سیرت نبوی جلد۔1

نبوی جلد۔1

 

مصنف : ڈاکٹر مہدی احمد

 

صفحات: 787

 

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کے انسانِ اول اور ِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ میں ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل اپنے تحریری پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر کتاب’’سیرتِ نبوی‘‘ عالم ِ کے نامور محقق ڈاکٹر مہدی احمد کی النبیﷺ پر مشتمل کتاب ’’ السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الاصلیۃ‘‘ کا ہے۔ اصل کتاب تو ایک جلد میں ہے اور ترجمہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اس میں نبی کریم ﷺ کی طیبہ کو صرف صحیح روایات کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جہاں صحیح روایت نہ مل سکی تو موصوف نے مجبوراً ضعیف روایت پیش کردی ہے اور اس کی وضاحت کردی ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور قابل اعتبار نہیں ہے۔ اس عالمانہ کتاب کا یہ دلکش ترجمہ شیخ الحدیث محترم حافظ محمد امین﷫ نے کیا اور نظرثانی اور حواشی کے ترجمے کا فریضہ حافظ قمر حسن﷾ نے بخوبی انجام دیا ہے ۔اور محسن فارانی صاحب نے اس میں 16 تحقیقی اور افزا جغرافیائی نقشے شامل کر کے اس کی افادیت میں خاطر خواہ اضافہ کردیا ہے۔ کتاب کے آخر میں ضمیمہ کے الگ عنوان کے تحت اصطلاحی الفاظ کی توضیحات، سیرت النبیﷺ کے کا زمانی اشاریہ اور مصادر ومراجع بھی شامل کیے گیے ہیں۔دکتور مہدی قرآنی علوم کے ماہر کےجید عالم ہیں اور جدید اسالیبِ سے بخوبی آگاہ ہیں۔انہوں نے کتاب ہذا کے طویل فاضلانہ مقدمے میں لکھا ہے کہ میں عام مؤرخوں کی کی طرح ضعیف روایات قلم بندنہیں کرتا۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ صحیح صحیح روایات کی مدد سے مقدسہ کی حقیقی پیش کر دو ں۔ انہوں نے مطہرہ سے متعلق تمام کی اچھی طرح چھان بین کی ہے۔ ان کرام اور تابعین عظام کے اسمائےگرامی بتائے ہیں جنہیں جمالِ نبوت کے احوال لکھنے اور سننے سنانے کا خاص ذوق تھا۔پھر انہوں نے عہد بہ عہد درجہ بدرجہ نگاروں او رکتبِ سیرت کا تعارف بھی پیش کیا ہے ۔ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور امت ِمسلمہ کو اس کتاب سے مستفید فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 23
مقدمہ 28
نبوی کے مطالعہ کے مقاصد 30
طیبہ کےمآخذ ومصادر 33
مجید 33
نبوی 34
کتب شمائل 37
کتب خصائص 38
کتب سیر ت ومغازی 38
پہلی صدی ہجری کے نگار 39
دوسری صدی ہجری کے نگار 39
تیسری صدی ہجری کے نگار 40
محمد بن اسحاق (متوفی 150یا 151ھ) 44
پر ابن ہشام کے اثرات 48
واقدی ( متوفی 207ھ) 49
ابن سعد ( متوفی 230ھ) 50
حرمین شریفین کےبارے میں تاریخی کتابیں 52
عام تاریخی کتب 53
الامم و الرسل والملوک 53
خلیفہ بن خیاط 54
دیگر تاریخی کتابیں 55
ادبی کتابیں 57
کے مصادر مآخذ کےبارے میں آخری بات 59
باب : 1 سے پہلے جزیرہ نمائے
وادی ام القری 63
کی بستی کا آغاز 63
تعمیر کعبہ 72
کعبہ کی عمارت میں حضرت ابن زبیر کا تصرف 78
مقام ابراہیم 80
بعثت نبوی کے وقت کے عام حالات 82
جزیرہ نمائےعرب کی سیاسی حالت 83
یمن کی حکومت 83
حیرہ کی حکومت 88
شام کی حکومت 89
89
یثرب 92
طائف 95
جزیرہ نمائے میں عربوں کی دینی حالت 95
حضرت محمدﷺ 107
زید بن عمرو بن نفیل 107
ورقہ بن نوفل 110
قس بن ساعدہ الایادی 111
امیہ بن ابی صلت 112
لبید بن ربیعہ عامری کلابی جعفری 113
مذکورہ حضرات کے علاوہ مشہور حنفاء 114
جزیرہ نمائےعرب کی معاشرتی حالت 114
جزیرہ نمائے کے بیرونی حالات 121
مذہبی حالت 121
یہودیوں کے سیاسی ومعاشرتی حالات 131
عیسائیوں کے مذہبی ، سیاسی او رمعاشرتی حالات 133
مجوسیوں کے مذہبی ،سیاسی اور معاشرتی حالات 141
مذہبی حالت 141
مجوسیوں کے سیاسی اور معاشرتی حالات 144
چینی تہذیب کی مذہبی او رمعاشرتی حالت 147
مذہبی زندکی 147
معاشرتی زندگی 149
ہندوؤں کی مذہبی اور معاشرتی حالت 150
مذہبی زندگی 150
معاشرتی زندگی 151
باب :2 پیدائش سے بعثت تک
رسول ﷺ کی ولادت اورنسب نامہ 155
اعلیٰ نسب کی حکمتیں اور فوائد 157
ختنہ او رنام 158
یتیمی میں دادا اور چچا کی کفالت 162
پرورش 163
یتیمی کی 166
بوقت ولادت نبوت کےارہاصت و اشارات 167
رسول ﷺ کادور رضاعت 168
دیہات میں دودھ پلانے کی 174
بادیہ بنی سعد میں رضاعت او رواقعہ شق صدور 174
شق صدور اور بچپن میں بکریاں چرانے کی 178
شام کا 181
حضرت محمدﷺ کی صفات کے متعلق اہل کتاب کےاقوال کی 186
اہم امور 199
عنفوان شباب 200
جنگ فجار 200
حلف الفضول میں شرکت 201
حلف الفضول میں رسول ﷺ کی شرکت کی 205
حضرت خدیجہ ؓ سے 205
ومواعظ 212
تعمیر کعبہ میں شرکت او رحجر اسود کی تنصیب 213
فقہی نتائج 216
ارہاصات و اشارات نبوت 217
ایک وضاحت 223
غار حرا میں وعبادت 223
بعثت سے بالکل تھوڑا عرصہ پہلے ارہاصات و ارشارات نبوت 224
اہم نکات 227
باب :3 بعثت نبوی اور مشرکین کی مخالفت
نزول 231
کے اثرات 233
کا رکنا اور پھر جاری ہونا 237
رکنے کی 238
کے طریقے 239
دعوت کےمراتب ومراحل 241
دعوت نبوی کےمراحل 241
دعوت نبوی کے مراحل کی ترتیب موجودہ دور میں ؟ 242
خفیہ دعوت 243
ام المومنین خدیجہؓ 245
بن ابی طالب﷜ 246
حضرت زید بن حارثہ ﷜ 246
خفیہ دعوت کی 252
علانیہ دعوت 253
اہم نکات 255
دعوت کی مخالفت 257
پہلاحربہ: ابو طالب سے شکایت 257
دوسرا حربہ: ابوطالب کودھمکی 258
تیسرا حربہ: جھوٹے الزامات 261
چوتھا حربہ : مذاق، طعنہ زنی ،استہزا اور تکبر 265
پانچواں حربہ : تشویش میں ڈالنا اور پریشان کرنا 271
چھٹا حربہ : معجزات اور مافوق البشر صلاحیتوں کا مطالبہ 271
ساتواں حربہ : سودے بازی 276
آٹھواں حربہ : گالی گلوچ 278
نواں حربہ: یہودیوں سے رابطہ اور سوالات 280
دسواں حربہ: ترغیبات ( لالچ) 281
گیارہواں حربہ : دھمکیاں اور تشدد 283
مسلمانوں پر تشدد 283
قریشی کرام پرتشدد 288
مکہ سے باہر ہونےوالوں پر تشدد 292
غلاموں پر تشدد 294
مکہ میں تشدد کا نشانہ بننےوالے مشہور غلام 295
آل یاسر 295
297
خباب بن ارت ﷜ 299
دوسرے مظلوم غلام 302
اہل پر ظلم و تشدد اور ان کے صبر کی حکمتیں 303
بارہواں حربہ : مسلمانوں کاتعاقب اور ان کےخلاف پروپیگنڈہ 308
رسول ﷺ اور مسلمانوں کی جائے ملاقات 309
باب :4 ہجرت حبشہ سے اسراء ومعراج تک
ہجرت حبشہ 313
پہلی ہجرت حبشہ 313
قصہ غرانیق (مورتیوں کی تعریف کا جھوٹا پروپیگنڈہ ) 318
یہ قصہ ازروئے عقل بھی باطل ہے 323
دوسری ہجرت حبشہ 329
مہاجرین کوواپس پکڑ لانے کی کوشش 330
ہجرت حبشہ کی حکمتیں اور اسباق 334
حضرت نجاشی کا قبول 341
حضرت عمر بن خطاب﷜ کا قبول 342
عمر بن خطاب﷜ کےاسلام لانے کے فوائد 347
شعب ابی طالب 348
مواعظ وحکمتیں 355
عام الحزن 356
ابوطالب کی وفات 356
ومواعظ 359
ایک ضروری بات 359
حضرت خدیجہ ؓ کی وفات 360
حضرت سودہؓ سے 362
طائف 363
طائف سے ماخوذ اسباق 371
اسراء و 374
شق صدر 377
اسراء 377
378
سے واپسی 381
اسراء ومعراج پر قریش کارد عمل 382
اسراء و کےمتعلق اہم نکات 391
داعیان کےلیے رہنمائی سبق 402
بیعت عقبہ 403
بیعت عقبہ اولیٰ 403
بیعت عقبہ ثانیہ 406
ایک ضروری بات 417
باب : 5 ہجرت مدینہ
ہجرت مدینہ کے اسباب 421
ظلم و تشدد 421
دعوت و کے لیے حمایت میسر آنا 422
تکذیب 422
سے برگشتہ ہونے کاخدشہ 423
لڑائی کی اجازت 423
اولین مہاجر 425
ہجرت کی صعوبتیں 425
حضرت عمر بن خطاب ﷜ اور ان کے ساتھیوں کی ہجرت 428
رسول ﷺ کی ہجرت 433
قریش کی سازش 433
غارثور کی طرف روانگی 447
غار ثور 449
ہجرت کے بارے میں ضعیف روایات 451
ہجرت کا راستہ 454
مدینہ منور میں تشریف آوری 466
ہجرت سے ماخوذ واسباق 473
باب: 6 اسلامی اور تشکیل حکومت
کی تعمیر 481
مواعظ و حکمتیں 489
مؤاخات (بھائی چارہ ) 491
مواخات کے ثمرات و حکمتیں ض 500
میثاق مدینہ 501
مسلمانوں سے متعلقہ شقیں 501
مشرکین سے متعلقہ شقیں 502
سےمتعلقہ شقیں 502
انتظامی شقیں 503
میثاق مدینہ سےمتعلقہ روایات 504
میثاق مدینہ کب لکھا گیا؟ 511
میثاق مدینہ کی اہمیت وحکمت 516
متفرقات 519
یثرب کےنام …. طیبہ ، طابہ ، مدینہ 519
بخار کی وبا 522
باب :7 غزوات و سرایا
کفار سےلڑائی کی اجازت 531
ومجاہدین کی اہمیت 533
غزوہ بدر سے پہلے کےاہم 544
ساحل سمندر کی مہم ( سریہ سیف البحر) 545
غزوہ ابواء (ودان ) 548
رابغ کی جانب عبید بن حارث﷜ کی جنگی مہم ( سریہ رابغ) 549
رضویٰ کےعلاقے میں غزوہ بواط 551
غزوہ عشیرہ 552
نخلہ کی جنگی مہم 553
سریہ نخلہ کی حکمتیں 555
کی تبدیلی 556
کےروزوں کی فرضیت 557
غزوہ بدر کبریٰ 558
دو بدو مقابلہ 583
نصرت الہٰی اور غلبہ 586
فرشتوں کی آمد 586
کفر کے تین سرغنوں کا انجام 590
ابو جہل 590
امیہ بن خلف 592
عاص بن ہشام بن مغیرہ 593
مال غنیمت 596
قیدی 599
و اسباق 610
باب : 8 غزوہ احد تک کے
غزوہ بدر و احد کے درمیانی 617
رسول ﷺ کو قتل کرنے کی سازش 619
ابو عفک کا قتل 620
غزوہ بنو قینقاع 621
یہ غزوہ کس کو ہوا ؟ 621
غزوے کے اسباب 621
محاصرہ اورجلاوطنی 624
یہودیوں سے دوستی کے متعلق و نصیحتیں 626
غزوہ سویق 628
غزوہ قرقرۃ الکدر 629
کعب بن اشرف یہودی کا قتل 629
و 632
غزوہ ذی امر 632
قردہ کی جنگی کار روائی 634
غزوہ احد 636
636
غزوے کااسباب 636
مشرکین کی تعداد 637
تیر اندازوں کی لغزش 650
تربیت و نصیحت او راہم اسباق 680
فقہی 683
نتائج و حکمتیں 688
باب :9 غزوہ مریسیع تک کے
غزوہ احد سےبعد کے 695
بلندحوصلہ 697
حضرت ابو سلمہ بن انیس ﷜ کی جنگی کار روائی (سریہ بن انیس ) 699
سریہ رجیع 700
واقعہ بئر معونہ 708
حکم و 711
غزوہ نبی نضیر 713
غزوے کا سبب 713
غزوہ بنو نضیر کی 720
حکمتیں وعبرتیں 721
غزوہ بدر (ثانی ) 722
غزوہ ذات الرقاع 723
اعرابی کا واقعہ 727
مفید باتیں 728
پہرے کا واقعہ 728
نصحیت 729
حضرت جابر ﷜ کےاونٹ کا واقعہ 730
حضرت جابر﷜ سےرسول ﷺ کی ہمدردی 732
غزوہ دومۃ الجندل 732
غزوہ مریسیع ( بنو مصطلق ) 733
واقعہ افک 742
و 748
باب : 10 غزوہ احزاب و بنو قریظہ
غزوہ خندق 753
خندق کی کھدائی کے دوران رونما ہونےوالے معجزات 761
نعیم بن مسعود ﷜ کا کردار 771
آندھی اور ٹھنڈ کاعذاب 772
چند مفید نصیحتیں 777
غزوہ بنو قریظہ 779
قیدیوں کاانجام 785
و 786

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
15 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply