شرعی آذان اور مروجہ صلوٰۃ وسلام ( جدید ایڈیشن )

شرعی آذان اور مروجہ صلوٰۃ وسلام ( جدید ایڈیشن )

 

مصنف : رانا محمد شفیق خاں پسروری

 

صفحات: 221

 

آج سے  چودہ  سو  سال قبل مکمل  ہوچکا ہے ۔اب اس میں کسی بھی  ایسی بات کی گنجائش نہیں جس کا ثبوت وحدیث میں موجود  نہ ہو   فرمانِ نبویﷺ ہےکہ ’’لوگو میں تم میں دو ایسی چیزیں چھوڑے جارہاہوں  جب تک تم ان پر مضبوطی سے عمل کرتے رہو گے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے کی کتاب اور میری ۔تاریخ  شاہد ہے  کہ جب تک  ان دونوں چیزوں پر براہ راست عمل  کرتےرہے  ترقی کرتے رہے   اور جب  مسلمانوں نے قرآن  وحدیث کو چھوڑ کر دین  میں نئی  نئی  باتیں  نکال  لی ہیں  او ر انہیں  دین  کا درجہ  دے دیا  تو زوال کا شکار ہوگے ۔اذان کا شعار ہے  پنجگانہ  کےلیے اذان کا طریقہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے رائج ہے  ۔حضرت  بلال    اسلام کے پہلے مؤذن تھے۔ بلالی اذان کے الفاظ بھی قرآن  وحدیث سے ثابت ہیں ۔ لیکن ایک نام نہاد جماعت   نے اذان سے  پہلے او ربعض مساجد میں اذان کےبعد ایک ایسا درود جاری کیا ہےجس  کا ثبوت وحدیث  ، صحابہ ،تابعین ، تبع تابعین ،محدثین سے نہیں ملتا۔ زیر کتاب ’’ شرعی اذان او رمروجہ صلوٰۃ وسلام‘‘ معروف خطیب وقلمکار  مصنف کتب کثیرہ    رانا محمد شفیق پسروری ﷾ کی  مذکورہ موضوع پر اہم تصنیف ہے جس میں  انہوں نے  کی روشنی میں  اذان کے ساتھ پڑھے جانے والے مروجہ درود پر سیر حاصل بحث کی   ہے۔ اس  کتاب کا پہلا ایڈیش   1986ء میں 96 صفحات پر مشتمل شائع  ہوا۔ پھر صاحب کتاب  نے اس  میں مزید اضافہ جات کر کے   1996ء میں  221 صفحات  میں شائع کیا ۔  اللہ تعالی ان کی اس  کاوش کوقبول فرمائے اور اس کتا ب کو   معاشرے میں  رواج پاجانے  والےاذان  سے  پہلے  اور بعد  میں   پڑھے جانے والے من گھڑت  درود کے خاتمہ  کاذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریظ 1
پیش لفظ 3
ابتدائیہ 7
غلط درود کا غلط ورد 18
شرعی اذان 20
غلط درود اور اس کے مضمرات 56
تمہید و تحقیق اعلان با لصلوۃ و السلام 80
مستحب پر اصرار اور تنازع 97
بریلی کی خدمت میں ہمدردانہ اپیل 102
جاری کرنے کی دلیل 110
سب سے بڑی دلیل 121
اس عبارت پر 130
فقہاء حنفیہ کا ارشاد درود شریف آہستہ پڑھنے پر 135
اعلان بالصلوۃ و السلام نمبر 2 140
موضوع بحث 141
مقدمہ 164
ملا علی قاری صاحب کا فیصلہ 165
خارجی فرقہ کا تعارف 209

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply