انسانیت موت کے دروازے پر ( ادارہ اسلامیات )

انسانیت کے دروازے پر ( ادارہ اسلامیات )

 

مصنف : ابو الکلام آزاد

 

صفحات: 249

 

زندگی ایک ہے اور عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔ کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ انسان زندگی کے  آخری لمحات کو زندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اس وقت بچپن سے لے کر آخری لمحہ تک کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں  ان اعمال کے مناظر کودیکھ کر کبھی توبے  ساختہ انسان کی سے درد وعبرت کےچند جملے نکلتے ہیں  اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسو آنکھ سے  ٹپک پڑتے ہیں ۔ کے وقت ایمان  پر ثابت  قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن  اس وقت موحد  ومومن بندہ کے خلاف کا ازلی دشمن شیطان  اسے راہ راست سے ہٹانے سے  برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے  اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں  دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان  اس کے وار سےبچتے ہیں جن  پر اللہ کریم  کے خاص رحمت ہو ۔دنیا کےاس پل  پر سے گزر کر عقبیٰ کی طرف ہر انسان  نےجانا ہے ۔ سے کسی کو مفر نہیں اور کے مطابق ہر جان کو کا ذائقہ چکھنا ہے۔چنانچہ بحیثیت ہم سب کو کی تیاری کرنی چاہیے۔ زیر کتاب’’انسانیت کےدروازے پر‘‘  مولانا ابو الكلام ﷫ کی تصنیف ہے ۔اس  کتاب میں انہوں نے انسانی زندگی کی فنا پذیری اور کو موضوع بنایا ہےاور اس میں اسلامی   کی مشہور شخصیات (  نبی کریم ﷺ،خلفاء اربعہ ،سیدنا حسین،عمروابن العاص،معاویہ بن ابی سفیان ، خبیب بن عدی ، بن زبیر، عبد ذوالبجادین ، عمر بن  عبد العزیز ﷢، حجاج  بن یوسف، ) کی موت  کے وقت کی کیفیات اور ان کے آخری کلمات بیان کیے ہیں جو انہوں نے مرتے وقت ادا کیے تھے۔ یہ کتاب عالم فانی سےعالم بقاء کےسفر کی دلسوز کہانی اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو  جو اس کا مطالعہ کر ے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
نقش آغاز 5
رحلت نبوی ﷺ 8
وفات صدیق﷜ 41
فاروق﷜ 52
عثمان﷜ 70
علی المرتضیٰ﷜ 98
حسین ﷜ 114
عمرو ابن العاص﷜ 186
193
معاویہ بن سفیان ﷜ 201
خبیب بن عدی ﷜ 210
بن ذوالبحادین﷜ 217
بن زبیر ﷜ 232
عمر بن عبد العزیز﷜ 234

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...