اسلامی معاشیات

 

مصنف : عبد الحمید ڈار

 

صفحات: 525

 

ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور کا اسلامی نقطہ سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی میں کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے مثلاً بینکاری کو اسلامی بنیادوں میں کیسے ڈھالا جاسکتا ہے یا موجودہ نظامِ سود کو کیسے تبدیل کیا جائے جس سے سود کے بغیر ادارے، کاروبار اور چلتی رہے۔ معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف (Consumer) یا پیداکار(Producer) اسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برامد ہوں گے۔ معاشی اصولوں پر مبنی بےشمار بنک آج کے دور میں بہترین منافع کے ساتھ مختلف ممالک میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ زیر کتاب “اسلامی معاشیات” پروفیسر عبد الحمید ڈار اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور،پروفیسر محمد عظمت گورنمنٹ کالج لاہور اور پروفیسر میاں محمد اکرم صاحب گورنمنٹ کالج وحدت روڈ لاہور کی مشترکہ کاوش ہے۔ جو ان حضرات نے ایم اے اسلامیات کے طلباء کی ضروریات کو سامنے رکھ کر مرتب کی ہے۔ اور اسلامی کے وضوابط بیان کئے ہیں۔ کے میدان میں یہ ابتدائی مرحلے کاکام ہے، اس لئے فطری طور پر اس کے مباحث میں تنقید وتنقیح کا وسیع امکان موجود ہے۔جس کے لئے اہل کو آگے بڑھنا ہو گا۔ تعالی سے ہے کہ وہ مولفین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حصہ اول
کیا ہے ؟ 1
باب 1
کی نوعیت ووسعت 3
کا معاشی نظام اور اس کے نظریہ کا ایک جزو ہے 3
دو نظریہ ہائے 3
کا معاشی مسئلہ ۔ نظریہ کےتناظر میں 4
کے ماخذ 7
1۔کتاب 7
رسو ل 7
8
کی شکلیں 9
         اجماع 9
     قیاس 9
4۔عرف عام یا رواج 10
5۔ مصلحت 11
کی نوعیت ووسعت 11
کی تعریف 11
بمقابلہ مغربی معاشیات 12
1۔بنیادی مفروضات کا فرق 12
(الف) تصورکائنات 13
(ب) تصور 13
2۔ اخلاقی اقدار کی عمل داری کا فرق 15
3۔ مقاصد کافرق 15
دائرہ بحث کا فرق 16
5۔طریق کا فرق 17
وفن کا فرق 17
7۔شعبہ جاتی اہمیت کا فرق 17
کی ضورت 18
کتابیات 20
باب 2
اخلاقی اقدار اور کا معاشی نظام 21
(i)تقویٰ 22
(ii) 30
(iii)اخوت 33
(iv) عدل 35
(v) معاشی عدل 37
(vi) احسان 41
(vii) تعاون 47
کا تصور 51
دائر میں حلال وحرام کی کارفرمائی 52
صرف دولت ، پیدائش دولت ، تبادلہ دولت ، تقسیم دولت کے شعبہ میں حلال وحرام 56
کتابیات 57
باب 3
کے ارتقاء میں مسلمانوں کا کردار 59
وحدیث 60
وحدیث کی معاشیات کاخلاصہ 62
مفکرین کے کام کامختصر جائزہ 66
کےارتقاء میں مسلمانوں کا حصہ 67
مفکرین اور ان کے معاشی افکار 68
کتابیات 78
حصہ دوم
کا معاشی نظام 81
باب 4
اوردیگر معاشی نظام 83
نظام کامفہوم 83
معاشی نظام کے لوازمات 84
کا معاشی نظام 85
نظام کی فکری بنیادیں 88
نظام کےبنیادی خدوخال 90
2۔سرمایہ دارانہ نظام 96
نظام سرمایہ داری کی فکری بنیادیں 98
خوبیاں 101
خامیاں 101
3۔اشتراکی نظام 104
مفہوم 104
فکری بنیادیں 105
فکری لغزشیں 106
اشتراکی نظام کی خصوصیت 107
نظام اوردیگر معاشی نظاموں کا موازنہ 109
(i) اورسرمایہ داری کا فرق 110
(ii) اور اشتراکی نظام کا فرق 111
اور سرمایہ داری ۔ ایک ہی سکہ کے دو رخ 113
کتابیات 113
حصہ سوم
نظریہ جزوی معاشیات : تناظر میں 115
باب 5
صرف دولت 117
1۔ مفہوم اور اہمیت 117
اور صرف دولت 118
2۔صرف کےاصول 119
3۔ اعتدال 121
4۔ اسلامی میں رویہ صارف کا نظریہ 126
رویہ صارف کا مغربی تصور 126
رویہ صارف کا نقطہ 128
(1) کا تصور 128
(2) کا تصور کامیابی 129
(3) کا تصور کامیابی 130
مسلم صارف کا توازن 131
کتابیات 132
باب 6
اسلامی میں رویہ فرم 133
(الف) اخلاقی اقدار اور رویہ فرم 133
(ب) فرم کی پالیسی کےلیے رہنما 135
(ج) فرم کے لئے محرکات 137
(د) فرم کے مقاصد 140
(ھ) الحسبۃ اور فرم 142
(و) فرم کا رویہ اور منڈی کے مختلف حالات 143
(1) مکمل مقابلہ 143
(2)اجارہ داری 144
(3)چند اجارہ 145
20۔ اور قیمتوں کی میکانیت 146
3۔عادلانہ قیمت کا نظریہ اور 149
4۔تسعیر یعنی قیمتوں پر کنٹرول کامسئلہ 151
کاکاروبار ضابطہ اخلاق 157
کتابیات 157
حصہ چہارم
میں مالیات کی فراہمی کے طریقے 161
باب 7
شراکت ومضاربت 161
(الف) شراکت 159
(i) شراکت کی تعریف 161
(ii) شراکت کاجواز 161
(iii)شراکت کی شرائط 163
(iv)شراکت کی اقسام 163
(v) شراکت کی جدید اقسام 166
(vi) شراکت کے 166
(vii)شرکاء کی ذمہ داریاں اور 167
(viii) شراکت کی مدت 167
(xi)معاہدہ شراکت کی منسوخی 168
(x) شراکت اور صنعتی کاروبار 168
(ب) مضاربت 169
(الف) مضاربت کا مفہوم 169
(ب) تعریف 169
(ج)مضاربت کی صورتیں 170
(د) مضاربت کے بارے میں 170
(ھ) مضاربت کے 172
(و) مضاربت کے ارکان ( معاہدہ) 172
(ذ) شرائط مضاربت 173
(س) مضارت کےحقوق وفرائض 174
(ص) معاہدہ مضاربت کی مدت 175
(ط) نفع و نقصان کےاحکام 175
کتابیات 177
باب8
اسلامی میں مالیات کی فراہمی کےمزید طریقے 179
(الف) بیع مسلم 179
بیع مسلم کے ارکان 181
دور جدید میں بیع مسلم سےاستفادہ 183
(ب) بیع مرابحہ 185
بیع مرابحہ کی شرائط 186
بیع مرابحہ اور ربا میں فرق 187
بیع مرابحہ کےبارے میں فقہاء کی آراء 191
دور جدید میں مرابحہ سے استفادہ 192
پروانہ قرض اور مرابحہ 193
(ج) بیع مئوجل 196
بیع مئوجل کےشرعی 196
(د) اجارہ 201
اجارہ کے قواعد وضوابط 201
اجرت کےمسائل 203
معاہدہ اجارہ کےصحیح ہونےکی شرائط 205
اجارہ کی مدت 206
(7) کرایہ 206
(8) زرعی زمینو ں کا کرایہ 208
(9) اجارہ (کرایہ) اور بنکاری میں اس کا استعمال 208
کتابیات 210
حصہ پنجم
تقسیم دولت : اسلامی میں 211
باب 9
اور تقسیم دولت ( 1) 213
گردش دولت پر کا پرزور استدلال 213
1۔ زمین کا لگان 215
(الف) زرعی زمینوں کو کرایہ یااجارہ پردینے سے متعلق 216
(ب) لگان کی تعریف 216
(ج) کا نظریہ لگان 217
(د) لگان کا تعین 217
(ھ) لگان کاتعین اور ریاست 218
(و) نظریہ لگان کی خصوصیات 221
2۔ منافع 221
(الف) منافع کاجواز 222
(ب) نفع آور کاروبار کی حدود 222
(ج) منافع کی تعریف 224
(د) منافع کےتعین کے 224
3۔ اجرت 226
(الف) اجرت کی تعریف 226
(ب) اجرتوں کے تعین کےنظریات 226
(ج) اجرتوں کاتعین : نقطہ 227
(ھ) اجروں کا معیار 228
(و) کم از کم معیار اجرت 229
4۔محنت کی عظمت 230
(الف) محنت اور سرمایہ کے تعلقات 232
(ب) مزدوروں کےحقوق ( یعنی آجر کےفرائض) 233
(ج) آجر کےحقوق ( یعنی مزدووں کے فرائض ) 235
کتابیات 236
باب 10
اورتقسیم دولت (2) 237
ارتکاز دولت کے خاتمہ کے لیے اقدامات 237
(الف) قانونی اقدامات 237
(1)زکوٰۃ 238
زکوٰۃ کی فرضیت 238
زکوٰۃ کے معنی 239
زکوٰۃ کا مقصد 240
زکوٰۃ کا حکم 240
زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط 240
مصارف زکوٰۃ 241
عشر ۔ زمین کی زکوٰۃ 243
زکوٰۃ اور ٹیکس میں فرق 244
نظام زکوٰۃ کی معاشی اہمیت 244
کا 246
(الف) 246
(ب) 246
(ج) کےاحکام میں 247
(د) مصارف ترکہ کی ترتیب 248
(و) قانو ن کےاہم نکات 249
(ذ) کے دیگر نظام 250
(ر) کی معاشی اہمیت 251
(ب) اختیاری اقدامات 253
(1) صدقات وخیرات 253
(2) انفاق العفو 255
(3) اوقاف 258
موجودہ حالات میں وقف کےادارہ سے استفادہ 260
(4) اتکاز دولت کے خاتمہ کے لیے ریاست کے مزید اقدامات 261
کتابیات 264
حصہ ششم
میں کلی معاشیات کے بنیادی تصورات 265
باب 11
اسلامی میں صرف ،بچت اور سرمایہ کاری کےتفاعل 267
(الف) کلی تفاعل صرف 268
(1) تفاعل صرف روایتی میں 268
(2) تفاعل صرف کومتاثر کرنےوالے عوامل 269
(3) صرف دولت کےمختلف 270
(4)رویہ صارف کےمغربی تصور کی بنیادیں 270
(5)رویہ صارف کا تصور 271
(6)اسلامی میں تفاعل صرف 277
(الف) جزئی میں تفاعل صرف 277
(ب) کلی میں تفاعل صرف 280
(ج) کلی میں صرف کا متحرک ماڈل 281
(د) اسلامی میں مجموعی تفاعل صرف 282
7۔ اسلامی میں تفاعل بچت 283
8۔ بچتیں اور مسلم ممالک میں نظام نفاذ 284
9۔ اسلامی میں سرمایہ کاری 285
کتابیات 288
حصہ ہفتم
زر، بنکاری اور زری پالیسی 289
باب 12
حرمت او رغیر سودی بنکاری 291
حصہ اول
291
(1) کیا ہے 291
(2) کی تعریف 291
(3) اور ربو میں فرق 292
(4) میں ربا یا کی تعریف 292
(5) کی اقسام 293
(6) اور میں فرق 294
(7) نے کیوں حرام قرار دیا ہے ؟ 295
(8) حرمت پر اس قدر زور کیوں؟ 297
(9) حرمت کی اخلاقی اہمیت 299
(10) حرمت کی معاشرتی اہمیت 299
(11) حرمت کی معاشی اہمیت 299
حصہ دوم
بلاسود بنکاری 305
(1)بنک 305
(2) سودی میں بنک کے فرائض 305
(3) اسلامی اور بلاسود بنکاری 307
(4) بلاسود بنکاری کی ضرورت 307
(5) نظام میں بنکاری 307
(6) غیر سودی بنکاری کا ماڈل 308
بنک کا قیام 310
بنک کا کاروبار 311
شرکت ومضاربت کی بنیاد پر سرمایہ کاری 312
بنکاری میں قرض سرمایہ کا استعمال 318
بنک کی طرف سے قرضوں کا اجراء 321
تخلیق زر کا عمل 324
مرکزی بنک 325
حصہ سوم
عملی میدان میں ہونےوالی پیش رفت کا جائزہ 329
میں بلاسود بنکاری 342
بلاسود بنکاری کے مروجہ طریقے 343
کتابیات 345
باب 13
اسلامی اور افراط زر 347
(1)تعریف 347
(2) اقسام 347
(3) اثرات 348
(4) اسباب 348
(5) اسلامی اور افراط زر 350
(6) افراد زر پر قابو پانے کے لئے خصوصی اقدامات 351
(7) قرضوں کی تجدید کے لیے خصوصی اقدامات 354
کتابیات 358
باب 14
خارجہ اور مالیات کی بلاسود فراہمی 359
(1) خارجہ کے لیے مالیات کی فراہمی 359
(الف) درآمدات کا شعبہ 360
(ب) برآمدات کا شعبہ 361
(2) مال کی ترسیل کےبعد 362
کتابیات 363
باب 15
انشورنس : اسلامی میں 365
(1) تعریف 365
(2) بیمہ کی اہمیت 365
(3)انشورنس کاارتقاء 367
(4)انشورنس پر کرام کے اعتراضات 368
(5)انشورنس کا متبادل نظام 370
(6)انشورنس کی مجوزہ تنظیم 372
(7) بیمہ زندگی اور انشورنس کےنجی ادارے 373
کتابیات 374
حصہ ہشتم
زکوٰۃ اور مالیاتی پالیسی 375
باب 16
زکوٰۃ اور مالیاتی پالیسی 377
حصہ اول مالیاتی پالیسی 377
1۔مالیاتی پالیسی کا مفہوم 377
2۔مالیاتی پالیسی کےآلات 378
3۔مالیاتی پالیسی کےمقاصد 378
ریاست اوراس کی مالیاتی پالیسی 378
ریاست کی مالیاتی پالیسی کےمقاصد 378
6۔ زکوٰۃ بطور آلہ مالیاتی پالیسی 380
دولت کی منصفانہ تقسیم 381
افرا ط زر کے بغیر مکمل روزگار کاحصول 381
ذرائع کی تخصیص پر زکوٰۃ کے اثرات 382
استحکام اورزکوٰۃ 383
زکوٰۃ اور صرف 384
زکوٰۃ اور سرمایہ کاری 583
زکوٰۃ اور بچت 387
زکوٰۃ اور معاشی ترقی 388
حصہ دوم : بیت المال 389
تعریف 390
بیت المال ک ذرائع آمدنی 391
بیت المال کےمصارف 394
حصہ سوم: میں ٹیکسوں کا تصور 395
(الف) مکس ،الماکس ،المکاس 396
(ب)خلفاء راشدین کا دور 397
(ج) میں ٹیکس پالیسی کےاصول 398
حصہ چہارم : اسلامی میں سرکاری اخراجات 400
(الف) اسلامی میں سرکاری اخراجات کی نوعیت 401
(ب) سرکاری اخراجات کے 402
ضمیمہ : گزشتہ سالوں میں میں نظام کا جائزہ 405
کتابیات 409
باب 17
ریاست کا معاشی کردار 411
(1)ریاست کامفہوم اورمقاصد 411
(2) ریاست 411
(3) ریاست کا مفہوم 412
(4)مقاصد و 412
(5) ریاست کا معاشی کردار 412
کتابیات 419
حصہ نہم
معاشی ترقی و منصوبہ بندی 421
باب 18
اور معاشی ترقی 423
(1)معاشی ترقی کا مفہوم 423
(2) میں معاشی ترقی کا ترصور 423
(3)اسلامی میں معاشی رتقی 425
(الف) معاشی ترقی کی تعریف 425
(ب) معاشی ترقی کے اہداف 425
(4)اسلامی اور مروجہ معیشت میں ترقی کےتصور کا فرق 427
(5) کی اشاعت کا اہتمام 428
(6)معاشی ترقی کی پیمائش 428
(7) وحدیث میں معاشی جدوجہد اور معاشی ترقی کی ترغیبات 429
(8)اجتماعی معاشی ترقی کی جدوجہد کی ترغیب 431
(9) معاشی ترقی کےبارے میں فقہاء کی آراء 431
(10) کے دور میں معاشی ترقی کے لیے اقدامات 434
کتابیات 435
باب 19
اور معاشی منصوبہ بندی 437
معاشی منصوبہ بندی کی تعریف 437
منصوبہ بندی کے لوازمات 437
منصوبہ بندی کی اقسام 439
میں منصوبہ بندی کی نوعیت 440
منصوبہ بند کی اہمیت 441
منصوبہ بندی کےمقاصد 444
انتخاب مقاصد 445
اہداف 445
عملی 446
کتابیات 448
حصہ دہم
اور نیا عالمی اقتصادی نظام 449
باب 20
اور نیا عالمی اقتصادی نظام 451
(1)بین الاقوامی اوراسلام 451
تجارتی پالیسی 455
(2) اورنیا عالمی اقتصادی نظام 456
عالمی اداروں کی تشکیل نو 457
صنعت کی بہتر تقسیم کار 458
ترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں تک رسائی 458
آج کےدور کا حقیقی چیلنج 460
زندگی کےبارے میں نقطہ 461
نئےنظام کے قیام میں کا کردار 462
کتابیات 465
حصہ یازدہم
میں کواسلامی خطوط پر ڈھالنے کی کوششوں کا جائزہ 467
باب 21
میں کو خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا جائزہ 469
زکوٰۃ و عشر آرڈیننس مجریہ 1980ء 474
کوتاہیاں اور خامیاں 477
کتابیات 478
حصہ با ز دہم
(برائے ایم اے اسلامیات پارٹ ٹو ) 479
باب 22
کا نظریہ ملکیت 481
(الف) ملکیت کی حقیقت 481
(ب) ملکیت کےحقوق 483
(ج) نجی ملکیت کی حدود 486
زمین کی ملکیت 493
(1)وہ زمینیں جن کےمالک قبول کر لیں 497
(2) وہ زمینیں جن کےمالک اپنے پرقائم رہیں 497
(3) وہ زمینیں جن کےمالک بزور شمشیر مغلوب ہو ئے ہوں 498
(4) وہ زمینیں جو کسی کی ملک نہ ہوں 498
موات زمینوں کے بارے میں حکم 499
ریاست اور عطیہ زمین یا قطعیہ 500
(د)اجتماعی ملکیت کا تصور 502
(ھ) مالک زمین کے 503
(ذ) 504
کی تعریف 505
کاعدم جواز اور اس کی وجوہات 507
کی ممنوعہ شکلیں 509
زمین کے استعمال کےبارے میں فقہاء کی آراء 511
کتابیات 512
باب 23
اور عدل اجتماعی 513
مفہوم 513
اور عدل اجتماعی 513
فرد اور کےدرمیان عدل 513
عدل سیاسی شعبہ میں 514
عدل معاشرت میں 515
عدل روحانیت میں 516
عدل اجتماعی کےذرائع 519<

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...