اتباع سنت

اتباع

 

مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

 

صفحات: 27

 

فتنہ انکار میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے کی میں شک اور کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے عقائد اور و کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور عقائد اور اصول و کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر و حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور تھے۔ ان کے بعد مولوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار و کی ریاست و چودہراہٹ صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر کتاب(اتباع سنت ) کے معروف عالم علامہ سید بدیع الدین راشدی کے ایک خطاب پر مشتمل تالیف ہے ،جو انہوں نے 1977ء میں پیپلزپارٹی کا تختہ الٹ کر بر سر اقتدار آنے والے ضیاء الحق کے دور میں کی تھی۔ اس میں انہوں نے مستند کے ذریعے پر استدلال کیا ہے اور منکرین کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 3
عصمت 7
غیر منقسم ہے 9
تعبیر 10
حقیقی محبت 11
نظام نبوی کی برکات 16
نفاذ کے لیے بڑی رکاوٹ 20
روز 23
نفاذ اور انتخاب 24

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...