اسلام میں ربا کے حکم امتناعی کی اہمیت

میں ربا کے حکم امتناعی کی اہمیت

 

مصنف : شیخ عمران نذر حسین

 

صفحات: 82

کو عربی میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔” جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر کتاب” میں ربا کے حکم امتناعی کی اہمیت ” محترم شیخ عمران نذر حسین کی  کتاب کا اردو ہے۔اور ترجمہ محترم ابو عمار سلیم نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 7
دیباچہ 9
تمہید 11
باب اول ربا کی تعریف 21
ربا کی مختلف اقسام 26
بیع موجل پر مزید و ضاحت 28
قرض کی ادائیگی کے وقت کچھ زائد رقم کی ادائیگی 44
کیا مروجہ ربا ہے 45
ہم ربا سے حاصل ہونے والی رقم کا کیا کریں 49
ربا اور نظریہ ضرورت 50
باب دوم ربا کی ممانعت کتنی اہم ہے 53
آخری 55
باب سوئم دنیائے عالم اسلام کے لیے لمحہ فکریہ 69
استفسار 73
ضمیمہ 75

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...