اقبال کا فکری نظام اور پاکستان کا تصور

اقبال کا فکری نظام اور کا تصور

 

مصنف : پروفیسر فتح محمد ملک

 

صفحات: 120

مصور پاکستان نے  کا دیکھا اور جنا ح نےمسلمانان برصغیر کے بھر پور تعاون سے اس خواب کوٹھوس تعبیر مہیا کردی۔ قیام کا  بنیادی مقصد مسلمانوں کے کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔قیامِ پاکستان اس طویل جدوجہد کا ثمر ہے جو مسلمانانِ برصغیر نے اپنے علیحدہ قومی تشخص کی حفاظت کے لیے شروع کی۔قیام پاکستان  وتحریک پاکستان میں کی جدوجہد اور بھی ناقابل فراموش ہیں ۔قیام میں علمائے کرام  نے  جومثالی کردار ادا کیا وہ کا سنہری باب  ہے۔لیکن قیام کے متعلق بعض علماء (کا  موقف  عمومی سے مختلف تھا۔زیر کتاب’’ اقبال  کافکری  نظام ور کاتصور ‘‘ ماہر اقبالیات  جناب پروفیسر فتح محمد ملک  کی تصنیف ہے ۔فاضل  مصنف نے اس کتاب میں  تصور پاکستان کو  اقبال کے نظامِ فکر سے مربوط کیا ہے  اور بجا طور پر یہ فیصلہ سنایا ہے کہ پاکستان کی بقا اور ترقی فکرِ اقبال اور پیغام اقبال کی سچی اور دیانت دارانہ تعبیر پر منحصر ہے۔نیز صاحب کتاب  نے اپنے مضبوظ استدلال سے ثابت کیا ہےکہ ابتدا میں ترقی پسندوں کی اقبال ناشناسی کا اصل محرک سیاسی تھا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوگیا ک اقبال کا پین اسلامزم دراصل پین ہیومنزم کی طرف ان کی پیش قدمی ہے اور ان کااسلامزم اپنی میں ہیومنزم ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
چند نئےمباحث 9
ابتدائیہ 10
پیش لفظ: 13
اقبال….مجموعہ اضداد یادانائےراز؟ 17
اقبال،اثبات نبوت اورتصورپاکستان 62
اقبال اورسرزمین 75
اورمولانامدنی 102
پنڈت نہرو 121
اورمولانا آزاد 134
اورمشکلات لاالہ 154
اقبال اورہماری ثقافتی تشکیل نو 168
اقبال اورہماری ادبی تشکیل نو 179
ضمیمہ جات:اقبال اورسرزمین پاکستان (ایک مکالمہ) 210
جھلکیاں ازسلیم احمد 225
قرطبہ ایک سلسلہ خیال کےتعاقب میں 29

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...