حفظ حیا گفتگو اور تحریر

حفظ گفتگو اور تحریر

 

مصنف :

 

صفحات: 61

 

کے دل میں ہر وقت مختلف قسم کے خیالات و جذبات ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔یہی جذبات وخیالات جب کسی کام کا تانا بانا بنتے ہیں تو وہ نیت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اور جب نیت اپنے اعضاء وجوارح کو عملی جامہ پہنانے پر پوری طرح چوکس کر دیتی ہے تو یہ عزم کہلاتا ہے۔اگر انسان کے دل میں خیالات وجذبات ،ایمان اور عمل صالح کے تحت اپنا تانا بانا بنتے اور باہر نکل کر کچھ کرنے کے لئے مچلتے ہیں تو انسان کی سے خیر بھرے الفاظ کا اخراج ہوتا ہے لیکن جب کی دل میں فحش قبیح اور گناہ آلود جذبات وخیالات ابھر رہے ہوتے ہیں تو زبان سے بھی گندے اور گناہ پر مبنی الفاظ نکلتے ہیں۔ نے ہمیں سچی اور اچھی بات کہنے،اور فحش گوئی و بے ہودہ گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ زیر کتاب ’’ حفظ حیا ،گفتگو اور تحریر‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں   نے اپنی گفتگو اور تحریر میں حیاء کی حفاظت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور بے حیائی وفحش گوئی کی مذمت کی ہے۔ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حفظ اور گفتگو 5
اسلوب قرآنی اور 6
رسول اللہﷺ کی گفتگو میں 9
کرام کی گفتگو میں 12
گفتگو میں کن کن مواقع پر 15
گفتگو میں مختلف بیماریوں کا تذکرہ 17
گالی سے بچنا 18
عیب جوئی، غیبت، استہزا اور چغلی سے پرہیز 24
بے لوگوں کا تذکرہ 26
گفتگو میں نا کا بے جا تذکرہ 26
نا کے سامنے شیریں بیانی 30
فحش مذاق کرنا 32
فحش لطیفے 32
حفظ اور تحریر 33
تحریر میں حفظ کیوں۔۔۔۔؟ 35
بے حیائی کی اشاعت 37
میں بگاڑ کے عومل 39
اور حفظ 41
رب کریم کی عائد کردہ سنسر شب 53
استثنائی صورتیں 56
تعلیمی ضرورت 56
علاج کی غرض سے 57
عدالتی کاروائی میں 58

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...