اسلام اور سابقہ ادیان میں ’’ یوم عاشوراء ‘‘ ( کا ثبوت )

اور سابقہ ادیان میں ’’ یوم عاشوراء ‘‘ ( کا ثبوت )

 

مصنف : شعبہ علمی سوال و جواب سائٹ

 

صفحات: 35

 

یومِ عاشورا 10 الحرام کو کہا جاتا ہے۔یوم عاشوراء کا روزہ  گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے؛ کیونکہ فرمان نبوی ﷺ ہےکہ : ’’ مجھے تعالی سے امید ہے کہ یومِ عاشوراء  کا روزہ  گزشتہ  ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ‘‘(صحیح مسلم: 1162) ۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ تشریف لائے، اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ یوم عاشوراء کا رکھتے تھے، تو آپ ﷺ  نے فرمایا: یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: اس لئے کہ یہ خوشی کا دن ہے، اس دن میں تعالی نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی، تو اس خوشی  میں  موسی ﷤ نے روزہ رکھا۔ تو آپ ﷺ  نے فرمایا: میں موسی ﷤کیساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں تو آپ ﷺ  نے خود بھی روزہ رکھا، اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔(صحیح :1865) زیر کتابچہ’’ اور سابقہ ادیان میں یوم عاشوراء کا ثبوت اور  رافضیوں کی طرف س اسے اموی قرار دینے پر ان کی تردید‘‘  جناب عزیز الرحمن  ضیا سنابلی  کی کاوش ہے  جسے انہوں نے’’ سوال وجواب سائٹ ‘‘سے اخذ کر کے مرتب کیا ہے ۔اس میں دلائل  کی روشنی میں  رافضیوں  کےاس دعوہ کی تردید کی گئی ہے کہ بنو امیہ کے کچھ خلفاء نےاسے ماہ میں منتقل کیا ہے۔ تعالیٰ مرتب کی اس کاو ش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کی کا ذریعہ بنائے ۔(آمین)

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...