 270
مہر کاتقر ر قبولیت اورادائیگی کی نسبت 273
کے عاد ل گواہان کی مو جو دگی 274
کے خطبہ 276
5۔ تحریر ی کے شر عی حیثیت 278
6۔ خلوت صیحہ 280
کا طعام 283
57۔ سر انجام دینے کا طریقہ 256
58۔ سے باغی عقائد اور ان کا تدارک 291
59۔ نتیجہ کلام 299
(باب ہشتم )
60۔ کے نتائج اور نفسیا تی 303
61۔ شادسے پہلےوالدین کی ذ مہ داریاں 303
1۔بر وقت شادیاں کریں 304
2۔ مر د کو خو دکفیل بنائیں 305
3۔ لڑکی کو گر ہستی کی تربیت 307
4۔ خاندانوں کے ملاپ کو اہمیت دیں 309
5۔ خو شگوار موسم کا انتخاب کریں 310
62۔ کادن کے انتخاب  کا نظریہ 311
63۔ کے تعین کی مصلحتیں 312
64۔ زوجین کے نفسیاتی کا 315
کی ابتدائی تین سال اہم ہیں 315
2۔عورت کو مر ضی کے بغیر میں نہ رکھیں 318
3۔ عورت کو بسترسے الگ نہ کریں 319
4۔ عورت کے نان  و نفقہ کا تحفظ کریں 320
5۔ دوسری شا دی کے لیے اجازت لینا ا فضل ہے 322
سے پر ہیز کریں 323
65۔ خوشگوار ہستی کے راہنما ا صول 324
1۔ زوجین صابر قنا عت پسند اور محا فظ ہوں 328
2۔ ایک دوسرے کے صنف کی خوا ہش نہ کریں 326
3۔ زوجین ایک دوسرے کی تعظیم کریں 328
4۔بیو ی سے نیک سلو ک کریں 328
5۔ اطاعت و ایثار کا جذ بہ  پیدا کریں 329
6۔غیرت میں اعتدال قا ئم کریں 331
7۔ حسن و محبت سے پیش آئیں 332
8۔ عورتوں کی ضروریات کا خیال رکھیں 333
میں تعاون کریں 334
10۔جنسی تقاضیوں کی پاسداری کریں 335
11۔غلطیوں سے در گزر کریں 336
12۔ امن و سکون کا موجب بنیں 340
13۔ شریک قیمتی ہیں 341
66۔ کے بعد کے معاشرتی معا ملات 342
1۔ مشتر کہ خاندان کے اور 342
2۔ اولاد کا حصول اہم نہیں 349
3۔ معا شی عدم استکام کو ختم کریں 351
4جنسی اور نفسیاتی عدم آ سودگی دور کریں 353
5۔ملازم عورتوں کے اور 357
67۔نتیجہ کلام 362
(باب ہشتم )
68 ۔کثیر الز وجیت کا نظریہ 365
69۔ کثیر الزو جیت کا معاشرت 365
70۔ چار شادیوں کا نظریہ 369
71۔ کثیر الزو جیت مبا ح اور رخصت ہے 373
72۔ کثیر الزوجیت میں ا ستحصال نہیں 376
1۔ یتیم عورتوں کے تحفظات 378
2۔ دکھی انسانیت کا مداوااہم ہے 380
3۔ بے سہار شوہر والی عورتوں کا معاملہ 381
73۔ کثیر الزو جیت کے ناقدین کو جواب 387
74۔ کثیر الزو جیت کی قبا حتیں 390
1۔ عورتوں میں عدل قائم نہیں رکھا جا سکتا 391
2۔ عورتوں کے درمیان عد ل  کیا ہے ؟ 392
3۔ کثیر الزو جیت میں سکو ن نہیں 394
4۔ سو کناپہ عذاب ہے 395
5۔ سو کنا پے میں ختنہ کا رواج 398
6۔ سو کنا پہ نفسیاتی مر ض ہے 399
75۔نبی ْﷺ پر اعترا ضات اور جواب 403
76۔ نتیجہ کلام 412

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
19.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...