سیرت علی المرتضی ؓ

علی المرتضی ؓ

 

مصنف : سیف خالد

 

صفحات: 426

 

وامارت کا نظام دنیا میں مسلمانوں کی ملی وحدت اور مرکزیت کی علامت ہے ۔ عہدِ نبوت میں رسول ﷺ کی ذاتِ مبارک کودنیائے میں مرکزی حثیت حاصل ہے تھی اور اس مبارک عہد میں امت کی قیادت وسیادت کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ ﷺ کے بعد لوگوں کی راہنمائی اور مرکزیت کوبراقراررکھنے کے لیے آپ ﷺ کے جانشین بنے۔ خلفائے راشدین کا دورِ حکومت کاایک تابناک اورروشن باب ہے ا ن کےعہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت سلطنت کی حدود اطراف عالم تک پہنچ گئیں ۔انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کوشکست دے کر پرچم ِ اسلام کو مفتوحہ علاقوں میں بلند کیا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط ، مستحکم اور عظیم الشان اسلامی کی بنیاد رکھی ۔عہد نبوت کےبعد کا دورِ عدل وانصاف پر مبنی ایک مثالی دورِ حکومت ہے جو تک قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں کےلیے رول ماڈل ہے۔خلفائے راشدین کے مبارک دور کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت سے ہوتا ہے ، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان کا دور آتا ہے ۔ سیدنا عثمان کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ چوتھے خلیفہ راشدبنے ۔ان کے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتنۂ تکفیر اور فتنۂ خوارج جیسے بڑے برے فتنوں نے سر اٹھا یا اور مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں اور میں بڑی شدت آگئی او رنوبت کرام کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی اور واقعۂجمل اور جنگِ صفین جیسے خون ریز رونما ہوئے ۔سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور کا خون نہ بھایا جائے۔ کی امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی شخصیت ، وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔ زیر کتاب ’’ علی ‘‘ دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا سیف خالد ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ سیدنا علی کےحالات زندگی طرز حکومت اور کارناموں پر مشتمل ہے فاضل مصنف نے وحدیث اورمستند روایات کی روشنی میں ’’عہد علی ‘‘ میں رونما ہونے والے اور تاریخی کوپیش کیا اوران حقائق کا ذکر کرتے ہوئے اس دور کی حقیقی اورسچی پیش کی ہے۔جھوٹی اورمن گھڑت روایات ، قصوں اور کہانیوں کےنتیجے میں قارئین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات اور شکوک وشبہات کودور کیا ہے اور خیر القرون کی جماعت ِ کے بارے میں کتاب وسنت پر مبنی صحیح موقف اور منہج کی وضاحت کی ہے۔ اس کتاب میں مذکور احادیث ، روایات اور آثار واقوال کی وتخریج ابوالحسن سید تنویر الحق شاہ ﷾ نے کی او ران کی اصل مآخذ کے ساتھ مراجعت اور تہذیب وتسہیل کا لائق تحسین کام ابو عمر محمد اشتیاق اصغر نے کیا ہے ۔یہ کتاب سیروتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہے ۔ جسے دارالاندلس نےحسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ مصنف موصوف اس سے پہلے ابو بکر صدیق ، سیرت عمرفاروق اور سیرت عثمان غنی قارئین کی نذر کر چکے ہیں ۔ ان کی قابل قدر تصنیفات اہل اور عام قارئین میں دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دینی کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کوقارئین کےلیے خلیفۂ رابع سیدنا علی المرتضیٰ کی وکردار کو اپنانے کا ذریعہ بنائے ( آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست
عرض ناشر 17
عرض مولف 21
باب۔1 ٍ
سیدنا علیؓ کانا م ونسب 27
کنیت 28
ابو حسن بھی ا ٓ  پکی کنیت بھی 29
والد 30
والدہ 36
سیدنا علیؓ کی شخصی و جاہت اور جسمانی اوصاف 37
سیدنا علی ؓ کا قبول 38
سیدنا علی ؓ کی بت شکنی 40
ابوذر ؓ کا قبول اور سیدنا علی ؓ 42
سیدنا علی ؓ کی نبی ﷺ پر جاں نثاری 45
سیدنا علیؓ سے متعلق نازل ہونے والی آیات 51
علیؓ ا ٓیات قرآنی کی کرتے ہوئے 52
نبوت سے متعلق علیؓ سے مروی 65
رسول ﷺ کے بیان میں انتہائی احتیاط 66
رسول اللہﷺ پر جھوٹ  باندھنے والے کا وبال 66
رسول ﷺ کی تکذیب کے اسباب سےاجتناب 67
سیدنا علی ؓ اور اتبا ع 69
مسکرانے میں بھی اتباع 69
طریقہ میں اتباع 70
مخلوق کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے 71
نبی ﷺ کا علی ؓ کو میں خاص نہ کرنا 73
سیدنا علی ؓ کا سیدہ فاطمہ ؓ سے 75
سیدہ فاطمہ ؓ کا زہد قناعت اور صبر 75
سیدہ فاطمہ ؓ کا زہد قناعت اور صبرر 75
ہماری جانیں کے ہاتھ میں ہیں 79
رسول اللہﷺ کی سیدہ فاطمہ ؓ سے محبت 80
دنیا و آخرت کی سرداری 83
سیدنا علی ؓ کے بیٹے حسن  وحسین ؓ 86
سید نا حسن ؓ کی فضیلت کی روشنی میں 86
سید نا حسین ؓ کے 89
سید نا حسن اور حسین ؓ کے مشترکہ 90
سیدنا علی ؓ کا غزوات میں کردار 94
غزوہ بدر میں کردار 94
غزوہ احد میں کردار 96
واقعہ افک اور سیدنا علی ؓکا کردار 97
غزوہ خندق میں کردار 98
صلح  حدیبیہ میں کردار 99
غزوہ خیبر میں کردار 101
فتح مکہ سے پہلے قریش کےمفاد کی جاسوسی  کو ناکام بنانے میں کردار 104
فتح مکہ کے موقع پر جعدہ کو قتل کرنے کی کوشش کرنا 107
غزوہ حنین میں 108
غزوہ تبوک میں کردار 109
سیدنا علی ؓ عمرۃ القضا میں 110
پہلا اور سیدنا علی ؓ کا کردار 111
سیدناعلی ؓ ارو وفد نجران کو دعوت مبا ہلہ 113
سیدنا علیﷺ یمن میں بطور داعی وقاضی 114
حجتہ الوداع اور گوشت کی تقسیم کی ذمہ داری 118
نبی ﷺ سے سے متعلق سوال نہ کرنا 124
باب۔2
سیدنا علیؓ عہد صدیقی میں 129
رسول اللہﷺ کی وفات اور خلیفہ کا انتخاب 129
سیدنا ابوبکر ؓ کی پر سیدنا علی ؓ کی بیعت 129
علی ؓ کی سے ابو بکر ؓ کی فضیلت 135
میراث نبوی ، ابو بکر اور فاطمہ ؓ کا معاملہ 139
سیدنا علی ؓ عہد فاروقی میں 143
سیدنا علی اور سید نا عمرؓ کے تعلقات 144
عہد  فاروقی میں سیدنا علیؓ کے عدالتی فیصلے 144
آل علی ؓ سے سیدنا عمرؓ کے تعلقات 145
سید ام کلثو م بنت علی ؓ سے سیدنا عمرؓ کا 146
سیدناعلی اور عباس  ؓ عمرؓ کی عدالت میں 147
کے لیے منتخب کمیٹی میں علی ؓ کا نام 151
سیدنا علی ؓ عہد عثمانی میں 153
سید نا علی  ؓ کا سیدنا عثمان ؓ کی بیعت کرنا 153
عہد عثمانی میں حدود کی تنفید سیدنا علی ؓ کے سپرد 155
سید نا علی ؓ کے ہاں سیدنا عثمان ؓ کا مقام 157
سیدنا عثمان ؓ کی طرف سے بلو ا ئیوں  کے ساتھ مذکرات 158
سید نا علی ؓ سیدنا عثمانی ؓ کے دفاع میں پتھر کھاتے ہوئے 159
آل علی ؓ سیدنا عثمان ؓ کا دفا ع کرتے ہوئے 161
باب۔3
سیدناعلیؓ کام منصب کے لیے انتخاب 167
سید نا علیؓ ہی کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے 168
سیدنا علیؓ کے و منا قب 176
سیدنا علی ؓ کی و دینی بصیرت 185
تمام قرآنی آیات کےنزول کا رکھنے والے 186
کے استفسار میں ما نع نہیں 188
اور عمل ساتھ ساتھ 189
لو گو ں اور عمل ساتھ ساتھ 189
لو گوں کی سوا ل پو چھنے کی دعوت دینے والے 190
لو گوں کی سہولت کے لیے تمتع کا احرام باندھتے ہوئے 190
کرام ؓ میں سب سے بڑے عالم 192
میں حجت کی حیثیت رکھنے والے 192
افتاد قضا میں شیخین سے اختلاف کرنا پسند سمجھنے والے 192
وتر ادا کرنےکا طریقہ 193
سیدنا علی ؓ سے منقول چند مسنون 194
سواری کی 194
کی مسنون 195
دفن کے بعد ہر قبر پر 198
امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام 199
سیدنا علی ؓ اور بت شکنی 199
رسو ل اللہ  ﷺ کے ساتھ مل کر کے بتوں کو توڑتے ہوئے 199
جاہلیت کے نشانات مٹانے کے حریص 201
زنادقہ اور مرتدین کو نذر ا ٓتش کرنا 201
مر تد بت پرستوں کو آگ میں جلانے والے 203
مر تد ین کی طر ف لشکر روانہ کرتے ہوئے 204
حدود کے قیام کا حکم  دیتے ہوئے 205
رعایا سے عدل و انصاف 205
مریض کی عیادت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے 207
بازاروں میں دعوت و کا کام کرنے والے 208
عوام کو اخلاق حسنہ کی ترغیب دیتے ہوئے 208
قصہ گوئی کی بد عت کا ظہور اور سیدنا علیؓ کی محاذ آرائی 209
زنا کاری کی شناعت بیان کرتے ہوئے 210
گم شدہ جانور وں کے بارے میں اہتمام 211
عاملین کی تر بیت واصلاح کا فریضہ 212
ایک زانی راہب کا قصہ 212
سید نا علیؓ کی فقاہت 215
ہدایت اور سیدھا پن طلب کرنے کاحکم 215
پانی کی عد م مو جودگی میں تییم کی 215
خاص مواقع پر غسل کی 216
سدل کی حالت میں پڑھنا 216
جوتو ں پر مسح اور انھیں اتار کر 217
کے پڑوسی کی گھر میں جائزنہیں 217
ریشمی متعلق سیدنا علی ؓ کا موقف 217
مطلقہ کو نفع  دینا اور بے و قوف کی کا حکم 218
ولد الزنا کے 219
حاملہ عورت کی عدت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو 219
شدہ زانی کو کوڑے اور رجم کی سزادینا 220
باربار چوری کرنے والے کاحکم 223
ہاتھ کاٹنا اور کٹے ہوئے ہاتھ کو داغنا 223
بیل اور گدھے کی لڑائی اور سید ناعلیؓ کا فیصلہ 224
اگر گواہی دینے میں غلطی ہوجائے ٍ225
حاملہ جانور کی کاحکم 225
کوئی گم شدہ چیز ملے تو اس کا حکم 226

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply