رحماء بینہم جلد سوم

رحماء بینہم جلد سوم

 

مصنف :

 

صفحات: 210

کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور کے لیے کسی بھی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا عنایت کیا ہے۔ دس تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر کتاب “رحماء بینہم”محترم مولانا صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
افتتاحیہ کلام
مختصر تمہیدات 19
قبول روایت کےمتعلق اہل السنۃ کےچند ضوابط 20
تسلیم روایت کےلیےشیعہ کےقواعد 22
باب اول
(خاندانی ونسبی تعلقات )
یہاں سات عدد رشتے درج ہونگے
اول : 37
مادرحضرت عثمان بن عفان ؓ (حضرت ارویٰ کا اجمالی تذکرہ اوررشتہ کا ذکر 27
روابط نسبی (صرف اس رشتہ پر سات رابطے قائم ہوتے ہیں ) 29
سرور علیہ الصلوات والتسلیمات کےساتھ کا رشتہ ذی النورین 30
دوم :
حضرت رقیہ صاحبزادی کا مختصر تذکرہ 33
کتب سےاس کی تائید 33
کی غزوہ بدر کےغنائم واجر میں شرکت 34
مذکورہ کی کتب سےتوثیق 35
دفع وہم ( عثمانی تخلف مرتضوی تخلف کی طرح ہے ) 35
سوم :
حضرت ام کلثوم بنت رسول ﷺ کا اجمالی تذکرہ اور عثمانی کا بیان 36
مزید چند فضیلتیں 37
رشتہ ذی النورین کی تائید کتب سے 41
بنات سرورکائنات ﷺ کاتذکرہ اورحضرت عثمان کی دامادی کتب سے منقول ہے 42
کی تائید میں  المرتضی کا فرمان 45
چند ضروری افادات (یعنی حقیقی چہار بنات کا ثبوت اور صرف اولاد خدیجہ ہونےکاجواب 47
ایک شبہ (کہ رقیہؓ کوزد و کوب کر کےمار دیا ۔پھر اس کا جواب 50
چہارم :
حضرت جعفر طیارؓ کی پوتی ام کلثوم کا کے لڑکے ابان بن عثمان کےساتھ 53
پنجم:
حضرت حسین بن علی ؓ کی لڑکی کانکاح حضرت عثمان ؓ کےپوتے زید بن عمرو بن عثمان سے ہوا 54
ششم :
فاطمہ بنت الحسین  بن علی بن ابی طالب کا بن عفان کے پوتےعبداللہ بن عمرو بن عثمان کے ساتھ 55
ہفتم :
سیدنا حسن ؓ کی پوتی ( ام القاسم ) کے پوتے مروان بن ابان بن عثمان کےنکاح میں 58
تنبیہ
رشتہ دار کے اثرات یعنی یہ سات رشتے کیا بتلاتے ہیں 59
باب دوم
بیعت (علی المرتضیٰؓ کاحضرت عثمان ؓ سے بیعت کرنا ) نےاپنی تصانیف میں درج کیا ۔ یہاں آٹھ عددحوالے منقول ہیں 61
ہذا کی تائید کتب سےچار عدد حوالے یہاں دیئے گئے ہیں 65
دوسری گزارش (امام  کےانتخاب کاقاعدہ کہ یہ مہاجرین وانصار کو ہے ) نہج البلاغہ سےلیا گیا 68
’’رفع اشتباہ‘‘ (باہمی پر خاش ظاہر کرنےوالی روایات پر نقد 69
ابن خلدون اور علامہ السفارینی کا بیان بیعت ہذا کے لیے 70
خلاصہ (بیعت کی بحث کےفوائد اور ثمرات ) 71
باب سوم
کےنکاح اورشادی میں  کی طرف سے مخلصانہ اعانت اورامداد 74
شرح مواہب اللدنیہ زرقانی سے ثبوت 74
کشف الغمہ ‘‘ فی معرفۃ الائمہ سےاور ’’بحار الانور ‘‘ سےثبوت 75
کاحضرت علی ؓ کے کا شاہد و گواہ ہونا اور دونوں جانب سےتائید 76
کے مومن ، صالح ، متقی ، محسن ہونے کی مرتضوی 79
صفات عثمانی کی زبانی 80
کے بیانات کی روشنی میں کا لقب ’’ذو النورین ‘‘ چند دیگر کے ساتھ 81
پہلی روایت 82
دوسری روایت 82
کا ایک قول ( کے بغیر کسی شخص کو نبی کی دو  دختر حاصل نہیں 84
امت میں مقام عثمان کا تعین کی سے (یعنی تیسرے قام پر عثمانؓ ہیں) 85
عثمان کا مقام علی کی نظروں میں دین عثمان سے تبری ایمان سےتبری ہے 87
کی جانب سےحضرت  عثمان کےمتعلق ’’سابق الخیرات ‘‘ اور’’غیر مہذب ‘‘ ہونے اورجنتی ہونے کی گواہی 88
عثمانی میں حضرت علی ؓ کا سنانا یہ شریف کا واقعہ ہے 89
حضرت علی ؓ کا قراۃ عثمانی کی سماعت کرنا مصنف عبد الرزاق کےحوالہ سے 90
کا کو سواری عنایت فرمانا ۔اخبار اصفہان کےحوالے سے 92
کا المرتضیٰ کو دعوت طعام دینا 93
کےحق میں ہاشمیون کےبیانات 94
حضرت بن عباس کا بیان 94
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب کا بیان 98
سیدنا زین العابدین کا بیان 101
سیدنا امام جعفر صادق بن سیدنا امام باقر کا بیان 103
نتائج و فوائد گیارہ عدد کی شکل میں باب ہذا کےخلاصہ کےطور پر مرتب ہیں 104
ہاشمی کی زبانی حضرت  عثمان کا مقام (بحوالہ کتب شیعہ ) 107
سیدنا جعفر صادق کی زبانی کی فضیلت ( کتب سے ) 108
امام جفعر صادق کا ایک اور بیان ( کتب سے ) 109
جعفر صادق کےبیان کےپانچ فوائد 112
کےحق میں عبد بن عباس کا بیان اور ان کے گیارہ عدد فوائد 113
انتباہ (مورخ مسعودی بزرگ ہیں ، نہیں) 115

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply