انسانیت موت کے دروازے پر

انسانیت کے دروازے پر

 

مصنف : ابو الکلام آزاد

 

صفحات: 179

 

انسانی  زندگی کے آخری لمحات کوزندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس  وقت بچپن سےلے کر اس آخری لمحے کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں ان اعمال کے مناظر کو دیکھ کر کبھی تو بے ساختہ کی سےدررد وعبرت کےچند جملے نکل جاتے ہیں اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسوں  آنکھ سےٹپک پڑتے ہیں ۔کتاب ہذا کے مصنف ابواکلام آزاد کا نام برصغیر کی میں سیاست، اور کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ ایک بلند پایہ ادیب،زیرک سیاستدان اور باعمل مذہبی سکالر اور رہنما تھے۔ ان کے شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ زیر کتاب’’انسانیت کےدروازے پر‘‘ میں انہوں نے انسانی زندگی کی فنا پذیری اور موت کو موضوع بنایا ہے۔انسانیت موت کی دہلیزپر میں انہوں نے انسانی تاریخ کی مشہور شخصیات کی کیفیات اور آخری کلمات بیان کیے ہیں جو انہوں نے مرتے وقت ادا کیے تھے۔موت سے کسی کو مفر نہیں اور کے مطابق ہر جان کو کا ذائقہ چکھنا ہے۔چنانچہ بحیثیت ہم سب کو کی تیاری کرنی چاہیے۔یہ کتاب عالم فانی سےعالم بقاء کےسفر کی دلسوز کہانی اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو  جو اس کا مطالعہ کر ے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف 5
رحلت نبویﷺ 9
وفات صدیقؓ 33
عمر فاروقؓ 41
عثمانؓ 54
مرتضٰیؓ 72
حسین ؓ 83
عمر و بن العاصؓ 131
معاویہ بن ابی سفیانؓ 137
خبیب بن عدیؓ 143
عبد ذو البجادین ؓ 147
عبد بن زبیرؓ 153
عمر بن عبد العزیز 161
172

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...