جانب حلال

جانب حلال

 

مصنف : ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید

 

صفحات: 576

 

گزشتہ چند سالوں کے دوران بینک کاری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اس وقت دنیا کے تقریبا 75 ممالک میں اسلامی بینک کام کررہے ہیں   ان میں بعض غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ صرف میں مختلف بینکوں کی تین سو سے زائد برانچوں میں اسلامی بینکاری کے نام پرکام ہور ہا ہے ۔ان میں بعض بینک تو مکمل طور پر اسلامی بینک کہلاتے ہیں ۔اور بعض بنیادی طور پر سودی ہیں  ایسی صورتِ حال میں رائج الوقت اسلامی بینکاری کا بے لاگ تجزیہ کرنےکی ضرورت ہےتاکہ معلوم ہوسکےک کہ یہ شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟ زیر کتاب ’’جانبِ حلال‘‘ ابو انشا ء قاری خلیل الرحمن جاوید ﷾کی تصنیف ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع کا ہمہ جہت اِحاطہ ، قرآنی اوراحادیث سے مزین عبارتیں، عبارات کا اعراب سےآراستہ ہونا ، برمحل حوالہ جات کا انداراج ،عام فہم تشریح وتوضیح،منقولات کے ساتھ ساتھ معقولات وامثلہ کابرجستہ استعمال اور اسلامی بینکاری پر مختلف اطراف سے کی جانے والی بلا جواز تنقید کا مثبت وشافی جواب اس کتاب کی قابل قدر اورامتیازی خصوصیات ہیں ۔کتاب ہذا میں اسلامی بینکاری کے حوالہ سے تصانیف میں ایک اہم اور عمدہ اضافہ ہے ۔ کتاب کےمطالعہ سے انداز ہوتا ہے کہ فاضل مصنف کو اپنے موضوع پر خاصی گرفت حاصل ہے اور انہو ں نے اپنے ژرف نگاہی سے کیے   ہوئے مطالعہ اورغوروخوض کا نچوڑ بڑے احسن انداز میں قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر ﷫ کا’’ سودی نظام اوراسلامی بینک کاری کا جائزہ ‘‘ کےعنوان علمی وتحقیقی مقدمہ انتہائی اہم ہے ۔ تعالیٰ مصنف   کتاب کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عناوین
انتساب 5۔00
عرض مؤلف 75۔80
مأخذ شر یعت 81۔86
باب نمبر 1 اور 87۔174
باب نمبر 2 حرام کی جدید شکلیں 175۔224
باب نمبر 3 حرام کی قدیم مگر مروج شکلیں 225۔268
باب نمبر4 چند حرام اور معیوب میشے 269۔318
باب نمبر 5 بینکاری نظام 319۔500
باب نمبر 6 بیمہ (انشورنس) اور تکافل 501۔576
ترتیب
انتساب 5
اجمالی تر تیب 6
تقد یم (ڈاکٹر عبدالر شید صاحب حفظہ صدر مجلس پاکستان) 29
سودی نظام اور اسلامی       بینک کاری کا جائزہ 29
ہدایت ربانی 30
مال کی اہمیت اور اس کی تقسیم 32
اقتصادیات کے چند و قواعد 34
سودی نظام کی تباہ کاریاں 36
قرآنی ہدایت کا خلاصہ 44
ربا کے بارے میں نبویﷺ ہدایت وتعلیمات 47
حرمت کے بارے میں وعید اور تشدید 48
و کی روشنی میں ربا کا مفہوم 51
نظام اقتصاد کی برکتوں کے نمونے 57
کریم پر ایک 59
بینکاری 63
زیر مطالعہ کتاب 66
حاصل مطالعہ 66
(جب کا شبہ ہو) 68
عرض مؤلف 75
اظہار تشکر 77
اعتراف حقیقت 80
مأ خذ 81
مجيد 81
رسولﷺ 82
3۔اجماع(CONSENSUS) 83
4۔قیاس(ANALOGY) 85
علامہ محمد طاسین ؒ علیہ کا 86
                                               باب نمبر         1                                                      اور معیشت
کسب حلال فرض ہے 89
حلال اور رضاء الہئ 91
خوف حصول کا ذریعہ 93
عبادت اور کسائش 96
کشادگی کا فارمولا 97
اور عمر میں اضافے کا فارمولا 97
انفاق فی سبیل سے کا بڑ ھنا 98
انفاق فی سبیل سے باغ کی شادابی 99
ہر چیز اصلا مباح ہے 101
کا اختیار صرف کو ہے 105
حلال ،حرام سے بے نیاز کر دیتا ہے 108
حرام کو حیلے سے حلال کرنا حرام ہے 110
انسانی مجبو ریوں کا لحاظ 112
مجبوری کا تعین 113
کی حرمت اور وبال 115
سات مہلک چیزوں سے بچو 119
خور خون کی نہر میں 120
بوجہ چار قسم کے لوگوں پر لعنت 121
جنت سے محروم چار شخص 125
اجتماعی حرام کا وبال 125
اور اس کے رسول ﷺکا اعلان 130
مرکب اور مفرد ، دونوں حرام ہے 131
مجید سے مزید مثالیں 132
پر راہ حلال کی تنگی 136
سودی نہیں پنپتی 138
بے برکتی اور صدقہ باعث برکت ہے 139
خوری ماں سے نکا ح کے برابر ہے 139
و نصاری کا تباہ کن ہتھیار 141
اکل حرام توکل کے منافی ہے 142
کی مختلف اقسام 144
کا لغو ی معنی:۔ ٍ144
کی جدیدتعریف :۔ 144
شرعی اصطلاح میں سود   کی دو بڑی اقسام ہیں: 144
کی پہلی قسم رباالنسئہ 145
لغوی مفہوم 145
بعض چیزوں کا ادھار یا مقدار میں فرق جائز ہے 147
ربا القر ض 149
کی دوسری قسم رباء الفضل 152
1۔                     رباءالفضل : 152
چھ چيزيں بطور ماڈل 154
بيع الصبره 156
زيور كی خرید و فرو خت 159
بیع المزابنہ 160
بیع العرایا 161
بیع عینہ بھی کا ایک ذریعہ ہے 162
ایک اور مثال: 162
ادائیگی قرض میں از خود زیادہ دینا 163
کے چند مروج طریقے 164
جب چیز قبضے میں ہو تب بیچو 166
باہمی رضا مندی سے سودا کریں 168
جب حلال وحرام کا شبہ ہو 169
                                   باب نمبر   2                                                حرام کی جدید شکلیں
حرام کی جدید شکلیں 177
گولڈن کی (GOLNDEN KEY) 178
گولڈن کی اسکیم کی شرعی حیثیت 183
ورلڈ ٹریڈنگ نیٹ اسکیم W.T.N 185
جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کا تاریخی   پس منظر 186
اثاثہ جات (ASSETS) کی اقسام 188
اسٹاک ایکسچینج   سے کیا مراد ہے ؟ 189
شیئرز(SHARES) سے کیا مراد ہے؟ 190
شیئرز سر ٹیفکیٹ اور بیئر ر میں فرق 192
جائز اور نا جائز سیئرز 192
شرکت و مضاربت اور جوائنٹ اسٹاک کمپنیو ںمیں فرق 193
مضاربت سے کلی مماثلت نہ رکھنا 195
اسٹاک میں حاضر اور غائب سودے 196
1۔ حا ضر سودا(SPOT SALE) 197
2۔غائب سودا :۔ 197
I۔ سٹہ ؍ جوا (SPECULATION):۔ 197
I I ۔ پیشگی تحفظ:۔ 198
حاضر اور غائب سودوں کی شرعی حیثیت 199
جوے کی نئی قسم ” لاٹری” 200
معمہ بازی(پزل گیمز) 200
ریفل ٹکٹ 201
انڈر رائٹنگ(UNDER WRITING) کی شرعی حیثیت 202
احتکار(ذخیرہ اندوذی) 203
سٹہ بازی (SPECULATION) 206
محصول چنگیاں 207
کر یڈٹ کارڈ(CREDIT CARD) 207
کریڈٹ کی لغوی تعریف 208
اصطلاحی تعریف: 208
کریڈٹ کی میعادی صورتیں 209
1 ۔مختصر المیعاد کریڈٹ ( SHORT TERM CREDIT) 209
2۔ درمیانی میعاد کریڈٹ ( MED TERM CREDIT ) 209
3۔ طویل المیعاد کریڈٹ (LONG TERM CREDIT) 209
کی اہمیت 209
کے مفید پہلو 210
کے منفی پہلو 211
کی شرعی حیثیت 212
ڈیپازٹ کارڈ(DEPOSIT CARD) 213
جی پی فنڈ کی شرعی حیثیت 214
پگڑی سسٹم کی شرعی حیثیت 215
بیعانہ کھا جانا یا ڈبل وصول کرنا 217
پرانی اور نئی کے   ما بین قیمت کا فرق رکھنا 218
ریز گاڑی کی فروخت 220
1۔ سوا ء               بسوا 2۔ یدا بید۔3 ۔مثلا بمثل 221
مروجہ کمیٹی (BC) کا شرعی حکم 221
B.C. کی ناجائز   شکل 222
بی سی کی جائز صورت میں نا جائز صورتیں 223
کو حلال کرنے کا ایک حیلہ 224
باب نمبر 3                                       حرام کی قدیم مگر مروج شکلیں
حرام کی قدیم مگر مروج شکلیں 227
اادھار کی بیع ادھار کے ساتھ 228
اپنے ٹھیے پر لاؤتب بیچو 230
غلہ خریدتے اور بیچتے وقت ما پو 231
نقلی بولی لگانا حرام ہے 232
وہ اشیاء جن کی بیع حرام ہے 235
کتے ،بلی اور خون کی حرام ہے 236
قسطوں کے کاروبار کی شرعی حیثیت 237
مدت کی بدلے قیمت بڑھانا 238
سید بدیع الدین شاہ صاحب ؒ کا موقف 239
دور نبوی ﷺ کی تجارتی مثالیں 241
1۔نقد کی مثالیں : 241
2۔ادھار تجار ت کی مثالیں : 242
مذکور ہ سے مستنبط 244
3۔ کم قیمت پر ادھار کی مثال: 244
سیٹھ نے بنیان بھی اتار لی 245
4۔ بغیر قیمت بڑھانے قسطوں کی مثال: 246
فلہ او کسھما او الرباء کا صحیح مفہوم 249
اشکال نمبر 1: 249
جواب: 249
اشکال نمبر 2: 250
جواب : 250
اضافے کی نسبت کی طرف 251
عثمانی صاحب کا اشکال نمبر 3: 253
جواب : 253
عثمانی صاحب کا اشکال نمبر 4: 254
جواب : 254
عثمانی صاحب کا اشکال نمبر 5: 255
جواب : 255
عثمانی صاحب کا اشکال نمبر 6: 257
جواب : 258
چند متفرق اعتراضات کے متفرق جوابات 259
اعتراض نمبر 1: اور اسکا جواب 259
اعتراض نمبر 2: اور اس کا جواب 259
اعتراض نمبر 3: اور اس کا جواب 260
اعتراض نمبر 4: اور اس کا جواب 261
اعتراض نمبر 5: اور اس کا جواب 262
اعتراض نمبر 6: اور اس کا جواب 263
اعتراض نمبر 7: اور اس کا جواب 263
مہلت دینے سے جو ملا قابل رشک ملا 264
فیصلہ اپ کے ہاتھوں   میں 266
گناہوں کا رجسٹر ہی پھاڑدیا 267
                   باب نمبر     4                                                     چند حرام اور معیو ب پیشے
چند حرام اور معیوب پیشے 271
وکالت کا پیشہ 272
گلوکاری کا پیشہ 272
قحبہ گری   کا پیشہ 278
جوئے بازی کا پیشہ 279
رقاصی کا پیشہ 282
پتنگ سازی و پتنگ بازی 282
مجسمہ سازی اور فوٹو گرافی کا پیشہ 285
بیو ٹی پا رلر کا پیشہ 288
ٹی وی اور فلم سازی کا پیشہ 293
گداگری کا پیشہ 294
ہئیر ڈریسنگ کا پیشہ 297
دلالی (BROKERY) کا پیشہ 299
نا جائز شکلیں :۔ 299
جائز شکل:۔ 301
قوالی کا پیشہ 301
لطیفہ 301
قوالی سے گمراہ کن عقائد   جنم لیتے ہیں 303
طوطہ مار کہ پروفیسری اور فال گیری کا پیشہ 304
انعامی بانڈز کی شرعی حیثیت 306
ویلیو کے اعتبار پرائز بانڈ کی اقسام 307
پرائز بانڈ کے میں پیش کردہ کا جائزہ 312
پرائز بوبونڈ اور فال گیری 315
انعامی پر چیان 317
قسمت کی پڑیا 318
            باب نمبر   5                                                                                 بینکاری نظام
بینکاری نظام 321
بینکوں کی مخالفت کیوں؟ 322
بینک لا ئق تحسین ہے 324
طلب پہلو 325
بینکوں کے قیام کی مختصر 329
سعودی کی سپریم کو نسل کی توثیق 332
بینکوں کی     نظریاتی اساس 332
کیا متبادل لانا کی ذمہ داری نہیں ؟ 334
کیا بینک اور لازم و ملزوم ہیں ؟ 337
کیا اور سودی بینکاری نظام یکساں ہیں ؟ 339
یکسانیت کے اشکال کا جائزہ 339
سودی بینکوں کے ڈیپازٹ کا شرعی حکم 340
بینکوں کے ڈیپازٹ کا شرعی حکم 341
کیا کے بغیر بینکاری نا ممکن ہے؟ 341
کیا سودی بینکاری کا متبادل پیش کرنا ضروری ہے 365
عبادات میں اصل   حرمت اور معاملات میں اصل اباحت یے 368
کی حرمت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے 370
بینکاری پر تنقید کی وجوہات 371
یہ تنقید یں کہاں تک حقیقت کہاں تک افسانہ 377
مذکورہ اعتراضات کے جوابات 379
اعتراض نمبر 1: 379
جواب : 379
اعتراض نمبر 2: 380
جواب: 380
اعتراض نمبر3: 381
جواب: 381
اصلاحی جائزہ 384
مذکورہ حدیث   عثمانی صاحب کے موقف کی تائید نہیں کرتی 384
اعتراض نمبر4: 385
جواب: 386
1981؁ءکی اسکیم کا پہلا فرق 386
مو جودہ بینکاری کا موازنہ 387
1981؁ء کا دوسرا فرق 387
1) بینکاری جرمانہ بنام صدقہ بھی درست نہیں 388
1981؁ء کی اسکیم کا تیسرا فرق 390
مو جودہ بینکاری 390
اعتراض نمبر 5: 390
جواب : 390
اعتراض نمبر 6: 391
جواب: 391
اعتراض نمبر 7: 392
جواب : 392
” مروجہ مرابحہ میں شرعی خامیاں “ 392
دوسرا نمونہ : 394
اعتراض نمبر 8″ اقر اس کا جواب 396
عتراض نمبر 9: اور اس کا جواب 398
اعتراض نمبر 11 : اور اس کا جواب 400
اعتراض نمبر 12: اور اس کا جواب 400
بینکاری کے سات بنیادی ستون 402
1۔ مضاربت 402
تعریف: 403
مضاربہ کا شرعی مفہوم 403
مضاربہ میں نفع کی   تقسیم کا شرعی تنا سب ؟ 405
مضاربت کی مزید دو شکلیں ہیں 408
مضاربت کی مختصر 408
مضاربت کی شرعی حیثیت 409
علامہ شوکانی ؒ علیہ کا فیصلہ : 410
ابن عباس سے مروی روایت 411
امام دار قطنی ؒ علیہ اور امام     بیہقی ؒ علیہ کا فیصلہ 412
مضاربت کے جواز کی 412
فریقین کی نیک نیتی برکت کا باعث بنتی ہے 412
مضاربت کے و شرائط 413
مضاربت کی مختلف حیثیتیں 417
(MUSHARKAH)مشارکہ 419
لغوی مفہوم: 419
اصطلاحی مفہوم: 419
شرکت ، مشارکہ اور مضاربہ میں فرق 419
(PARTNERSHIP)شرکت 420
شرکت ومشارکہ میں نفع و نقصان کا تناسب ؟ 421
مشارکہ و شرکۃ سے متعلق اور خلف کا فرق 422
جزیات شرکت کی مختصر تعریف 423
(JOINT OWNERSHIP)1۔   شرکۃ الملک: 423
                                                                                                             شرکۃ العقد: .2 424
شرکۃ المفا وضہ:.3 425
4۔ شرکۃ العنان 426
مشارکہ کی اصطلاح 426
شرکت و مشارکہ میں لغوی فرق 427
مشارکہ میں نفع کی شرح 427
مشارکہ ختم کرنا 430
جاری کاروبا ر میں بعض کا مشارکہ ختم کرنا 431
کیا مشارکہ اور مضاربہ جمع ہو سکتے ہیں؟ 431
مشارکہ اور مضاربہ میں فرق 432
مشارکہ متناقصہ 433
مشارکہ متناقصہ کا   طریقہ کار 433
مزکورہ طریقہ کار کے نتائج 434
تین عقود پر مشتمل ہونا 436
علامہ ابن عابدی شامی ؒ کی رائے 439
عمران اشرف عثمانی صاحب کا اخذ کردہ نتیجہ 439
عمران اشرف صاحب کی بحث کا   اصلاحی جائزہ 442
1۔مذکورہ نتیجہ نا قابل فہم ہے 442
بشکل وعدہ شرائط کی شرعی حیثیت 446
بینک سے خریداری کی جائز شکل 449
کیا مشارکہ متناقصہ شرکہ العنان کی ایک قسم ہے؟ 450
مرابحہ 452
مرابحہ کی اقسام اور ان کا شرعی حکم 454
فریقین کے کا جائزہ 455
خریدو فروخت کی چند عمومی شرائط 456
بیع مرابحہ کی مخصوص شرائط 458
تمویل بذریعہ مرابحہ 459
بیع مساومہ 461
مرابحہ اور مساومہ میں فرق 462
بیع سلم یا 462
تعریف؟ 462
بیع سلم کی شرعی حیثیت 463
بیع سلم کے جواز کی 465
کیا بیع سلم سے مشابہت رکھتی ہے؟ 465
بیع سلم کی شرائط 467
وہ جسے نہیں سمجھتا 470
بیع سلم میں رہن یا گارنٹی کا 471
بیع سلم میں مدت ادھار کا تعین 472
بیع سلم تجارتی بنیادوں پر 473
سلم متوازی 475
تعریف: 475
سلم متوازی کی شرعی حیثیت 476
کیا سلم متوازی کے خلاف ہے؟ 477
استصناع 478
تعریف: 478
استصناع اور سلم میں فرق 478
بیع اور اجارہ میں فرق 479
اجارہ کی اقسام 481
اجارہ تمویلیہ میں موجود خرابیاں 482
بینکوں کا اجارہ منتھیہ بالتملیک 482
اجارہ کی مزید شرائط 484
1۔اجرت کا متعین ہونا: 484
2۔اجارہ پر دی گئی چیز کا مملوکہ ہونا: 484
3۔اجارہ پر دی گئی چیز کا معلوم ہونا: 485
بینکوں کے اجارے کا اصلاحی جائزہ 485
اجارہ کیا ہے؟ 486
اجارہ ۔قدم بہ قدم 487
آٹو اجارہ 488
آٹو اجارہ کی خصوصیات اور خرابیاں 488
ملکیت کے تحت   لازمی اخراجات 489
تاخیر کی صورت میں جرمانہ 489
بینکوں کا جبری صدقہ 490
جبری صدقے کی شرعی حیثیت 491
ڈیپازیٹر اور بینک کا باہمی تعلق 494
کرنٹ اکاؤنٹ میں ڈیپازیٹر کا تعلق 494
حضرت زبیر بن عوام کا طرز عمل 495
دور فاروقی کا واقعہ 497
اس واقعہ سے تین باتیں سامنے آتی ہیں: 499
         باب نمبر             6                                                                                بیمہ اور تکافل  
بیمہ کا تاریخی پس منظر 503
بیمہ اور اس کی شرعی حیثٰت 503
انشورنس میں بنیادی دو فریق ہوتے ہیں : 504
شرائط بیمہ 504
اسٹیٹ لائف بروکروں کے بیان کردہ فوائد 505
انشورنس کی بعض قباحتیں 506
بیمہ کمپنیاں اور بیت المال کا موازنہ 510
تکا فل 512
کا نظام   تکافل 513
کا نظام کفالت عامہ 514
مجید اور کفالت عامہ 515
نبویﷺ اور کفالت عامہ 516
کرام اور کفالت عامہ 517
عمر بن عبدالعزیز ؒ علیہ اور کفالت عامہ 521
زوجین کا باہمی تکافل اور اسلام 522
ضعفاء اور اسلام 524
اکل باطل کی توضیح 525
علامہ ابو بکر الجصاص ؒ علیہ کی رائے: 526
تکافل کا اساسی نظریہ 527
میثاق مدینہ اور تکافل 528
کیا تکافل توکل کے منافی ہے؟ 529
تکافل کا تعمیری ڈھانچہ 531
اصلاحی جائزہ 532
وقف شخص قانونی ہے: 533
اصلاحی جائزہ 535
تبرع سے متعلق مزید اشکالات 536
اصلاحی جائزہ 538
شارع کے اپنے ریماکس 538
ابن قیم الجوزی ؒ علیہ کے ریماکس 540
علامہ محمد رفیق اثری حفظہ کے ریماکس 540
وقف سے متعلق سوالات و جوابات 541
قانونی کی دو صورتیں 543
اصلاحی جائزہ 545
تکافل کمپنی کی عملی اقسام 547
فیملی تکافل پلان 548
پالیسی ہولڈر کی تین حالتیں : 549
تکافل کلیم کی تفصیل 549
پہلی صورت : 549
دوسری صورت : 550
تیسری صورت : 550
مذکورہ ماڈل کی ایک ترمیم 551
جنرل تکافل 552
تکافل کا وجود کیسے عمل میں آیا 552
اصلاحی جائزہ 556
تکافل اور انشورنس میں بنیادی فرق 556
ہبہ اور وقف میں فرق 557
اوقاف : 558
وقف اہلی؛ 558
وقف خیری : 558
حضرت عمر کی مثال 559
مذکورہ سے مأخوذ فوائد 560
وقف میں اصل کا برقرار رہنا 560
نقود کا وقف 561
ایک اشکال اور اس کا جواب 563
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا 564
ڈاکٹر عصمت کا اظہار بے بسی 565
اصلاحی جائزہ 566
مولانا تقی عثمانی صاحب کے والد گرامی کی گواہی 567
علامہ محمدطا سین ؒ کا نقطہ نظر۔ 568
مزید اصلاحات کی ضرورت 570
تکافل کی جائز شکل 571
مؤلف   تالیفات کا تعارف 574
اہم یاداشت 576

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...