حجیت حدیث (ادارہ محدث)

حجیت حدیث (ادارہ محدث)

 

مصنف :

 

صفحات: 90

 

تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ کی رشد وہدایت کے لیے  ورسل کو اس  میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔ اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے دی ہے ،اسی لیے  تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت کرام ،تابعین عظام اور رسول ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر کتاب ’’حجیت حدیث‘‘  ماضی قریب کے  عظیم  محدث علامہ شیخ  ناصرالدین البانی ﷫ کی  حجیت کے  موضوع پر عربی  کتاب الحديث حجة بنفسه في العقائد والاحكام کا   ہے  ۔اس مختصر کتاب میں   شیخ البانی نے   کتاب وسنت کے واضح سے یہ  ثابت کیا ہے کہ حدیث عقائد اور میں ایک مستقل حجت ہے ۔ پر مشتمل اس اہم کتاب  کا سلیس ورواں ترجمہ  کے معروف اسلامی  سکالر ڈاکٹر حافظ  عبد الرشید اظہر ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور)   نےکیا  اور  تقریبا 23 سال قبل حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ، و مجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور نے اسے شائع کیا۔ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ،ناشرکی  اشاعت کےلیے  کی کئی کوششوں وکاوشوں کوقبول فرمائے  (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
فصل اول کی طرف مراجعت واجب اور اس کی مخالفت حرام ہے 12
اتباع کا حکم سے 12
جملہ امور میں اطاعت رسول کا حکم مبارکہ سے 17
ان و کا منشاء 21
ہر دور میں عقائد و میں کا اتباع لازم ہے 25
متاخرین کے ہاں کی اجنبیت 28
متاخرین کے مزعومہ عقائد جن کی وجہ سے متروک ہوئی 29
فصل دوم رسول پر قیاس کو مقدم کرنا باطل ہے 30
پر قیاس و کی تقدیم کا سبب 32
صحیحہ کی چند مثالیں 34
فصل سوم خبر واحد عقاتد و میں حجت ہے 39
عقائد کے متعلق خبر واحد سے حجیت کے وجوب پر 43
خبر واحد سے عقیدہ ثابت کرتے ہیں 50
بہت سی اخبار آحاد سے و یقین کا افادہ 54
چوتھی فصل تقلید اور اسے و بنانا 63
تقلید کی حقیقت اور اس سے تحذیر 63
صرف اور اس کے رسول کے فرمودات کا نام ہے 70
مقلدین میں اختلاف کی کثرت اور محدثین میں اس کی قلت 79
نئی نسل کے فرائض 85

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4Mb ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply