انسانی دنیا پر مسلمانوں کےعروج وزوال کا اثر

انسانی دنیا پر مسلمانوں کےعروج وزوال کا اثر

 

مصنف :

 

صفحات: 476

 

جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ و بدعات، مظالم و عدم ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر کتاب میں ابوالحسن ندوی ؒ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا  محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
کچھ کتاب کے متعلق 14
مقدمہ 27
بعثت محمدی سے پہلے 37
بعثت محمدی کے بعد 100
مسلمانوں کا دورقیادت 155
مسلمانوں کا تنزل 189
بین الاقوامی سیادت وقیادت مغربی عہداور اس کے اثرات 233
مغربی عہداقتدار میں دنیا کے معنوی خسارے 335
عالم زندگی کے میدان میں 385
خودغرضی اور نفس پرستی کی گنجائش نہیں 418
شہسواری اور فوجی زندگی کی اہمیت 433
اشاریہ 451

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...