اسلام کا نظام حکومت اردو ترجمہ احکام السلطانیہ

کا نظام حکومت السلطانیہ

 

مصنف : امام ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب البصری

 

صفحات: 453

 

کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے  حاکمیت کی جان ہے ۔ نظام حکومت کا  مآخذ کاآخری ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے اور تمام بھلائیوں کاحکم  دیتا ہے جو انسان ِ کامل  کو  اللہ تعالیٰ کا نائب بناتا ہے۔ اوراسلام ایک کامل اور مکمل دستور ہے جہاں انفرادی زندگی میں فردکی پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے کا نظامِ وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، کا جس طرح اپنا نظامِ ہے اور اپنے اقتصادی ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ فکر میں اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا  اور اسی کانتیجہ  ہے کہ  ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔ پاک اور نبویہ میں جس طرح اخلاق  اور حسنِ کردار کی موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت، اور حکومت کے بارے  میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر کتا ب’’ کا نظام حکومت‘‘  امام ابو الحسن  الماوردی کی مشہورومعروف کتاب  ’’ الاحکام السلطانیہ ‘‘ کا  اردور ہے پروفیسر ساجد الرحمٰن صدیقی نے اسے  قالب میں منتقل کیا ہے  ۔امام ماوردی  نے اس کتاب کو  بیس ابواب  میں تقسیم کر کے ان میں   حکومت کے خدو خال اور طریقہ کار کو تفصیل سے بیان کیا ہےان  ابواب  میں سے امام ،وزراء ،فوجی سپہ سالاروں ،کوتوالی کا تقرراور عدالت ،اشراف کی دیکھ بھال، نماز ،امارت ،صدقات،جزیہ وخراج کے عائد کرنے کے ضوابط اور دفاتر کا قیام اور ان کے وغیرہ جیسے ابواب قابل ذکر ہیں۔ تعالیٰ  مؤلف،مترجم  وناشرین کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں نظام حکومت جیسی نعمت سے سرفراز فرمائے۔الاحکام السلطانیہ کا ایک ترجمہ  ہے مولوی سید محمد ابراہیم صاحب نے  بھی کیا ہےیہ بھی کتاب وسنت سائٹ پر موجودج ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
9
انتخابی ادارہ 10
امام کے انتخاب کاطریقہ 12
اہل رائے کےفرائض 14
کے لیےموزوں ترین شخص 15
باضابطہ بعیت 16
بیک وقت دوافراد کی 17
امام کی جانشینی کامسئلہ 19
دلی عہدی کےشرائط 20
باپ یابیٹے کی ولی عہدی 21
ولی عہدی کےاحکام 22
حضرت عمرؓ کی رائے 24
شوراکافیصلہ 25
ایک سےزیادہ جانشین نامزدکرنا 27
ترتیب پر عمل 29
اعلان 31
مسلمانوں کاسربراہ خلیفہ 32
خلیفہ کے فرائض 33
امام کےعزل کےاسباب 36
جسمانی نقائص 37
مانع نقائص 37
نقائص جن سےامامت میں کوئی حرج نہیں ہوتا 38
نقائص جن کاحکم مختلف ہے 38
اعضاءکافقدان 39
امام اپنے فرائض منصبی کی تکمیل سےعاجز ہونا 41
امام کےمقررکردہ عہدہ دار 44
وزارت 45
وزارت کی قسمیں 45
وزیرکےاوصاف 46
وزیرکےتقرر کاطریقہ 47
وزیرکےمعنی 50
وزیرکیسےاختیارات 50
وزرات تنقیذ 52
متعددوزراءکاتقرر 56
وزراءکےاختیارات 58
گورنروں کےتقرر
امارت کےشرائط 61
کے اختیارات 62
امارت خاصہ 63
مظالم کےمعاملات 65
کےدیگر اختیارات 65
امارت عامہ کےشرائط 66
امارت استیلاء 67
امیراستیلاءکی ذمہ داری 67
دونوں قسم یک امارت کافرق 69

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...