قول مقبول در اثبات ظل رسول ﷺ

قول مقبول در اثبات ظل رسول ﷺ

 

مصنف : عبد القادر حصاروی

 

صفحات: 40

 

نبی کریم ﷺاﷲ کے برگزیدہ نبی اور تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سلسلہ انسانیت سے پیدا کیا تھا اورجس طرح ہر انسان کا سایہ ہوتا ہے اسی طرح آپ کا بھی سایہ مبارک موجود تھا۔ بہت سی غلط باتوں کی طرح معاشرے میں ایک یہ بات بھی شہرت پاگئی ہے کہ رسول ﷲ ﷺ کا سایہ نہیں تھا، بعض سادہ فطرت اور جذباتی نے تو اس بے اصل خیال کا چرچا کیا ہی تھا لیکن میں اسے پھیلانے کی ذمہ داری قبرپرستوں پر عموماً اورمولانااحمد رضا خان صاحب پر خصوصاً ہے۔صحیح سے ثابت ہے کہ آپﷺ کا سایہ موجود تھا۔ سیدنا انس بن مالک ؓ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول ﷺ نے ہمیں پڑھائی اور عین نماز  کے دوران آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اچانک آگے بڑھایا ، پھر جلد ہی پیچھے ہٹا لیا ۔ ہم نے آپ ﷺسے آپ کے اس خلاف معمول نماز میں جدید عمل کے اضافہ کی وجہ دریافت کی تو ہمارے اس سوال کے جواب میں آپ ﷺنے فرمایا کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت لائی گئی ۔ میں نے اس میں بڑے اچھے پھل دیکھے تو میں نے چاہا کہ اس میں سے کوئی گچھا توڑلوں ۔ مگر معاحکم ملا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں پیچھے پلٹ گیا ۔ پھر اسی طرح جہنم بھی دکھائی گئی ۔ حتى رأيت ظلى وظلكم  میں نے اس کی روشنی میں اپنا اور آپ لوگوں سایہ دیکھا ۔ دیکھتے ہی میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ (مستدرك الحاكم ج4ص 456) زیر کتاب “قول مقبول در اثبات ظل رسولﷺ” محقق مولانا عبد القادر صاحب عارف حصاروی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند کے ساتھ نبی کریمﷺ کا سایہ ثابت کیا ہے اور جو لوگ سائے کے منکر ہیں ان کا مسکت جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنطورفرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply