حیات سلیمان

سلیمان

 

مصنف :

 

صفحات: 600

 

برصغیر پاک وہند کے معروف نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔ کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ کو جن پر ناز ہے ان میں بھی شامل ہیں۔ انکی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ معارف جاری کیا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سلیمان‘‘ دینیہ کے نصاب میں شامل کتاب ’’ اسلام ‘‘ کے مصنف شاہ معین الدین احمد ندوی﷫ کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتا ب کو نو ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔جس میں انہوں نے سید صاحب کے وطن ، خاندان او رتعلیم، دار المصنفین کاقیام اور اس کے کاموں کا آغاز ، قیام بھوپال ، ہجرت اور قیام اور ان کے ذاتی حالات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے سید سلیمان ندوی ﷫ کی زندگی بھر کے احوال و آثار ، حیات وخدمات کو جاننے کے لیےایک جامع کتاب ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 1
باب اول وطن ،خاندان اورتعلیم 6
وطن 6
نسب وخاندان 7
پیدائش 8
ابتدائی 9
بڑے بھائی کی تربیت میں 9
مولانا اسماعیل شہید کی تقویۃ الایمان 9
خاندان اورگاؤں کی عورتوں کو عقائد صحیح کی تلقین 9
تقویۃ الایمان کااثر 10
خانقاہ پھلواری شریف میں 11
مدرسہ امدایہ دربھنگہ میں 12
ابتدائی اساتذہ 12
پٹنہ میں ندوۃ العلماء کاسالانہ اجلاس 12
اس کی رواسید صاحب کےقلم سے 13
دارالعلوم ندوۃ العلما میں داخلہ 15
وتعلیمی انہاک 17
مولنا فاروق صاحب چریا کوٹی سےاستفادہ 18
مضمون نگاری کا آغاز 19
شعرواداب سےدل چسپی 20
میں قصیدہ 20
ندوۃ مین مولنانا شبلی کی آمد 21
مولانا شبلی سےپہلی ملاقات 23
مولنا شبلی کی شان میں قصیدہ 23
ندوہ کی تعلیمی وترقی 25
مولنا شبلی سےخصوصی استفادہ 26
مضمون نگاری کی مشق 26
مختلف کامطالعہ 27
میں ایک تاریخی تقریر 28
میں کی اشاعت پرفی البدیہہ تقریر 29
مولانا شبلی کاجوش مسرت 30
باب دوم: 30
سےفراغت 30
الندوہ کی سب ایڈیٹری 31
ایڈیٹری کےدور کےبعض 32
دارالعلوم ندوہ میں بحیثیت نائب ادیب کےتقرر 32
دروس الادب اورلغات جدیدکی تالیف 33
شعبہ تصیح اغلاط تاریخی قیام اوراس کی نظامت 33
شعبہ سلام کی نشامت 35
النبی کے اسٹاف میں 35
کانفرنس کےاجلاس بنگلور میں شرکت 36
ایک تاریخی 37
بنگلور 37
کانفرنس 38
میسور 40
نگاری کی تربیت 49
ندوہ کی اسٹرائک 52
الہلال کلکتہ کی مجلس ادارات میں 52
کان پور کی 53
سیدصاحب کاایک پرجوش مضمون 54
اس دور کےچند اورمضامین 55
غیرآئینی خوں بریزی 56
کالج پونہ کی پروفیسری 57
عائشہ اورارض القرآن کی تالیف 59
دارلمصنفین کاابتدائی تخیل 61
ندوہ کے1910ء کےاجلاس تقریر 63
باب سوم 67
دارالمصفین کاقیام اوراس کےکاموں کاآغاز 67
دارالمصفین کےلیے ضروری انتظامات 68
مولانا شبلی کامرض الموت 69
سیدصاحب کی آمد 71
تکمیل کی اوروفات 71
نوحہ استاد 72
دارالمصفین کی تاسیس 75
دارالمصفین کی پہلی سالانہ روداد 77
دارالمصفین کی ضرورت معمار 77
دارالمصفین کےقلم سے 78
ہمارافقرا 78
علوم اسلامیہ کی بقا 79
علوم جدیدہ کےتراجم 80
فقدان رجال 81
دارالمصفین 83
دارالمصفین کےلیے اب تک کیاہوا 84
مجلس اخوان الصفا 84
دارالمصفین کی مجلس کاانتخاب اوراس کےکاموں کاآغاز 86
کالج پونہ سے استفسا 87
ارض القرآن اورمکاتیب شبلی کی اشاعت 89
پریس کاقیام اورمعارف کااجرا 91
معارف کےلیے پہلے نمبر کااداریہ 91
مولوی بشیرالدین مرحوم کی مخالفت 97
دارالمصفین کی تقلید میں بعض اداروں کاقیام 99
دارالمصفین کےکاموں کاخاکہ 99
دارالمصفین کاکتب خانہ 101
بیوت المصفین 102
اورسرمایہ مالی 103
دارالتصیف 105
ارود کی تدوین کی تجویز اوراسکاخاکہ 109
قیدیم اورنادرکتابوں کی تلاش اوران کی اشاعت کی تحریک 122
ہورول سےپہلے ہوم لینگویج 125
مسلمامان ہندکی مذہبی تنظیم 130

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...