مراۃ الزکوۃ

مراۃ الزکوۃ

 

مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

 

صفحات: 66

 

دینِ کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِ اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکانِ خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ کے بعد دین کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔ مجید اور نبویہ میں تفصیل سے اس کے ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ کی ایت 34۔35 اور صحیح شریف کی نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو میں زکوٰۃ کے ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر کتاب ’’مرآۃ الزکاۃ ‘‘ بھی اسی سلسلہ ایک کڑی ہے ۔جو کہ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی کےموضوع پر آسان فہم جامع کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے زکاۃ او رصدقات کےجملہ مسائل وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں اور زکاۃ کےبارے میں منکرین کے باطل افکارو کا رد کیا ہے ۔یہ کتاب دراصل ہفت روزہ ’’ ایشیاء ‘‘ لاہور جلد 8 شمارہ 21 میں مولانا جعفر پھلواری کی طرف سے ایک مضمون ’’ کیا انکم ٹیکس زکوٰۃ ہے‘‘ کےشائع ہونےپر مولانا سیالکوٹی نے تحریر کی ۔جعفر پھلواری نے اپنے اس مضمون میں واضح کیا کہ حکومت جو انکم ٹیکس وصول کرتی ہے اسےزکوٰۃ مان لینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔موجود ہ انکم ٹیکس زکوٰۃ ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ جولوگ انکم ٹیکس حکومت کوادا کرتےہیں وہ قرآن کےفریضہ زکوٰۃ سےعہدہ برا ہوجاتے ہیں انہیں علیحدہ زکاۃ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تو مولانا محمد صادق ﷫ نے پھلواری صاحب کے انکارحدیث پر مبنی باطل نظریات کا خوب جواب دیا اور ثابت کیا ہے انکم ٹیکس کی ادائیگی سے زکاۃ کافریضہ ادا نہیں ہوتا اور پھلواری صاحب بھی برصغیر کے منکر حدیث کی صف میں شامل ہیں اور ان ہی افکار ونظریات کے حامل ہیں ۔ تعالیٰ مولانا کی تمام تبلیغی وتصنیفی کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
کیا انکم ٹیکس زکاۃ ہے 5
مولانا پھلواری کی سے اہم  آہنگی 5
مولانا پھلواری اور کی مخالف 8
نص کے مقابلےمیں رائے قیاس 10
تبیین کا 11
اہل ہوا کی کجروی 12
کتنی دیدہ دلیری ہے 12
میں دخل 13
میں آوارگی 13
ٹیکس گزارنے سے سر سے زکاۃ کا بوجھ اتر نہیں سکتا 14
حکومت اور فراہمی زکاۃ 14
پھلوری صاحب کے ثقافتی بھائی 15
زکاۃ کو کھلا سمجھنا 16
ماہوار اور ہفتہ وار زکاۃ 19
ہر خیرات عین زکاۃ ہے 19
لااکراہ فی الدین کی با الرائے 21
جبر و اکراہ سے وصول  کرنے کا حکم 23
کو کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی 26
مسلمان اور رسول کے سامنے مجبور ہے 27
خوشی کی نذر ہے 28
بھائیوں سے خطاب 30
کو رب بنانا 31
کا فرض ہونا 33
کی فرضیت کے متعلق آیت 34
مال جمع کرنا جائز ہے 35
آدمی کا بہترین کنز 35
ترک زکاۃ کا عذب 36
زکاۃ کے متعلق جامع ارشاد 37
زکاۃ نہ دینے والے کو میدان محشر میں عذاب 40
زکاۃ نہ دینے والوں کا لرزہ خیز انجام 41
دامن  رسالت مآب نہ چھوڑیں 42
سونے چاندی کا نصاب 42
حساب کی آسان صورت 43
نصاب سے کم وزن پر زکاۃ 44
اونٹوں کی زکاۃ 44
بکریوں کی زکاۃ 45
گائے کی زکاۃ 45
کھجوروں کی زکاۃ 46
شہد کی زکاۃ 46
پہنے ہوئے زیور پر 46
سونے کے کڑوں کی 46
گروہ زناں دو 47
مال میں زکاۃ 47
مال و دولت کو راہ میں خرچ کرو 47
سے پہلے خیرات کرو 50
خیرات میں بھیجو 51
خیرات کرنے میں تاخیر نہ کرو 51
آگ سے بچو 52
سات آدمی کے سایہ میں 52
رحمتؐ عالم کا جذبہ خیرات 53
دو فرشتوں کی 53
صدقات حلال کمائی سے قبول ہوتے ہیں 54
حلال کمائی کا چھوارہ ثواب میں پہاڑ سے بڑھ جاتا ہے 55
راہ میں جوڑا دینے کا ثواب 56
زکوۃ ،صدقات ،خیرات قبول ہونے کی شرط 56
فطر 59
زمانے کے تقاضے پرقربان 60
تو با زمانہ ستیز 60
کے مصارف 62

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply