حرمت سود

حرمت

 

مصنف : محمد

 

صفحات: 67

 

کو عربی میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔” جولوگ کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر کتاب” حرمت سود ” کے مشہور فقیہ اور استاذ ابو زہرہ  کی  کتاب کا ہے۔اور ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی کاندھلوی نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
یہودی اور میں کی حرمت 7
کے بارے میں فلاسفر کی آراء 11
مغرب میں کا فروغ 13
غبار 16
اور حرمت 20
نبوی اور حرمت 25
ربا نسیہ اور ربا بیوع میں تفریق کی اہمیت 29
بیع عینہ کا حیلہ 34
مسلم اور ربا 36
ربا کے مفہوم کے غیر متعین ہونے کا دعویٰ 37
یہ دعویٰ کہ پیداواری قرض پر حرام نہیں ہے 39
تاخیر کے ساتھ ادائیگی کی فروخت کی قیمت کے فوری ادائیگی کی قیمت سے زائد ہونے سے استدلال 43
نظریہ ضرورت 45
ربا میں کوئی مصلحت نہیں ہے 51
ربا بیوع جس کی حرمت سے ثابت ہے 55
ان بیوع کی تحریم کی 61

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...