رحماء بینہم جلد دوم

رحماء بینہم جلد دوم

 

مصنف :

 

صفحات: 363

 

کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین کے لیے کسی بھی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا عنایت کیا ہے۔ دس تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر کتاب “رحماء بینہم”محترم مولانا صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 17
اجمالی تعارف 21
چند تمہیدی امور ( جن کی روشنی میں کتاب مرتب کی گئی ) 23
امور بالا کی توثیق کے لیے شیعی کتب سےائمہ کرام کے فرمودات 26
اہل کی کتب سےحوالہ جات 28
مقاص(مومنوں کا وصف اتحاد و اخوت ) 36
مجید سے مومنوں کےاتحاد واخوت کا ثبوت ( پانچ قرآنی ) 36
کا مفہوم اور ثمرات ونتائج 37
مذکورہ کی مفسرین کرام کی طرف سےوضاحت 40
مدعائے تحریر 45
باب اول
فصل اول : فاروق اعظم کے ساتھ علی المرتضیٰؓ کا بیعت کرنا 46
بیعت مذکورہ کی تصدیق کے لیےعلی المرتضیٰ کےاپنی کےدوران بیانات 52
محدی ابن راہویہ کی روایت 52
محدث ابی عوانہ کی روایت 54
امالی شیخ طوسی کی روایت 56
بیعت سیدنا علیؓ با سیدنا عمر ؓ نزد
مندرجہ بالا روایت کےفوائد و نتائج 57
فصل دوم : سیدنا علی المرتضیٰ کی زبانی فاروق اعظم کےفضائل و مناقب اور فاروق اعظم کی زبانی علی المرتضیٰؓ کی تعریف و توصیف 58
عنوان اول : الف۔فاروق اعظم ؓ رجل مبارک 59
ب۔ آپ نجیب امت ہیں 59
ج۔ و باطل میں فرق کرنےوالے ہیں 60
د۔خلیل و صدیق ،مخلص و ناصح ہیں 61
ہ۔ القوی الامین کا خطاب 61
و۔ امام ہدایت ، راشد و مرشد ،مصلح و منجح ہیں 63
فوائد روایت مذکورہ 64
عنوان دوم : سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کا سیدنا فاروق اعظم ؓ کو تقویٰ کی تلقین کرنا اورصدیق اکبرؓ کےنقش قدم پر چلنے کی ترغیب دینا 64
فوائد روایت ہذا 65
عنوان سوم : مرتضوی بیان کہ سیدنا فاروق اعظم خوف رکھنے والے اور حددرجہ دیانتدار تھے 65
عنوان چہارم : المرتضیٰٰ فاروقی دور کے جملہ معاملات درست قرار دیتے تھے 67
مرتضوی سیرت فاروقی کےموافق  تھی 68
فاروق اعظم رشید الامر اور صائب الرائے تھے 68
مندرجات بالا کےفوائد 72
ایک اشتباہ کہ المرتضیٰ ؓنےسیرت شیخین پر عمل کرنے سےپس وپیش کیا 73
اس اشتباہ کا تاریخی جائزہ اورتحقیقی جواب 73
عنوان پنجم :سیدنا علی المرتضیٰ کا بیان کہ فاروق اعظم و صداقت کےجذبہ سےسرشارتھے 77
مذکورہ مرویات کےفوائد ونتائج 80
عنوان ششم : کا بیان کہ فاروق اعظم خلیفہ برحق اورصدیق اکبر کےبعد افضل امت ہیں 81
اس کےثبوت میں 12عدد روایات 81
ایک وضاحت ( ابن سبا اور اس کے ساتھیوں کا انجام ) 92
12عدد روایات مذکورہ کےفوائد 92
ایک اہم تنبیہ ( موجودہ دور کےشیعوں کا ابن سبا کے وجود سے انکار 93
عنوان ہفتم : کی زبانی شیخین کی دواہم فضیلتیں
صدیق ؓ و فاروقؓ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے 95
صدیق و فاروق پختہ عمر جنتیوں کے سردار ہیں 96
خلاصہ روایات مذکورہ 97
عنوان ہشتم : فاروقی کی حقانیت اور آپ کی فضیلت میں حضرت علی ؓ کے بیانات ۔کتب سے 11عدد حوالہ جات 97
مندرجہ بالا حوالہ جات کے فوائد  و ثمرات 102
عنوان نہم : حضرت عمرؓ اور ابن عمر ؓ کی زبانی مرتضوی ومناقب ۔اہل اور کتب سے 10 عدد حوالہ جات 102
مندرجہ بالا روایات کےفوائد ونتائج 109
باب دوم
فصل اول  : فاروقی دور میں شعبہ جات کی تقسیم اور قضا وافتاء حضرت علی ؓ کےسپرد کرنا 111
فاروقی عدالت میں مقدمات کی مرافعت 116
حضرت علیؓ کا اپنامقدمہ فاروقی عدالت میں پیش کرنے کاواقعہ 117
اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ 117
مندرجات بالا کےفوائد  و ثمرات 119
تنبیہ ( سیدیناعلی المرتضیٰ کا اپنی میں فاروقی عمل کو مثال بنانا 120
فوائد مندرجات بالا 121
فصل ثانی : شرعیہ میں مشورے اور باہمی تلقین واعتماد 123
باہمی گفتگو ( نبوی کےبارے میں تحقیق ) 124
فاروق اعظم ؓ  کےلیےعلی المرتضیٰؓ کےناصحانہ کلمات 125
صدقہ کےبارے میں باہمی مشورہ 126
خون بہا کےبارےمیں باہمی مشورہ 127
مجبور عورت کے بارے میں مشورہ 129
بدفعلی کی سزا کےمتعلق مشورہ 130
شراب پینے کی سزا کےمتعلق مشورہ 131
تنبیہ (شراب کی سزا حضرت علی ؓ کے مشورے سےتجویز ہوئی ) 133
فصل ہذا کےمندرجات کے فوائد 134
اشتباہ ( کہ فاروق اعظم  ہر میں حضرت علی ؓ کےمحتاج ہوتے تھے ۔تحقیقی جائزہ اوررفع اشتباہ کہ حضرت علی ؓ نےمتعدد میں اپنی رائے سےرجوع کیا 134
انتباہ ( فاروق اعظم ؓ کےوضع کردہ مرتضوی میں رائج تھے ) 139
خلاصۃ المرام ( مندرجات بالا کےفوائد و نتائج 142
فصل ثالث : انتظامی امور میں فاروق ومرتضیٰ کےباہمی مشورے 143
فاروقی کےمتعلق مشورہ 143
تاریخ (تقویم ) کےمتعلق مشورہ 145
مفتوحہ زمین عراق کےمتعلق مشورہ 147
علاقہ نہاوند کےمتعلق مشورہ ( حضرت علی ؓ کی میں فاروق اعظم کا مقام 149
مذکورہ مشاورت کی کتب سےتائید 151
مندرجہ بالاحوالہ جات کےفوائد 153
غزوہ روم کے متعلق مشورہ (فاروق اعظم کی شخصیت ) 154
مذکورہ بالا حوالہ جات کےثمرات 156
تقسیم اموال میں حضرت علی ؓ کی رائے کوترجیح دینا 157
ہیبت سےسقوط حمل پردیت (حضرت علی ؓکی رائے کو قبول کرنا 159
مرتضوی نیابت (فاروق اعظم ؓ کا علی المرتضیٰ کواپنانائب بنانا 160
رفاقت کےچند 165
بےتکلفی کاواقعہ 165
تنویر مساجدپرحضرت علی کادعا دینا 166
واقعہ ’یاساریۃ الجبل ‘سےحضرت علی کا فاروق اعظم کی عظمت بتلانا 168
اویس قرنی کی ملاقات کےلیےرفیقاء نہ 169
اختتام فصل (مندرجات بالا کےفوائدونتائج 170
فصل رابع : سیدناعلی المرتضی کےلیےسیدنافاروق اعظم کی طرف سےمالی مراعات وعطیات 172
فاروق اعظم ؓ کےدل میں خاندان نبوت کا احترام (ترتیب اسماء میں ہاشمی حضرات کواولیت دینا 172
صدیقی دورخلافت کی طرح فاروقی دورمیں اموال خمس کےمتولی حضرت علی ؓ تھے 179
مندرجات بالا کےفوائدوثمرات 182
مضمون بالا کی تائید کتب سے 183
شیعی مرویات کےنتائج وثمرات 185
تکمیل فوائد (بنوہاشم کےحق میں فاروق اعظم کےبہترین جذبات 186
غیرشادی شدہ ہاشمیوں کی شادیوں کےانتظام کا اظہار 186
مدائن کے مال غنیمت سےحضرت علی کوبیش قیمت غالیچہ دیا جانا 187
فاروق اعظم ؓ نےحضرت علیؓ کےمقام نیبع والا قطعہ اراضی دیا 189
باب سوم
فصل اول : خانوادہ نبوت(اہل بیت ) سےعقیدت ومحبت 191
حضرت فاطمہ ؓ کی خواستگاری کےلیےعلی ؓ کوآمادہ کرنےمیں خاص حصہ 192
فاطمہ ؓ میں فاروق اعظم کا گواہ بنایا جانا ۔ وسنی کتب سےحوالہ جات 194
فاروق اعظم کی حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ خاص عقیدت 195
حضرت فاطمہ ؓ کی عیادت کے لیے جایا کرنا 196
حضرت زین العابدین کی روایت کہ حضرت صدیق وفاروق جنازہ فاطمہ میں شریک تھے 196
حضرت عمر کی میں  حضرت علیؓ کی شمولیت 198
ایک اشتباہ ( واقعہ احراق بیت فاطمہ کا تفصیلی جائزہ اور تحقیقی جواب 200
اولا ، یہ واقعہ غیر معتبر وغیر مستند کتابوں میں ہے 201
ثانیاً ،جن باسند کتابوں مذکور ہے ان کےاسانید مطعون ہیں 202
ثالثاً، یہ روایت مقطوع ہے ۔ ناقل خود واقعہ کا شاہد نہیں 203
رابعاً ، یہ روایت کرام کےاپنے بیانات کی روشنی میں مردود ہے 205
اس واقعہ پر خود علی المرتضی کااپنا بیان ( کتب سےثبوت ) 205
باقر کا بیان ( کتب سے ثبوت ) 206
یہ واقعہ نص قرآنی کےخلاف ہے 207
خامساً، بیعت علی کےواقعہ میں ایسی مناقشہ انگیز کوئی بات مذکورنہیں 208
بحث ہذا کےمتعلق ابن ابی الحدید شیعی کا بیان 210
علیٰ سبیل التنزل جواب 210
دعوت مصالحت 211
فصل دوم: تعلقات کے پانچ امورذکر کیےگئےہیں
امراول :حضرت علیؓ کی صاحبزادی ام کلثوم کانکاح فاروق اعظم کےساتھ کتب انساب اوراہل کی کتابوں ثبوت 212
رفع اشتباہ (حاشیہ ) ام کلثوم کوغلط رنگ دینے کی ناپاک کوشش کا تحقیقی جائزہ اورجواب 218
ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ کا رشتہ فاروق اعظم کےساتھ انساب کی میں (5حوالہ جات ) 223
امر ثانی : مشتمل برچند فوائد 228
فائدہ اولیٰ : ام کلثوم شیعوں کے اربعہ سےثبوت (9عدد مرویات ) ۔ ہر جور کے نےاسے تسلیم کیاہے(بقیہ شیعی مرویات ،8عدد حوالہ جات ) 228
ضروری تنبیہ ( مذکورہ پرایک بحث ) 246
فائدہ ثانیہ ، فاروق اعظم کےنکاح میں ام کلثوم بنت فاطمہ الزاہرا ہیں کوئی اورام کلثوم نہیں 247
فائدہ ثالثہ : بحث مذکورہ کا خلاصہ (وفات زید بن عمروؓ و ام کلثوم –253) 252
خانوادہ نبوت کےساتھ فاروق اعظمؓ کی رشتہ داریوں کی تفصیل 254
امر ثالث : حضرت عمر ؓ کے گھر میں اپنی ہمشیرہ ہاں حسنین کی آمد و رفت 255
امر رابع: ایک اور واقعہ 256
امر خامس : حضرت علیؓ کی حضرت عمرؓ کےگھر میں اپنی بیٹی کےہاں آمد ورفت اور جواہر کا واقعہ 256
حاصل بحث مذکور 258
فصل سوم : فاروق اعظم اور حسن  وحسین کےباہمی خوشگوار تعلقات کےچارخاص 260
مالی میں حسنین کےساتھ خصوصی مراعات فاروقی 263
حسن مجتبیٰ کی ایک کرامت 265
یزدگرد کی بیٹی حضرت حسین کودینا 266
حوالہ جات مذکورہ کاخلاصہ 269
فصل سوم کےمندرجات پراجمالی 270
فصل چہارم : فاروق اعظم کےآخری لمحات کے بارے میں حضرت علیؓ کے بیانات 272
فاروقی انتقال کی پیشین گوئی تعبیر کی صورت میں 272
فاروقی اوردیانتداری کےمتعلق حضرت علیؓ اور ابن عباس کی گواہی 274
فاروق اعظمؓ پر حملہ ہونےکے بعد حضرت علیؓ کااظہار ہمدردی 276
حضرت علیؓ کا فاروق اعظم ؓ کےلیے جنت کی بشارت دینا اور حضرت حسن کی تائید 277
انتخاب خلیفہ کمیٹی میں کو شامل کرنا 278
کی طرف سےتائید 280
آخری وقت میں حضرت علی ؓ کو خصوصی کرنا اور کا اہتمام کرنا 281
کی طرف سے فاروق اعظم کےحق میں قدر دانی کے کلمات 282
حضرت علیؓ کا فاروق اعظم کے اعمال نامے پر رشک کرنا 284
رشک اعمالنامہ پرحوالہ جات 287
ایک انتباہ (روایت مسیحی پر مزید حوالہ جات 289
روایت مسیحی کی بزرگوں کی کتب سے تائید 290
تنبیہ (شیعوں کی حیلہ گری ) 291
دفن فاروقی میں حضرت علی ؓ کا شامل ہونا 292
فوائد فصل چہارم 293

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...