شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام جلد۔2

شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام جلد۔2

 

مصنف : حافظ ابن حجر عسقلانی

 

صفحات: 1104

 

رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی و فلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونا تھا اس لیے ناگزیر تھا کہ آپﷺ کو ایک ایسی آخری اور مکمل وہدایت دے کر بھیجا جاتا جو رہتی دنیا تک کافی رہتی‘ اس لیے نبیﷺ کو عنایت کی جانے والی اس ربانی تعلیم وہدایت کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں‘ ایک مجید جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے کلام اللہ ہے دوسرے نبیﷺ کے وہ ارشادات اور آپﷺ کی وہ قولی اور عملی ہیں جو نبیﷺ اللہ کے نبی رسول اور نمائندے ہونے کی حیثیت سے امت کو دیتے تھے اور یہ تعلیمات تک کے لیے تھی اس لیے ان کی حفاظت وکتابت کے لیے بہت احتیاط کرتے ہوئے بہت سی کتب تالیف کی گئی ہیں جن میں سے ایک مختصر کتاب’’بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام‘‘ کے نام سے حافظ ابن حجر کی معروف ہے ۔ اس کتاب میں نہایت عمدہ اسلوب اپنایا گیا ہے‘ اس کتاب میں ڈیڑھ ہزار سے زائد احادیث ہیں اور اس کی شرح کو مؤلف نے کا ایک سمندر بنا دیا ہے اور یہ کتاب چھ جلدوں پر محیط ہے مگر اس کتاب کو مختصر کیا گیا ہے کیونکہ اتنی ضخیم کتاب سے سب کے لیے استفادہ اٹھانا مشکل تھا اس لیے اختصار کرتے ہوئے عربی متن کے من وعن کا التزام (احادیت کے ترجمہ میں عموماً الفاظ کے ترجمہ تک ہی محدود رہا جاتا ہے) اور اور کی تعبیر واسلوب میں بعینہ یکسانیت ہے اور اس کتاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ کی روانی اور نرمی متاثر نہ ہو بلکہ قدرے ادبیت اور لذت پیدا ہو۔ اس کتاب میں کی تفریق وتفصیل اور عناوین کا قیام اور کی تجزی کا بھی خیال رکھا گیا ہے‘ سند میں کلام کو’’روایۃ الحدیث‘‘ متن کی نکارت کو’’درایۃ الحدیث‘‘ کے قصہ کو’’قصۂ حدیث‘‘ اور حدیث کے خلاصے کو’’خلاصۂ حدیث‘‘کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اور اس کتاب میں بعض اضافے بھی ہیں مثلاً مضمون حدیث‘نحوی تراکیب‘اماکن اور محاورات کی وضاحت وغیرہ۔اس کتاب کے مصنف حافظ ابن حجر عسقلانی قاہرہ میں بدھ 12 شعبان 773ھ بمطابق 18 فروری 1372ء کو پیدا ہوئے اور آپ  کا 79 سال 3 ماہ 26 یوم کی عمر میں اتوار 8 ذوالحجہ 852ھ بمطابق 2 فروری 1449ء کو بعد نمازِ عشاء انتقال کیا۔اور قرونِ وسطی کے محدثین کی فہرست میں آپ  کا نام بھی شمار کیا جاتا ہے‘ آپ کی تالیفات کی تعداد 150 کے قریب ہے جن میں سے الاصابہ فی تمييز الصحابہ‘فتح الباری شرح صحیح البخاری‘تہذيب التہذيب‘الدُر الکامنہ‘التقر يب التہذيب‘المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ اور بلوغ المرام من ادلۃ الاحكام آپ کی شاہکار تصانیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...