اسلام اور بنیادی انسانی حقوق

اور بنیادی انسانی

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد اشرف

 

صفحات: 560

 

دنیا میں نا انصافی‘ ظلم بربریت‘ قتل وغارت‘ استحصال۔ رنگ ونسل‘ قومیت‘ مذہبی منافرت‘ تفرقہ پرستی‘ برتری وتفاخر‘ عدل وانصاف سے اغماض‘ مفاد پرستی اور تمیز بندو آقا کے سبب ہے۔ خالقِ نے بنی نوع میں کوئی تفریق وتمیز روا نہیں رکھی۔ اُس کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں‘ سب کے یکساں ہیں۔ خالقِ کائنات کا کا ازلی وابدی ہے۔اس کی نگاہ میں اگر کوئی فرق وامتیاز ہے تو وہ نیکی وتقوی کا ہے۔ اور انسانی کے حقیقی بردار پیغمبرانِ کرام تھے‘ انہوں نے دوسرے انسانوں کے کے احترام وتحفظ اور اپنے تزکیہ نفس کی تلقین کی۔زیرِ کتاب بھی اسی موضوع پر ہے جس میں  مصنف نے انسانی کو بیان کیا ہے اور اس کتاب کو لکھنے کے تین بنیادی اسباب ہیں۔1: استعمار کے پروردہ مفاد یافتہ طبقات کا حکومت پر متصرف ہونا۔ 2:اُمت مسلمہ کی وتحقیق سے دوری۔ 3: فرقہ واریت‘ عصبیت وتعصبات۔ اس کتاب میں انہوں نے اس غلط فہمی کی بھی مسکت سے تردید کی ہے کہ نے بعض شرائط کے تحت غلامی کو روا رکھا ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے حصہ اول میں سب سے پہلے مقدمہ ہے جس میں کے تمام تر افعال کا شرچشمہ نفس انسانی  کو ثابت کیا گیا ہے باب اول میں وفرائض کی تعریف‘ ریاست کے آغاز وارتقاء نیز قدیم قانونی مجموعہ جات اور مسودہ جات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی بدولت انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے اور باب دوم میں بنیادی حقوق کی مختلف اقسام کو بیان کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کے جدید تصور کو واضح کیا گیا ہے اور مغرب میں اس کے آغاز وارتقاء کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب سوم میں بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق پر بحث کی گئی ہے۔ باب چہارم میں دو فصول ہیں فصل اول میں اسلام کے بارے میں بنیادی امور کی اور فصل دوم میں اسلام کی عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق میں سے نمایاں حقوق کا تذکرہ ہے۔ باب پنجم اسلام اور انسداد غلامی پر مشتمل ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام اور بنیادی انسانی حقوق ‘‘ڈاکٹر حافظ محمد اشرف کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ ہے کہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 1
مقدمہ 1
انسانی سعی وعمل کےبنیادی محرکات 6
تحفظ ذات 6
لاشعوری یاعضویاتی محرکات 7
شعوری یانفسیاتی محرکات 7
محرک ملکیت 8
فوقیت وتغلب 9
جنس وبقاءنوع 9
تحفظ ذات 11
تغلب وتفوق 15
جنس 17
مغربی ماہرین بشریات نقطہ 20
تسویہ 32
33
ہدایت وراہنمائی 34
اعمال افعال انسانی کاحقیقی محرک 41
فکرانسانی کاعظیم ترین مغالطہ 43
اورنفس کی حقیقت وماہیت 50
ایک غلط فہمی کاازالہ 51
انسانی اورنفس انسانی کی حقیقت وماہیت کےحوالہ سےانسانی فکراورقرآنی کامختصرجائزہ 52
کاتصورروح 55
وہ جوانسان میں پھونکی گئی اورپھونکی جاتی ہے 55
سےمرادوحی الہیٰ 55
سےمرادوحی الہیٰ کورسولوں تک پہنچانےپرمامورجلیل القدرفرشتہ بھی ہیں 56
اورنفس انسانی کاتعلق 57
کاتصورنفس 59
نفس انسانی کےاجزاء 61
السمع 62
البصر 62
فرادافندہ 63
لب 63
قلب 64
التفہ 64
الرؤیہ 65
الشعرہ 65
النظر 66
العقل 66
نفس محض منبع شرنہیں ہے 68
کیفیات نفس 72
نفس امارہ 72
نفس لوامہ 73
نفس مطمنہ 73
یعنی لاذات 74
یعنی انا 74
یعنی فوق لانا 74
تزکیہ نفس 75
تزکیہ نفس کامنہج 78
عقائدوایمانیات 79
عبادات 79
80
معاملات 80
امربالمعروف ونہی عن المنکر 80
جہادفی سبیل 80
دعوی مغرب 82
قرآنی موقف 82
بعثت نبوی اورانسانیت کی حالت زار 85
حاصل مطالعہ 93
حوالہ جات 94
باب اول وفرائض 101
ریاست وحکومت کاآغاز 103
سےکیامرادہے؟ 104
دینی نقطہ 111
غیردینی نظریہ 112
قدیم قانونی کامختصرجائزہ 113
موسوی 115
تورات 116
تلمود 116
ہندوریدقانون 117
ضابطہ 118
سائرس اعظم کاضابطہ 119
حوالہ جات 121
باب دوم:بنیادی انسانی 124
اخلاقی 124
قانونی 126
فطری 126
فطری سےفطری کاصدور 127
فطری کاتحفظ بذریعہ معاہدہ عمرانی 128
نظریہ فطری پرمغربی علماءکی تنقید 131
بنیادی انسانی 133
مغرب کادعوی انسانی 137
مغرب میں انسانی کاآغازوارتقاء 138
مغرب میں انسانی کی بازیافت کادوسرامرحلہ 145
مغرب کےتصوربنیادی کاناقدانہ جائزہ 147
فکری بنیادی 147
انسانی کےتحفظات 149

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...