امام اہل سنت احمد بن حنبل ؒ علیہ کا دور ابتلاء

امام اہل احمد بن حنبل ؒ علیہ کا دور ابتلاء

 

مصنف : ابو عبد حنبل بن اسحاق بن حنبل

 

صفحات: 131

 

امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ ابتدائی حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار ہیں۔  خلق قرآن  میں  خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ   کی  جنازہ پڑھی۔ زیر کتاب ’’ امام اہل احمد بن حنبل   کادور ابتلاء‘‘  امام احمد بن حنبل  کے چچا زاد بھائی  ابو عبداللہ  حنبل بن اسحاق بن حنبل کی  تصنیف  ’’ذکر محنۃ الامام احمد بن حنبل‘‘ کا ہے ۔جس میں انہوں نے  امام   صاحب کے  تمام کو  سند  کےساتھ جمع کیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد نعش (استاد  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ )  نے اصل کتاب کا مسودہ  تلاش کرکے اس پر محنت کی اور نہایت عرق ریزی اور چھان بین کے بعد اس کو طباعت کی منزل تک پہنچایا اور کتاب کے شروع میں انہوں نے  امام  صاحب کے دورِابتلاء پر مختصر مگر جامع مقدمہ تحریر  کیا جس  سےاصل کتاب کی جانب راہنمائی ملتی ہے ۔کتاب   کو قالب میں  ڈھالنے کا کام   مولانا محمد صادق خلیل﷫ نے  انجام دیا۔اس کتاب کے مطالعہ سے  امام احمد بن حنبل   کی عظمت ِشان او ران کی کےساتھ والہانہ محبت  کا اندازہ  ہوتا ہے  کہ کس طرح آپ نے سنت کے احیاء کےلیے  اپنے آپ کو  تکالیف  کے سپرد کردیا۔ تعالیٰ تمام اہل کو  حق پر قائم  رہنے اور رسول  ﷺ کے    مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق عطاء فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ ازمترجم 5
تعارف 17
مقدمہ ( ڈاکٹر محمدنغش مصری ) 21
پہلا باب
امام احمد بن حنبل  کو بیڑیاں پہنائی گئیں 23
 معتصم کےعہد میں ان پر ظلم وستم کی داستان 24
ایک جلاد کا بیان 26
میں نفیسہ کا جواز 26
امام احمد کاعفو در گزر 27
امام احمد متوکل کےعہد میں 28
امام احمد کا زہد و ورع 29
بن امام احمدکا بیان 30
امام کےبھنور میں 31
دوسرا باب
امام احمدبن حنبل کی 33
پیدائش 33
حلیہ 34
طلب 34
طلب کے لیے کرنا 35
تلامذہ 35
تالیفات 35
امام احمد کی جلالت 36
امام شافعی کا قول 36
امام ابو مہر کا قول 36
قتیبہ کاقول 37
اولاد 37
وفات 37
ورکانی کا بیان 37
امام احمد کے اخلاق کا دھودلا سا تصور 37
وہ کے شیدائی تھے 38
حلم 39
استغناء 40
زہد و ورع 40
جو د و سخا 41
ایک واقعہ 41
ابو سمسار کاقول 42
ایک سوال 42
تواضع ، انکسار 43
عزلت نشیبی 43
خلاصہ 45
امام احمد پر روا رکھے گئے مظالم 46
قاضی شریح کابیان 50
امام احمد کومامون کی  طرف روانہ کرنا 51
محمد بن نوح کا امام احمد کو وعظ کرنا 52
ماموں کی  وفات 52
بغداد کی جانب روانگی 53
کی حالت میں بھی بیڑیاں نہ کھولی جائیں 54
امام احمد سے اسحاق بن ابراہیم کا وعظ 58
وفد عبدالقیس کی 60
برغوث کے ہفوات 74
کا کلام ہے 74
ارشاد نبوی 81
زخموں کےلیے مرہم تیار کی گئی 87
کرام ‎ؓ ؓ پر مظالم 88
عفان ، بشیر الولید قواریری وغیرہ کاذکر 92
عباس عنبری اور علی بن مدینی کا ذکر 94
ہارون واثق بن معتصم کے عہد میں امام احمد کے حالات 95
خلق کا واثق کے عہد میں 96
متوکل کےعہد میں امام احمد کےحالات 100
امام کے خلاف غلط الزام 102
اطاعت کےبارے میں چند 104
امام احمد نے سند کے ساتھ حضرت ابو ذرؓ سےروایت کیا 110
امام احمدسند کے ساتھ یحییٰ بن حصین کے دادا سے روایت کرتے ہیں 111
امام احمد سند کے ساتھ امام حصین احمیہ سےروایت کرتے ہیں 112
امام احمد سند کےساتھ ابن عمر ؓ سےروایت کرتے ہیں 113
حضرت خذیفہ ؓ کاقول 116
امام احمد اور ان کے چچا کے درمیان گفتگو 121
امام صاحب کی بیماری 123
امام صاحب کی وفات 124

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...