حجیت حدیث اور انکار حدیث

حجیت اور انکار حدیث

 

مصنف :

 

صفحات: 76

 

انکار اور دراصل دو موضوعات ہیں۔ انکار حدیث سے مراد حدیث کے انکار کا فتنہ ہے کہ جس کی طرف آپ ﷺ ان الفاظ میں اشارہ فرما گئے ہیں کہ میرے بعد ایک شخص پیدا ہو گا جو گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہو گا اور یہ کہے گا کہ مجید کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور جو اس میں حلال ہے، اسے حلال سمجھو۔ اور جو اس میں حرام ہے، اسے حرام قرار دو۔ پس اس کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ لوگوں کو باور کروائے کہ قرآن مجید کے علاوہ تمہیں کسی چیز کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز کو کے رسول ﷺ نے حرام ٹھہرایا ہے تو وہ بھی ویسے ہی حرام ہے جیسا کہ وہ شیء حرام ہے کہ جسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں حرام کہا ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد اورمسند احمد وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت 29 میں اہل کتاب یعنی ونصاری کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس کو حرام نہیں سمجھتے کہ جسے اوراس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہو۔ قرآن مجید کی اس آیت سے واضح طور معلوم ہواکہ کچھ چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا اور کچھ کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔پس اس آیت اور روایت سے معلوم ہوا کہ کے بنیادی مصادر دو ہیں۔ قرآن مجید اور رسول ﷺ۔ اب جن لوگوں نے سنت رسول ﷺ کو کا بنیادی ماخذ ماننے سے انکار کر دیا تو وہ منکرین کہلائے اور ان کا یہ رویہ انکار حدیث کہلاتا ہے۔ پس اس امت میں کچھ لوگ تو ایسے ہو گزرے کہ جنہوں نے حدیث کا کلیتاً انکار کیا جبکہ کچھ گروہ ایسے بھی پیدا ہوئے کہ جنہوں نے بعض کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ اس کتابچے میں ہم نے دونوں گروہوں کے افکار کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے اگرچہ دونوں کا حکم فرق ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ “انکارِحدیث” اور “ردِ حدیث” میں فرق ہے۔ اگر آپ کے رستے کسی کو ضعیف یا موضوع (fabricated) ثابت ہونے کی وجہ سے مردود (rejected) قرار دے رہے ہیں تو یہ رویہ درست ہے لیکن اگر آپ کی روشنی میں اور محدثین کی تحقیق کے نتیجے میں صحیح ثابت ہو جانے والی کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں تو یہ رویہ انکارِ حدیث کہلاتا ہے۔ انکار حدیث ایک جارحانہ رویہ (aggressive approach) ہے کہ جس میں پہلے سے طے ہوتا ہے کہ ہم نے حدیث کو رد کرنا ہے جبکہ حدیث کا قبول ورد ایک رویہ (academic approach) ہے کہ جس میں اصولِ تحقیق ِ کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کو قبول کیا جائے گا یا رد کیا جائے گا۔ انکارِ حدیث کے جواب میں جو مسلمانوں میں مدون ہوا، وہ کا فن تھا۔ انکارِ حدیث میں حدیث کا انکار کرنے والوں کے کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو حجیت حدیث میں حدیث کے حجت (authority) ہونے کے دعوی کے دلائل کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پس اس کتاب میں حدیث کے بارے ان دونوں پہلوؤں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ جہاں انکارِ حدیث کے دلائل کا تجزیہ کیا گیاہے، وہاں حدیث کی حجیت کے دلائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ انکارِ حدیث سلبی پہلو ہے تو حجیت حدیث ایجابی پہلو ہے۔حجیت حدیث کے پہلو سے زیادہ تر تحقیقی اورفکری جبکہ انکارِ حدیث کے حوالے سے زیادہ تر تنقیدی اور تجزیاتی ابحاث شامل کتاب کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں اس بحث کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ حدیث کی حجیت کس اعتبار سے ہے کہ حدیث تو مقطوع روایات کو بھی کہہ دیتے ہیں اور حدیث تو کے بیان کو بھی شامل ہے اور حدیث تو غیر معمول بہ بھی ہوتی ہے وغیرہ

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمه 9
مجيد کی روایات 14
کتاب وسنت کاباہمی تعلق 16
مجید کی حفاظت کااصل ذریعہ کتابت یاحفظ؟ 18
اورحدیث میں فرق 20
تواتر عملی کی سند کہاں ہے 23
کیااللہ کادین صحیح اورضعیف ہوسکتاہے ؟ 24
عہد نبوی اورعہد میں کی کتابت 25
امام ابوحنیفہ ﷫ کاحجیت اورآثار کےبارےمیں موقف 28
خبرواحد سےدین کاقطعی ثابت ہوتاہے 29
سےثابت شدہ عقیدہ قطعی ہےیاظین 39
کی درایتی 41
ایک ملحد سےاحادیث کےمعانی پر مکالمہ 43
منکرین کی شطحیات 45
کےبارے صاحب کامغالطے 47
کتب میں شعیہ راویوں سےروایت 53
انکارحدیث کیاہے . 54
کے قلمی نسخے 55
کاقدیم ترین نسخہ 56
سے رسول ﷺ کےنام پر بغض رکھنےوالوں کی خدمت میں 59
کامقام علمائے کی نظرمیں 59
کیاصحیح منزل من ہےکہ اس میں کوئی غلطی نہیں 60
کےوقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر 62
حضرت عائشہ ؓکی عمر پر تحقیقی نظرازسید سلیمان ندوی﷫ 64
حدیثوں پر غیرت اوران کاانکار 65
لڑکی کی رضامندی کی قانونی عمر 67
شکریہ قاری حنیف ڈارصاحب 68
بکری کےقرآن مجید کی کھاجانے کی روایت 69
رضاعت کبیرکےبارے میں روایات کی 70
غزوہ احدمیں کےرسول اللہ ﷺ کےدندان مبارک کاشہید ہونا 72
چچا،پھوپھی ،موموں اورخالہ کی بیٹی سے 74
خلاصہ کلام 76
مصادر ومراجع 80

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...