رحماء بینہم جلد چہارم

رحماء بینہم جلد چہارم

 

مصنف :

 

صفحات: 403

 

کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین کے لیے کسی بھی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر کتاب “رحماء بینہم”محترم مولانا صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
ابتدائی معروضات 23
تمہیدات 25
المومنین کا رشتہ حاکم نہیں ہو سکتا یہ کوئی شرعی نہیں ہے 25
حکام کا عزل ونصب اجتہادی ہے اورامیر کی رائے پر موقوف 25
حضرت عمر ؓ نےبھی حسب ضرورت عزل ونصب کیا 32
اس کی چند مثالیں 32
ابتداء بحث اول 38
عہدعثمانی کےمناصب وحکام کا باہمی تناسب معلوم کرنا 38
چند عہدے اورمناصب 39
عہدۂ قضا 39
بیت المال یا خزانہ سرکاری 40
خراج وعشر وغیرہ کی وصولی کا صیغہ 41
فوجی آفیسرز 42
پولیس 43
الکاتب (منشی ومحرر ) 43
تنبیہ ( ایک واقعہ کی یاد دہانی ) 44
بعض اہم مقامات اوران کےحکام ( عہد عثمانی میں ) 46
اعتراض کنندگان کی نظروں میں چند مقامات 55
الکوفۃ 55
تنبیہ ( کےنزدیک بھی کوفہ کےحاکم ابو موسیٰ اشعری تھے ) مندرجہ کوائف کی روشنی میں 57
البصرہ  اوراس کے متعلق قابل توجہ توضیحات 59
الشام ( معاویہ ؓ کاتقرر ) 61
عہد نبوی ( میں معاویہ کو منصب دیا گیا ) 62
عہد صدیقی (میں معاویہ امیر  لشکر بنائے گئے ) ) 62
عہد عثمانی ( میں منصب سابق پر رکھے گئے ) 64
حضرت معاویہ ؓ کا اپنا ایک بیان 64
کاتب کا منصب 69
تنبیہ ( الکاتب کے لیے ایک تاریخی اصطلاح ) 70
عزل ونصب کےمعاملہ میں امام بخاری  کی ایک رویات 73
تنبیہ (مروان کی بےاعتدالیوں کےبیشتر بے اصل ہیں ) 75
اختتام بحث اول 75
بحث ثانی
ولاۃ وحکام کی اہلیت پر گفتگو 77
تمہیدات ( تین عدد) 78
ولید بن عقبہ کے متعلقات 80
نسب اور 80
ولید کی طبعی لیاقت 82
نبوی ،صدیقی اور فاروقی ادوار میں حاکم  و عامل بنایا جانا 83
ولید کی کارکردگی اورکارنامے 84
بعض اشکالاتت اور ان کاحل 89
ولید کوشیطان کی دھوکہ دہی 91
ولید پر ’’فاسق‘‘ کا اطلاق ٹھیک نہیں اس کے لیے کے بیانات 92
رفع اشتباہ ( اگر عثمانؓ کی کی تھی تو علیؓ کوبھی وصیت کی تھی 95
الانتباہ ( اہل کے لیے ) 98
اول ( باعتبار روایت کےبحث ) 100
محمد بن اسحاق پر کلام 101
کی تدلیس 101
ایک قاعدہ برائے مدلس 101
کا تفرد اورشذوذ 102
دوم ( باعتبار درایت و عقل کےبحث ) 104
تیسرا طعن یعنی ولید ؓ پر شراب خوری کا الزام اور اس کی مدافعت 107
دیگر کےاقوال 111
سعید بن العاص کےمتعلقات 112
نام  ونسب 112
ان کی قابلیت 113
کریمانہ اخلاق 113
ان کےکارنامے 114
سعید اور آل ابی طالب کا تعلق 115
آخری گزارش (یعنی گزشتہ عنوانات کااجمالی خاکہ ) 117
عبد بن عامرؓ کےمتعلقات 118
نام ونسب 118
ایام طفولیت اور حصول برکات 119
سخاوت ، شجاعت اور شفقت 120
جنگی کارنامے (قریباً 32مقامات فتح کیے) 120
امور رفاہ عامہ 122
ابن عامر بن تیمیہ کی نظروں میں 123
سیدنا معاویہ ؓ کےمتعلقات 124
نام ونسب اور قبول 125
خاندان معاویہ ؓ اور بنو ہاشم کے چھ عدد نسبی روابط 127
معاویہؓ کےحق میں نبوت سے 131
لیاقت وعلمی قابلیت 137
کاتب نبوی ہونا 137
ابن عباسؓ ہاشمی اور ابن الحنفیہ ؓ ہاشمی کا استفادہ کرنا 138
صاحب میں معاویہؓ کا شمار تھا 141
معاویہ ؓ سے متعدد کرام کا روایت حاصل کرنا 142
معاویہؓ ایک سو تریسٹھ کے راوی تھے 143
ملی اور فتوحات 144
کریمانہ اخلاق و عمدہ کردار 150
عوام کی خبر گیری کے لیے ایک شعبہ 153
معاویہؓ کےعدل وانصاف پر اکابرین ملت کی شہادتیں 154
ان کےحق میں ناصحانہ کلام اور گوئی کامسئلہ 157
خزانہ معاویہؓ کے دور میں 159
مثالی شخصیت اور عمدہ 164
حضرت معاویہ ؓ اور ان کی جماعت 166
حضرت علیؓ اور ا ن کےخاندان کی نظروں میں 166
ایک حاشیہ (یعنی اور حضرت معاویہ میں صلح ہوگئی تھی 167
صفیں کےمقتولین کاحکم حضرت علیؓ کےفرمان سے (یعنی سب جنتی ہیں ) 170
شرکائے جمل وصفین کا درجہ حضرت علیؓ کے فرمان کی روشنی میں 172
بغی کےمفہوم کی وضاحت حضرت  علی کی زبانی 174
خلاصہ کلام 176
مسئلہ  کی تنقیح ( شرح مواقف کی عبارت میں تسامح ) یہ اہل کے مناسب ہے ) 178
عدم فسق اور عدم جور پر کےبیانات 180
فریقین ’’دینی معاملہ ‘‘ میں متفق ومتحد تھے 182
حضرت علیؓ نے معاویہ اور ان کی جماعت کو سب وشتم ، لعن طعن کرنا ممنوع قرار دیا ۔ اس پر اہل السنۃ اور کتب سے قابل دید حوالہ جات 184
حضرت معاویہؓ کے ساتھ حضرات حسنین کا صلح اور بیعت کرنا اور تنازعات کوختم کر دینا 188
حوالہ جات ( اہل السنہ کی کتابوں سے ہذا کی کتب سے تائید و تصدیق 189
سیدنا حضرت حسین کا فرمان کہ بیعت کے بعد نقض عہد کی کوئی صورت نہیں 193
مزیدبرآں (باہمی حسن سلوک رہا اور شرائط کی پابندی کی گئی ) 194
معاویہ ؓ کی کےدوران بنی ہاشم کا عملی تعاون 196
مدینہ طیبہ کی ہاشمی قاضی (عبداللہ ) 197
عنوان ہذا کا خلاصہ 200
حضرت معاویہؓ کے خزانہ سے حضرات حسنین ؓ و دیگر ہاشمی کے اور عطیات وہدایا 201
سیدنا حضرت حسین اور عطیات 203
حسنین شریفین کے ساتھ دیگر ہاشمیوں کو بھی دس لاکھ کے ملنا 205
ہذا کےنزدیک 205
حسنین ؓ اور بن جعفر کے وظائف ( کتب سے ) 206
تنبیہ (دیگر کی تائید ) 207
حضرت زین العابدین کے لیے کا تقرر ( کتب سے ) 208
عنوانہائے مذکورہ کےفوائد 210
سب وشتم کا اعتراض اور اس کا ازالہ تمام بحث ہی قابل توجہ ہے 211
قابل اعتراض تاریخی روایات جو مطاعن کا ماخذ و محور ہیں 212
مندرجہ روایات کا متعلقہ کلام 215
ایک گزارش 224
بن سعد بن ابی سرح کے متعلقات 226
نسب و رضاع 226
کے بعد ارتداد پھر اسلام لانا ، بیعت کرنا ، پھر پر پختہ رہنا 227
والی و حاکم ہونا 229
فتوحات کے کارنامے 229
خاتمہ بالخیر میں ہونا 230
چند شبہات کا ازالہ 231
تنبیہ : (خمس افریقہ کا طعن جو ذکر کیا جاتا ہے اس کا جواب آئندہ بحث مال میں ذکر ہو گا ) 238
افادہ، (طبری کی ایک روایت کا جواب) 238
باعتبار روایت کے گفتگو 238
درایت کے اعتبار سےاس پر کلام 241
مروان بن الحکم کے متعلقات 243
مبادیات 243
مختصر بیانات 244
داماد عثمان ۔ کے خاندان اور مروان کےقبیلہ کی پانچ عدد باہمی رشتہ داریاں 245
قابلیت اور ثقاہت 251
مؤطا امام مالک  میں (مروان سے متعدد مرویات ) 252
مؤطا امام مالک  میں (مروان سے متعدد مرویات ) 253
مسنداحمد میں (مروان سے متعدد مرویات ) 255
شریف میں (مروان سے متعدد مرویات ) 255
فائدہ ( کبیرہ و جرح وتعدیل رازی میں نقد کا نہ پایا جانا ) 257
مروان کا دینی وعلمی مقام اور فقہاء میں شمار کیا جانا 257
دینی میں کرام سے مشورہ 260
جنگی معاونت اور انتطامی صلاحیت 262
نے مروان کی نیابت کی 263
حصول ثواب میں رعبت ( اذن عام تک ٹھہرنے کا ثواب ) 264
مواقف و آثار نبوی کی تلاش 264
مروان کےحق میں حسنین شریفین کی سفارش و نے ذکر کی 265
مروان کی اقتدا میں حسنین شریفین کی نمازیں 266
اموی خلفاء حضرت زین العابدین کی نظرمیں 268
حضرت زید العابدین عبدالملک بن مروان کی نظروں میں 270
ازالہ شبہات 273
اول: مروان کےوالد کی جلا وطنی کا 274
دوم: مروان کےہاتھ تمام سلطنت کی باگ ڈور کا ہونا 280
عثمانی کےایام اور مروان کا کردار 283
مروان کومطعون کرنےوالی تاریخی روایات کا ایک جائزہ 287
الحکم و نبو امیہ کامبغوض وملعون ہونا ، پھر اس کا جواب 296
نسبی وغیر نسبی تعلقات و روابط 295
بنو امیہ کےحق میں کےاقوال 298
مذمت کی روایات کی نظروں میں 308
بحث ثالث (طریقہ اول ) 315
دور نبوی میں مناصب دہی کےچند 317
حضرت عثمانؓ کو متعدد منصب دیئے گئے 317
حضرت ابو سفیان کو چار منصب دیئے گئے 319
تنبیہ ( روایات کا تجزیہ ) 321
بن ابی سفیان کو تین منصب دیئے گئے 322
معاویہ بن ابی سفیان کے دو عہدے 324
دور نبوی میں بنی ہاشم کےعہدہ جات 326
عہد فاروقی میں اقرباء نوازی 326
ایک عذر لنگ اور اس کا جواب 333

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...