اسلام میں یزید نام کے اکابرین

میں نام کے اکابرین

 

مصنف : نا معلوم

 

صفحات: 123

 

کسی بھی کی  عزت وآبرو کا دفاع کرنا کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص  اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے ، تعالیٰ کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔(ترمذی:1931)اس مبارکہ سے معلوم ہوا  کہ  کسی بھی کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔ بن معاویہ ؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا معاویہ ﷜کے بیٹے ہیں۔بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔یزید بن معاویہ کے متعلق  بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ کے اس لشکر کا سپہ سالار تھا کہ جس نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی تھی اور حدیث میں  اس  لشکر کو مغفور لہم کے لیے پروانہ مغفرت  کی  بشارت سنائی گئی ہے ۔روافض کی  یزید دشمنی ہی کا نتیجہ ہے یا لا کہ امت کے ایک بڑے طبقہ نے یہ سمجھ لیا کہ یزید چونکہ شرابی، جواری اور نعوذ باﷲ زانی تھا، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اﷲ کے رسول کے نواسے حسین بن علی ﷜کا قاتل تھا اس وجہ سے واقعہ کے بعد امت نے اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑدیا۔ یہ بات اس قدر مشہور ہوئی کہ بر صغیر ہندوپاک میں شاید ہی کوئی یزید نام رکھنے کی ہمت کرے۔جبکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے محدثین کے نام تھے جبکہ واقعہ پیش آچکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کر دیا جائے۔ زیر کتاب’’ میں نام کے اکابرین‘‘ میں مرتب  نے کتب اسماء الرجال  وتاریخ  ، کتب  مذہب کے حوالہ جات سے  نام کے ین کو  پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ   یزید نام رکھنے میں کوئی قباحت  نہیں ۔آج بھی بچوں کےنام یزید رکھے جاسکتے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
بن معاویہ 1
نام کی مقبولیت 9
میں نام کےاکابرین 14
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب 19
لسان المیزان 35
میزان الاعتدال فی نقد الرجال 44
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ 70
تقریب التہذیب 94
الاعلام 103

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
18.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...