اسلامی بینکاری وجمہوریت فکری پس منظر اور تنقیدی جائزہ

بینکاری وجمہوریت فکری پس منظر اور تنقیدی جائزہ

 

مصنف : زاہد صدیق مغل

 

صفحات: 333

 

یہ بات ایک بدیہی حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں فکر و سرمایہ داری کا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ فکر اب روبہ زوال ہے ۔ گزشتہ کچھ دہائیوں سے اسے بچانے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ لیکن ہر وہ نظام جو غیرفطری اور غیر حقیقی ہو اسے زوال تو بہر حال آنا ہی ہوتا ہے ۔ اس سب کچھ کے باوجود چند لوگ ابھی بھی اس فکر اور فلسفے کے گن گا رہے ہیں ۔ اور اس کے متوالے ہوئے بیٹھے  ہیں ۔ تاہم کچھ صاحبان حقیقت ایسے بھی ہیں جن کی نگاہ دور رس نے اس کے کھوکھلے پن کا جائزہ لے لیا ہے ۔ اور اس کے بودے پن کو بنیادوں پر واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ زیرنظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ جس میں سرمایہ دارانہ نظام کا معاشی اور سیاسی پہلو سے جائزہ لینے کی کوشش فرمائی ہے ۔ چناچہ وہ لکھتے ہیں کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے مخصوص کے پیش اجتماعی زندگی میں احیائے کی فکری و عملی جدوجہد کو تین عنوانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ پہلا اسلامی دوسرا جمہوریت اور تیسرا اسلامی جبکہ اس کتاب میں انہوں نے اولیں دو کے حوالے سے رقم فرمایا ہے ۔ یہ کتاب راقم کے مختلف کا مجموعہ ہیں جو انہوں نے کے مختلف و دینی جرائد میں وقتا فوقتا اشاعت کے  لیے دیے تھے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
تقدیم از ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری 5
تعارف کتاب از مصنف 12
حصہ اول ۔اسلامی 14
1۔اسلامی وبینکاری یا سرمایہ داری کا جواز 17
2۔سودی بینکاری کے متبادل کا جائزہ 60
بینکاری زاویہ نگاہ کی بحث 103
4۔ کیا بینک کی کاری ممکن ہے؟ 121
حصہ دوم ۔ جمہوریت ، اسلامی ریاستی صف بندی کا ناقص تصور 165
1۔جدید ذہن کے فکری ابہامات کا جائزہ 166
2۔ جمہوریت کے تناظر میں برپا جمہوری جدوجہد کا جائزہ 238
3۔ جمہوریت ۔ حاکمیت عوام کا دھوکہ 263
4۔ کیا فرد کا نجی ہے ؟ سیکولرازم اور ملٹی کلچرل ازم کا جائزہ 304

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
14 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...