حکمت قرآن

 

مصنف : حمید الدین فراہی

 

صفحات: 127

 

علامہ حمید الدین الفراہی برصغیر پاک و ہند کے ممتاز قرآنی مفسر اور دین کی تعبیر جدید کے بانی تصور کئے جاتے ہیں۔ مولانا فراہی کے صوبہ یوپی (موجودہ اترپردیش) ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں پھریہا میں 18 نومبر 1863ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی حاصل کرنے کے بعد مولانا کی شاگردی اختیار کی۔ مولانا فراہی کی تعلیم کے دو دور ہیں اور ان میں ہر دور اپنی جگہ نمایاں اور مکمل ہے تعلیم کے پہلے دور میں انہوں نے دینی تعلیم کے علاوہ اور مشرقی علوم سیکھے جس کی تکمیل نجی تعلیمی درسگاہوں میں ہوئی دوسرے دور میں انہوں نے انگریزی اور مغربی علوم کی تحصیل کی جس کے لیے انہوں نے سرکاری تعلیم گاہوں میں داخلہ لیا۔ امام حمید الدین فراہی ایک متبحر عالم اور مجتہد فی المذہب تھے آپ گہری علمیت اور بے مثال وسعت نظری کا عجیب وغریب مرقع تھے، زعمائے ملت کی میں مولانا ایک بلند مقام ومرتبہ رکھتے تھے زمانہ طالب ہی میں مولانا کا علمی پایہ مسلم تھا، وفارسی ہی میں وقت کے بڑے بڑے اساتذہ اور ادیب جن سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ فراہی صاحب اپنے دور کے نامور مصنف بھی تھے۔ اردو، عربی وفارسی میں دودرجن سے زیادہ مختلف موضوعات پر کتب تصنیف کیں۔ جن میں سے نظام القرآن اور اقسام القرآن بڑی اہم ہیں۔ موصوف 11 نومبر 1930ء کو اپنے خالق حقیقی سےجاملے۔ زیر کتاب ’’ قرآن‘‘ علامہ حمید الدین فراہی کی دو غیر مطبوعہ کتابوں (حکمۃ القرآن اور النظام فی الدیانۃ الاسلامیۃ) کا ہے۔ حکمۃ القرآن میں انہوں نے بتایا ہے کہ حکمت رسول اللہﷺ کے فرائض کا ایک حصہ ہے۔ حکمت تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور اس کی رحمت کی تکمیل ہے جو شکر کے نتیجہ کے طور پر بندہ کو حاصل ہوتی ہے۔ نیز علامہ فراہی نے اس کتاب میں ان شرائط کی نشاندہی کی ہے جن کے پورا ہونے سے نشو و نما پاتی ہے اور حکمت کا اصل خزانہ مجید ہے۔ کتاب النظام فی الدیانۃ الاسلامیہ میں دین کے بعض اصولی کی وضاحت کی ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 7
مقدمہ :امام فراہی کاتصورحکمت 11
لفظ کےمعنی 12
کی خصوصیات 14
میں کےمفہوم پر اختلاف 15
رسو ل اللہﷺ کےفرائض میں تعلیم 16
تحصیل کی تدابیر 19
کتاب القرآن 20
حصہ اول
باب 1: کامفہوم 25
کےمقامات 26
کی خصوصیات 27
کےدوسرے نام 30
ایمان اصل حکمت   ہے 30
امام شافعی  کےنزدیک کامفہوم 34
باب 2: کی اصل اوراس کی فروع 41
شکر نعمت سےنعمت میں اضافہ ہوتاہے 41
سب سےبڑی نعمت ہے 43
کی نعمت شکر گزار بندوں کوملتی ہے 43
باطل کےوجود کی 46
رحمت کی تکمیل 49
باب 3: کی اوراس کاحصول 51
رسول ﷺ کےفرائض مین تعلیم 51
اہل کی قسمیں 54
کےحصول کےذرائع 55
پانے کےلیے اہلیت ضروری ہے 58
افراد امت کی فرائض نبوی سےمطابقت 60
خلاصہ مباحث 62
باب 4: اورقرآن حکیم 65
اورنظم کاباہم تعلق 65
نظم میں پوشید ہ ہے 67
کی پہچان کاطریقہ 68
فطرت انسانی میں 70
مجید کی کےحجابات 71
باب 5:حکیم کاطرز فکر وتعلیم 71
حکیم کاطرز فکر 75
حکیم کاطریقہ کار 77
تمثیلات کےذریعے تعلیم 78
حکمت اورعمل کی جامع ہے 79
کی نشوونماکی شرائط 81
بالتدریج حاصل ہوتی ہے 84
مسلمانوں کےاولامر کےلیے نظم 85
سےواقف ہوناضروری ہے 85
حصہ دوم
باب :6:دین کانظام 91
نظام کی وحدت 91
کاخالق کامل ہستی ہے 92
نظام کی ضرورت 93
ہدایت وضلالت 95
ابتلاء کی 98
مقصد وکمال سعادت 99
میں تزکیہ اصل مقصود ہے 101
خلق وامر کےنظام میں موافقت کےپہلو 102
فلاسفہ کےعلم کی نارسائی 104
کےاختیار کی 105
باب 7: پر غور کاطریقہ 107
میں عبادت کاتصور 107
میں گمراہی کےداخل ہونےکے اسباب 109
ایک حکیم کامذاہب پر غور کرنےکاطریقہ 110
میں حکیم کی بنائے استدلال 111
باب 8:دین کی بنیادیں 113
تعالی کی معرفت 113
ایمان کے ثمرات 115
کےنظام کی بنیادیں 117
شکر کی حقیقت 118
عدل کی اہمیت 121
شکر کاتقاضا۔ ہدایت کی طلب 122
اعمال کادارومدار نیتوں پر ہے 126

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...